01/12/2025
حضرت علیؓ کی ولادت اسلام کی تاریخ کا ایک منفرد اور بابرکت واقعہ ہے۔ آپؓ 13 رجب 30 عام الفیل کو مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ یہ عظیم شرف کسی اور کو حاصل نہیں ہوا کہ وہ اللہ کے گھر میں پیدا ہو۔ حضرت علیؓ کے والد حضرت ابو طالبؓ قریش کے معزز سردار تھے اور والدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ نہایت نیک اور پارسا خاتون تھیں
ولادت کا منفرد واقعہ
تاریخ کے مطابق، جب حضرت علیؓ کی والدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ کو ولادت کے وقت درد محسوس ہوا، تو وہ خانہ کعبہ کے قریب آئیں اور دعا کی:
“اے اللہ! مجھے اپنی پناہ میں لے لے اور اس مشکل وقت کو آسان بنا دے۔”
اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی دیوار میں ایک شگاف پیدا ہوا، اور حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ اندر داخل ہو گئیں۔ وہاں تین دن تک رہنے کے بعد انہوں نے حضرت علیؓ کو جنم دیا۔ یہ واقعہ اللہ کی قدرت اور حضرت علیؓ کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے
نام اور لقب
• آپؓ کا نام “علی” آپ کے والد حضرت ابو طالبؓ نے رکھا، جس کا مطلب ہے “بلند” یا “عظیم۔”
• نبی اکرمﷺ نے آپؓ کو “اسد اللہ” (اللہ کا شیر) اور “مرتضیٰ” (اللہ کا پسندیدہ) کے لقب سے نوازا
ولادت کی اہمیت
حضرت علیؓ کی ولادت نہ صرف ان کے والدین بلکہ پوری انسانیت کے لیے خوشی کا پیغام تھی، کیونکہ آپؓ بعد میں دینِ اسلام کے عظیم ترین محافظ اور خلیفہ بنے۔ آپؓ کی پیدائش نے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ نے آپ کو خاص مقصد کے لیے چنا ہے
حضرت علیؓ کی والدہ کا کردار
حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ نے حضرت علیؓ کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ نبی اکرمﷺ کی بھی پرورش کرنے والی تھیں اور انہی کی آغوش میں حضرت علیؓ نے اپنے ابتدائی دن گزارے۔ ان کی تربیت نے حضرت علیؓ کو بچپن ہی سے دیانت، بہادری، اور اللہ کی محبت سے آشنا کیا
خلاصہ
حضرت علیؓ کی ولادت کا واقعہ نہایت مقدس اور غیر معمولی ہے، جو آپؓ کی عظمت اور فضیلت کو واضح کرتا ہے۔ آپؓ کی زندگی کے ہر پہلو میں ہمیں رہنمائی اور سبق ملتا ہے۔ خانہ کعبہ میں ولادت کا یہ عظیم شرف آپؓ کی بلند روحانی حیثیت اور دینِ اسلام کے لیے آپ کی خدمات کی بنیاد کا مظہر ہے