10/29/2025
*صحيح البخاري # ١١٦٢*
*Sahih Bukhari # 1162*
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: *كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي» أَوْ قَالَ «عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي» أَوْ قَالَ «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِه»، قَالَ : وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ .*
Jābirؓ ibn ‘Abdullāhؓ reported: *Allah's Messenger (ﷺ) would teach us Istikhārah concerning all our affairs, just as he would teach us a chapter (Sūrah) from the Qur’an. He (ﷺ) would say, "If one of you is worried about an issue (or intends to undertake a matter), let him perform two Rak'ah other than the mandatory prayer, and then say: «O Allah, I seek Your guidance by Your Knowledge, I seek Your strength by Your Power, and I ask You from Your immense Bounty. For indeed, You have the power and I do not; You know and I do not, and You are the Knower of the Unseen. O Allah, if You know that 'this matter' is good for me concerning my religion, my livelihood, and the ultimate outcome of my affairs,» (or he said: my immediate and future affairs) «then ordain it for me, make it easy, and then grant me Your blessings in it. And if You know 'this matter' is bad for me concerning my religion, my life, and the ultimate outcome of my affairs,» (or he said: my immediate and future affairs) «then turn it away from me, and turn me away from it, and ordain for me what is good wherever it may be, and satisfy me with it.» And he (ﷺ) said, "And he should name his specific need (in place of 'this matter')."*
_(Istikhārah is not a seeking of a dream or a 'sign,' but rather a handing over of the choice to the All-Knowing Creator and a preparation of heart to be satisfied with whatever outcome Allah decrees.)_
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: *رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم ہمیں اپنے تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی اسی طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھلاتے۔ آپ ﷺ فرماتے کہ جب کوئی اہم معاملہ تمہارے سامنے ہو تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے: (ترجمہ) "اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا طلبگار ہوں کہ قدرت تو ہی رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہے اور میں کچھ نہیں جانتا، اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے میرے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کے لئے استخارہ کیا جا رہا ہے) میرے دین ، دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لئے بہتر ہے" یا (آپ ﷺ نے یہ) فرمایا کہ "میرے لئے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ (خیر ہے) تو اسے میرے لئے نصیب کر اور اس کا حصول میرے لئے آسان کر، اور پھر اس میں مجھے برکت عطا کر۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے برا ہے،" یا (آپ ﷺ نے یہ) کہا کہ "میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے (برا ہے) تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے۔ پھر میرے لیے خیر مقدر فرما دے، جہاں بھی وہ ہو اور اس سے میرے دل کو مطمئن بھی کر دے۔" آپ ﷺ نے فرمایا کہ ("اس کام" کی جگہ) اس کام کا نام لے۔*
_*(استخارہ کسی خواب یا 'نشانی' کی تلاش نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اختیار کو خالق کے علمِ کُل کے سپرد کرنا ہے اور اپنے دل کو اس بات کے لیے تیار کرنا ہے کہ اللہ جو بھی فیصلہ فرمائے، اس پر راضی رہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس خوبصورت سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا و آخرت میں ہمارے لئے بہترین چیز کی طرف رہنمائی فرمائے۔ آمین۔)*_