Ismaili Muslim Real Islam

Ismaili Muslim Real Islam Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ismaili Muslim Real Islam, Religious Center, Dallas, TX.

03/09/2025

💚👇

08/12/2023

قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ تَعٰالٰی آدَمَ اَبَالْبَشَرِ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُوْحِہِ اِلْتَفَتَ آدَمُ یُمْنَةَ الْعَرْشِ فَاِذاً فِی النُّوْرِخَمْسَةُ اَشْبٰاحٍ سُجَّداً وَرُکَّعٰا، قٰالَ آدَمُ:(علٰی نَبِیِّنٰا وَآلِہ وَعَلَیْہِ السَّلام)ھَلْ خَلَقْتَ اَحَداً مِنْ طِیْنِ قَبْلِی؟ قٰالَ لاٰ یَا آدَمَ! قٰالَ:فَمَنْ ھٰوٴُلٰاءِ الْخَمْسَةِ الْاَشْبٰاحِ الَّذِیْنَ اَرٰاھُمْ فِیْ ھَیْئَتِیْ وَصُوْرَتِیْ؟قٰالَ ھٰوٴُلٰاءِ خَمْسَةٌ مِنْ وُلْدِکَ،لَوْلَاھُمْ مَا خَلَقْتُکَ،ھٰوٴُلٰاءِ خَمْسَةٌ شَقَقْتُ لَھُمْ خَمْسَةَ اَسْمٰاءٍ مِنْ اَسْمٰائِی لَوْلَاھُمْ مٰاخَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَالنّٰارَ ، وِلَاالْعَرَْشَ ، وَلَاالکُرْسِیَ ، وَلَاالسَمَاءَ وَلَاالْاَرْضَ وَلَاالْمَلاٰ ئِکَةَ وَلَاالْاِنْسَ وَلَاالْجِنَّ،فَاَنَاالْمَحْمُوْدُوَھَذٰامُحَمَّدٌوَاَنَالعٰالی وَھٰذَاعَلِیٌّ،وَاَنَاالْفٰاطِرُوَھٰذِہِ فَاطِمَة،وَاَنَاالْاِحْسٰانُ وَھٰذَاالْحَسَن وَاَنَاالْمُحْسِنُ وَھٰذَالْحُسَیْن اَلَیْتُ بِعِزَّتِی اَنْ لٰایَأتِیْنِی اَحَدٌ مِثْقٰالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ بُغْضِ اَحَدِ ھِمْ اِلَّا اَدْخُلُہُ نٰاری وَلٰااُبٰالِی یٰاآدَمَ ھٰوٴُلٰاءِ صَفْوَتِی بِھِمْ اُنْجِیْھِم وَبِھِمْ اُھْلِکُھُمْ فِاِذَاکَانَ لَکَ اِلَیَّ حٰاجَةٌ فَبِھٰوٴُلٰاءِ تَوَسَّلْ۔

"پیغمبر اکرم نے فرمایاکہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کو خلق فرمایا اور اپنی روح میں سے اُس میں پھونکی تو آدم علیہ السلام نے عرش کے دائیں جانب نظر کی تو دیکھا کہ پانچ نوریشخصیات رکوع و سجود کی حالت میں ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے خدا! کیا تو نے مجھ سے پہلے کسی کو مٹی اور پانی سے خلق کیا ہے؟ جواب آیا ،نہیں۔ میں نے کسی کو خلق نہیں کیا۔ حضرتِ آدم علیہ السلام نے پھر عرض کیا کہ یہ پانچ شخصیات جو ظاہری صورت میں میری طرح کی ہیں، کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ پانچ تن تیری نسل سے ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔ان کے ناموں کو اپنے ناموں سے اخذ کیا ہے۔ اگر یہ پانچ تن نہ ہوتے تو نہ بہشت و دوزخ کو پیدا کرتا اور نہ ہی عرش و کرسی کو پیدا کرتا، نہ آسمان و زمین کو پیدا کرتا اور نہ انس و جن و فرشتگان کو پیدا کرتا۔ان پانچ ہستیوں کا تعارف اللہ تعالیٰ نے اس طرح کروایا کہ اے آدم! سنو:

میں محمود ہوں اور یہ محمد ہیں

میں عالی ہوں اور یہ علی ہیں

میں فاطر ہوں اور یہ فاطمہ ہیں

میں محسن ہوں اور یہ حسن ہیں

میں احسان ہوں اور یہ حسین ہیں

مجھے اپنی عزت وجلالت کی قسم کہ اگر کسی بشر کے دل میں ان پانچ تن کیلئے تھوری سی دشمنی اورکینہ بھی ہوگا،اُس کو داخلِ جہنم کروں گا۔ اے آدم ! یہ پانچ تن میرے چنے ہوئے ہیں اور ہر کسی کی نجات یا ہلاکت ان سے محبت یا دشمنی سے وابستہ ہوگی۔ اے آدم ! ہر وقت جب تمہیں مجھ سے کوئی حاجت ہوتو ان کا توسل پیدا کرو"۔

ابن النجار نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا جو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سکھائے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو فرمایا انہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حسین (رض) کے واسطہ سے سوال کیا تھا کہ میری توبہ قبول کیجئے تو اللہ تعالی نے توبہ قبول فرمائی۔

تفسیر در منثور/تفسیر٢/٣٧

حوالہ جات

1۔ علامہ امینی،کتاب فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا،صفحہ40۔

2۔ تفسیر المیزان،جلد1۔

3۔ مجمع البیان،جلد1اور دوسری تفاسیر میںآ یت 37،سورئہ بقرہ کے ذیل میں۔

ابن النجار نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا جو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سکھائے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو فرمایا انہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حسین (رض) کے واسطہ سے سوال کیا تھا کہ میری توبہ قبول کیجئے تو اللہ تعالی نے توبہ قبول فرمائی۔

تفسیر در منثور/تفسیر٢/٣٧

04/08/2023

مولانا جلال الدین رومی رح

عالمِ اسلام اور دُنیائے علم و اَدب کا کو ئی گوشہ ایسا نہ ہو گا کہ جہاں تک مولانا جلال الدین رُومی ـ علیہ الرحمتہ کے نام ِ گرامیت اور مرتبۂ علمی کی عالمگیر شہرت نہ پہنچی ہو ،آپ اپنے زمانے کے باعمل اور کامیاب صُوفی اعظم اور جلیل القدر شخصیت تھے ،اُن کا روحانی عروج و ارتقاء اس وقت شروع ہوا جبکہ انہوں نے خوش نصیبی سے مُرشدِ کامل پیر ِ روشن ضمیر حضرت شمس تبر یری (قدس اللہ سرّہ) سے طریقت اور حقیقت کی تعلیم حاصل کی ،جس کے نتیجے میں آپ روحانیت کے سیر و سلوک کے سلسلے میں درجۂ اعلیٰ پر فائز ہوگیٔ۔

مولائے رُومی ؒکو مُرشد ِ موصوف سے انتہائی عقیدت و محبت تھی ، چنانچہ مولانا نے اپنے تمام منظوم ُ کلام میں نہ صرف اشارہ اور کنا یہ کی زبان میں شمس تبریز کی روحانی عظمت و مرتبت کاذکر کیا ہے ،بلکہ واضح الفاظ میں بھی ان کی بے حد تعریف و توصیف کی ہے ، خصوصاً اپنے کُلیّات میں جو کُلیّاتِ شمس کے نام سے مشہور ہے ،غیر معمولی انداز میں پیر و مُرشد حضرت شمس قدس اللہ سرّہ کی مدح سرائی کی ہے،یہاں تک کہ ہر لفظ کے آخر میں بجائے اس کے کہ اپنا تخلّص لکھے عاشقانہ انداز میں حضرت شمس کا پیارا نام لیا ہے ،جس سے بعض قارئین کو یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ اشعار سب کے سب شمس تبریزی ہی کے ہیں،مگر ایسا نہیں ہے،بلکہ رومیؔ نے اپنے عظیم مُرشد اور بُزرگ محسن کی تعظیم و تکریم کی وجہ سے یہ طریقہ اختیار کیا ہے ،نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ مولانا کے عقیدے میں گویا شمس خود مولائے رُوم کی زبان سے شعر کہتے تھے ،پس ان وجوہ سے کُلیاتِ مولائے رُومی کلیاتِ شمس تبریزی کہلاتا ہے۔

بہر کیف اس بابرکت پیری اور مریدی نے دنیا والو ں کو عام طور پر اور اہلِ تصّوف کو خاص طور پر بہت کچھ سکھایا اور بہت کچھ عطا کیا ہے، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ آج کے علمی و فنی ترقی کے زمانے میں اقوام ِ عالم کے بڑے بڑے علمی و ادبی ادارے مولوی معنوی کی کتابوں سے بے نیاز نہیں ہیں ،رومی کی گرانقدر تصنیفات میں مثنوی اور مذکورہ بالا کُلیّات زیادہ مشہور اور بڑی ضخیم کتابیں ہیں ،مثنوی کے چھ دفتر وں کے کُلّ اشعار کی تعداد ۲۵۶۳۱(پچیس ہزار چھ سو اکیتس)اور کلیّات ِ شمس کے شعروں کا مجموعہ ۴۷۴۹۷(سینتالیس ہزارچارسوستانوے)ہے،جس میں اشعار، ملمعات، غزل، قصیدہ، مقطعات، ترجیعات اور رُباعی شامل ہیں،ان دوعظیم اور گرانمایہ کتابوں میں سے مثنوی شریف کے کئی ترجمے اور شرحیں چھپ کر شائع ہوچکی ہیں ، اور ان سے شائقینِ علم و ادب خاطر خواہ فائدے حاصل کرتے ہیں مگر افسوس اور حسرت ہے کہ اب تک کُلیّات جیسے بے مثال علمی ذخیرے کا کوئی ترجمہ نہیں ہوا ہے ،ممکن ہے کہ اس کی بہت بڑی ضخامت کی وجہ سے فی الحال کچھ دشواریاں اور مجبوریاں ہوں۔

کُلیات ِ شمس میں اسلام کی گہری حقیقتوں کی وضاحت کر کے تصّوف اور روحانیت کے خزانوں کی نشان دہی کی گئی ہے ،اور انسان کو عالم ِ لاہوت سے جو اٹوٹ ازلی رشتہ قائم ہے ،اس کو دنیاوی اور نفسانی ہوا و ہوس کے دُھند لاپن سے پاک صاف کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے ،الغرض ایسی لاتعداد خصوصیات و خوبیاں ہیں ،جن کی بناء پر میں عرصہ در از سے اس گنجینۂ گوہر کا دلدادہ تھا ،لہذا بطورِ نمونہ میں نے ایک بہت ہی معمولی بلکہ حقیر سا کام کیا ہے ،وہ یہی چھوٹی سی کتاب ہے ،جو ’’ گلشنِ خودی ‘‘کے اسم سے موسوم ہے ۔جس کو کلیّات ِ شمس کی ۲۵منتخب رباعیوں کے ترجمہ اور تشریح سے ترتیب دی گئی ہے ،اور یہ رباعیات مختلف موصوعات پر مبنی ہیں۔

اگر میں کہوں کہ میںنے مولائے رُوم کے سدا بہار علمی باغ کے بے پناہ میوؤں میں سے ،جو عقل و دانش کی غذائیت سے بھر پُور ہیں ،اہلِ زمانہ کے سامنے بطورِنمونہ صرف ایک میوہ پیش کیا ہے ،یا یہ ان کی روحانیت و خودی کے چمن سے ایک گلِ رعنا تقدیم کیا ہے، تو یہ دعویٰ بھی میرے لئے بہت بڑا اور مشکل ہے ،کیونکہ نہ معلوم باغ و گلشن سے پھل چُننے اور پھول توڑنے کے سلسلے میں جو جو احتیاطی نزاکتیں اور نفاسیتں مشروط ہیں، اُن سے کام لیا گیا کہ نہیں۔’’ گُلشنِ خودی ‘‘ کا مطلب انائے روحانی ہے ،جو انسان کی موجودہ خودی کی نفسانی فنا سے حاصل آتی ہے ،جس طرح کسی تنگ و تاریک پُرانے مکان کی اصلاح و ترقی اس کے بغیر ناممکن ہے ،کہ اس کو گراکر از سرِ نو ایک عالیشان عمارت تعمیر کی جائے ،اسی طرح اس فرسودہ خودی کو فنا کر کے انائے عُلوی کی غیر فانی حیات حاصل کرنا مقصود ہے ، جس کے لئے سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر خدا و رسول ؐکے پاک فرمان کے تحت مُرشد ِ کامل کی رہنمائی اور علم و عمل کا و سیلہ چاہئے ۔

مولایِ رُومی ؔ اپنی ان فکر انگیز اور نتیجہ خیز رباعیا ت میں جو روحانی مشاہدات و تجربات پر مبنی ہیں ، فنا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں ، تاکہ اہلِ دانش پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ مومن کی حقیقی اور کامیاب زندگی فنا ہی میں پوشیدہ ہے،آپ جو کچھ ارشاد فرماتے ہیںاس کا خلاصہ یہ کہ انسان کی اصلی خودی نہیں ہے مگر بے خودی اور فراموشی میں،جسے اس کتاب کے آخر میں ان کے اپنے الفاظ ہیں کہ ـ

’’ میں نے طبیب ِ عشق کے پاس جاکر پوچھا کہ آپ اپنی بصیرت و دانائی سے عشق کے اس مریض کے لئے کیا تجویز فرماتے ہیں ؟ انہوں نے مجھے اپنی تمام صفات کو چھوڑ دینے اور اپنی ہستی کو یکسر مٹادینے کے لئے فرمایا ،یعنی (فرمایا ) کہ تیرا جو کچھ بھی ہے اُس (کی قید تعلق )سے قطعاً آزاد ہو جا‘‘

رومیؔنہ صرف ذاتی طور پر اس دنیا میں مُرشدِ کامل کی دائمی موجودگی کے قائل ہیں ،بلکہ اس نظریئے کے مخالفین کے خیالات کی بڑی سختی کے ساتھ تردید بھی کرتے ہیں ،چنانچہ آپ نے فرمایا:

’’ (خدا نے ) کب فرمایا کہ وہ زندہ ٔ جاوید (یعنی نور )مر گیا ؟ اس نے کب فرمایا کہ اُمید کا سورج ہمیشہ کے لئے ؟غروب ہوگیا ؟وہ سورج مر چکا ہے ‘‘ میں اپنے طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ مولانا جلالُ الدّین رومیؔکی ہر رُباعی حقائق و معارف کا ایک خزانہ ہے،جو خودشناسی اور خدا شناسی کی دولت سے بھر پور ہے ،اور اسی لازوال عرفانی دولت میں انسان کی سعادت ِ دارین پوشیدہ ہے، بُزرگانِ دین اس وقت کے لوگوں کے لئے اور آنے والی نسل کے لئے یہی جو اہر اور یہی موتی فراہم کر سکتے تھے ،تاکہ وہ اس انمول ذخیرے کو اپنا مذہبی سرمایہ قرار دے کر قدردانی اور شکر گزاری کے ساتھ استعمال کر ے ۔

اتوار ۴ /رمضان ۱۳۹۹ھ

۲۹/جولائی ۱۹۷۹

فقط بندۂ عاجز

نصیرالدّین نصیرؔ ہونزائی

03/29/2023

طالبِ حقیقت کو نہایت ہی ضروری ہے کہ وہ حدودِ دین کے بارے میں پوری علمیت حاصل کرے کہ حدود کس ضرورت کیلئے ہیں، کیا وہ ہمیشہ کے لئے ہیں یا ان کی برخواستگی کا کوئی وقت ہے؟ میں اس موقع پر حدود کی ایک حقیقی تفصیل پیش کرتا ہوں جو آفاق و انفس کی نشانیوں کی دلیلوں پر مبنی ہوگی۔ اس لئے کہ کہ جس بات کی دلیل یا گواہی آفاق و انفس سے نہیں مل سکتی وہ محض جھوٹ ہوتی ہے۔

چنانچہ حضرت رسول اکرم صلعم کی حدیث ہے کہ:

اِنَّ اللّٰہَ اَسَّسَ دِیْنَہٗ عَلَیٰ اَمْثَالِ خَلْقِہٖ لِیُسْتَدَلَّ بِخَلْقِہٖ عَلیٰ دِیْنِہٖ وَبِدِیْنِہٖ عَلیٰ وَحْدَانِیَّتہٖ۔

ترجمہ: اللہ نے اپنے دین کی بنیاد اپنی مخلوقات کی مانند رکھی تاکہ اس کی مخلوقات ہی سے اس کے دین کی دلیل مل سکے اور اس کے دین سے اسکی یکانگی کی دلیل مل سکے۔

اس حدیث میں تینوں عالم کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ تینوں عالم ایک دوسرے کی مثال ہیں: یعنی عالمِ خلق، عالمِ دین، اور عالمِ وحدت۔

اور یہی حقیقت سمجھانے کے لئے کہ جب تک آفاق و انفس کسی قول کی سچائی پر گواہی نہ دیں تو وہ قول ہر گز درست نہیں ہوسکتا۔ قرآن شریف کی آیت ملاحظہ ہو:مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ۪

۱۸:۵۱۔ ترجمہ: ہم نے ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی آفرینش سے گواہی نہیں دی اور نہ ان کی جانوں کی آفرینش سے۔

پھر عقل والوں کو لازم ہے کہ دین سے متعلقہ جو بات ہو اسے ظاہر کرنے سے پہلے اس کائناتی شہادت سے محکم کریں۔

چنانچہ ہم یہ کہتے ہیں کہ امامِ زمان عالمِ دین میں ہمیشہ حاضر اور دائم فیضِ روحانی بخشتا ہے، تو یہ بات صحیح ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ سے دنیا میں موجود ہے اور روشنی بخشتی رہتی ہے وہ سورج ہے۔ امامِ زمان اس دنیاوی سورج کا ممثول ہے اور سورج امامِ زمان کی مثال ہے، لیکن معلوم ہو کہ مثال اور ممثول میں فرق ہوتا ہے، پھر اس کے بعد سورج کی جملہ صفات اور افعال سے امامِ زمان کی قریبی مثال لی، یعنی سورج جب ہم سے دور ہوتا ہے اس وقت تاریکی ہونی شروع ہوتی ہے، پھر سورج کی طرف سے ہمیں چاند روشنی دیتا ہے اور اگر یہ بھی ہم سے دور ہو یا اس کا رخ ہماری طرف نہ ہو تو ہمیں تاروں سے روشنی ملتی ہے، پھر بعض اوقات بادل کی وجہ سے تاریکی ہی رہتی ہے اور جب سورج نکلے تو ہمیں چاند روشنی نہیں دے سکتا ہے، مگر وہ ہمیشہ اپنے لئے نور حاصل کرتا ہے، اسی طرح تارے بھی سورج نکلنے پر ہمیں نظر نہیں آتے، چاند اور تاروں میں اپنے لئے روشنی ضرور موجود رہتی ہے، کیونکہ ان کے اور سورج کے درمیان کوئی شے حائل نہیں ہوتی ہے، اسلئے کہ وہ زمین سے بہت اونچائی پر ہے۔

صفحۂ کائنات کی مذکورہ شہادت سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جب زمانہ والوں کی روحانی رسائی امام تک نہ ہو تو اس وقت امام کی طرف سے حدود مقرر ہوتے ہیں جن کا ذکر اس سے آگے ہوچکا ہے، حدودِ سفلی میں سے حجتِ اعظم جو چاند کے مقابلے میں ہے اور دوسرے حجّت اور داعی ماذون تک تاروں کے مقابلے میں ہیں، عالمِ دین کو علم دین سے روشنی دیتے ہیں، اور جب امامِ زمان دینی لحاظ سے لوگوں کے نزدیک ہوجائے تو حدودِ سفلی کی پہچان باقی نہیں رہتی، ہاں جس طرح ستارے دن کے وقت نیست و نابود نہیں ہوتے لیکن ہمیں ان سے ظاہری طور پر کوئی روشنی لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، اسی طرح حدود بھی تو ہر وقت موجود ہیں اور اپنی ذات کے لئے روشن بھی ہیں۔

حجت کی مثال بھی اسی طرح ہے جس طرح دن کے وقت چاند کی۔

قولہٗ تعالیٰ:

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۔ یعنی جب ستارے دیکھنے میں غیر شفاف ہوں۔ وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ اور چاند گہہ جائے۔ وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ اور جس وقت سورج اور چاند ایک ہوجائیں۔

یہی علامت حدودِ ظاہری کے اشخاص نہ دکھائی دینے کی ہے یعنی روزِ قیامت کے قریب ہونے پر امام کے سوا باقی تمام جسمانی حدود ظاہراً نہ دیکھائی دیں گے اور حجّت امام کے ساتھ ایک ہوگا۔

یہاں پر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حدودِ علوی و سفلی کے بارےمیں علم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ علمِ تاویل جو مومن کی روح کے حق میں باعثِ عروج ہے علمِ حدود کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا ہے، بمثالِ آیتِ کریمہ:

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۵۷:۳

اوّل اسے کہتے ہیں جس کا فی الواقع کوئی آغاز ہو۔

آخر اسے کہتے ہیں جو فی الحقیقت آخر میں پیدا ہوا ہو۔

ظاہر بحقیقت وہ ہے جو حواسِ خمسہ سے پانچوں حسّ یا کم ازکم ایک حسّ سے محسوس کیا جاسکے، کیونکہ لفظ کے لئے حد مقرّر ہے، مثلاً گلاب کے پھول کو باصرہ، شامہ، ذائقہ اور لامسہ کی قوتوں سے محسوس کیا جاسکتا ہے، لیکن سامعہ کا اس میں حصہ نہیں، لیکن کسی خوشبو یا بدبو جب اس کا نکاس سامنے نہ ہو تو صرف قوّت شامہ کی مدد سے محسوس کیا جاسکتا ہے، مختصر ظاہر جسم ہے اور جسم محسوس ہوتا ہے، اگر کوئی شخص لفظ کو اپنی حد سے بدل دے تو وہ ظلم ہے، لہٰذا ظاہر کے معنی وہ ہیں جو جسم رکھتا ہو اور محسوس ہو۔

باطن وہ ہے جو محسوس نہ ہو اور اسے عقل کی قوتوں سے معلوم کیا جاسکے، چنانچہ اس کی تاویل یوں ہوئی کہ اوّل عقلِ کل ہے کیونکہ یہ ہر چیز سے اوّل ہے اور ہر لحاظ سے اوّل ہے، آخر نفسِ کل ہے، چونکہ اوّل کے بعد آخر ہے اور یہ عقلِ کل جو (اوّل تھا) کے بعد پیدا ہوا، نیز سب سے آخر ہے، کیونکہ اس کی اتمام اس وقت ہوگی جب قائم ظہور کرے۔

ظاہر ناطق ہے، کیونکہ اس کی تنزیل شریعت، دعوت اور مرتبہ سب کچھ ظاہر ہے اور محسوس ہے اور خود بھی جو امام کی شخصِ اطہر (جسم) ہے۔ باطن امام ہے، کیونکہ اس کی تاویل، دعوت اور مرتبہ سب کچھ باطن ہے۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ناطق تو فی الحال ظاہر نہیں اور امام ظاہر ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے، اس کے لئے جواب یہ ہے کہ امام مجمع الحدود ہے یعنی اس کے پاس تمام حدود موجود ہیں، اس آیت میں امامِ زمان کی ظاہری شخصیت کو ناطق کی حیثیت سے دیکھایا گیا ہے، اور امامِ زمان کے اپنے مرتبے کو باطن کہا گیا ہے۔ اسی طرح حدود کے بغیر تاویل برابر نہیں آتی ہے۔ اس لئے اگرچہ امامِ زمان کے علاوہ ظاہراً کوئی حدودِ سفلی نہ بھی ہو، لیکن پھر علمِ حدود ضروری ہے تاکہ حدود شناسی کے بعد خدا شناسی حاصل ہوسکے۔

حدودِ دان چہ نباشی خدائے دان نشوے

سورج نکلنے کے بعد اگرچہ چاند اور تاروں سے ہمیں کوئی روشنی نہیں آتی ہے، لیکن چاند اور تاروں سے متعلق علم ضرور ہمارے ذہن میں موجود ہوتا ہے اور ہونا چاہئے

پروفیسر ڈاکٹر علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی صاحب کتاب سلسلہء نور امامت

Fruitful Article by Professor Doctor Allama Nasiruddin Hunzai about real esoteric knowledge sobhan Allah
03/25/2023

Fruitful Article by Professor Doctor Allama Nasiruddin Hunzai about real esoteric knowledge sobhan Allah

03/21/2023

نوروز : تاویلی پہلو
نوروز کے تاریخی اور ثقافتی پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس مضمون میں نوروز کے تاویلی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ نوروز کے دونوں پہلوؤں سے واقفیت حاصل ہو، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک ظاہری دنیا ہے اور دوسرا دین کی دنیا ہے جسے عالَمِ دین کہا جاتا ہے، تیسری دنیا عالَمِ شخصی ہے جسے personal worldکہا جاتا ہے، ظاہری دنیا جسے عالَمِ خلق بھی کہا جاتا ہے کی تمام چیزیں عالَمِ دین کو سمجھنے کے لئے مثالیں ہیں، جن کی ممثول عالَمِ دین میں ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ(۳:۱۹۱)جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ- مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ ۳۰:۸ کیا انہوں نے اپنے آپ میں غوروفکر نہیں کیا کہ الله نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو حق اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ پیدا کیااور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملاقات کے منکر ہیں ۔مثال کے طور پر ظاہری سورج کو لیں اس کائنات کے اندر ہماری اس کہکشان میں جتنے بھی سیّارے اور ستارے موجود ہیں وہ اس سورج کے گرد گھومتے ہیں، یعنی سورج ان سب کا مرکز ہے، اور ان تمام کو روشنی بھی سورج سے ملتا ہے، اس کا ممثول عالَمِ دین میں امامِ زمان ہے جو تمام عوالمِ شخصی کا مرکز ہے، اسی طرح اس دنیا میں ہم خانۂ کعبہ کو لیتے ہیں جو ایک ظاہری گھر ہے، جس کیطرف منہ کرکے تمام مسلمان اپنی عبادات اداکرتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دین کے اندر ایک شخصیت کا موجود ہونا از بس ضروری ہے جس کی طرف ہدایت کے لئے سب کو رجوع کرنا چاہئے تو ظاہری دنیا میں خانۂ کعبہ مثال ہے اور عالمِ دین میں امام ممثول ہے، اسی طرح دین کے اندر جتنے رسومات دینی لحاظ سے ادا کئے جاتے ہیں وہ سارے مثالیں ہیں اور ان کی ممثول باطن میں موجود ہے جس کی شناخت مومنین کے لئے ضروری ہے، یہاں پر ہم اختصار کی خاطر نوروز جو ایک ظاہری تہوار ہے جس کی ہماری مذہب میں بہت زیادہ اہمیت ہے کے صرف تاویلی پہلو پر روشنی ڈالیں گے۔
قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (۳:۱۹۰)بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم تبدیلی میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں ، تو اس ارشاد کی روشنی میں دنیا کی محوری گردش اور چکر انسان کو سوچنے کی ترغیب دیتا ہے، زمین اپنی بیضوی شکل کی وجہ سے ایک حصے سے کبھی سورج کے قریب ہوتا ہے اور دوسرے حصے سے دور، جس کی وجہ سے ایک حصے میں گرمی اور دوسرے حصے میں سردی ہوتی ہے، جب زمین سورج سے دور ہوتا ہے تو روشنی اور حرارت زمین تک نہ پہنچنے کی وجہ سے سبزی ختم ہوجاتی ہے، زمین میں مردگی پیدا ہوتی ہے، دن کم اور رات کا عرصہ زیادہ ہوتا ہے، موسم سرد ہوتی ہے، بعض جگہوں میں برف پڑتی ہے، پھر زمین کا وہ حصہ جو سورج سے دور تھا آہستہ آہستہ قریب ہوتا جاتا ہے اور ۲۱ مارچ کو دن اور رات برابر ہوتے ہیں،پھر دن کا عرصہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور زمین کے اس حصے میں سورج کی روشنی مکمل پڑتی ہےجس کی وجہ سے گرمی پیدا ہوتی ہے اور زمین سے سبزہ اُگ جاتا ہے،یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایک مومن کی عالمِ شخصی زمین کی حیثیت سے ہے، زمانے کا امام علیہ السّلام سورج کی مثال پر ہیں، جب مومن اپنے عالمِ شخصی کو امام کے نور سے دور کرتا ہے یعنی امام کی فرمانبرداری نہیں کرتا ہے تو اس کی مثال اس زمین کی ہے جو سورج سے دور ہونے کی وجہ سے مردگی کی صورت میں ہے، جیسے ہی مومن امام کی اطاعت میں آتا ہے اور مکمل فرمانبرداری اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمِ شخصی کے زمین میں ہریالی پیدا ہوتی ہے جو اس کے لئے نوروز ہے۔یہاں یہ بات بھی واضح ہو کہ امام علیہ السلام کے دعا وبرکات سے فائدہ بھی وہی مومن لے سکتا ہے جو اپنے عالمِ شخصی کو مکمل طور پر اس نور کی طرف پھرتا ہے، ورنہ امام کے دعاوؤں سے کماحقہٗ فائدہ حاصل نہیں ہوگا، جس طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُؕاس نے تمہیں عطا کیا جو تم نے اس سے مانگا، اللہ تعالیٰ نے سب کچھ عطا کیا ہے لیکن یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان نعمتوں کو کس حد تک پہچان سکتے ہیں، اور ان سے مستفید ہوسکتے ہیں، جس طرح زمین کو سبزہ اگانے کے لئے سورج کے ساتھ قریب ہونے کی ضرورت ہے اسی طرح ان نعمتوں سے مستفید ہونے کے لئے ہمیں نور امامت سے قریب ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے عالمِ شخصی میں نوروز ہو ۔
نو روز جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ دو الفاظ کا مرکب ہے نو اور روز یعنی نیا دن ہے، اب اگر دن کے بارے میں قرآن میں تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دن ایک زندہ شخصیت کی صورت میں ہے اور وہ اللہ کا خلیفہ ہے جو کبھی پیغمبر کی صورت میں موجو د ہوتا ہے اور کبھی امام کی صورت میں موجود ہوتا ہے، اور کبھی قائم القیامت کی صورت میں، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (۱۴:۵)اور انہیں اللہ کے دن یا د دِلابے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے شکر گزار کو۔اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اپنے امتیوں کو اللہ کے رسولوں کی یاد دلاؤکہ انہوں نے کس طرح صبر کیا اور کس طرح غالب آگئے، سال میں ایک دن جب سورج اپنے آب و تاب سے زمین کے اس حصے میں روشن ہوتا ہےتو یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ کا خلیفہ اس دنیا میں نئے شان کے ساتھ اور نئے لباس میں موجود ہوتا ہے، جس طرح اسماعیلی مذہب کے اندر جب ایک امام جامہ بدلتا ہے تو اسماعیلی سوگ منانے کے بجائے نئے جامے کے امام کی امامت کا سالگرہ مناتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں، تو نوروز اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندہ دین کے اندر ہر زمانے کا امام اللہ تعالیٰ ایک نیا دن ہے، كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍ۔ لہٰذا اس میں ہر لمحہ مومنین کے لئے خوشی ہی خوشی ہے۔

Mu'Min's Commander Imam of The TimeSobhan Allah 🙏
03/20/2023

Mu'Min's Commander Imam of The Time
Sobhan Allah 🙏

Manifest Imam of the Time 💚💚💚
02/09/2023

Manifest Imam of the Time 💚💚💚

خدا وندا تو سلطان کریمیتو بسم اللہ الرحمٰن الرحیمیبحق مومنان پاک قائمبحق علم معلوم معلمھوا الظاہرہ اشارہ ہین لہ داناخدائ...
01/18/2023

خدا وندا تو سلطان کریمی
تو بسم اللہ الرحمٰن الرحیمی

بحق مومنان پاک قائم
بحق علم معلوم معلم

ھوا الظاہرہ اشارہ ہین لہ دانا
خدائے ظاہریولم شان کریم بای
سبحان اللہ

Subhan Allah
01/04/2023

Subhan Allah

Pir Nasir Khusrow Q.S Proved Ismaili Imamat
12/31/2022

Pir Nasir Khusrow Q.S Proved Ismaili Imamat

12/26/2022

Ya Ali A.S
Sobhan Allah

Address

Dallas, TX

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ismaili Muslim Real Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share