Masjid Ahlal Bait

Masjid Ahlal Bait Official page of Pakistanska Kulturföreningen i Märsta

Masjid Ahlal Bait promotes understanding of Islam and its values; an ideal compound with an aim to promote Islamic learning for both Muslims and non Muslims in accordance with traditional law schools of Ahle Sunna wa'l Jama'at Faith. The organisation works to enhance the knowledge in Quran and Sunnah, Islamic law and spirituality among muslims, and to deepen understanding of faith, action and internal perfection (Iman, Islam and Ihsan).

10/06/2026
08/06/2026

آج روسی زبان کا دن منایا جاتا ہے۔یہ تہوار چھہ جون کو اس لیے منانے کا فیصلہ کیا گیا کہ یہ عظیم روسی شاعر الیکساندر پوشکین(1837-1799) کا جنم دن ہے جو جدید روسی زبان کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔

اسلام اور پشکن کا فن

الیکساندر پشکن Alexandre Pushkin کی اسلام سے شناسائی شمالی قفقاز اور کریمیا کے سفر کے دوران ہوئی تھی۔

انہوں نے مسلمانوں کی ثقافت سے وابستہ یادگاریں دیکھی تھیں، ان کی مانگی گئیں دعائیں سنی تھیں اور ان کی عبادات کا مشاہدہ کیا تھا۔ وہاں انہوں نے اپنی نظمیں " قفقاز کا قیدی" اور "بخشی سرائے کا چشمہ" لکھی تھیں۔

مشرق، اسلام اور پیغمبر محمد (ص) کے ساتھ پشکن کی رغبت نے ان کے معاصرین کو متحیر کرکے رکھ دیا تھا۔ شاعر نے اپنے دوست دینیس داویدوو کو لکھا تھا،" سبد مشرق میرے لیے ایک ایسی مثال تھی جتنی ہم عقل کے ماتوں یورپیوں کے لیے ہو سکتی ہے۔ دوست اور شناسا انہیں "محمد (ص) کا صحابی" کہنے لگے تھے۔ ان کے عرب جد امجد ہنی بال کے متعلق لکھا گیا تھا۔ نظم "قفقاز کا قیدی" درحقیقت چیچنیا کے دکھ بھرے واقعات سے متعلق تھی جو حقیقی " قفقاز کے قیدیوں" سے متعلق ہے۔ منظومات " چرکیسیا کا گیت" اور "چیچن دریا کو جاتا ہے" کے آخری بند محاوروں میں ڈھل گئے جو کسی بھی شخص کو درپیش خطرات سے متعلق استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایک وقت پہ قفقاز میں جنگیں لڑنے والے ادیبوں میخائیل لرمینتوو اور لیو تالستوئی نے بھی اسی طرح کی آراء کا اظہار کیا ہے۔ ان دونوں عبقریوں نے مختلف شکلوں میں پشکن کی فکر کو پیش کیا ہے اور ضروری بات یاد دلائی ہے کہ " ہمیشہ کرب میں نہیں رہا جا سکتا اور نہ ہی مستقل طور پر فرار رہا جا سکتا ہے، اس سب کا اختتام ہونا ہے۔ وقت آئے گا جب ہم امن سے دوستوں کی مانند رہیں گے"۔

اپنی معروف نظم "بخشی سرائے کا چشمہ" کی ابتدا، پشکن نے نامور فارسی شاعر سعدی کے الفاظ سے کی ہے،" میری طرح اور بہت سے اس چشمے تک پہنچے ہیں، ان میں سے بہت سے نہیں ہیں اور بہت سے ابھی راستے میں ہیں"۔ نظم "تاتاروں کا گیت" میں قرآن کی آیات کا پرتو ہے، حج کے لیے مکۃ جانے کا تذکرہ ہے اور شہیدوں کے لیے جنت کی وعید کا ذکر ہے:

کرب و مصائب کے بعد

گردوں سے تسلی وعدہ ہے
متقی فقر سہے

اور بڑھاپے میں مکہ جائے

تو اس کا اجر ملے گا اسے
الیکساندر پشکن کی نظم " قرآن کا پیغام " خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ اس نظم کی پہلی سطور میں پیغمبر محمد (ص) پر اتارے گئے قرآن کریم کے پیغام، قوی خالق کے رحم اور اللہ کی پیغمبر سے محبت کا ذکر ہے اور قیامت کے روز مومنوں کے لیے اللہ کے کرم اور جنت دیے جانے کی بات کی گئی ہے:

فریب کاروں کو پسند نہ کرو

صراط المستقیم پر چلتے رہو

یتیموں سے

اور میرے دیے قرآن سے پیار کرو

لوگوں کو دین کی دعوت دیتے رہو

یتیموں سے انصاف کرنے کی بات قرآن میں کئی جگہ کہی گئی ہے۔ جہاد میں شہید ہونے والوں کے بچوں سے پیغمبر اسلام کا پیار کسی سے پوشیدہ نہیں تھا۔ "میرا قرآن" دراصل اللہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ میرا قرآن تم یعنی پیغمبر (ص) پر نازل کیا گیا۔

نظم پیغام کا دوسرا حصہ ازدواج مطہرات کے بارے میں ہے۔

اے پیغمبر کی پاک بیویو

تم تمام بیویو سے افضل ہو

گناہ کا پرتو بھی تمہارے لیے

موجب خوف ہے

قرآن میں کہا گیا ہے :" اے پیغمبر کی بیویو! تم دنیا کی باقی تمام بیویوں کی طرح نہیں ہو اگر تم نیکی پر کاربند رہو، تمہارے دلوں میں دوسروں کے لیے درد ہو اور تم اچھے لفظوں میں باتیں کرو"۔

نظم " تمثیل" کے تیسرے حصے میں سورۃ حج کی آیات کا عکس ہے:

فرشتہ ثور پھونکے گا جو دو بار

زمیں ساری دہل جائے گی یک دم

برادر چھوڑ بھاگے گا برادر

پسر کو ماں کی بھی پرواہ نہ ہوگی

سبھی خالق کے آگے پیش ہونگے

سبھی کے چہرے بالکل فق ہونگے

جو کافر ہیں وہ دوزخ میں گریں گے

جنہیں آگ اور راکھ مل کر ڈھانپ لیں گے

آخری چہار مصرعہ شاعری میں اکثر آیات کے مضامین ہیں، مثال کے طور پر:"اس روز، تم دیکھوگے، کہ سب دودھ پینے والے بھول جائیں گے کہ کس نے دودھ پلایا تھا، ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ تمہیں لوگ مخمور دکھائی دیں گے لیکن وہ مخمور نہیں ہونگے۔ اللہ کاعذاب بہت سخت ہے"۔

نظم "تمثیل" کے پانچویں حصے کے دو قطعات میں، مخلوق اور اللہ کی عظمت کا ذکر ہے:

مستجب آج مانگتا ہے دعا،

تو قوی و کریم ہے مولا

تو جھلستے ہوئے دن میں

خنک باد صبا چلاتا ہے،

آسماں پہ لے آتا ہے بادل،

اے کریم و مقیط و مستغفر

تو نے قرآں کو کھول کر بھیجا

ہم بھی اس روشنی سے پھولے پھلے

آنکھوں پر جو پڑا تھا پردہ ہٹا

جب پشکن اصطلاح "قرآن مقدس" استعمال کرتے ہیں تو وہ اس کے "واضح، بابرکت، شیریں سخن اور پر از فہم" ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔

"ہم بھی اس روشنی سے پھولے پھلے" اسلام کے عالمی ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ جس طرح دریا سمندر میں گرتے ہیں، اسی طرح یہودیوں، عیسائیوں، ملحدوں اور کافروں میں سے لوگ اسلام کے دھارے میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ روشنی سے ان کی مراد اللہ ہے، جس طرح کے ایک سورت کے معانی ہیں " اللہ زمین و آسمان کا نور ہے۔ ۔ ۔ نورا" علٰی نور! اللہ کا نور اسے دیکھنے کو ملے گا جسے اللہ اپنا جلوہ دکھانا چاہے گا۔ ۔ ۔"

جہاں تک نظم کے چھٹے حصے کا تعلق ہے، وہ کافروں اور بت پرستوں کے ساتھ لڑتے ہوئے میدان جنگ میں شہید ہونے والوں سے منسوب ہے۔ اس میں جنت کا ذکر ہے، جو شہدا کا مقدر ہے۔

نظم کے ساتویں حصے میں قرآن کی سورۃ آل عمران کا مضمون ہے۔ یہ سورۃ محمد صلعم سے مخاطب ہے کہ "کھڑے ہو جاؤ"پیغمر اسلام مکہ میں پیدا ہوئے تھے، جہاں تب کفار، یہودی اور عیسائی رہتے تھے، جن کے سامنے نیا مذہب پیش کیا جانا تھا، اس لیے انہیں ڈٹ جانے کو کہا گیا تھا:

ڈرو مت، اٹھ کھڑے ہو!

تمہاری غار میں شمع مقدس

رہی ہے صبح تک روشن

صمیم قلب سے مانگو دعا

تم اے پیمبر!

خیالات پشیماں دور رکھو

پریشاں خواب سے بیدار ہو جاؤ

" تمہاری غار" کوہ حراء کی غار ہے جہاں بہت طویل عرصے تک پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کرتے رہے تھے، جہاں 610 عیسوی میں رمضان کی 24 تاریخ سے اللہ کے حکم سے فرشتہ جبریل ان کے پاس "آسمانی کتاب" کے الفاظ لے کر آیا تھا.

محمد صلعم نے بھی صحرا کے سیانوں کی طرح کہا تھا "میں جب اکیلا ہوتا ہوں تو اللہ کے ساتھ ہوتا ہوں"۔ پشکن نے لیسیا کی لکھی "طالبعلم کا حجرہ" پڑھی تھی جس میں لکھا تھا کہ " ننھے نے حجرے میں اپنا دل محفوظ رکھ دیا تھا"۔ پشکن نے غار میں شمع کا ذکر اسی تناظر میں کیا ہے۔ نظم "تمثیل قرآن" کی یہ سطریں ملاحظہ کیجیے:

غیض کے دن،

میں تھا چھپی ہوئیٍ غار میں

یکایک آ گیا کروبیاں دینے تسلی

مجھے جادو اثر آیات دے دیں

تھی جن میں ایک پراسرار قوت

مقدس لفظ دمکنے لگ گئے تھے

نظم کا آٹھواں حصہ " یتیموں سے پیار" سے متعلق ہے جو اولّیں اشعار کا تسلسل ہے جس میں کئی سورتوں کی آیات کا لب لباب ہے۔



حضرت موسٰی اور محمد صلعم دونوں ہی یتیمی کا شکار ہوئے تھے۔ موسٰی کی والدہ سے کہا گیا تھا،" جلدی کرو، اس سے پہلے کہ کوئی دیکھ لے اسے دریا میں بہا دو۔ ڈرو مت اور حزیں مت ہو۔ ہم اسے تمہارے پاس واپس لائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے"۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد ان کی پیدائش سے پیشتر ہی انتقال کر گئے تھے۔ چھ ماہ کے بچے تھے کہ انہیں پالے پوسے جانے کی خاطر بدووں کے ایک قبیلے میں بھیج دیا گیا تھا۔ چھ برس کے تھے کہ ماں کے سائے سے بھی محروم ہو گئے تھے۔

زکوٰۃ ہو یا صدقہ، یہ یتیموں اور عسیروں کے لیے نہ تو رحم ہے اور نہ مہربانی بلکہ یہ بھائی بندی کا معاوضہ ہے۔ زکوٰۃ کمزوروں اور بے مایہ لوگوں کا ثروت پر حق ہے۔ انسان کی جائیداد اور ثروت اللہ کی دی ہوئی ہے:" اگر ان سے متعلق علم ہے تو اپنی ثروت میں سے، جو اللہ نے تجھے دی ہے، جو چاہے ان کو دے دے"۔ صدقہ مہربانی کے الفاظ بھی ہو سکتے ہیں، دکھ میں شریک ہونا بھی ہو سکتا ہے، کسی بھی نوع کی امداد اور خدمت بھی ہو سکتی ہے۔ "اس لیے غریبوں کے پاس بھی صدقہ کرنے کے امیروں کی نسبت کچھ کم امکان نہیں ہیں۔ اس حوالے سے امیر غریب برابر ہیں"۔

نظم "تمثیل ۔ ۔ ۔" کا نواں اور آخری حصہ قرآن کی دوسری سورت کے بارے میں ہے۔ اس میں مسافر کے دکھ سے متعلق ہے۔ وہ جو اللہ کی راہ میں سفر کرتا ہے، اس پر مہربانی کرنا زمین آسمان پانے کے برابر ہے"

تب ہوا صحرا میں ایک معجزہ

ماضی کو نیا رنگ ملنے کی توقع تھی

کھجوروں کے درخت ہرے ہو گئے

کنووں میں پھر سے پانی بھر گیا

مسافر میں سکت آئی، ہوا خوش

رگوں میں خوں جوانی کا بھی دوڑا

بھرا سینہ مقدس خواہشوں سے

لیا نام خدا اور چل پڑا پھر سے

پشکن نے اسلام کے موضوع کو ترک نہیں کیا تھا۔ ان کے فن سے اس کی ایک اور مثال یوں ہے۔

کفار مکہ کا کہنا تھا کہ قرآن اصل میں محمد (صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم) کی اپنی کی ہوئی شاعری ہے۔ اس بارے میں اللہ کی جانب سے آیت نازل ہوئی:" ہاں وہ کہتے ہیں کہ وہ دروغ گو ہے۔ اس نے یہ سب خود سوچا ہے۔ وہ شاعر ہے"۔ پشکن کے لفظوں میں:

سناتا ہے یہ ساری من گھڑت باتیں

بکار خویش یہ ہشیار احمد

ہم اس کی داستانیں نہ سنیں گے

یہ شاعر ہے یونہی کہتا ہے سب کچھ

ہاتھ سے لکھی گئی نظم " یوگینیا انیگینا" میں کچھ سطریں یوں تھیں:

قرآن میں بہت سی عقلی فکر ہے

کہ جیسے، رات کو سونے سے پہلے

تو دعا بھی کر لیا کر

بری سوچوں سے تاکہ دور ہو تو

خدا کا نام لو

اور احمق شخص سے نہ الجھو،

پشکن کی نظم " پیغمبر" کی کچھ سطریں یوں ہیں:

اس نے خنجر سے مرا سینہ چیرا

اور دھڑکتے دل کو نکالا

پھر سینے میں

ایک بھڑکتا انگارہ بھر ڈالا

یہ سطریں بھی قرآن کی ایک سورت سے ہیں:" کیا ہم نے تمہرا سینہ کھول نہیں دیا اور تمہارے دل سے کدورت نکال باہر کی"۔ حدیث نبوی بھی ہے کہ فرشتے نے میرا دل نکال لیا، اسے برف سے دھویا اور پھر واپس سینے میں رکھ دیا۔

اور آخر میں نظم کا وہی حصہ کہ " پیغمبر، اٹھ کھڑے ہو ۔ ۔ ۔" جس میں نظم "تمثیل قرآن" کے ساتویں حصے میں اللہ جل شانہ پیغمبر سے مخاطب ہوتا ہے، کی کچھ اور سطریں:

میں لاش کی مانند صحرا میں پڑا تھا

پر میں نے صدائے لم یزل سنی تھی

" اٹھ کھڑو پیغمر، سنو اور دیکھو

میری راہ پہ چلتے ہوئے

لوگوں کے دلوں میں

میرا دیا پیغام بھرو"
پشکن نے خود کو پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز "افشاء کرنے والا" کہا تھا، جو خالق جہاں کے آخری نبی تھے اور جو پہلے پیغمبر تھے جنہوں نے اسلام کو عالمی مذہب قرار دیا تھا۔

07/06/2026
05/06/2026
05/06/2026

Adress

VÄNORTSRINGEN 1
Märsta
19530

Öppettider

12:00 - 14:00

Telefon

0707755802

Aviseringar

Var den första att veta och låt oss skicka ett mail när Masjid Ahlal Bait postar nyheter och kampanjer. Din e-postadress kommer inte att användas för något annat ändamål, och du kan när som helst avbryta prenumerationen.

Dela

Typ