06/09/2023
🍁*{ قربانی کے فضائل ومسائل }*🍁
🍀*[ قسط۔۔۔۔ 04 ]*🍀
*[ قربانی محبوب ترین عمل ]*
*عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّہ ﷺ قَالَ: «مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللّہ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ إِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللّہ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الأَرْضِ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا۔*
*[ سنن الترمذی حدیث نمبر، 1493 ]*
*حضرت عائشہ رضی اللّہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی والے دن اللّہ عزوجل کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں، سینگوں اورکُھروں کیساتھ آئیگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قبولیت کے مقام کو پالیتا ہے اس لیے تم خوشی خوشی قربانی کیا کرو۔*
*قیامت کے دن قربانی کے جانور کے بالوں، سینگوں اور کھروں کو لانے کا مقصد اجر وثواب میں اضافہ ہے۔*
*عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الشَّامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «ضَحُّوا، وَطَيِّبُوا بِهَا أَنْفُسَكُمْ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مُسْلِمٍ يُوَجِّهُ ضَحِيَّتَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ إِلَّا كَانَ دَمُهَا، وَفَرَثُهَا، وَصَوْفُهَا حَسَنَاتٍ مُحْضَرَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»*
*[ المصنف لعبد الرزاق حدیث نمبر، 8167 ]*
*حضرت عائشہ رضی اللّہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو کیوں کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رخ قبلے کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون، گوبر اور اون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘*
*ان دو احادیث سے درج ذیل باتیں ثابت ہوئیں*
▪*قربانی والے دن اللّہ عزوجل کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔*
▪*قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قبولیت کے مقام کو پہنچ جاتا ہے۔*
▪*قیامت کے دن قربانی کے جانور کے بالوں، سینگوں اور کھروں کو بھی لایا جائیگا جو کہ میزانِ عمل میں اجر وثواب میں اضافے کا سبب بنے گا۔*
▪*قربانی کی یہ عبادت بوجھ سمجھ کر بے دلی کیساتھ ادا کرنے کی بجائے خوشی خوشی ادا کرنی چاہیے یہی عبادت کی خوبی ہے اور یہ بھی قربانی کی قبولیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔*
*ان احادیث سے بھی قربانی کی بڑی ہی فضیلت نمایاں ہوتی ہے۔*
*[ حضور نبی اکرم ﷺ کے عمل مبارک سے قربانی کی اہمیت ]*
*[۱]:- عَن ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللّہ ﷺ بِالمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي كُلَّ سَنَةٍ*
*حضرت عبد اللّہ بن عمر رضی اللّہ عنہما کی روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتے تھے۔*
*[ سنن الترمذی حدیث نمبر، 1507 ]*
*حضور نبی اکرم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت، فضیلت اور تاکید کے لیے کافی ہے۔*
*[۲] :- عَنْ قَتَادَةَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللّہ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ۔*
*حضرت انس رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے تھے اور اپنے پاؤں کو ان کی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے ذبح فرماتے تھے۔*
*[ صحیح البخاری حدیث نمبر، 5564 ]*
*اس حدیث سے جہاں قربانی کی اہمیت واضح ہوتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے۔*
*[۳] :- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ: حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللّہ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ: أَهْدَى النَّبِيُّ ﷺ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَأَمَرَنِي بِلُحُومِهَا فَقَسَمْتُهَا ثُمَّ أَمَرَنِي بِجِلَالِهَا فَقَسَمْتُهَا ثُمَّ بِجُلُودِهَا فَقَسَمْتُهَا۔*
*[صحیح بخاری حدیث نمبر، 1718 ]*
*عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَهْدَى رَسُولُ اللّہ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِائَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ مِنْهَا ثَلَاثِينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا بَقِيَ مِنْهَا وَقَالَ: اقْسِمْ لُحُومَهَا وَجِلَالَهَا وَجُلُودَهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلَا تُعْطِيَنَّ جَزَّارًا مِنْهَا شَيْئًا، وَخُذْ لَنَا مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ حُذْيَةً مِنْ لَحْمٍ، ثُمَّ اجْعَلْهَا فِي قِدْرٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا وَنَحْسُوَ مِنْ مَرَقِهَا، فَفَعَلَ۔*
*[ المسند لاحمد بن حنبل حدیث نمبر، 2359 ]*
*قربانی کے عمل کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک وقت میں سو اونٹوں کی قربانی فرمائی اور ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے دستِ اقدس سے سو میں سے تریسٹھ اونٹوں کو ذبح فرمایا جبکہ باقی کیلئے حضرت علی رضی اللّہ عنہ کو ذبح کرنیکا حکم دیا۔*
*[ حافظ محمدعرفان چشتی گولڑوی ]*
*امام اسلامک سینٹر آف ہائی پوائنٹ امریکہ*