09/06/2026
یہ دو حضرات کسی مدرسے کے نہیں بلکہ میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ہیں۔ انتہائی عاجز مزاج، دین کی فکر کرنے والے، انسانیت کا دکھ درد رکھنے والے اور اپنی انا کو چھوڑ کر لوگوں کی دلجوئی میں مصروف ہونے والے لوگ ہیں۔
ہمارے ایم بی بی ایس کے ایک کلاس میں 14-15 بندے بیک وقت چار مہینوں کیلئے اللہ کے رستے میں نکلے تھے۔ یہ دونوں حضرات بھی انہیں میں سے ہیں۔ پورے تعلیمی دورانیہ میں کلاس اور باقی تعلیمی سرگرمیوں کے علاؤہ صرف تبلیغی تقاضے میں لگتے رہے۔
ہاؤس جاب میں لوگوں کو اپنی فرض نماز پڑھنے کا وقت نہیں ملتا اور یہ کچھ اور دوست اپنی ڈیوٹی کرکے رات گئے شب جمعہ پہنچ جاتے۔
رات کی ڈیوٹی ہوتی تو صبح کسی جماعت کی نصرت کیلئے نکلتے۔ شام کی نماز کے بعد کمروں میں جا کر دعوت چلاتے۔ مہینے کا سہ روزہ لگاتے۔
پیچھے جو صاحب ہیں بھائی صفی اللہ صاحب، ان کی زمہ داری میں ہماری سہ روزہ کی جماعت UET ایبٹ آباد گئی تھی۔ ظہر کو ہم نکلے تو نائٹ ڈیوٹی کیلئے انہیں واپس آنا پڑا۔ ایمرجنسی ٹرائیج میں صبح تک جاگتے ریے۔ صبح یہ مسجد تشریف لے آئے۔ وہاں مقامی بھائی کو پتہ نہیں تھا کہ ان کی نیند پوری نہیں ہوئی ہے تو گشتوں کیلئے جگا دیا۔ کوئی گھنٹہ آرام کا موقع بھی نہیں مل سکا۔ اور عجیب بات یہ کہ دوسری نائٹ ڈیوٹی بھی ان ہی کی تھی۔
لیکن ان کی قربانی اور بے چینی کی برکت سے اللہ پاک نے وہاں سے کچھ ساتھیوں کو چلے اور کچھ کو بیس دن کیلئے وصول کیا۔
دو دن پہلے ان دونوں کا انڈکشن ٹیسٹ (سپلائزیشن کے بعد اسپتال مختص ہونے کیلئے ہوتا ہے) ہوا۔ بھائی نعمان صاحب نے ستر نمبرات لے کر نمایا لوگوں میں جگہ بنائی اور ان شاءاللہ بھائی صفی اللہ صاحب بھی سرجری میں ہو جائیں گے۔
مقصد یہ ہے کہ اچھے دوستوں کا میسر ہونا بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ آدمی اپنے دوست کے مذہب پر ہوتا ہے۔
گر ہم ان لوگوں کے بیچ نہ ہوتے تو پتہ نہیں کہاں ہوتے گو کہ آج بھی بہت ساری خامیوں میں لپٹے ہوئے ہیں لیکن تب کیا حال ہوتا۔۔۔
سو جو تاثر قائم ہے کہ ڈاکٹروں کو حرام حلال کی فکر نہیں اور انہیں پیسہ کمانے کا شوق ہے، یہ غلط تاثر ہے۔ ہر جگہ مسلمانی قائم ہے اور ہر ایک اپنی فکر میں لگنے سے دیندار بن سکتا ہے۔ چونکہ دینداری کا معیار لوگ طے نہیں کرینگے اس لیے وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں بس اِتنا مقصود ہے بدگمانی سے بچتے رہیں۔ آخرت میں بچت ہوگی۔ حدود اللہ کی فکر کرنے والے بہت سارے موجود ہیں۔