01/05/2023
عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت مفسر قرآن امام انقلاب تاریخ حق گوئی وبےباکی کی بےمثال شخصیت قافلہ حریت وجہاد کے نڈر سپاہی اور شمع و رسالت کے کروڑوں پروانوں کے دلوں کی دھڑکن علامہ احمد سعید خان صاحب ملتانی رح 2 مئی بروز سوموار 2011 کو کبیروالا پاکستان میں انتقال فرما گۓ تھے اناللّه واناعلیه راجعون
علامہ احمد سعید خان ملتانی رح نے جرات و بےباکی اور حق گوئی و مردانگی کی وہ روشن مثالیں قائم کیں .جن سے تاریخ اسلامی کے ابطال اور عبقریوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ان کے اندر ایک دل دھڑکتا تھا جس نے عمر بھر مصلحتوں و مفادات سے سمجھوتہ گوارہ نہ کیا . اس نے توحید و سنت کی خالص دعوت کو ایک نۓ انداز اور ایک نۓ اصلوب سے پیش کر کے تاریخ دعوت و عزیمت میں ایک نیا باب رقم کیا .اس نے باطل عقائد کا پوسٹ مارٹم کرنے کا جب فیصلہ کیا تو تمام خطرات سے بے نیاز ہو کر اس میدان میں امام احمد بن حنبل رح و امام ابو حنیفہ رح اور امام ابن تیمیہ کی جانشینی کا حق ادا کر دیا .وہ ایک مجاھد کی طرح زندہ رہا اس کی گرج وللکار سے باطل کے ایوان اور درودیوار لرزاں ترساں رهتے تھے
حضرت علامہ صاحب رح حق کے بیان کے لئے ایک تیغ بے نیام تھے .ان کے پرتاثر اور مدلل خطبات کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شرک و بدعات کی تاریکیوں سے نکل کر توحید و سنت کے نور سے سرفراز ہوئے وہ جہاں بھی جاتے نوجوان حضرت علامہ صاحب رح کے والہانہ نعروں کے ساتھ انکا استقبال کرتے .انکی جدائی سے ملت اسلامیہ ایک بہت بڑی علمی شخصیت سے محروم ہو گئی ہے .انکی وفات موت العالم کی مصداق ہے . افسوس کے علوم و معارف کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر خشک ہو گیا جس کے دامن میں چمکدار موتیوں کی ایک دنیا آباد تھی . جنازہ میں شامل لاکھوں سوگوار کی موجودگی سے معلوم ہوتا تھا کہ علامہ مرحوم اپنے کردار و عمل اور اپنی دینی خدمات کی بدولت ہردلعزیز تھے . لاکھوں افراد دوردراز سے اپنے آنسوؤں کا نذرانہ لئے علامہ مرحوم کو الوداع کہنے آۓ تھے انکا جنازہ جانشین امام انقلاب علامہ ابن علامہ خان کلیم اللّه خان سعید ملتانی نے پڑھایا
امام احمد بن حنبل رح نے فرمایا تھا کہ ہمارے حق و صداقت کا ثبوت ہمارے جنازے دیں گے . معلوم ہوتا تھا کہ علامہ مرحوم کے جنازے نے انکی عظمت و حق و صداقت کا کھلا ثبوت فراہم کر دیا علامہ مرحوم کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا .علامہ مرحوم نے اپنی ساری زندگی میں باطل کو کسی بھی شکل میں قبول نہ کرنے کی قسم کھا رکھی تھی
جن کی گردن سواۓ وحدہ لا شریک کے کسی کے آگے نا جھکی
قرانی علوم سے رشد و ہدایت کی کرنیں بکھیرنے والے حضرت علامہ ملتانی رح نے 2 مئی 2011کو آخری سانس لیا اور دنیا سے سرخروئی کا تبسم لیے رخصت ہوۓ اس شخصیت کی مرگ ناہگانی کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے گویا
دنیاۓ خطابت میں بڑے بڑے خطیبوں نے اپنا لوہا منوایا اور دنیاۓ علم پر اپنی چاپ چھوڑ گۓ کچھ مقررین نے سیرت کو اپنا موضوع بنایا ، کچھ نے تاریخ کے دلچسپ واقعات لوگوں تک پہنچاۓ ، کچھ نے انبیا اکرام (ع) کی روحانی داستانوں سے لوگوں کے دلوں کو موم کیا اور کچھ نے صحابہ اکرام (رض) کی ولولہ انگیز ایمانی قربانیوں پر روشنی ڈالی لیکن ایک ایسا خطیب جس نے ہر علم میں غوطہ زن ہو کر تشنگان علم کے اوپر وہ یاقوت اور جوہر بکھیرے کے اگر انکا احاطہ کیا جاۓ تو مجلدات کا ڈھیر لگ جاۓ گا وہ حضرت علامہ رح کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ایک زمانہ تھا کے پاکستان کے تمام شہروں کی گلیوں میں حضرت علامہ صاحب رح کی سریلی آواز کونجتی تھی اور خاص طور پر پنجاب کی گلیاں حضرت رح کی پرشوکت تقریر سے گونجتی تھیں توحید بیان کرنے میں ملک گیر شہرت رکھتے تھے. آپ نے اعلی درجے کی توحید بیان کی دعا ہے اس ذات اقدس کے دربار میں کے وہ ذات اقدس حضرت علامہ احمد سعید خان ملتانی رح کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین