Muhammad ﷺ The Last & Final Prophet

Directions

Muhammad ﷺ The Last & Final Prophet ختم نبوت زندہ باد

02/03/2024
*جنگ یمامہ* مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی ۔۔۔ جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی  اور اس فتنے کو مکمل ...
21/02/2024

*جنگ یمامہ*

مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی ۔۔۔ جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا ۔۔۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے :
لوگو ! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے ، اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے :
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"

صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے ۔۔۔

13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو ۔۔۔
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر ، احد ، خندق ، خیبر ، موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھوئے تھے ۔۔۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

اے قوم ! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا :::
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"
چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی ۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں میں آخری خطبہ دیا:
والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"

اے قوم ! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی اہمیت معلوم نہ ہوئی۔۔۔

وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا ۔۔۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے ،
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"*
اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!
ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا

*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ ،،، تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا دفاع کیا ہے ۔۔۔

کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔

ق ادی ان یت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے
پس ہر صاحب ایمان کے ذمہ ہے کہ وہ
اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو.
اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن
خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو ،،، آخر میں میری آپ سب سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق و قربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو آگے منتقل کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کیجئے۔
حضور ﷺ خاتم النبین خاتم المرسلین

کی عزت حرمت اور أبرو کی خاطر جاگتے رھیں کیونکہ اسی میں نجات ھے ۔

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ھم تیرے ھیں

یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں.

28/01/2024
23/01/2024

حفاظ بٹالین!!

ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف غزہ کی پٹی پر مجاہدین کی 7 تنظیمیں برسرپیکار ہیں۔ لیکن ان میں مرکزی حیثیت حــمــاس کے عسکری ونگ عـــز الــدین الـــقــســام شہید بریگیڈ اور الــقــدس بریگیڈ کو حاصل ہے۔ بلکہ اصل قوت تو الـــقــســام ہی ہے۔ الـــقــســام کے مجاہدین میں سے بیشتر افراد قرآن کریم کے حافظ ہیں۔ جیسے کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ غزہ میں حفظ قرآن کریم کا رجحان دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں 5 سال کے بچوں کے ساتھ ان کے دادیاں اور نانیاں بھی کلام الٰہی کو اپنے سینوں میں محفوط کرتی نظر آتی ہیں۔ 70 اور 80 سال کی عمر میں قرآن کریم یاد کرنا غزہ میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ درجنوں ایسی خواتین ہیں۔ جب معمر خواتین کا یہ حال ہے تو میدان جہاد میں سرگرم مـجاہدین کے بارے میں خود ہی اندازہ لگا لیجئے۔ الـــقــســام بریگیڈ کی ایک بٹالین ہے، جسے "جند القرآن طلیعۃ الفرسان" (قرآنی لشکر اور شہسوار بٹالین) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ الـــقــســام کی ایک ایلیٹ فورس ہے، یعنی اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز پر مشتمل دستہ ہے۔ جس میں ہزاروں مـجـاہدین شامل ہیں۔ یہ سب کے سب اہل قرآن یعنی حافظ ہیں، مگر "حفاظ بٹالین" قرآن کے ماہر حافظوں کا ایک دستہ ہے۔ جس میں شامل تمام حفاظ کرام بغیر کسی غلطی بلکہ اٹکن کے ایک ہی مجلس میں پورا کلام پاک سناتے ہیں۔ اب تو الـــقــســام بریگیڈز نے اپنی صف میں شامل ہونے والے نئے مـجـاہدین کے لیے قرآن کریم کو حفظ کرنے، اس پر عبور حاصل کرنے، اسے سمجھنے اور اس کی تلاوت کو معمول بنانے کی شرط لگا رکھی ہے۔ القــســام بریگیڈز کی تربیت اور پرورش قرآن کریم کے سائے میں غزہ کی مساجد میں ہوئی ہے۔ انہوں نے قرآنی نفسیاتی جنگ کی تکنیک حاصل کی، عظیم مساجد اور محمدی مکاتب نے انہیں دشمن کے سامنے سینہ سپر کا ہنر سکھایا، وہ صرف فوجی نہیں، بلکہ میدان جہاد کے وہ شیر ہیں، جو دشمن کو کاری ضرب لگاتے اور زخموں کا مزہ چکھاتے ہیں۔ جند القرآن بٹالین میں شامل ہونے والے مـجـاہدین کی باقاعدہ پاسنگ پیریڈ ہوتی ہے۔ جس میں وہ ایک ہی مجلس میں پورا قرآن کریم سناتے ہیں۔ اس کے بعد ہی انہیں بٹالین کا باقاعدہ حصہ بنایا جاتا ہے۔ طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع ہونے سے قبل ایک ایسی تقریب کا اہتمام ہوا تھا۔ الـــقــســام بریگیڈز نے ایک سیشن میں قرآن کریم حفظ کرنے والے اور کتاب الٰہی کی تلاوت کرنے والے 100 مجاہدین کے فارغ التحصیل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ القسام نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو کلپ میں وضاحت کی کہ یہ گریجویشن "جند القرآن وطلیعۃ الفرسان" پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ ویڈیو کلپ میں بریگیڈز کو الـــقــســام کی تمام خصوصیات سے تعلق رکھنے والے 100 مجاہدین کو اعزاز دیتے ہوئے دکھایا گیا، جب انہوں نے ایک سیشن اور نشست میں میں پورا قرآن پاک بغیر کسی غلطی اور اٹکن کے سنایا۔ الـــقــســام بریگیڈز کے موبلائزیشن اینڈ گائیڈنس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شروع کیے گئے “جند القرآن طليعة الفرسان” پروجیکٹ کے دوران 100 مجاہد حفاظ نے ایک سیشن میں قرآن پاک کی پوری تلاوت مکمل کی۔ حــمــاس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قرآن کریم سے گہری عقیدت، کامل لگائو اور مکمل اتباع کے بغیر نہ تو دجالی قوت کے مقابلے کیلئے مجاہدین کا ایمان مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو آزاد کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ حفاظ بٹالین میں شامل ہونے کے لیے مجاہدین اپنے سینئرز کو ایک ہی مجلس میں پورا قرآن سناتے ہیں۔ اس دوران وہ مجاہدین کی فوجی وردی میں ملبوس اور اپنی رائفل ساتھ رکھتے ہیں۔ الـــقــســام کے ایک فیلڈ کمانڈر کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کے بغیر فلسطین آزاد نہیں ہوسکتا، اس لیے آگے آئیں اور رب کے فضل سے قرآن کریم کو سینوں سے لگائیں، زبانی یاد کریں تاکہ ہم میدان جنگ میں واضح پیش قدمی اور فتح مبین سے مؤمنوں کے دلوں کو شفا بخش سکتے ہیں۔ اسرائیلی درندوں کے ساتھ مقابلے کے وقت بھی حفاظ بٹالین کے مجاہدین ہی سب سے آگے ہوتے ہیں اور یہ جہادی آیات کی تلاوت کرکے اپنے ساتھیوں کے ایمانی جذبات کو جلا بخشتے ہیں اور پھر وہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار ہو کر صہیونیوں پر پیغام اجل بن کر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک ہی مجلس یا نشست میں پورا قرآن کریم سنانے کی نرالی روایت بھی اہل غزہ کا خاصہ ہے۔ اگرچہ اب کویت سمیت بعض عرب ممالک میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ لیکن اس کی ابتدا اہل غزہ نے ہی کی تھی۔ یہاں ہر سال مختلف مساجد میں سینکڑوں حفاظ و حافظات جمع ہوتے ہیں۔ نماز فجر کے بعد قرآن کریم سنانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور عصر یا مغرب تک یہ مجود حفاظ پورا قرآن کریم سنا لیتے ہیں۔ اس پروگرام کو "صفوۃ الحفاظ" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس بار یہ پروگرام 15 اگست کو ہوا تھا۔ جس میں غزہ کے 1471 حفاظ کرام نے ایک ہی نشست میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کی۔ اس پروگرام کا اہتمام دارالقرآن و السنۃ ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس سوسائٹی کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر بلال عماد نے بتایا کہ اجتماعی تلاوت فجر کے وقت شروع ہوئی، جو نماز مغرب تک جاری رہی۔ اہل غزہ کی وجہ سے اب یہ دن دنیا بھر میں "عالمی یوم القرآن" بنتا جا رہا ہے۔ ان کی دیکھی دیکھی اس بار کویت میں بھی یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ڈاکٹرعماد نے "فلسطین" اخبار کو بتایا کہ حفاظ کے لیے تلاوت کی جگہ امام الشافعی مسجد مختص کی گئی تھی۔ جبکہ حافظات کیلئے التقویٰ مسجد میں اہتمام تھا۔ فلسطینی معاشرے کے ہر طبقے نے اس میں حصہ لیا۔ سب سے کم عمر حافظ کی عمر 8 اور سب سے بڑی عمر کے حافظ کی عمر 72 سال تھی۔ اس کے علاوہ163 مرد و خواتین اساتذہ، 34 سیکورٹی اہلکار اور 90 ڈاکٹرز، حکیموں اور فارماسسٹ نے شرکت کی۔ اہل غزہ کا قرآن کریم سے تعلق کو ہم کسی پیمانے سے ناپ نہیں سکتے۔ یہ بحر الکاہل سے زیادہ گہرا اور مائونٹ ایورسٹ کہیں بلند ہے۔ آپ اندازہ لگا لیجئے کہ قیامت اس کی گھڑی میں بھی وہاں حفظ کی کلاسوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق آتش و آہن کی بارش، بھوک و پیاس اور افلاس، غرض ناقابل بیان مشکلات کے باوجود پناہ گزین کیمپوں میں بچے کلام پاک یاد کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے لیے فکر مند اہل غزہ نے پناہ گزین کیمپوں میں 70 سے زیادہ عارضی مدارس کا جال بچھا رکھا ہے۔ بدترین بمباری اور چوبیس گھنٹے ڈرون طیاروں کے سائے میں حفظ قرآن کی مجالس پھر بھی جاری ہیں۔ اقصیٰ کی بیٹیوں نے اپنے خیموں میں حفظ قرآن کے حلقات سجالیے ہیں۔ قرآن سے تعلق کا ہی نتیجہ ہے کہ فلسطین کے بچے بچے کا ایمان قابل رشک ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بدترین دہشت گرد فوج کے مقابلے میں صبر و ثبات، تحمل اور استقامت کے ساتھ جس طرح اہل غزہ ڈٹے ہوئے ہیں، اس کی بنیادی وجہ ہی قرآن کریم سے ان کی والہانہ عقیدت اور گہرا تعلق ہے۔ اب تو اہل غزہ کی وجہ سے دنیا بھر میں قرآن کریم کی طرف رجوع بڑھ رہا ہے۔ جیسے جیسے غزہ قتل عام کی تفصیلات مغربی میڈیا پر عام ہو رہی ہیں امریکہ اور مغرب میں قرآن کریم کی طلب بڑھ رہی ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ قرآن میں ایسی کیا بات ہے کہ اسے کتاب ہدایت سمجھ کر پڑھنے والے کم سن بچے بھی بھوک وپیاس کی آزمائش اور آتش و آہن کی بارش میں عزم و وقار کےساتھ ثابت قدم ہیں۔ امریکی مسلمانوں کی تنظیم "اکنا" (ICNA) کے دعوتی مراکز سے اوسطاً ہر چھ منٹ پر ایک نسخہ قرآن ہدایت کے طلب گاروں کو روانہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس اکنا نے امریکیوں میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے تقسیم کئے، جس کے نتیجے میں بارہ مہینوں کے دوران حق تعالیٰ نے 500 سے زیادہ افراد کو ہدایت نصیب فرما دی۔

(منقول)

فتنہ قادیانیت کی  ایک بدترین سازش ۔۔۔۔۔آ ج حسب معمول چھٹی جماعت میں پڑھائی کے دوران ایک بچے کے سکول بیگ پر نظر پڑی جس پر...
06/01/2024

فتنہ قادیانیت کی ایک بدترین سازش ۔۔۔۔۔

آ ج حسب معمول چھٹی جماعت میں پڑھائی کے دوران ایک بچے کے سکول بیگ پر نظر پڑی جس پر ربوہ (کادیانیوں کی مذہبی درسگاہ)کا مونوگرام بنا ہوا تھا اس کے ساتھ islamhouse .com کا ویب سائٹ دیا گیا تھا جسے ہماری نئ نسل اسلامی ویب سائٹ سمجھ کر سرچ کر کے گمراہ ہو سکتی ہیں لہذا ہر خاص و عام اور خصوصا اساتذہ کرام اور والدین سے درخواست ہے کہ فتنہ قادیانیت کی اس طرح کی تشہیری مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور طلباء کو عقیدہ ختم نبوت کا درس دیں اور فتنہ قادیانیت سے خبردار کریں۔

03/01/2024

*غزہ سے کمانڈر ابو عبیدہ کا اہم پیغام*

اللہ کی سلامتی رحمتیں اور برکتیں آپ پر ہوں
*میں غزہ سے آپ سے مخاطب ہوں*۔۔۔۔اسی غزہ سے جو ناقابل شکست ہے، جان نثار ہے، ثابت قدم ہے، صبر و ثبات کا استعارہ ہے، اللہ کا خصوصی انعام ہے جو اس پر اللہ کی سکینت نازل ہو رہی ہے۔
*ہم یہ پیغام سب مسلمانوں کو پہنچا رہے ہیں*

ہم نہیں جانتے کہ جلد یا بدیر ہم پیغام دینے کے لیے موجود رہیں گے بھی یا نہیں۔ تو اللہ سے دعا کے ساتھ اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں کہ اللہ ہمارے ان لفظوں کو ہمارے حق میں حجت بنا دیجئے گا۔یہ ہمارے خلاف گواہی نہ دیں۔ آمین

پہلا پیغام یہ ہے
*ہم سب مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم فقط اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ہم اپنے رب کی تقسیم سے راضی ہیں۔ ہم اپنے رب کی مدد سے قطعا مایوس نہیں ہیں۔*
ہمیں اپنے رب کی مدد جلد آنے پر یقین ہے اور ایسی جگہ سے مدد آنے پر جہاں سے ہمیں توقع بھی نہیں ہو۔ جہاں ہمارا خیال بھی نہ گیا ہو۔

*اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ* *الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ(214)*

کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پرپہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

*اللہ کی قسم! ہم ایسی سختی اور شدت سے اس زور سے جھنجھوڑ ،ہلا دیے گئے ہیں کہ ہماری جانیں ہمارے کلیجے تک لرزاں دئیے گئے ہیں۔* لیکن ہم اپنے رب کی رحمت سے قطعا مایوس نہیں ہیں۔ جو اپنے رب کو جا ملے ہیں ہم انھیں شہید گمان کرتے ہیں
اور جو باقی بچ گئے ہیں وہ فتح نصرت کی امید کرتے ہیں ۔اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔
اور دوسرا پیغام یہ ہے کہ
*جو کوئی ہمیں سن رہا ہے، وہ ہماری مدد کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔اپنی دعاؤں سے ۔۔۔۔اپنی التجاؤں سے۔۔یہ مومن کا ہتھیار ہے۔ اسکی طاقت کو ہلکا نہ سمجھیں ۔* اگر آپ ہمارے معاملے کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے تو اللہ کے پاس آپکا یہ عذر آپکو اسکے حساب کتاب سے بچالے گا۔ لیکن دعا تو آپ پھر بھی کرسکتے ہیں۔اپنے بچوں کو، اپنے اہل وعیال کو لے کے بیٹھیں اور ہمارے لیے دعا کیجیے۔ *نمازوں میں ،سجدوں میں ہمارے لیے خلوص دل سے گریہ وزاری کیجئے*۔ ہمیں آپکی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔

ہمارے نبی محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تکلیف میں اپنے ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا لو اور پختہ یقین سے ،متوجہ دل کے ساتھ دعا مانگو ۔ایسی دعا کا ضرور جواب دیا جائے گا۔ ان شاءاللہ
تیسرا پیغام یہ ہے
*جو مسلمان بھی یہ وڈیو سن رہے ہیں ( میسج پڑھ رے ہیں ) وہ ہمارے یہ پیغامات اوروں تک پہچانے کا سبب بنیں* ۔

کیونکہ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو غفلت کی چادر تانے سوئے پڑے ہیں کہ جیسے انہیں ہمارے حال کی کوئی خبر نہیں پہنچی ہے ۔
شاید وہ ابابیلوں کی آمد میں منتظر بیٹھے ہیں جو آ کے اصحاب فیل کو تباہ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھیں۔
اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں ۔
*ہمارے پیغام کو پھیلائیں ۔ہماری خبروں کو آگے بڑھائیں۔ ہمارے بچوں کی تصویریں دوسروں کو بھی دکھائیں* ۔
ہر جگہ ملبہ کے ڈھیر ہیں ۔غزہ اب رہنے کے لیے بالکل محفوظ نہیں ہے۔
*ہم نے ایسی شدید تباہی پہلے کبھی پہلے نہیں دیکھی۔* ہمارے لوگ ، ہمارےبھائی ، ہمارے پیارے ۔۔۔۔۔اب شہداء میں لکھے جاچکے ہیں ۔۔ایک ایک خاندان کے 40،کہیں 50 ,کہیں 100 افراد اکھٹے اموات کے شمارے میں درج کیے جاچکے ہیں ۔اور جو باقی بچ گئے ہیں وہ اپنے رب کی طرف اچھے پلٹنے کے انتظار میں ہیں۔

اس صورتحال میں ہم امید کرتے ہیں کہ آپکے پاس یوم جزا اپنی جان کو چھڑا لانے جتنا قابل کوئی عذر ہوگا ۔

*اللہ ضرور پوچھے گا کہ جب مسلمانوں پر مصیبت کی یہ گھڑی آئی تو آپ نے کیا کیا*

کیا دعاوں کو بھی محدود کیا جاسکتا ہے۔
یا ان دعاوں کی کوئی حد بھی ہے ۔

*آپکے سڑکوں پر ہمارے لیے مظاہرے ۔۔۔۔۔۔ احتجاجا نکلنا ۔۔۔آپکا لوگوں کو ہمارے لیے پکارنا۔۔۔آپکی آواز کا ہمارے لیے بلند ہونا۔۔۔ جو غافلوں کو ،بے حسوں کو ہمارے لیے بیدار کردے ۔۔۔۔۔۔۔۔شاید یہ کاوشیں آپ کے حق میں قابل قبول عذر بن جائیں۔*

اللہ کی حمدوثنا بیان کرتا ہوں ۔
یہ آزمائش دوسری آزمائشوں کا پیش خیمہ ہے اور ان سب کے نتیجے میں ہم آخرت میں اجر کے امیدوار ہیں۔

غاصبوں کے تسلط کی یہ اندھیری رات طویل اور شدید ہوچکی ہے۔ اب ان ہی ظلم کے اندھیروں سے روشن صبح چمکنے کو ہے ۔

*اللہ نے اپنے بندوں سے اپنی مدد کا وعدہ کررکھا ہے* ۔۔۔۔۔بھلے کچھ وقت اور لگے گا لیکن فتح ونصرت اسی کے بندوں کو حاصل ہوکے رہے گی۔

میں قسم کھاکے کہتا ہوں کہ ان حالات میں ہمارے بہترین نفوس جام شہادت پی رہے ہیں۔ ہر خاندان کا بہترین شخص شہید ہوچلا ہے۔ اور کائنات کے رب کی بڑائی کے لیے ہی یہ سب شہادتیں۔۔۔۔یہ سب گواہیاں ۔ بے شک ۔۔۔۔۔سب تعریفیں تمام شکرانے ،تمام جہانوں کے رب کے لیے ہیں۔

میں اپنی بات زیادہ طویل نہیں کرنا چاہتا۔ *بس یہ جتلانے آیا تھا کہ میں اللہ کی خاطر آپ سب سے محبت کرتا ہوں۔*

*آپ ہمارا یہ پیغام عام کردیجیے۔*
ہماری آواز بن جائیے ۔
ہمارا خون زمین کو رنگ رہا ہے۔
ہم آپ سے اس کے لیے پر زور تحریک چلانے کا تقاضا کرتے ہیں۔تو اپنے حصے کا کام کرنے کے لیے جی جان لڑا دیجیے۔

اے اللہ
ہمیں ثابت قدم رکھیے
ہمیں مضبوط کر دیجیے
ہمارے لیے حسن خاتمہ لکھ دیجئے
*فلسطین کمانڈر ابو عبیدہ*

پوری امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ یہودی (اسرائیلی) مصنوعات کا بائیکاٹ کریں یہودی کمپنیوں اور ان کی فرنچائز کے استعمال سے بھی...
09/12/2023

پوری امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ یہودی (اسرائیلی) مصنوعات کا بائیکاٹ کریں یہودی کمپنیوں اور ان کی فرنچائز کے استعمال سے بھی گریز کریں ۔۔۔ اور اس کی بجائے اپنے ملک کی مصنوعات استعمال کریں۔
ان پراڈکٹس کو ہر ممکن حد تک پھیلائیں ۔۔۔ اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ترغیب دیں ۔

09/12/2023

‏موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں جن کا تذکرہ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ (ﺳﻮﺭة النبأ 40 #)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۲- * يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ( ﺍﺧﺮﯼ ) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ لئے ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍللہ ﺍﻭﺭ اس کے ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ان کے ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ٹھہرایا ﮨﻮﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ، ﺍسی لئے ﺯﻧﺪﮔﯽ میں ہی اپنے عقائد و عمل کی ﺍﺻﻼﺡ کرنا ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں سوچنے ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے ۔

*آﻣِﻴﻦ ثم آمین ﻳَﺎ ﺭَﺏَّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴْﻦ*
*جزاک اللہ خیرا و الحسن الجزا*

Address

Bra Bin Azib
Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad ﷺ The Last & Final Prophet posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share