15/10/2026
السلام علیکم
دن بخیر 🌹
حضور کے ساتویں" یادِ ساعتِ وصل " کے موقع پر
حضور کا سفرِ حیات اُنکی اپنی زبانی ۔۔۔۔👇
عمر گزری اِس دشت کی سیاحی میں۔ ،عشق تو گُھٹی میں پڑا ہوا تھا سو "من المھد الی اللحد" پروان چڑھتا رہا ۔۔بس اِسی کی خوشبو اور شگفتگی سے موجود چمن میں مہک ہے ۔۔
پیدائش کے کچھ روز بعد ہی فقیر عبداللہ شاہ میروی ؒ
غریب خانے پہ تشریف لائے ۔والدہ علیل تھیں ۔ماموں قاضی امام الدین میروی متعلق تھے سو والدہ کو مرید کروایا ۔۔دریافت فرمانے پہ نومولود کو پیش فرمایا ۔۔انگُشتِ شہادت دردہن اور دستِ دعا
"شالا ! ایہہ بچہ فقیر ہووے "۔ آمین ہوئی
ابتدائی زمانہ راولپنڈی میں گزرا اور 1957ء کے لگ بھگ والدین کراچی ہجرت کر گئے ۔۔تعلیم وہیں مکمل ہوئی ۔والدہ تہجد گزار تھیں سو مڈل کلاس سے ہی تہجد کا شوق ہوا۔۔قریب ہی ایک مومن مسجد تھی ،وہیں ادائیگیِٔ نوافل کے لیے چلا جاتا ۔۔۔یہاں استاد عالم خان گولڑوی سے ملاقات ہوئی ،قلندرانہ مشرب تھا ،ذوق فزوں تر ،
عمل اضافہ پزیر ، سفرِ طریقت جاری ہوا ۔۔۔۔
غالباً 1969ء کے اوائل بابو شاہ غلام محمد شاہ صاحب سے شرفِ بیعت حاصل کیا ۔
1970ء حضور قبلہ "میاں عبداللہ شاہ صابری صاحب"
سے ملاقات ہوگئی ،فرمایا ▪️یہی ممتاز احمد ہے▪️
سو روح متعارف ہوگئی ۔14 اگست 1972ء سرکار میاں صاحب اختر کالونی کراچی میں قیام پزیر ہوگئے ۔
اب روز ملاقات کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سفر و حضر میں ساتھ نصیب ہوا ۔عصر تا عشاء مستقلاً حاضری کا معمول بن گیا ،مقسوم فیضان سینۂ فقیر کو نصیب ہونے لگا ،خصوصی نگاہِ کرم عطا ہوتی اور ہر لحاظ سے تعلیم و تربیت ہوتی رہی ،یہانتک کہ محررہ بالا مواقع و تواریخ پر خلافتِ صاںریہ سے سرفرازی ہوئی ۔پھر قبل از وصال خصوصی الہامی ،عطائی ارشاد سے اجرائے سلسلہ کا حکم ہوا ،بقول حضور اولیں چھ ماہ میں ہی خوب دھڑا دھڑی ہوئی اور سینکڑوں مرید ہوگئے ،سلسلہ پھیلتا چلا گیا ،کراچی ،مورو ،بہاولپور، ملتان ،فیصل آباد و دیگر کئی شہریوں میں بارونق حلقہ میلاد و ذکر ہونے لگے ۔
طریقہ ہائے مشائخ کے مطابق سالانہ حاضری پاکپتن شریف کا معمول رہا ۔صابری فیضان سے تعلیم و تربیت پا کے مختلف شہروں میں مریدینِ بااخلاص شرفِ خلافت کے لیے نامزد ہوئے ۔
12ربیعُ الاول شریف 1427ھ بمطابق 11 اپریل 2006ء کو خلافت کنونشن منعقد کیا گیا ۔
تقریباً چالیس خوش بختوں کی دستار بندی ہوئی ۔اولاً فرزندِ اکبر پروفیسر غلام فرید صابری و فرزندِ ثانی حافظ علی احمد صابری کو خلافت و سجادہ نشینی کی دستار بندی ہوئی ۔۔۔
ارشادِ فقیر یہی کہ کمال وہی ہے جو کہ منتقل ہو ۔۔
سو حضور قبلہ آگاہی میاں صاحب جس درجہ کامل فقیر تھے تو لازم تھا کہ ایک وسیع ،مضبوط اور رنگین سلسلہ حاملِ مظہرِ اکملیت جاری و ساری رہے ۔۔
زہے کرم یہ کرم نوازیاں برما غریباں ،عطائے جھوک صابریاں،مخدوم کی دھوم !!!