Islam Fuel

Islam Fuel My aim is to spread the message of islam, to spread the love and the meaning of our religion.

01/12/2025

حضرت علیؓ کی ولادت اسلام کی تاریخ کا ایک منفرد اور بابرکت واقعہ ہے۔ آپؓ 13 رجب 30 عام الفیل کو مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ یہ عظیم شرف کسی اور کو حاصل نہیں ہوا کہ وہ اللہ کے گھر میں پیدا ہو۔ حضرت علیؓ کے والد حضرت ابو طالبؓ قریش کے معزز سردار تھے اور والدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ نہایت نیک اور پارسا خاتون تھیں

ولادت کا منفرد واقعہ

تاریخ کے مطابق، جب حضرت علیؓ کی والدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ کو ولادت کے وقت درد محسوس ہوا، تو وہ خانہ کعبہ کے قریب آئیں اور دعا کی:
“اے اللہ! مجھے اپنی پناہ میں لے لے اور اس مشکل وقت کو آسان بنا دے۔”
اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی دیوار میں ایک شگاف پیدا ہوا، اور حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ اندر داخل ہو گئیں۔ وہاں تین دن تک رہنے کے بعد انہوں نے حضرت علیؓ کو جنم دیا۔ یہ واقعہ اللہ کی قدرت اور حضرت علیؓ کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے

نام اور لقب
• آپؓ کا نام “علی” آپ کے والد حضرت ابو طالبؓ نے رکھا، جس کا مطلب ہے “بلند” یا “عظیم۔”
• نبی اکرمﷺ نے آپؓ کو “اسد اللہ” (اللہ کا شیر) اور “مرتضیٰ” (اللہ کا پسندیدہ) کے لقب سے نوازا

ولادت کی اہمیت

حضرت علیؓ کی ولادت نہ صرف ان کے والدین بلکہ پوری انسانیت کے لیے خوشی کا پیغام تھی، کیونکہ آپؓ بعد میں دینِ اسلام کے عظیم ترین محافظ اور خلیفہ بنے۔ آپؓ کی پیدائش نے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ نے آپ کو خاص مقصد کے لیے چنا ہے

حضرت علیؓ کی والدہ کا کردار

حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ نے حضرت علیؓ کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ نبی اکرمﷺ کی بھی پرورش کرنے والی تھیں اور انہی کی آغوش میں حضرت علیؓ نے اپنے ابتدائی دن گزارے۔ ان کی تربیت نے حضرت علیؓ کو بچپن ہی سے دیانت، بہادری، اور اللہ کی محبت سے آشنا کیا

خلاصہ

حضرت علیؓ کی ولادت کا واقعہ نہایت مقدس اور غیر معمولی ہے، جو آپؓ کی عظمت اور فضیلت کو واضح کرتا ہے۔ آپؓ کی زندگی کے ہر پہلو میں ہمیں رہنمائی اور سبق ملتا ہے۔ خانہ کعبہ میں ولادت کا یہ عظیم شرف آپؓ کی بلند روحانی حیثیت اور دینِ اسلام کے لیے آپ کی خدمات کی بنیاد کا مظہر ہے

01/10/2025

دل کو چھو لینے والی خوبصورت تحریر

جب آپ کسی کی اولاد کی تکلیف پر اپنی اولاد کی طرح غم کھاتے ہیں تو آپ سے اولاد کا غم ہٹا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے غم کے حصے کا غم دوسرے کی اولاد پر کھا لیا ہے۔ یوں آپ کی اولاد غم سے نجات پا جاتی ہے۔

جب آپ کسی کے بوڑھے باپ کے لیے سیٹ سے کھڑے ہوتے ہیں تو آپ کے باپ کے احترام میں کھڑا ہونے والا بھی اسی میں سے سوال کر دیا جاتا ہے۔

آج جب آپ کسی کی بہن اور بیٹی کے دوپٹہ کا خیال بنا دیا جاتا ہے، یوں آپ کی بہن اور بیٹی کے ہر غلط نگاہ سے محفوظ ہو جاتی ہے

احد پہاڑ کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “احد کو مجھ سے پیار ہے اور مجھے احد سے۔”احد پہاڑ اور شہداء احد کا قبرستان:ج...
01/09/2025

احد پہاڑ کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “احد کو مجھ سے پیار ہے اور مجھے احد سے۔”
احد پہاڑ اور شہداء احد کا قبرستان:

جبل احد مدینہ منورہ کی حدود میں شمال کی جانب واقع ہے۔ مسجد نبوی سے اس کا فاصلہ 4 کلومیٹر ہے۔ اس کی لمبائی 7.44 کلومیٹر، مشرق سے مغرب کی طرف ہے۔ اور چوڑائی 3.14 کلومیٹر ہے۔ اور سطح زمین سے بلندی 300 میٹر ہے۔ اس میں مختلف پتھر پائے جاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے احد پہاڑ کے بارے میں فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ مسلم۔

اسی پہاڑ کے دامن میں غزوہ احد کا واقعہ پیش آیا تھا۔ مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے جبل احد تھا جبکہ مشرکین کا لشکر وادی قناۃ کی جانب تھا۔

جبل رماۃ: وادی قناۃ کے کنارے جبل احد کے قریب ایک چھوٹی پہاڑی ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جبیر کی قیادت میں پچاس تیر اندازوں کو مقرر فرمایا تھا۔ اس پہاڑ کا نام جبل عینین بھی تھا۔ خالد بن ولید نے قبول اسلام سے قبل اس لشکر پر حملہ کیا تھا۔ اسی پہاڑ کی مشرقی طرف مشرکین نے حضرت وحشی کے حملے سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔ مسلمانوں کے 177 تیر انداز اس معرکے میں شہید ہوئے تھے جن میں 55 مہاجر اور 122 انصار تھے۔

شہداء احد کا قبرستان: رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق حضرت شہداء احد رضی اللہ تعالی عنہم کو شہداء کے میدان میں دفن کیا گیا۔ ان کی زیارت مسنون ہے۔ قبرستان کی چار دیواری کے اندر پھلے احاطے میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر اور حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سمیت اہم ترین مدفون ہیں

01/08/2025

موت: ایک ابدی حقیقت

موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس سے کسی کو فرار ممکن نہیں۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا:
“کل نفس ذائقۃ الموت”
(ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے)۔
یہ حقیقت دنیا کی عارضی زندگی کے اختتام اور آخرت کے ابدی سفر کا آغاز ہے۔

اسلام میں موت کو زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک دوسرے جہان کی طرف منتقلی قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک امتحان کا وقت ہے جو انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا کے قریب لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:
“اور ہم تمہیں آزمانے کے لیے موت اور زندگی پیدا کرتے ہیں تاکہ یہ دیکھیں کہ کون بہترین عمل کرتا ہے” (سورۃ الملک: 2)۔

موت کی تیاری

موت کے لیے تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیاوی زندگی سے کنارہ کش ہو جائے، بلکہ اسلام ہمیں دنیا اور آخرت دونوں کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ زندگی ایک امانت ہے اور موت اس امانت کا اختتام ہے، جس کے بعد اللہ کے حضور حساب دینا ہوگا۔
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
“عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے”۔

موت کا فلسفہ

اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ موت کسی بھی لمحے آسکتی ہے، اس لیے ہمیں ہر وقت نیک اعمال کی طرف مائل رہنا چاہیے۔ موت دنیاوی لذتوں اور آزمائشوں کی حقیقت کو آشکار کرتی ہے اور انسان کو اپنے اصل مقصد یعنی اللہ کی عبادت اور رضامندی کی یاد دلاتی ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے:
“لوگ سوئے ہوئے ہیں، موت کے بعد جاگ اٹھیں گے”۔

موت سے خوف یا امید؟

اسلام میں موت سے خوف رکھنے کے بجائے اسے رحمت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب انسان کا تعلق اپنے رب کے ساتھ مضبوط ہو۔ نیک اعمال کرنے والے انسان کے لیے موت سکون اور راحت کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ غافل کے لیے یہ ایک وارننگ ہے۔

نتیجہ

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ یہ ہمیں اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے اور اپنے اعمال کو درست کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہے کہ موت ہمیں اللہ کے قریب لے جانے کا ذریعہ ہے۔ اس لیے ہمیں ہر وقت اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے اور موت کی تیاری کرنی چاہیے تاکہ ہم کامیابی کے ساتھ اس امتحان میں سرخرو ہوں۔

“یا اللہ! ہمیں موت سے پہلے توبہ کی توفیق، موت کے وقت سکون، اور موت کے بعد جنت عطا فرما۔ آمین”

01/05/2025

*گنبدِ خضریٰ میں موجود روشن دان کیا ہے*

دراصل گنبد شریف کے اوپر نظر آنے والی یہ چیز کوئی قبر نہیں بلکہ ایک روشن دان ہے جو اُم المؤمنین حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کہنے پر بنوایا گیا تھا ۔اُس وقت باقاعدہ گنبد شریف نہیں تھا جیسے موجودہ شکل میں ہے بلکہ چھت تھی جس سے روشن دان نکالا گیا پھر بعد میں گنبد بنایا گیا اور مختلف ادوار میں گنبد شریف میں تغیر وتبدل ہوتا رہا اور اس پر مختلف رنگ بھی کیے جاتے رہے لیکن سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر روشن دان بنانے کی روایت کو ہمیشہ برقرار رکھا گیا ۔ یہ کھڑکی کیوں بنائی گئ؟
اس کا جائزہ لینے کے لیے یہ روایت ملاحظہ کیجیے :

قُحِطَ أهل الْمَدِيْنَةِ قَحْطًا شَدِيْدًا فَشَکَوْا إِلَي عائشۃ ، فَقَالَتْ : انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَاجْعَلُوْا مِنْهُ کِوًي إلَي السَّمَاءِ، حَتَّي لَا يَکُوْنَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، قَالَ : فَفَعَلُوْا فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّي نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْاِبِلُ حَتَّي تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ، فَسُمِّيَ ’’عَامَ الْفَتْقِ“۔

ایک مرتبہ مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہوگئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے (اپنی دِگرگوں حالت کی) شکایت کی۔ آپ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا :

"حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک کے پاس جاؤ اور اس سے ایک روشن دان آسمان کی طرف کھولو تاکہ قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔
راوی کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی دیر تھی کہ اتنی زور دار بارش ہوئی جس کی وجہ سے خوب سبزہ اُگ آیا اور اُونٹ موٹے ہوگئے ۔ پس اُس سال کا نام ہی ’عامُ الفتق (سبزہ و کشادگی کا سال)‘ رکھ دیا گیا۔"

1. سنن دارمی، 1 : 56، رقم : 92

2. الوفا باحوالِ دار المصطفیٰ:ابن جوزی : 817، رقم : 1534

3. شفاء السقام فی زيارة خير الأنام : 128

مشہور مدنی محدّث و مؤرخ امام علی بن احمد سمہودی’’وفاء الوفاء (2 : 560)‘‘ میں لکھتے ہیں:

" زین المراغی نے کہا : جان لیجئے کہ مدینہ کے لوگوں کی آج کے دن تک یہ سنت ہے کہ وہ قحط کے زمانہ میں روضۂ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گنبد کی تہہ میں قبلہ رُخ ایک کھڑکی کھولتے اگرچہ قبر مبارک اور آسمان کے درمیان چھت حائل رہتی۔"

(تاریخ وفاء الوفا باخبار دار المصطفیٰ : نور الدین علی بن احمد السمھودی
المتوفی ۹۱۱ ؁ھ ج۲ص ۵۶۰)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روشن دان اُم المؤمنین نے قحط کے زمانے میں حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے بارش لانے کے لیے بنوایا تھا ۔ جب قحط سے لوگ اور جانور بھوکے مررہے ہوتے ، بارش نہ ہونے سے زمین پر سبزہ ختم ہوجاتا اور سورج آگ برسارہا ہوتا ایسے میں رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کے اوپر سے اس کھڑکی کو کھول دیا جاتا اور دیکھتے ہی دیکھتے رحمۃ للعالمین کے وسیلے سے بارانِ رحمت چھماچھم برسنے لگتی ۔
مدینہ شریف کے لوگوں کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ۔
چناں چہ ترکوں کے دور کا احوال ملاحظہ کیجیے :

"حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے پاس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسُّل سے دعا کرنے کا معمول عثمانی ترکوں کے زمانے یعنی بیسویں صدی کے اوائل دور تک رائج رہا، وہ یوں کہ کہ جب قحط ہوتا اور بارش نہ ہوتی تو اہلِ مدینہ کسی کم عمر سید زادہ کو وضو کروا کر اوپر چڑھاتے اور وہ بچہ اس رسی کو کھینچتا جوقبرِ انور کے اوپر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کے فرمان کے مطابق سوراخ کے ڈھکنے کو بند کرنے کے لیے لٹکائی ہوئی تھی۔ اس طرح جب قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ رہتا تو بارانِ رحمت کا نزول ہوتا۔"

آج جب کہ پوری ملت اسلامیہ بلکہ عالم انسانیت بڑی ہی سخت بیماری کی زد میں ہے لہٰذا ایسی ناگفتہ بہ حالت میں رحمۃ للعالمین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر کی طرف لَو لگاکر آقا کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے توسل سے رب العزت جل جلالہٗ سے دعا مانگنی چاہیے بلکہ ممکن ہو تو روشن دان کھول کر یہ عرض گزار ہونا چاہیے کہ :

کھول دیں اپنا بابِ رحمت
آقاﷺ ہم سے بھول ہوئی

صَلَّی اللّٰهُ عَلٰى حَبِيبِهِ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهِ وَاَصْحٰبِهِ وَسَلَّمَ

اللھم صل علی محمدن النبی الامی وعلٰی آلہ وسلم تسلیما
💞

01/04/2025

اللہ بندے کو اس وقت تنہا کرتا ہےجب وہ چاہتا ہے کہ پیچھے وہ اور اس کا بندہ رہ جائے۔میں یہ سوچتا ہوں کہ کتنا خوش نصیب ہو گا وہ امر،اللہ اسے بس اپنےلئے چاہتا ہے،اور بندہ سمجھتا ہے میرا کوئی نہیں ہے۔
مجھے سے کوئی نیا دید نہیں کرتا،کوئی میری پرواہ نہیں کرتا۔لیکن اُس کی پرواہ کرتا ہےجو ہر چیز سے بے پرواہ ہے کتنی خوبصورت تنہائی ہے جو ہم جیسے گناہگاروں کو اللہ کے قرب کا موقع دیتی ہے،اور کتنا بڑا نصیب ہے وہ انسان جو پھر بھی لوگوں کی فکر کرے #

01/04/2025

بشر سے "ب" نکال دیں تو "شر" رہ جاتا ھے, اور "شر" اشرف المخلوقات کے مقام سے گِرنا ھے. "شر" کو بسم اللہ والے نے بسم اللہ کی "ب" عطا کر کے اِس کو "شر" سے بشر بنایا, بشر کو یہاں سے آگے کی طرف سفر کرنا ھے, نہ کہ پیچھے کی طرف.
یہاں سے "اشرف" کا "الف" ہٹا لیا جائے گا اور "شرف" کی طرف اِس کا سفر شروع ھوگا. اب اِسے مزید "شرف" حاصل کرنے ھونگے اور "شرف" کے لیے یہ "میم" کا محتاج ھے. "میم" کی مدد سے ہی یہ "شرف"سے "مُشرف" ھو گا.
"احد" میں "میم" مِلا تو "احمد" ھوا. اب اِس بشر کا سفر "احمد" کی "دال" سے شروع ھوگا جو کہ دنیا ھے. "د" سے یہ "میم" تک پہنچے گا جو کہ "محمد" ھے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) "محمد" اِسے "ح" سے متعارف کرائیں گے جو کے "حق" ھے. اور "حق" کے بعد اِسے "الف" پھر سے واضح دِکھائی دے گا جو کہ "اللہ" ھے. ا-ح-م-د 👉 احمد
"شر" کو "ب" کی طاقت دے کے "بشر" بنایا, اور "الف" سے "شرف" دے کے "اشرف" کا مقام بخشا.
"ا ل م" آپ "میم" کے اِس طرف کھڑے ہیں, نہ کہ "الف" کے اُس طرف. آپ "میم" (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب تک فیضیاب نہیں ھونگے "لام" (لا الہ الا اللہ) تک نہیں پہنچ سکتے, "لام" کی روشنی کے بعد ہی آپ کو "الف" ( اللہ) کا مقام دِکھے گا.
یہی آپ کا سفرِ امتحان ھے جو عشق کے بنا ممکن نہیں۔۔ اور اگر اس سفر میں کوئی عشق والا راہبر مل جائے کہ جسے "م" سے آشنائی ہو تو پھر "ا" تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔۔۔۔

01/04/2025

رضائے الہی اور قضائے الہی میں فرق
بعض لوگ میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ کہنا یہ چاہیے کہ فلاں شخص قضائے الہی سے فوت ہوگیا ہے۔ اس لیے کہ قضا اور رضا میں بڑا فرق ہے ۔
قضا کا معنی: تقدیر الہی . نوشتہ تقدیر .فیصلہ ا.تفاق یا حادثہ( فیروز اللغات فارسی)
جب کہ رضا کا معنی :مرضی خوشنودی اور خوشی. لہذا جب اللہ تعالی کسی کے بارے فیصلہ نافذ کرتا ہے .
اس کو قضا کہتے ہیں
اور جب کسی کسی کام کی وجہ سے راضی ہوتا ہے تب اس وقت اس بندے پر رضا الہی کا ظہور ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے۔
رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ
اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔(مجادلہ 22)
ایک اور مقام پر فرمایا۔
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ۔
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے(الفتح 18)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ
اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (مائدہ3)
مزید فرمایا۔
وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ۔
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا۔(توبہ 59)
یہ رہا قرآن مجید میں رضا کا استعمال جہاں تک قضا کا تعلق ہے تو متعدد آیات میں رب کریم میں لفظ قضا کو استعمال فرمایا ہے ان کو دیکھ کر پتہ چلتاہے کہ لفظ قضا کا معنی و مفہوم کیا ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا۔
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ۔
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو (بنی اسرائیل 23)
او رفرمایا
وَ اللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ۔
اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے۔(مومن 20)
مزید فرمایا۔
فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ۔
پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا(سبا 14)
ان تمام آیات بینات سے سے رضا اور قضا کامعنی کھل کر سامنے آ گیا۔ رضا سے اللہ تعالی کی مرضی ۔رضا مندی اور خوشنودی مراد ہے جب کہ قضا سے تقدیر فیصلہ اور موت مراد ہے ۔
قرآن مجید کی متعدد آیات میں موت کو لفظ قضا سے یاد فرمایا گیا لیکن کچھ لوگ موت کو رضائے الہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بانگ دہل کہتے ہیں کہ فلاں رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ موت سے رضائےالہی سے نہیں قضائے الہٰی سے واقع ہوتی ہے ۔ رضا اور قضامیں بڑا فرق ہے
واللہ اعلم

01/02/2025

لوگوں سے تعلق قائم کریں جو "باوقار" ہوں... آپ کا مطلب ہے وہ لوگ جو اچھے کپڑے پہنتے ہیں؟
نہیں، آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ "باوقار" لوگوں کا کیا مطلب ہے۔
"باوقار" کا مطلب ہے بہترین اور خوبصورت رویے رکھنے والے لوگ:
وہ لوگ جو بات چیت میں مہذب ہوں،
جو اپنے غصے میں بھی شائستگی دکھائیں،
یہاں تک کہ جھگڑے میں بھی وقار برقرار رکھیں،
جو آپ سے محبت کے تعلق میں بھی نفاست دکھائیں،
اور یہاں تک کہ آپ سے جدا ہونے میں بھی وقار کا مظاہرہ کریں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ناراضگی ایک چیز ہے اور ذمہ داری دوسری، اور دونوں کو ایک ساتھ ملانا مناسب نہیں۔
"باوقار" لوگ اپنے پیار، خیال، اور احترام میں نفیس ہوتے ہیں۔
ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو جانتے ہوں کہ کب بات کرنی ہے اور کب سننی ہے،
ایسے لوگ جو آپ کو نظر کے ذریعے سمجھائیں اور ایک مسکراہٹ سے معاف کر دیں،
اور ہر ناراضگی کے بعد بغیر کسی چھوٹے سے بھی زخم کے نکل آئیں۔
وہ لوگ جو آپ کو ہر حال میں پیار کرتے ہیں،
آپ کی ہر حالت اور ہر مشکل میں آپ کا ساتھ دیتے ہیں،
آپ کی نرم آواز سے محبت کرتے ہیں، اور آپ کے جذباتی ہو کر بلند آواز میں بات کرنے پر بھی ہنستے ہیں،
اور پھر آپ کے دل پر ہاتھ رکھ کر آپ کو کہتے ہیں: "اپنا خیال رکھنا"۔
یہی ہیں اصل "باوقار" لوگ۔
ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو واقعی نفیس ہوں
اللہ پاک ہمیں اپنے نیک اور صالحین بندوں میں شامل فرمائے امین یا رب العا لمین۔

01/01/2025

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے۔ جیسے باپ کو ہمارے مسائل، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا۔
کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ "اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی، بچت کی ہوتی، کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی، فلاں کی طرح عالیشان گھر، گاڑی میں گھوم رہے ہوتے"۔
"کہاں ہو؟ کب آؤ گے؟ زیادہ دیر نہ کرنا،" جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں۔
"سویٹر تو پہنا ہے، کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے"۔ انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں۔
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں۔ گھر، گاڑی، پلاٹ، بینک بیلنس ، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں۔
"ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے، کاروبار کرتے"۔
اس میں شَک نہیں کہ اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے۔ لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس لئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے، جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں، جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے۔
بہت سی اولادیں، وقتی محرومیوں کا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ، ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں۔
وقت گزر جاتا ہے، اچھا بھی اور بُرا بھی اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے اِردگِرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ جوانی، پڑھائی، نوکری شادی، اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار۔۔۔ جو نبھاتے ہوئے ہر لمحہ، اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر باپ کی ہر سوچ، احساس، فکر، پریشانی، شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے۔
باپ کی کبھی کبھی بلاءوجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے، اچھے کپڑوں کو ناپسند کر کے، پرانوں کو فخر سے پہننا، کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر، کبھی کبھی سر جُھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مَگن ہونے کی وجہ، کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بُجھا کر لیٹ جانا، نظریں جُھکائے، انتہائی محویت سے ڈوب کر قرآن کی تلاوت کرنا، سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن بہت دیر بعد جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں، جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں، پوچھ ہی لیں۔۔۔ "بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے؟"
جب قہر کی گرمی میں روم کولر کی خنک ہوا بدن کو چٗھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے، وہ "کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی"۔
جوان اولاد کے مستقبل، شادیوں کی فکر، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ، تھک ہار کر اللّٰه اور اس کی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔۔۔ تب یاد آتا ہے کہ ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف، ایک ایک آیت پر رُک رُک کر بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہو گا۔
ہر نماز کے بعد اُٹھے کپکپاتے ہاتھ، اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہوں گے۔ ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو، نمناک آنکھوں سے اللّٰه کی پناہ میں دیتا ہو گا۔
سر شام کبھی کبھی کمرے کی بتی بجھا کر، اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا؟
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے۔ اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے، محسوس کرنے، اس کی ہر تلخی، اذیت، فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب احساس ہے، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے۔ لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پر عیاں ہو جائیں، وہی خوش قسمت اولادیں ہیں۔
اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں۔ باپ کا چھونا و پیار کرنا، دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں۔ باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہوں گے؟
پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہوں گے اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہو گا۔
ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خواہش، ہر دعا، ہر تمناء، اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن کم ہی باپ ہوں گے، جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں۔ یہ ایک چُھپا، میٹھا میٹھا درد ہے۔۔۔ جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اولاد کے لئے بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کر سکنے کی ایک خلش، آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے۔ اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے، جب ہم باپ بنتے ہیں۔ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے۔
اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کُھلی آنکھوں سے وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہے۔♥️

# عشق زادہ2

01/01/2025

جن کو جنت میں جانا ہے وہ ابھی سے جنت میں رہنے والوں سے رابطہ کرلیں۔۔۔۔
https://vm.tiktok.com/ZGdktedX5/

Address

265 Seymour Grove
Manchester, VA
M160DN

Telephone

+923160980877

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam Fuel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islam Fuel:

Share