09/22/2021
آپ سب کی خدمت میں ایک حیرت انگیز، حیران کن، پراسرار، دل دہلادینے والا اور جوش سے بھرپور ایک ناول پیش کرنے جا رہا ہوں۔ اس ناول کا نام توش جن زاد ہی ہے اور میں ہی اس کو لکھ رہا ہوں۔ یہ اب آپ پر ہے کہ آپ کو اس پر یقین کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے مگر اس میں بہت سے واقعات سچائی پر ہیں بہت کچھ حقیقی ہے اور یہ سب سے الگ اور ایک خاص داستان ہوگی جو آپ سب کے لئے میری طرف سے ایک خاص تحفہ ہے۔ آج پہلی قسط لکھنے جا رہا ہوں۔ آپ کے کمنٹس، آپ کے لائیکس اور آپ کی پسندیدگی مجھے مزید لکھنے کی ہمت دے گی تو پھر اللہ کے پاک نام سے اس ناول کا آغاز کرتا ہوں۔
ناول: (توش جن زاد)
چیپٹر (کیا میں انسان ہوں)
صفحہ نمبر 1
مناواں اپنے خیمے میں موجود ہر ایک چیز کو غور غور سے تلاش کر رہی تھی اس کے چہرے پر خوف کے اثرات صاف نظر آرہے تھے اس کا ڈر اس کا خوف اس کے ماتھے پر بہتے ہوئے پسینے صاف بتا رہے تھے، اس کو کوئی چیز بہت زیادہ خوف زدہ کر چکی تھی وہ کبھی اپنے معصوم سے بچے کو دیکھتی تو کبھی خود کو دیکھتی اس کی آنکھوں میں بس آنسو بہتے جارہے تھے اسے اس ننھی سی جان سے بہت محبت تھی وہ اس کو کسی بھی حال میں کھونا نہیں چاہتی تھی وہ جلدی جلدی اپنا سارا سامان ایک کپڑے میں بند کر رہی تھی اسے بس جلدی سے یہاں سے نکلنا تھا اسے اب یہاں نہیں رہنا تھا۔ کبھی وہ اپنے ننھے سے بیٹے کو گود میں اٹھاتی تو کبھی اپنا سارا سامان باندھنے میں لگی ہوئی تھی اس نے جلدی سے اپنا سامان باندھ دیا اور اپنے ننھے سے بیٹے کو اپنی گود میں اٹھایا اور اپنے خیمے سے باہر آگئی اور ایک زور دار تھمانچے نے اسے بہت دور گرا دیا اور وہ ننھی سی جان بھی زمین پر دور جاگری اور اس کی آنکھوں سے آنسو اور رونے کی آواز گونجنے لگی۔ '' تو یہاں سے ایسے نہیں جا سکتی ہے تجھے تو ہم جلا کر ہی رہیں گے تو نہیں بچ سکتی ہے تو اس پورے گاؤں پر جادو کرتی ہے تو اور تیرا شوہر دونوں کا یہی کام تھا دونوں ہی کالے جادو کرتے ہو اور تکلیف پورے گاؤں کو ہوتی ہے آج ہم تمہیں جلا ہی ڈالے گے" ایک موٹے سے آدمی نے مناواں کو زور دار تھمانچہ مارتے ہوئے کہا۔ اس آدمی نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا سب ساتھیوں نے اس مناواں کو پکڑ لیا اور اس کو ایک مظبوط لوہے کے بھاری ڈنڈے کے ساتھ باندھ دیا اور اس پر مٹی کا تیل پھینک دیا۔ '' اے میرے رب تو جانتا ہے میں نے کچھ بھی نہیں کیا تو میری اس ننھی سی جان کی حفاظت فرما میں اس جان کو تیرے سپرد کرتی ہوں میرے پیارے بتین کی یہ امانت ہے۔ میرے پیارے بتین میں اب اس دنیا سے جارہی ہوں پتہ نہیں تمہیں میری نعش تک ملے گی یہ نہیں میں اب اپنے اللہ کے حوالے ہوں بے شک ہم سب نے ایک دن جانا ہی ہے" یہ مناواں کے آخری الفاط تھے اور پھر چیخوں کی پکار نے اس بے بسی نے آگ کی جلن نے اس معصوم مناواں کی آواز بند کردی اور مناواں اپنے اللہ کے سپرد ہوگئی۔ اب سب اس ننھے سے بچے کے پیچھے پڑے تھے ایک نے اس کے پاس آکر اس کو اٹھانا چاہا تو ایک تلوار نے اس کو روک دیا یہ تلوار نزار کی تھی۔ '' رک جا اس بچے کو ہاتھ بھی لگایا تم لوگوں نے اس معصوم کی ماں کی جان تو لے لی ہے میں اب اس ننھے کی جان نہیں لینے دوں گا دفع ہو جاؤ یہاں سے" مناواں کی بھاری آواز سن کر وہ بندہ پیچھے ہٹ گیا۔ نزار نے اس ننھی سی جان کو اٹھایا اور اپنے ساتھ لگا لیا اور رات نے یہ سب دیکھا اور پھر خاموش ہوگئی۔ صبح ہوئی تو اس بیچاری کی جلی نعش سب کے سامنے تھی سب نے بس تماشہ دیکھا اور کسی میں کچھ بھی کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ مناواں بتین کی محبت تھی اس کی آرزو تھی اب مناواں بتین سے جدا ہو چکی تھی اور بتین بھی کہاں تھا اس کی خبر کسی کو بھی نہیں تھی۔ سب بس ہنس رہے تھے بہت خوش تھے کہ اس عورت کو جلا دیا ہے اب یہ گاؤں محفوظ ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اب آگے کیا کیا ہونے والا تھا۔ یہ سب جنات کی طاقت سے واقف نہیں تھے اور یہ گاؤں جس جگہ تھا یہاں جنات کی ایک بہت بڑی بستی تھی جس کی وجہ سے اردگرد گاؤں کے لوگ خطرے میں پڑچکے تھے اور کئی لوگوں کی جان تک چلی گئی۔ مگر ان گاؤں والوں نے جو کیا تھا اس کا بدلہ تو چکانا ہی تھا کیونکہ بتین جنات کی بستی میں سب کی محبت لے چکا تھا بتین وہ واحد انسان تھا جو کہ جنات کی بستی میں گیا اور واپس بھی آیا اور اس نے کئی ایسے نظارے بھی دیکھیں جن سے وہ انجان تھا مگر جنات کی بستی میں اس کی بہت عزت تھی اور اب جب اسی بتین کی بیوی اور بچے کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تو اس کا حساب تو اب دینا ہی پڑے گا۔ یہ گاؤں والے توہم پرست تھے اور بتین نے بہت کوشش کی تھی کہ یہ سب راہ راست پر آجائیں جو بتین ایک دن سب کا چہیتا تھا آج اسی کی بیوی کو زندہ جلا دیا گیا اور جب تک اس کی سانسیں رہی وہ بس چلاتی رہی چیختی رہی مگر کوئی بھی اس کو بچانے والا نہیں تھا۔
صفحہ نمبر 2
آج مناواں کو بتین کو اس گاؤں سے محبت کرنے کا بہت اچھا صلہ مل چکا تھا۔
ایک آدمی اپنے چہرے کو چھپائے گاؤں کے ایک طرف چلی جارہا تھا اس کے ہاتھوں میں چمرے کا ایک بیگ تھا جس میں کچھ سامان تھا اردگرد کے لوگ اس کو سلام کئے جارہے تھے اور یہ آدمی سب کو جواب دے رہا تھا۔ یہ آدمی گاؤں سے بہت زیادہ دور چلا گیا اور وہاں جا کر ایک برگد کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور خاموشی کے ساتھ اپنا منتر چاپ میں مصروف ہو گیا وہ ابھی یہ منتر چاپ کر رہا تھا تو اچانک درخت سے آواز آئی۔ " تم اب کیا خبر لائے ہو مجھے اب آزاد ہونا ہے جلد مجھے بتین کے مرنے کی خبر دو تاکہ میں بھی آزاد ہو جاؤں" پراسرار آواز آنے لگی۔ " بتین کی بیوی مر چکی ہے اب اس کی باری ہے اور میں جلدی آپ کو آزاد کروا لوں گا اور پھر مل کر اس گاؤں کے لوگوں کو بتادیں گے کہ اب کون ہیں۔ اور اس بار ہم ناکام نہیں ہوں گے ہمیں روکنے والا کوئی نہیں ہوگا" طوسانی نے یہ سب کہا اور پھر ہنسنے کی آواز آنے لگی یہ ہنسی بہت بھاری تھی یہ ایک پراسرار آواز تھی جو اس برگد کے درخت سے آرہی تھی۔۔۔۔۔
اگلا صفحہ اور اگلا حصہ جلد ہی پوسٹ ہوگا۔ اگر یہ ناول پڑھنا چاہتے ہیں تو کمنٹ کریں اپنی رائے دیں۔۔۔۔۔
اب کچھ اپنی بات کر لیتے ہیں۔ آپ میں سے کوئی بھی جن، جادو، تعویز، پریشانی، تکلیف، رنج، خوف، گھبراہٹ، دل کا دکھی، اور بھی کئی مسائل کا شکار ہے تو وہ روحانی دعا کا حصہ بن جائے۔ روحانی دعا میں بہت شفاء ہے یہ دعا اللہ کے بہت قریب ہوتی ہے۔ روحانی دعا میں شامل ہونے کے لئے اپنا نام، اپنی والدہ کا نام، اپنا مسئلہ، اپنی عمر، اپنا شہر یہ سب پیج پر انباکس کردیں۔ روز کا دم اور کاٹ کے لئے بھی رابطہ کرے۔ اللہ کے خاص فضل سے کرم سے پوری دنیا کو شفاء ملی ہے۔ میرا مقصد جعلی عاملوں کے فتنے کو ختم کرنا ہے جو کہ صرف حوس پرستی کرتے ہیں۔ میرے پیج کو لائیک کریں کمنٹ کریں اور میرے اس مقصد میں میرا ساتھ دیں۔