Islamic Center of High Point NC

Islamic Center of High Point NC Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic Center of High Point NC, Religious organisation, 200 West Market Center Drive, High Point, NC.

🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁        🍀*[ قسط۔۔۔۔ 04 ]*🍀*[ قربانی محبوب ترین عمل ]**عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّہ ...
06/09/2023

🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁
🍀*[ قسط۔۔۔۔ 04 ]*🍀

*[ قربانی محبوب ترین عمل ]*
*عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّہ ﷺ قَالَ: «مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللّہ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ إِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللّہ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الأَرْضِ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا۔*
*[ سنن الترمذی حدیث نمبر، 1493 ]*
*حضرت عائشہ رضی اللّہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی والے دن اللّہ عزوجل کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں، سینگوں اورکُھروں کیساتھ آئیگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قبولیت کے مقام کو پالیتا ہے اس لیے تم خوشی خوشی قربانی کیا کرو۔*

*قیامت کے دن قربانی کے جانور کے بالوں، سینگوں اور کھروں کو لانے کا مقصد اجر وثواب میں اضافہ ہے۔*
*عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الشَّامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «ضَحُّوا، وَطَيِّبُوا بِهَا أَنْفُسَكُمْ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مُسْلِمٍ يُوَجِّهُ ضَحِيَّتَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ إِلَّا كَانَ دَمُهَا، وَفَرَثُهَا، وَصَوْفُهَا حَسَنَاتٍ مُحْضَرَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»*
*[ المصنف لعبد الرزاق حدیث نمبر، 8167 ]*
*حضرت عائشہ رضی اللّہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو کیوں کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رخ قبلے کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون، گوبر اور اون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘*
*ان دو احادیث سے درج ذیل باتیں ثابت ہوئیں*
▪*قربانی والے دن اللّہ عزوجل کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔*
▪*قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قبولیت کے مقام کو پہنچ جاتا ہے۔*
▪*قیامت کے دن قربانی کے جانور کے بالوں، سینگوں اور کھروں کو بھی لایا جائیگا جو کہ میزانِ عمل میں اجر وثواب میں اضافے کا سبب بنے گا۔*
▪*قربانی کی یہ عبادت بوجھ سمجھ کر بے دلی کیساتھ ادا کرنے کی بجائے خوشی خوشی ادا کرنی چاہیے یہی عبادت کی خوبی ہے اور یہ بھی قربانی کی قبولیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔*
*ان احادیث سے بھی قربانی کی بڑی ہی فضیلت نمایاں ہوتی ہے۔*
*[ حضور نبی اکرم ﷺ کے عمل مبارک سے قربانی کی اہمیت ]*
*[۱]:- عَن ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللّہ ﷺ بِالمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي كُلَّ سَنَةٍ*
*حضرت عبد اللّہ بن عمر رضی اللّہ عنہما کی روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتے تھے۔*
*[ سنن الترمذی حدیث نمبر، 1507 ]*

*حضور نبی اکرم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت، فضیلت اور تاکید کے لیے کافی ہے۔*
*[۲] :- عَنْ قَتَادَةَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللّہ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ۔*
*حضرت انس رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے تھے اور اپنے پاؤں کو ان کی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے ذبح فرماتے تھے۔*
*[ صحیح البخاری حدیث نمبر، 5564 ]*
*اس حدیث سے جہاں قربانی کی اہمیت واضح ہوتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے۔*
*[۳] :- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ: حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللّہ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ: أَهْدَى النَّبِيُّ ﷺ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَأَمَرَنِي بِلُحُومِهَا فَقَسَمْتُهَا ثُمَّ أَمَرَنِي بِجِلَالِهَا فَقَسَمْتُهَا ثُمَّ بِجُلُودِهَا فَقَسَمْتُهَا۔*
*[صحیح بخاری حدیث نمبر، 1718 ]*

*عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَهْدَى رَسُولُ اللّہ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِائَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ مِنْهَا ثَلَاثِينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا بَقِيَ مِنْهَا وَقَالَ: اقْسِمْ لُحُومَهَا وَجِلَالَهَا وَجُلُودَهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلَا تُعْطِيَنَّ جَزَّارًا مِنْهَا شَيْئًا، وَخُذْ لَنَا مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ حُذْيَةً مِنْ لَحْمٍ، ثُمَّ اجْعَلْهَا فِي قِدْرٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا وَنَحْسُوَ مِنْ مَرَقِهَا، فَفَعَلَ۔*
*[ المسند لاحمد بن حنبل حدیث نمبر، 2359 ]*

*قربانی کے عمل کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک وقت میں سو اونٹوں کی قربانی فرمائی اور ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے دستِ اقدس سے سو میں سے تریسٹھ اونٹوں کو ذبح فرمایا جبکہ باقی کیلئے حضرت علی رضی اللّہ عنہ کو ذبح کرنیکا حکم دیا۔*

*[ حافظ محمدعرفان چشتی گولڑوی ]*
*امام اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ امریکہ*

🍁[ 40 بڑی بیماریوں سے نجات حاصل کرنیکی دعا ]🍁 ایسی چالیس 40 بلائیں جن سے نبی کریم ﷺ نے پناہ مانگی ہے  اٙلْلّٙھُمّٙ اِنِّ...
06/09/2023

🍁[ 40 بڑی بیماریوں سے نجات حاصل کرنیکی دعا ]🍁

ایسی چالیس 40 بلائیں جن سے نبی کریم ﷺ نے پناہ مانگی ہے

اٙلْلّٙھُمّٙ اِنِّیْ اٙعُوْذُبِکٙ
☆ 1۔ منَ الْعٙجْزِ
☆ 2۔ وٙالْکٙسَلِ
☆ 3۔ وٙالْجُبْنِ
☆ 4۔ وٙالْبُخْلِ
☆ 5۔ وٙالْھٙرٙمِ
☆ 6۔ وَالْقٙسْوٙةِ
☆ 7۔ وٙالْغٙفْلٙةِ
☆ 8۔ وٙالْعٙیْلٙةِ
☆ 9۔ وٙالذِّلّٙةِ
☆ 10۔ والْمٙسْکٙنٙةِ
اے اللّہ میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں عجز سے اور کاہلی سے اور بزدلی سے اور بخل سے اور بڑھاپے سے اور دل کی سختی سے اور غفلت سے اور تنگدستی سے اور ذلت سے اور محتاجگی سے

وٙ اٙعُوْذُبِکٙ
☆ 11۔ مِنَ الْفٙقْرِ
☆ 12۔ وٙالْکُفْرِ
☆ 13۔ وٙالشِّرْکِ
☆ 14۔ وٙالْفُسُوْقِ
☆ 15۔ وٙالشِّقٙاقِ
☆ 16۔ وٙالنِّفٙاقِ
☆ 17۔ وٙالسُّمْعٙةِ
☆ 18۔ وٙالرِّیٙاءِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں فقر سے اور کفر سے اور شرک سے اور فسق سے اور بدبختی سے اور منافقت سے اور ریاکاری سے اور دکھاوے سے

وٙ اٙعُوْذُبِکٙ
☆ 19۔ مِنَ الصَّمٙمِ
☆ 20۔ وٙالْبُکْمِ
☆ 21۔ وٙالْجُنُوْنِ
☆ 22۔ وٙالْجُذٙامِ
☆ 23۔ وٙالْبٙرَصِ
☆ 24۔ وٙسٙیِّئِ الْاٙسْقٙامِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں گونگے پن سے اور بہرے پن سے اور پاگل پن سے اور کوڑھ سے اور برص سے اور بری بیماریوں سے

وٙاٙعُوْذُبِک
☆ 25۔ مِنْ غٙلٙبٙةِ الدّٙیْنِ
☆ 26۔ وٙقٙھْرِالرِّجٙالِ
اور میں آپکی پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبے سے اور لوگوں کی زیادتی سے

وٙاٙعُوْذُبِکٙ
☆27۔ مِنَ الْمٙأثَمِ
☆28۔ وٙالْمٙغْرٙمِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں گناہوں سے اور دھوکے سے

وٙاٙعُوْذُبِکَ
☆ 29۔ مِنْ زٙوٙالِ نِعْمٙتِکٙ
☆ 30۔ وٙ تٙحٙوُّلِ عٙافِیٙتِکٙ
☆31۔ وٙ فُجٙاءٙةِ نِقْمٙتِکْ
☆ 32۔ وٙجٙمِیْعِ سٙخٙطِکْ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں آپ کی نعمتوں کے زائل ہونے سے اور آپ کی عافیت کے چھن جانے سے اور اچانک آپکی سزا کے آجانے سے اور آپکی تمام ناراضگی سے

☆ وٙاٙعُوْذُبِکٙ
☆ 33۔ مِنْ جٙھْدِ الْبٙلٙاءِ
☆ 34۔ وٙدٙرٙکِ الشَّقٙاءِ
☆ 35۔ وٙسُوْءِ الْقٙضٙاءِ
☆ 36۔ وٙشٙمٙاتٙةِ الْاٙعْدٙآءِ

اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں بلاؤں کے آجانے سے اور بدبختی کے پاجانے سے اور برے فیصلے سے اور دشمنوں کے شر سے

وٙاٙعُوْذُبِکٙ
☆ 37 - مِنٙ الْغٙرٙقِ
☆ 38- وٙالْحٙرٙق
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ڈوبنے سےاور جلنے سے

☆ 39- وٙاٙعُوْذُبِکٙ مِنْ سُوْءِ الْاٙخْلٙاقِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں برے اخلاق سے

☆ 40- وَأعُوْذُبِكَ مِنْ إمْرَئَةٍ تٌشَّيِّبُنِيْ قَبْلَ الْمَشِيْبِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ایسی عورت سے جو مجھے بوڑھا کردے بڑھاپے سے پہلے۔

[ حافظ محمدعرفان چشتی گولڑوی ]
امام اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ امریکہ

🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁       🍀*[ قسط۔۔۔۔ 03 ]*🍀  *[ قربانی کی حقیقت اور ثبوت ]**قربانی کے ایام میں اللّہ عزوجل ک...
06/08/2023

🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁
🍀*[ قسط۔۔۔۔ 03 ]*🍀

*[ قربانی کی حقیقت اور ثبوت ]*
*قربانی کے ایام میں اللّہ عزوجل کا قرب اور ثواب حاصل کرنے کی نیت سے مخصوص شرائط کیساتھ مخصوص جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔*
*اسلام میں قربانی کے عمل کو بہت بڑی فضیلت واہمیت حاصل ہے واضح رہے کہ یہ عمل قرآن وسنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔*
*ذیل میں ذکر کی جانیوالی آیات واحادیث سے قربانی کی فضیلت، اہمیت، تاکید اور ثبوت بخوبی واضح ہوگا۔*

*[ دین وملت اور قربانی ]*
*قربانی پیش کرنے سے متعلق حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل وقابیل اور حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیھما السلام کے واقعات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا ایسی عظیم عبادت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر امتِ محمدیہ تک ہر دین وملّت میں موجود رہی ہے جیسا کہ قرآن کریم سورت الحج آیت 34 میں اللّہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔*
*وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُواْ اسْمَ اللّٰهِ عَلىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِّنۢ بَهِيْمَةِ الْأَنْعٰمِ.*
*[ ترجمہ ]*
*اور ہم نے ہر امت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللّہ کا نام لیں جو اللّہ نے انھیں عطا فرمائے ہیں۔*
*جب سے حضرت آدم علیہ السلام زمین پر تشریف لائے تب ہی سے ان جانوروں کا ذبح کرنا بحکمِ الہٰی جاری ہے، حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل وقابیل کا قصہ قرآن شریف میں مذکور ہے کہ ہابیل نے قربانی کی تھی اور اللّہ عزوجل کے ہاں مقبول ہوئی۔‘‘*
*اس سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنیکا عمل ہر امت کیلئے مقرر کیا گیا البتہ اس کے طریقےاور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے ان ہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللّہ عزوجل نے اس امت کو عید الاضحیٰ کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے اس پوری تفصیل سے قربانی کے عمل کی اہمیت معلوم ہوجاتی ہے۔*

*[ قربانی اسلامی شعائر ]*
*قرآن مجید کی رو سے قربانی اسلامی شعائر یعنی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کے ذریعے اسلام کی شان وشوکت نمایاں ہوتی ہے۔*
*چنانچہ اللّہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے۔*
[ سورتِ حج آیت 32، 36، 37 ]
*ذٰلِكَ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ۔وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَـكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَـكُمْ فِيْھَا خَيْرٌ‌ ‌ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْھَا صَوَآفَّ‌ ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا فَكُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَـرَّ‌ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰھَا لَـكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ‏۔لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوْمُھَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ‌ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَـكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمْ‌ؕ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ ۔ *
*[ ترجمہ ]*
*یہ ساری باتیں یاد رکھو اور جو شخص اللّہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ بات دلوں کے تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے اللّہ عزوجل کے شعائر میں شامل کیا ہے تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے چنانچہ جب وہ ایک قطار میں کھڑے ہوں، ان پر اللّہ کا نام لو پھر جب (ذبح ہوکر) ان کے پہلو زمین پر گرجائیں تو ان (کے گوشت) میں سے خود بھی کھاؤ، اور ان محتاجوں کو بھی کھلاؤ جو صبر سے بیٹھے ہوں، اور ان کو بھی جو اپنی حاجت ظاہر کریں اور ان جانوروں کو ہم نے اسی طرح تابع بنادیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو اللّہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اس نے یہ جانور اسی طرح تمہارے تابع بنا دئیے ہیں تاکہ تم اس بات پر اللّہ کی تکبیر کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی، اور جو لوگ خوش اسلوبی سے نیک عمل کرتے ہیں انہیں خوشخبری سنا دو۔*
*[ تفسیر ]*
*شعائر کے معنی ہیں: وہ علامتیں جن کو دیکھ کر کوئی دوسری چیز یاد آئے اللّہ عزوجل نے جو عبادتیں واجب قرار دی ہیں اور خاص طور پر جن مقامات پر حج کی عبادت مقرر فرمائی ہے وہ سب اللّہ عزوجل کے شعائر میں داخل ہیں اور ان کی تعظیم ایمان کا تقاضا ہے۔*
*ان آیات سے بھی قربانی کے عمل کی اہمیت بخوبی معلوم ہوجاتی ہے۔*

*[ قربانی کرنے سے متعلق قرآنی حکم ]*
*اللّہ عزوجل نے قرآن مجید سورتِ کوثر آیت نمبر 2 میں قربانی کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔*
*[ سورہ کوثر آیت 1، 2 ]*
*اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ ۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ*
*[ ترجمہ ]*
*(اے پیغمبر یقینا ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے لہٰذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کیلئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔*
*اس آیتِ مبارکہ کی ایک تفسیر یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ نمازِعید ادا کیجیے اور قربانی کیجیے۔*
*[ تفسیر قرطبی ]*
*فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ:*
*وَقَالَ قَتَادَةُ وَعَطَاءٌ وَعِكْرِمَةُ: فَصَلِّ لِرَبِّكَ صَلَاةَ الْعِيدِ وَيَوْمَ النَّحْرِ وَانْحَرْ نُسُكَكَ وَقَالَ أَنَسٌ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَنْحَرُ ثُمَّ يُصَلِّي، فَأُمِرَ أَنْ يُصَلِّيَ ثُمَّ يَنْحَرُ۔*

*[ حافظ محمدعرفان چشتی گولڑوی ]*
*امام اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ امریکہ*

🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁        🍀*[ قسط۔۔۔۔ 02 ]*🍀* قسطِ سابق میں مذکور واقعہ سے متعلق اس بات کی وضاحت کرنا بھی ضر...
06/07/2023

🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁
🍀*[ قسط۔۔۔۔ 02 ]*🍀

* قسطِ سابق میں مذکور واقعہ سے متعلق اس بات کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے دونوں بیٹوں کو جو قربانی پیش کرنیکی تجویز دی کہ جس کی قربانی قبول ہوجائے تو اس کا نکاح مذکورہ لڑکی سے کردیا جائیگا تو یہ تجویز اس لیے نہیں دی کہ اگر قابیل کی قربانی قبول ہوجاتی تو اسی سے اس لڑکی کا نکاح کر دیا جاتا کیونکہ یہ تو انکی شریعت میں بھی جائز ہی نہیں تھا بلکہ یہ تجویز بظاہر صرف اس لیے دی گئی کہ معاملہ قربانی کی قبولیت پر موقوف کرتے ہوئے اللّہ عزوجل کے حوالے کردیا جائے تاکہ قابیل کیلئے بھی یہ صورتحال قابلِ قبول ہوجائے اور قربانی قبول نہ ہونیکی صورت میں وہ اپنے مطالبے سے دستبردار ہوجائے اور یہ بات تو واضح ہی تھی کہ اللّہ عزوجل قابیل کی قربانی قبول نہیں کریگا کیونکہ وہ ایک غیر شرعی مقصد کیلئے تھی علاوہ ازیں کہ قابیل نے کوئی عمدہ چیز بھی قربانی کیلئے پیش نہیں کی جس کیوجہ سے قربانی کی قبولیت مزید متأثر ہوئی۔*

*[ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کا عظیم الشان واقعہ ]*
*اسی طرح قربانی سے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا عظیم الشان واقعہ بھی نہایت ہی اہمیت اور خصوصیت کا حامل ہے جو کہ مشہور ومعروف ہے۔*
*چنانچہ قرآن مجید سورۃ الصَّافّات میں اس کا ذکر موجود ہے۔*
▪ *[ ترجمہ ]*
*[حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی کہ:] ’’اے میرے پروردگار مجھے ایک ایسا بیٹا عطا فرما دے جو نیک لوگوں میں سے ہو چنانچہ ہم نے انہیں ایک بُردبار لڑکے کی خوشخبری عطا فرمائی۔*
*(1) پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کیساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو اُنھوں نے کہا بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں اب سوچ کر بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا: ابا جان آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔*
*(2) ان شاء اللّہ آپ مجھے صبر کرنیوالوں میں سے پائیں گے چنانچہ (وہ عجیب منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکا دیا، اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا۔*
*(3)اور ہم نے اُنھیں آواز دی کہ اے ابراہیم تم نے خواب سچ کر دکھایا یقینًا ہم نیکی کرنیوالوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں یقینًا یہ ایک کھلا امتحان تھا اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اُس بچے کو بچا لیا۔*
*(4) اور جو لوگ اُن کے بعد آئے اُن میں یہ روایت قائم کی (کہ وہ یہ کہا کریں کہ:) سلام ہو ابراہیم پر ہم نیکی کرنیوالوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں یقینًا وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھے۔*
▪ *[ تفسیر ]*
*(1) یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے سے مراد حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔*
*(2) یہ اگرچہ ایک خواب تھا لیکن انبیاء کرام علیہم السلام کا خواب بھی وحی الٰہی ہوتا ہے اس لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اسے اللّہ عزوجل کا حکم قرار دیا۔*
*(3) باپ بیٹا دونوں نے تو اپنی طرف سے اللّہ عزوجل کے حکم کی تعمیل کا پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ باپ بیٹے کو ذبح کریگا اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا تاکہ چھری پھیرتے وقت ان کی صورت دیکھ کر ارادے میں کوئی تزلزل نہ آجائے۔*
*(4) چونکہ باپ بیٹا دونوں اللّہ عزوجل کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کیمطابق معاملہ کرچکے تھے اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا اب اللّہ عزوجل نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللّہ عزوجل نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام زندہ سلامت رہے۔*

*[ انبیاء کرام کے خواب کے متعلق ضروری وضاحت ]*
*یہاں اس بات کوسمجھنا ضروری ہے کہ انبیاء کرام کا خواب بھی وحی الٰہی ہوتا ہے جس کیمطابق عمل پیرا ہونا ضروری ہوتا ہے اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام محض اپنے خواب کی بنا پر اپنے صاحبزادے کو قربان کرنے کیلئے تیار ہوئے۔*
*جبکہ انبیاء کرام کے علاوہ کسی بھی آدمی کا خواب دلیل اور حجّت نہیں بن سکتا کہ اس کیمطابق عمل پیرا ہونا ضروری ہو اور نہ ہی اس خواب کی بنا پر کوئی حکم لاگو ہوسکتا ہے۔*

*[ عملِ قربانی اور سابقہ ادیان ]*
*حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل وقابیل اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ان واقعات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا ایسی عظیم عبادت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر امتِ محمدیہ تک ہر دین وملّت میں موجود رہی ہے۔*
*جیسا کہ قرآن مجید سورہ الحج آیت 34 میں اللّہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے۔*
*وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُواْ اسْمَ اللّٰهِ عَلىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيْمَةِ الْأَنْعَامِ۔*
▪ *ترجمہ:*
*’’اور ہم نے ہر امت کیلئے قربانی اس مقصد کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ جانوروں کو قربان کرتے وقت ان پر اللّہ عزوجل کا نام لیں جو اللّہ عزوجل نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔‘‘*
*اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے کا عمل ہر امت کیلئے مقرر کیا گیا البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے ان ہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللّہ عزوجل نے اس امتِ محمدیہ علیٰ صَاحِبِہَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کو عیدالاضحیٰ کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔*

*[ حافظ محمدعرفان چشتی گولڑوی ]*
*امام اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ امریکہ*

🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁          🍀*[ قسط۔۔۔ 01 ]*🍀       *{ تاریخِ قربانی }**قربانی ماہِ ذو الحج کی ایک اہم ترین ...
06/06/2023

🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁
🍀*[ قسط۔۔۔ 01 ]*🍀

*{ تاریخِ قربانی }*
*قربانی ماہِ ذو الحج کی ایک اہم ترین اور عظیم الشان عبادت ہے یہ اللّہ عزوجل کی رضا اور خوشنودی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے یوں تو اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہی چلا آرہا ہے جیسا کہ تفاسیر قرآن میں مفسرین کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ:*
*’’جب سے حضرت آدم علیہ السلام زمین پر تشریف لائے تب ہی سے ان جانوروں کا ذبح کرنا بحکمِ الہٰی جاری ہے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کا قصہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ ہابیل نے قربانی کی تھی اور وہ اللّہ عزوجل کی بارگاہ مقبول ہوئی۔*

*{ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل وقابیل کا واقعہ }*
*اللّہ عزوجل نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ دونوں نے اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کی ہابیل نے ایک عمدہ دنبہ قربان کیا جبکہ قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا اُس وقت قربانی قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر قربانی کو کھالیتی چنانچہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھالیا اس طرح اس کی قربانی قبول ہوگئی جبکہ قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہ گئی یوں وہ قبولیت سے محروم ہوگئی۔*
*مذکورہ واقعہ سے متعلق سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 27 ملاحظہ فرمائیں:*
*وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَىْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ‌ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ قَالَ لَاَقْتُلَـنَّكَ‌ؕ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ *
*اور اے پیغمبر ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تھی، اور ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی، اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی اس (دوسرے نے پہلے سے) کہا کہ: میں تجھے قتل کر ڈالوں گا پہلے نے کہا کہ اللّہ تو ان لوگوں سے (قربانی) قبول کرتا ہے جو متقی ہوں۔‘‘*
*[ خلاصہ تفسیر ]*
*اس سے قبل آیات میں بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کا ذکر تھا کہ جہاد کا حکم آجانے کے باوجود اس سے جان چھڑاتے رہے، اب بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک بامقصد جہاد میں کسی کی جان لینا تو نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے لیکن ناحق کسی کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے بنی اسرائیل نے جہاد سے تو جان چھڑائی لیکن بہت سے بےگناہوں کو قتل کرنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کیا اس سلسلے میں وہ واقعہ بیان کیا جارہا ہے جو اس دنیا میں سب سے پہلے قتل کی واردات پر مشتمل ہے اس واقعے میں قرآن کریم نے تو صرف اتنا بتایا ہے کہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں نے کچھ قربانی پیش کی تھی ایک کی قربانی قبول ہوئی دوسرے کی نہ ہوئی اس پر دوسرے کو غصہ آگیا اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کرڈالا لیکن اس قربانی کا کیا پسِ منظر تھا۔*
*قرآن کریم نے اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائی البتہ مفسرین کرام نے حضرت عبداللّہ بن مسعود رضی اللّہ عنہ اور بعض دوسرے صحابہ کرام کے حوالے سے اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام قابیل تھا اور ایک کا ہابیل اُس وقت چونکہ دنیا کی آبادی صرف حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد پر مشتمل تھی اس لیے ان کی اہلیہ کے ہر حمل میں دو جڑواں بچے پیدا ہوتے تھے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ان دونوں کے درمیان تو نکاح حرام تھا، لیکن ایک حمل میں پیدا ہونیوالے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل سے پیدا ہونیوالی لڑکی سے ہوسکتا تھا قابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بڑی خوبصورت تھی لیکن جڑواں بہن ہونے کیوجہ سے اس کیساتھ قابیل کا نکاح جائز نہ تھا اس کے باوجود اس کا اصرار تھا کہ اسی سے نکاح کرے ہابیل کیلئے وہ لڑکی حرام نہ تھی اس لیے وہ اس کیساتھ نکاح کرنا چاہتا تھا جب دونوں کا یہ اختلاف بڑھا تو فیصلہ اس طرح قرار پایا کہ دونوں کسی چیز کی قربانی اللّہ عزوجل کے حضور پیش کریں جس کی قربانی اللّہ عزوجل نے قبول فرمالی اس کا دعویٰ برحق سمجھاجائیگا چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی۔*
*روایات میں ہے کہ ہابیل نے ایک دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار پیش کی اس وقت قربانی کے قبول ہونیکی علامت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر قربانی کو کھاجاتی تھی، ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھالیا اور اس طرح اس کی قربانی واضح طور پر قبول ہوگئی اور قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہ گئی، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ قبول نہیں ہوئی، اس پر بجائے اس کے کہ قابیل حق کو قبول کرلیتا، حسد میں مبتلا ہو کر اپنے بھائی کو قتل کرنے کیلئے تیار ہوگیا۔*

*[ حافظ محمدعرفان چشتی گولڑوی ]*
*امام اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ امریکہ*

🍁[ اعلانِ فوتگی و دعائے مغفرت ]🍁     { إنا للّٰہ وإنا إليه راجعون }حضرو والے نوید اصغر صاحب اور تنویر اصغر صاحب کی نانی ...
06/02/2023

🍁[ اعلانِ فوتگی و دعائے مغفرت ]🍁
{ إنا للّٰہ وإنا إليه راجعون }

حضرو والے نوید اصغر صاحب اور تنویر اصغر صاحب کی نانی صاحبہ بقضائے الہی پاکستان میں وصال فرما گئی ہیں۔

ان کیلئے دعائے مغفرت دو دن ہفتہ اور اتوار نمازِعصر سے نمازِعشاء تک اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ ہو گی۔

Grandmother of Naveed Asghar and Tanveer Asghar has passed away in Pakistan.

Pray for her will be held for two days on Saturday and Sunday from Asr prayer to Isha prayer at Islamic Center of High Point.

‏‎اِنَّ لِلّٰہِ مَاأَخَذَ وَلَہٗ مَاأَعْطٰی، وَکُلُّ شَیْیٍٔ عِنْدَہ بِأَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔
اللّہ عزوجل ہی کا ہے جو کچھ اس نے لے لیا اور جو اس نے کچھ دیا اور اس کے نزدیک ہر چیز کا وقت متعین ہے اس پر صبر کریں اور ثواب حاصل کریں۔
[ صحیح البخاری ١/١٧١،وصحیح المسلم١/٣٠١ ]

منیجمنٹ اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ نوید اصغر صاحب اور تنویر اصغر صاحب کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
اللّہ عزوجل اپنے حبیبِ مکرم ‎ﷺکے صدقے مرحومہ کی کامل بخشش ومغفرت فرمائے انکی خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرما کر درجات کی بلندی عطا فرمائے۔
انہیں قبر میں دیدارِ مصطفٰی ‎ﷺ اور حشر میں شفاعت مصطفٰی ‎ﷺ نصیب فرمائے۔
انکی قبر کو بقعۂ نور بنا کر تاحدِنگاہ وسیع وعریض بنائے اور جنت کے باغوں میں سے باغ بنائے۔
جنت الفردوس میں حضور نبی اکرم ‎ﷺ کا قرب وجوار نصیب فرمائے لواحقین کو صبرجمیل کیساتھ اجرِ عظیم نصیب فرمائے۔
‏‎اللَّهُمَّ اغْفِرْلَھا وَارْحَمْھا وَعَافِهھا وَاعْفُ عَنْھا وَأَکْرِمْ نُزُلَھا وَوَسِّعْ مَدْخَلَھا وَاغْسِلھا بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّھا مِنَ الْخَطَايَا*کَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْھا دَارًا خَيْرًا مِّنْ دَارِھا وَأَهْلًا خَيْرًا مِّنْ أَهْلِھا وَزَوْجًا خَيْرًا مِّنْ زَوْجِھا وَأَدْخِلْھا الْجَنَّةَ وَأَعِذْھا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ عَذَابِ النَّار۔
‏‎یااللّہ انکی بخش فرمااور رحم فرما اور انہیں عافیت عطا فرما اور انہیں معاف فرما اور ان کے ٹھکانے کو مکرم بنادے اور ان کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے پانی برف اور اولوں سے دھو دے اور ان کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے اور انکو گھر کے بدلے بہتر گھر عطا فرما اور انہیں جنت میں داخل فرما اورقبر کے عذاب اور جہنم کے عذاب سے بچا۔
آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم ‎ﷺ

منیجمنٹ اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ

Prayer Times Schedule for June 2023
05/26/2023

Prayer Times Schedule for June 2023

🍁[ اعلانِ فوتگی و دعائے مغفرت ]🍁        { إنا للّٰہ وإنا إليه راجعون }ملک شراکت خان صاحب وائس پریزیڈنٹ اسلامک سینٹر آف ہ...
05/24/2023

🍁[ اعلانِ فوتگی و دعائے مغفرت ]🍁
{ إنا للّٰہ وإنا إليه راجعون }

ملک شراکت خان صاحب وائس پریزیڈنٹ اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ کے بھائی جان ملک شفاقت خان صاحب بقضائے الہی پاکستان میں وصال فرماگئے ہیں۔
ان کیلئے دعائے مغفرت تین دن نمازِظہر سے نمازِعشاء تک اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ میں ہوگی۔

Malik Shafaqat Khan Brother of Malik Sharakat Khan Sb (Vice President Islamic Center of High Point) has passed away in Pakistan.

Pray for him will be held for three days from Zuhr prayer to Isha prayer at Islamic Center of High Point NC.

منیجمنٹ اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ ملک شراکت خان صاحب کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
‏‎اِنَّ لِلّٰہِ مَاأَخَذَ وَلَہٗ مَاأَعْطٰی، وَکُلُّ شَیْیٍٔ عِنْدَہ بِأَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔
اللّہ عزوجل ہی کا ہے جو کچھ اس نے لے لیا اور جو اس نے کچھ دیا اور اس کے نزدیک ہر چیز کا وقت متعین ہے اس پر صبر کریں اور ثواب حاصل کریں۔
[ صحیح البخاری ١/١٧١،وصحیح المسلم١/٣٠١ ]

اللّہ عزوجل اپنے حبیبِ مکرم ‎ﷺکے صدقے مرحوم کی کامل بخشش ومغفرت فرمائے انکی خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرما کر درجات کی بلندی عطا فرمائے۔
انہیں قبر میں دیدارِ مصطفٰی ‎ﷺ اور حشر میں شفاعت مصطفٰی ‎ﷺ نصیب فرمائے۔
انکی قبر کو بقعۂ نور بنا کر تاحدِنگاہ وسیع وعریض بنائے اور جنت کے باغوں میں سے باغ بنائے۔
جنت الفردوس میں حضور نبی اکرم ‎ﷺ کا قرب و ساتھ نصیب فرمائے لواحقین کو صبرجمیل کیساتھ اجرِ عظیم نصیب فرمائے۔

‏‎اللَّهُمَّ اغْفِرْلَہ وَارْحَمْہ وَعَافِهہ وَاعْفُ عَنْہُ وَأَکْرِمْ نُزُلَہ وَوَسِّعْ مَدْخَلَہ وَاغْسِلہ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّہ مِنَ الْخَطَايَا*کَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْہ دَارًا خَيْرًا مِّنْ دَارِہ وَأَهْلًا خَيْرًا مِّنْ أَهْلِہ وَزَوْجًا خَيْرًا مِّنْ زَوْجِہ وَأَدْخِلْہ الْجَنَّةَ وَأَعِذْہ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ عَذَابِ النَّار
‏‎یااللّہ انکی بخش فرمااور ان پر رحم فرما اور انہیں عافیت عطا فرما اور انہیں معاف فرما اور ان کے ٹھکانے کو مکرم بنادے اور ان کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے اور ان کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے اور انکو دنیاوی گھر کے بدلے اُخروی بہترین گھر عطا فرما اور انہیں جنت میں داخل فرما اور انہیں قبر اور جہنم کے عذاب سے بچا
‏‎آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم ‎ﷺ

منیجمنٹ اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ امریکہ

تمام احباب توجہ اور یقینِ کامل کیساتھ روزانہ بعداز نمازِ مغرب سورہ واقعہ کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیں دنیا وآخرت کی مش...
05/20/2023

تمام احباب توجہ اور یقینِ کامل کیساتھ روزانہ بعداز نمازِ مغرب سورہ واقعہ کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیں دنیا وآخرت کی مشکلات آسان ہو جائیں گئیں۔

🍁[ اسلام میں ماں کا مقام ومرتبہ اور مدر ڈے ]🍁ماں کو عربی زبان میں اُم کہا جاتا ہے اور یہ لفظ اُم قرآن مجید میں 84 مرتبہ ...
05/15/2023

🍁[ اسلام میں ماں کا مقام ومرتبہ اور مدر ڈے ]🍁

ماں کو عربی زبان میں اُم کہا جاتا ہے اور یہ لفظ اُم قرآن مجید میں 84 مرتبہ آیا ہے اسکی جمع امہات آتی ہے اور لفظ امہات قرآن مجید میں گیارہ مرتبہ آیا ہے۔
لغتِ عرب کے امام خلیل نحوی نے لفظ اُم کی تعریف کچھ یوں بیان فرمائی کہ ہر وہ چیز جس کے اندر اس کے متعلقات سما جائیں اسکو اُم کہتے ہیں جیسے سورہ فاتحہ کو اُم الکتاب کہا جاتا ہے اور مکہ مکرمہ کو اُم القری کہا جاتا ہے کیونکہ یہ خطہ سارے عرب کا مرکز ہے۔

قرآن مجید کی سورہ لقمان میں ماں کی ان تکالیف کا ذکر کیا گیا ہے جنھیں برداشت کر کے وہ اولاد کو جنم دیتی ہے اسی وجہ سے اسلام میں ماں کا مقام ومرتبہ بنسبت باپ کے تین گنا زیادہ ہے۔

امام مسلم نے اپنی صحیح میں بسندِ صحیح حدیث مبارکہ نقل فرمائی ہے کہ ایک شخص بارگاہِ مصطفوی میں حاضر ہوا عرض کی یارسول اللّہ اس دنیامیں میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا تیری ماں اس نے پھر عرض کیا اسکے بعد کون ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا تیری ماں اس نے تیسری مرتبہ عرض کیا اسکے بعد کون ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا تیری ماں اس نے چوتھی مرتبہ عرض کیا اسکے بعد کون ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا تیرا باپ یعنی والدہ بنسبت والد کے مقام ومرتبہ میں تین گنا بڑھ کر ہے۔

مغربی ممالک میں ماں باپ کی محبت کے حوالے سے صرف ایک دن مقرر کیا گیا ہے جسے مدر ڈے اور فادر ڈے کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں بچے ماں یا باپ کو اس دن کوئی پھول یا ہلکا پھلکا تحفہ پیش کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انہوں نے ماں باپ سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے جبکہ ہمارے مذہبِ اسلام میں ہر دن مدر ڈے اور فادر ڈے ہے کیونکہ اللّہ عزوجل نے اپنی رضا کو ماں باپ کی رضا سے مشروط کر دیا ہے بشرطیکہ وہ برائی یا معصیت کا حکم نہ دیں۔*
*فریڈرک نے درست کہا تھا کہ جس گھر میں تعلیم یافتہ اور نیک ماں ہوتی ہے وہ گھر تہذیب واخلاق کی درسگاہ ہوتا ہے۔

تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے ڈیڑھ ہزار سال قبل والدین کو وہ مقام و مرتبہ عطا فرمایا جو دنیا کا کوئی معاشرہ، مذہب اور تمدن نہیں دے سکتا۔
حضرت معاویہ بن جاہمہ رضی اللّہ تعالی عنہ نے حضور نبی اکرم ﷺکی بارگاہ میں عرض کی یارسول اللّہ میرا جہاد کا ارادہ ہے۔آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کیا تیری والدہ زندہ ہے؟ عرض کی ہاں یارسول اللّہ فرمایا جا کر اسکی خدمت کر بیشک جنت اس کے قدموں کے نیچے ہے۔
غور فرمائیں کہ ماں باپ کی خدمت جہاد سے بھی افضل عمل ہے مگر بدقسمتی سے آج لوگ والدین کو ناراض کر کے جگہ جگہ جا کر دعائیں کرواتے رہتے ہیں حالانکہ سب سے پہلے اپنے والدین کی خدمت کر کے ان سے دعائیں لینی چاہیے بعد میں کسی اور سے بھی دعا کروا سکتے ہیں۔
اللّہ عزوجل نے ماں کو کیا ہی عظیم احساس عطا فرمایا ہے کہ کھانے سے بیٹے کا پیٹ بھرتا ہے مگر بھوک ماں کی ختم ہوتی ہے بیمار بیٹا ہوتا ہے تکلیف ماں کو محسوس ہوتی ہے۔

اک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

ماں کی نیکی، تقویٰ اور صالحیت کا اثر اولاد پر پڑتا ہے بلکہ یوں سمجھ لیں کہ جیسی ماں ہوتی ہے ویسی ہی اولاد ہوتی ہے۔
ماں اگر حضرت باجرہ سلام اللّہ علیھا جیسی ہو تو بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا ہوتا ہے، ماں اگر سیدہ آمنہ سلام اللّہ علیھا جیسی ہو تو بیٹا محمد مصطفی ﷺ جیسا ہوتا ہے جن کی طرح اب کائنات میں دوبارہ کوئی نہیں آ سکتا ماں اگر فاطمہ بنت اسد رضی اللّہ تعالی عنہا جیسی ہو تو بیٹا علی المرتضی شیرِ خدا کرم اللّہ تعالی وجھہ الکریم جیسا ہوتا ہے ماں اگر سیدہ کائنات فاطمہ الزہراء رضی اللّہ تعالی عنہا جیسی ہو تو بیٹا امام عالی مقام امام حسین علیہ السلام جیسا ہوتا ہے جو نیزے کی نوک پر چڑھ کر بھی قرآن کی تلاوت کرتا دکھائی دیتا ہے ماں اگر ام الخیر فاطمہ رضی اللّہ تعالی عنہا ہو تو بیٹا سارے ولیوں کا سردار شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللّہ تعالی عنہ جیسا ہوتا ہے۔

مفکر پاکستان، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے اپنی والدہ ماجدہ کے وصال پر ماں کے عنوان سے ایک طویل نظم تحریر فرمائی جس کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

آہ اب کس کو ہو گا وطن میں میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بیقرار
خاکِ مرقد پر تیرے لے کے یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا
تیری ساری عمر خدمت میری گر رہی
میں تیری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

جن کے والدین زندہ ہیں وہ انکی خدمت کر کے جنت حاصل کر لیں اور جنکے وصال فرما چکے ہیں وہ ان کیلئے ایصالِ ثواب، صدقات وخیرات، والدین کے دوست احباب سے حسنِ سلوک کر کے والدین کی ارواح کو راحت وسکوں پہنچائیں۔

حافظ محمدعرفان چشتی گولڑوی
امام اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ امریکہ

Prayer Times Schedule for May 2023
04/27/2023

Prayer Times Schedule for May 2023

Address

200 West Market Center Drive
High Point, NC
27260

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Center of High Point NC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share