04/08/2026
🌺 سلطانِ لاہور کا سفرِ وصال 🌺
20 صفر المظفر 465 ہجری کی رات شہرِ لاہور کے لیے ایک غیر معمولی اور غم ناک رات تھی۔ حضرت سیدنا علی بن عُثمان الہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا حجرۂ مبارک ( جہاں آج آپ کا مزارِ اقدس ہے ) انوار و تجلیات کا مرکز بنا ہوا تھا۔
حضرت سیدنا علی الہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے کئی برس تک لاہور میں علم و عرفان کی شمع روشن رکھی۔ آپ کی تعلیم و تربیت سے بے شمار لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی اور کفر و جہالت کے اندھیرے چھٹے۔
آج وہ عظیم ہستی اس دارِ فانی سے عالمِ بقا کی طرف سفر کی تیاری فرما رہی تھی۔
عمرِ مبارک کے آخری ایام میں بھی آپ کا قلب یادِ الٰہی سے معمور تھا۔ حجرے کے باہر آپ کے مخلص مریدین اور عقیدت مند اشک بار آنکھوں کے ساتھ جمع تھے۔ اپنے محبوب شیخ سے ظاہری جدائی کا تصور ہی ان کے دلوں کو بے قرار کیے ہوئے تھا۔
جیسے جیسے رات ڈھلتی گئی، آپ ذکرِ الٰہی میں مزید مستغرق ہوتے گئے۔ روایت کے مطابق نمازِ عشاء کے بعد آپ نے آرام فرمانے کے بجائے اپنی آخری رات ذکر و عبادت میں گزاری۔
🌹 صبحِ وصال اور آخری نصیحت
20 صفر کی صبح طلوع ہوئی تو آپ نے اپنے خاص مریدین کو قریب بلایا۔ فضا نہایت رقت انگیز تھی اور سب کی نگاہیں اپنے محبوب شیخ کے چہرۂ مبارک پر جمی ہوئی تھیں۔
آپ نے انہیں نصیحت فرمائی ۔۔
میرے بعد کبھی شریعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ علم اور عمل کو اپنا شعار بنانا ، کیونکہ علم کے بغیر تصوف گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ الفاظ سن کر حاضرین کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔
🌹 وصال کا لمحہ
دن چڑھا تو آپ نے کلمۂ طیبہ کا ورد فرمایا اور قرآنِ پاک کی تلاوت میں مشغول ہوگئے۔
عقیدت مندوں کے مطابق آپ کا چہرۂ مبارک انوارِ ربانی سے جگمگا رہا تھا۔ آہستہ آہستہ پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے ، جو مومن کے اچھے خاتمے کی نشانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
پھر وہ لمحہ آگیا جب آپ کی روحِ پاک اس دارِ فانی سے رخصت ہوکر اپنے ربِ کریم کے حضور حاضر ہوگئی۔
اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ
🌹 وصال کے بعد کا منظر
جیسے ہی حضرت سیدنا علی الہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کی خبر لاہور میں پھیلی ، پورا شہر غم میں ڈوب گیا۔ آپ سے محبت رکھنے والے بے شمار لوگ آستانے کی طرف امڈ آئے۔
ہر آنکھ اشک بار تھی ، کیونکہ آج شہرِ لاہور ایک عظیم عالم ، مربی اور روحانی پیشوا کی ظاہری صحبت سے محروم ہوچکا تھا۔
آپ کی نمازِ جنازہ میں مریدین ، علما اور عام شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آپ کے جسمِ اطہر کو آپ کی قائم کردہ مسجد کے احاطے میں ، اسی حجرۂ مبارک کے قریب سپردِ خاک کیا گیا جہاں آپ نے زندگی کے آخری لمحات گزارے تھے۔
صدیاں گزر گئیں ، نسلیں بدل گئیں ، 983 برس گزر گئے مگر حضرت سیدنا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا فیض آج بھی جاری ہے۔
آپ کا آستانہ آج بھی تشنگانِ محبت ، علم اور معرفت کو سیراب کررہا ہے۔