26/03/2026
حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر رحمةالله عليه فرماتے ہیں۔
درویش کی صفت (خدا کے بندوں کی)پردہ پوشی اور خود فراموشی ہے.
درویش کو چاہیے ک چار باتیں اختیار کرے
(۱) اپنی آنکھوں کو بند کر لے,کہ خدا کے بندوں کے عیوب نہ دیکھ سکے۔
(۲)کانوں کو بہرا کرلے, کہ جو باتیں سننے کے لائق نہ ہوں ان کو نہ سن سکے۔
(۳)زبان کو گونگی کر لے,کہ جو باتیں کہنے کے لائق نہ ہوں ان کو نہ کہے۔
(۴)پاوں کو لنگڑا رکھے ,کہ جب اس کا نفس کسی غیرضروری یا ناجائز کام کی طرف لے جانا چاہیے تو نہ جا سکے۔ اگریہ باتیں اس کو حاصل ہو گئیں تو وہ درویش ہے ، ورنہ وہ دروغ گو ہے۔
جو درویش اس د نیائے د نی کے عزت و جاہ کا خواستگار اور اہل دنیا کے لطف و کرم کا خواہاں ہو وہ درویش نہیں بلکہ درویشوں کو بدنام کرنے والا اور طریقت کا مرتد ہے۔
جس درویش کے دل میں ذرہ برابر بھی دنیا کی محبت ہو گی وہ مردود طریقت ہے.
درویشوں کا طریقہ تحمل ہے،اور تحمل بھی ایسا کہ اگر کوئی شخص اس کی گردن پر ننگی تلوار رکھے تو بھی اس سے وہ خوش رہے اور اس کے لئے بدعا نہ کرے۔
درویش کا زاہد تین چیزوں میں ہے
(۱) دنیا کا جاننا اور اس سے ہاتھ اٹھا لینا
(۲) مولا کی اطاعت کرنا، اور آداب کی رعایت رکھنا
(۳) آخرت کی آرزو اور اس کو طلب کرنا۔ —