Dar ul Ahsaan

Dar ul Ahsaan All about character building according to the Sunnah.

*محبت اہل بیتِ ؓ رسول**کو سلامتئ خاتمہ میں بڑا دخل ہے**حضرت مجدد الف ثانی رحمہ الله لکھتے ہیں کہ**اس فقیر کے والد بزرگوا...
11/07/2024

*محبت اہل بیتِ ؓ رسول*
*کو سلامتئ خاتمہ میں بڑا دخل ہے*

*حضرت مجدد الف ثانی رحمہ الله لکھتے ہیں کہ*
*اس فقیر کے والد بزرگوار مخدوم حضرت شیخ عبد الاحد رحمہ اللہ جو علم ظاہری اور علم باطنی کے جامع تھے اکثر اوقات اہل بیت ؓ کی محبت کی ترغیب دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس محبت کو* *سلامتئ خاتمہ میں بڑا دخل ہے۔ لہذا اس کی بہت زیادہ رعایت رکھنی چاہیے"*

*("مکتوباتِ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی"جلد 3'ص 106دفتر اول مکتوب نمبر' 36 )*

18/06/2024

اللہ کی رحمت کی امید پر گناہ کرتے رہنا اور توبہ نہ کرنا

سوال

جو لوگ گناہ کر کے فخر سے کہتے ہیں اللہ بہت بڑا ہے، کیا اس طرح کہنا صحیح ہے کہ اللہ رحم کرنے والا ہے اور بہت بڑا ہے، مگر معافی نہیں مانگتے ۔


جواب
اللہ رب العزت کے غفور و رحیم ہونے میں کوئی شبہ نہیں، تاہم اس امید سے گناہ کرتے رہنا شیطان کے واروں میں سے ایک وار ہے، موت کا وقت کسی کے علم میں نہیں، نہ معلوم کے بعد میں توبہ کا موقع ملے یا نہ ملے، لہذا گناہ پر توبہ نہ کرنا اور کہتے رہنا کہ اللہ رحم کرنے والا ہے اور بہت بڑا ہے، کم عقلی کی بات ہے، پس بشری بنیاد پر اگر گناہ سرزد ہوجائے تو فوری توبہ کرلینا چاہیے، توبہ کی شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ ہے کہ توبہ کرتے وقت آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا عزم ہو، اگر یہ خیال ہو کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں، لیکن آئندہ گناہ نہ چھوڑنے کا پختہ ارادہ نہ ہو تو یہ توبہ نہیں ہے، توبہ یہ ہے کہ دلی ندامت کے ساتھ وہ گناہ فوری طور پر چھوڑ دیا جائے اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کیا جائے، پس اس عزم کے باوجود بھی اگر گناہ سرزد ہوجائے تو نا امید ہونے کے بجائے پھر تو بہ کرلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔

نیز گناہ پر فخر کرنا نہایت جرأت کی بات ہے، ایسا کرنا آخرت میں شدید پکڑ کا باعث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ :

" میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا ئے گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو پوشیدہ رکھا تھا، مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ حالانکہ رات گزاری تھی کہ اس کے پروردگار نے اس کا گناہ چھپائے رکھا تھا ، اور اس نے صبح ایسے کی کہ اس نے خود ہی اللہ کے پردے کو چاک کرنے لگا"۔

صحیح البخاری میں ہے:

6069 - حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن ابن أخي ابن شهاب، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، قال: سمعت أبا هريرة، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " كل أمتي معافى إلا المجاهرين، وإن من المجاهرة أن يعمل الرجل بالليل عملا، ثم يصبح وقد ستره الله عليه، فيقول: يا فلان، عملت البارحة كذا وكذا، وقد بات يستره ربه، ويصبح يكشف ستر الله عنه."

( كتاب الادب، باب ستر المؤمن -[20]- على نفسه، 8 / 20، ط: دار طوق النجاة)

ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

"عقل مند و ہوشیار شخص وہ ہے جو موت کے بعد کی تیاری کرے، اور قلاش وہ شخص ہے جو اپنے خواہشات کی پیروی کرتا ہے، اور توبہ کیے بغیر مغفرت اور جنت کی امید رکھے، ( کہتا پھرے کہ اللہ رحیم و کریم ہے)۔

المفاتيح في شرح المصابيح لمظهر الدين الزَّيْدَاني میں ہے:

4087 - عن شداد بن أوس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت، والعاجز من أتبع نفسه هواها وتمنى على الله تعالى".

قوله: "الكيس من دان نفسه"، (الكيس): العاقل ذو الحزم والاحتياط في الأمور. (وإن يدين): إذا حاسب؛ يعني: الكيس من حاسب نفسه أنها عملت خيرًا أو شرًّا، فإن عملت خيرا يحمد الله، وإن عملت شرا يلوم نفسه، ويتوب ويستغفر الله. و (دان): إذا قهر؛ يعني: جعل نفسه مطيعة لأمر الله.

"والعاجز من أتبع نفسه هواها"؛ يعني بـ (العاجز): الذي غلبت عليه نفسه، وعمل ما أمرته به نفسه، فصار عاجزًا لنفسه، (وأتبع نفسه)؛ أي: وأعطى نفسه ما أرادت من المحرمات."وتمنى على الله"؛ أي: يذنب ويتمنى الجنة من غير توبة واستغفار."

( كتاب الرقاق، 5 / 306، ط: دار النوادر)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

(قال: قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم: " الكيس ") : بفتح الكاف وتشديد الياء أي: العاقل الحازم المحتاط في الأمور (" من دان نفسه ") ، أي: جعلها دنية مطيعة لأمره تعالى، منقادة لحكمه وقضائه وقدره. وفي النهاية أي: أذلها واستعبدها. وقيل: حاسبها. وذكر النووي أنه قال الترمذي وغيره من العلماء: معنى دان نفسه حاسبها، انتهى. أي: حاسب أعمالها وأحوالها وأقوالها في الدنيا، فإن كانت خيرا حمد الله تعالى، وإن كانت شرا تاب منها، واستدرك ما فاتها قبل أن يحاسب في العقبى، كما روي: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وقد قال تعالى: {ولتنظر نفس ما قدمت لغد} [الحشر: 18] (" وعمل ") أي: عملا نافعا (" لما بعد الموت. والعاجز ") أي: عن استعمال العقل والاحتياط في الأمر، والحاصل أن الكيس هو المؤمن القوي، والعاجز هو المؤمن الضعيف، وهو (" من أتبع نفسه هواها ") ، من الإتباع أي: جعلها تابعة لهواها من تحصيل المشتهيات واستعمال اللذات والشبهات، بل من ارتكاب المحرمات وترك الواجبات (" وتمنى على الله ") قال: ربي كريم رحيم، وقد قال الله تعالى جل شأنه:{ما غرك بربك الكريم} [الانفطار: 6] وقال: {نبئ عبادي أني أنا الغفور الرحيم وأن عذابي هو العذاب الأليم}[الحجر: 49 - 50] . وقال: {إن رحمة الله قريب من المحسنين} [الأعراف: 56] وقال: {إن الذين آمنوا والذين هاجروا وجاهدوا في سبيل الله أولئك يرجون رحمة الله} [البقرة: 218] وقد عبر عن الرجاء مع غير الطاعة بلفظ التمني إشارة إلى أن وقوعه قريب من المحال، وإن كان يمكن صدوره من الملك المتعال على طريق الإفضال. قال الطيبي - رحمه الله -: والعاجز الذي غلبت عليه نفسه وعمل ما أمرته به نفسه، فصار عاجزا لنفسه فأتبع نفسه هواها وأعطاها ما اشتهته، والمقابل الحقيقي بالعاجز، والمقابل الحقيقي للكيس السفيه الرأي، وللعاجز القادر ليؤذن بأن الكيس هو القادر، والعاجز هو السفيه، وتمنى على الله أي: يذنب، ويتمنى الجنة من غير الاستغفار والتوبة."

( كتاب الادب، باب استحباب المال و العمر للطاعة، 8 / 3310،ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)

مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

گناہ کرنے کے بعد توبہ کرنے کی نیت سے گناہ کرنے کا حکم

گناہوں پر اصرارکرنا

صحیح البخاری میں ہے:

7507 - حدثنا أحمد بن إسحاق، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، حدثنا إسحاق بن عبد الله، سمعت عبد الرحمن بن أبي عمرة، قال: سمعت أبا هريرة، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إن عبدا أصاب ذنبا - وربما قال أذنب ذنبا - فقال: رب أذنبت - وربما قال: أصبت - فاغفر لي، فقال ربه: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي، ثم مكث ما شاء الله ثم أصاب ذنبا، أو أذنب ذنبا، فقال: رب أذنبت - أو أصبت - آخر، فاغفره؟ فقال: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي، ثم مكث ما شاء الله، ثم أذنب ذنبا، وربما قال: أصاب ذنبا، قال: قال: رب أصبت - أو قال أذنبت - آخر، فاغفره لي، فقال: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي ثلاثا، فليعمل ما شاء."

( كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى: {يريدون أن يبدلوا كلام الله} [الفتح: 15]، 9 / 145، ط: دار طوق النجاة)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بندے نے بہت گناہ کیے اور کہا: اے میرے رب! میں تیرا ہی گناہ گار بندہ ہوں تو مجھے بخش دے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے دوبارہ گناہ کر لیا، اسے بھی بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے بدلے میں سزا بھی دیتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا بندہ گناہ سے رکا رہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور اللہ کے حضور میں عرض کیا: اے میرے رب! میں نے گناہ پھر کر لیا ہے تو مجھے بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ورنہ اس کی وجہ سی سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ تین مرتبہ، پس اب جو چاہے عمل کرے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"و قال ابن الملك: أي ما شاء من الذنب التي بيني وبينه مما لا يتعلق بفعل العباد، ثم ليتب وهو تقييد بلا دليل، فإن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء، ثم هذه الصيغة للتلطف وإظهار العناية والشفقة أي: إن فعلت أضعاف ما كنت تفعل، واستغفرت منه غفرت لك، فإني أغفر الذنوب، وهذا معنى قوله - عليه الصلاة والسلام -: "«ما أصر من استغفر ولو عاد في اليوم سبعين مرة» ". وأغرب ابن الملك حيث قال هنا: أي ما دمت تتوب وتستغفر عنها، ولكن ذلك مشروط بأن تكون نيته أن لا يعود إلى الذنب. اهـ. لأن هذا الذي ذكره شرطا هو من أركان التوبة.

قال الطيبي: أي اعمل ما شئت ما دمت تذنب ثم تتوب فسوف أغفر لك، وهذه العبارة تستعمل في مقام السخط كقوله تعالى: {اعملوا ما شئتم} [فصلت: 40] مرادا هنا، وفي مقام الحفاوة يعني مقام التلطف كما في الحديث، وفي قوله - صلى الله عليه وسلم - في حق حاطب بن أبي بلتعة: " «لعل الله اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم» ". وكما تقول لمن تحبه ويؤذيك: اصنع ما شئت فلست بتارك لك، وليس المراد من ذلك الحث على الفعل بل إظهار الحفاوة. وقال القرطبي: فائدة هذا الحديث أن العود إلى الذنب وإن كان أقبح من ابتدائه، لأنه أضاف إلى ملابسة الذنب نقض التوبة، لكن العود إلى التوبة أحسن من ابتدائها، لأنه أضاف إليها ملازمة الطلب من الكريم والإلحاح في سؤاله، والاعتراف بأنه لا غافر للذنب سواه.

وقال النووي: في هذا الحديث أن الذنوب وإن تكررت مائة مرة بل ألفا أو أكثر وتاب في كل مرة قبلت توبته. ولو تاب من الجميع توبة واحدة صحت توبته. قلت: هذا الأخير بالإجماع وإنما خالف من خالف إذا تاب من بعض الذنوب، أو إذا نقض التوبة، والصحيح صحتها. وقال السبكي الكبير: الاستغفار طلب المغفرة باللسان أو بالقلب أو بهما. الأول فيه نفع لأنه خير من السكوت، ولأنه يعتاد فعل الخير، والثاني نافع جدا، والثالث أبلغ منه، لكنهما لا يمحصان الذنب حتى توجد التوبة، فإن العاصي المصر يطلب المغفرة ولا يستلزم ذلك وجود التوبة منه. قلت: قوله لا يمحصان الذنب حتى توجد التوبة، مراده أنه لا يمحصانه قطعا وجزما، لا أنه لا يمحصانه أصلا، لأن الاستغفار دعاء، وقد يستجيب الله دعاء عبده فيمحص ذنبه، ولأن التمحيص قد يكون بفضل الله - تعالى - أو بطاعة من العبد، أو ببلية فيه، ثم قال: والذي ذكرته من أن معنى الاستغفار غير معنى التوبة هو بحسب وضع اللفظ، لكنه غلب عند كثير من الناس أن لفظ أستغفر الله معناه التوبة، فمن كان ذلك معتقده فهو يريد التوبة لا محالة، ثم قال: وذكر بعض العلماء أن التوبة لا تتم إلا بالاستغفار لقوله تعالى: {وأن استغفروا ربكم ثم توبوا إليه} [هود: 3] والمشهور أنه لا يشترط. اهـ.

واعلم أن أكثر الشراح هنا حملوا الاستغفار على التوبة، وظاهر الحديث يدل على أن اعتراف العبد بذلك سبب للغفران، ولا موجب للعدول عنه، بل في الحديث تعريض لمن قال: إنه تعالى لا يغفر إلا بالتوبة، كما ذهب إليه المعتزلي، والله تعالى أعلم. (متفق عليه) : ورواه النسائي. ( كتاب اسماء الله تعالي، باب الإستغفار و التوبة، 4 / 1618، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201838

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
---=---=---=----=---=---=----=---=

19/03/2024

تحریر۔ علامہ زاہد الراشدی

مساجد میں رمضان المبارک کے دوران عشاء کی نماز کے بعد باجماعت نماز تراویح کا آغاز امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا تھا جو آج تک دنیا بھر میں تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اس سے قبل تراویح فردًا فردًا پڑھی جاتی تھی۔ حضرات صحابہ کرامؓ اپنے اپنے ذوق کے مطابق اکیلے اکیلے یا مختلف ٹولیوں کی صورت میں یہ نماز پڑھتے تھے۔ یہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے اجتہادی فیصلوں میں سے ہے کہ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے مشورہ سے طے کیا کہ مسجد نبویؐ میں نماز تراویح باجماعت پڑھی جائے گی اور سب لوگ اکٹھے ایک ہی امام کے پیچھے پڑھیں گے۔ حضرت ابی بن کعبؓ اس دور میں سب سے بڑے قاری تھے جنہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے أقرأ کا خطاب دیا تھا کہ یہ میرے ساتھیوں میں سب سے اچھا قاری ہے۔ حضرت عمرؓ نے انہی کو حکم دیا کہ وہ بیس تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائیں اور رمضان المبارک کے دوران کم از کم ایک بار قرآن کریم ضرور سنا دیں۔ یہ خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کا حکم تھا جس پر سب صحابہ کرامؓ نے اتفاق کر لیا اور ان کے اجماع و اتفاق سے اسے سنت کا درجہ حاصل ہوگیا۔

چنانچہ تب سے یہ کار خیر جاری ہے اور دنیا کے ہر حصے میں مسلمان اس سنت کی ادائیگی کا ہر سال اہتمام کرتے ہیں جس سے لاکھوں حفاظ قرآن کو کلام پاک سنانے اور کروڑوں مسلمانوں کو حالت نماز میں قرآن کریم سننے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ سمیت دنیا بھر میں تراویح مجموعی طور پر بیس رکعت کی تعداد میں ہی پڑھی جاتی ہیں، البتہ بعض حلقوں میں بیس کی بجائے آٹھ رکعتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ مگر تراویح باجماعت پڑھنے، پورے رمضان میں روزانہ ادا کرنے، اور اس میں قرآن کریم سنانے کا اہتمام ان کے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ یعنی تعداد کے اختلاف کے سوا نماز تراویح کی دیگر کیفیات میں وہ بھی جمہور امت کے ساتھ متفق ہیں اور یوں تراویح کی ادائیگی اہل السنۃ والجماعۃ کے تمام حلقوں میں متفقہ عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔

آٹھ اور بیس رکعت تراویح کے اختلاف پر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا کہ چند سال قبل سپرنگ فیلڈ، ورجینیا (امریکہ) کے دینی مرکز دارالہدیٰ میں نماز تراویح کے آغاز پر میں بیان کر رہا تھا کہ ایک صاحب نے اچانک سوال کر دیا کہ ’’کیا آٹھ رکعت پڑھنے والوں کی تراویح ہو جاتی ہیں؟‘‘ اس قسم کے سوالات عمومی مجمع میں عام طور پر مسلکی چھیڑ چھاڑ کے لیے کیے جاتے ہیں۔ میں نے ان صاحب کو ایک سادہ سا جواب دیا کہ ’’ہاں آٹھ رکعت تراویح ہو جاتی ہیں لیکن بارہ رکعت رہ جاتی ہیں‘‘۔ اس پر وہ صاحب تو خاموشی کے ساتھ بیٹھ گئے البتہ ہمارے فاضل دوست مولانا عبد الحمید اصغر، جو اس وقت اس مرکز کے امام تھے، بہت محظوظ ہوئے۔ انہوں نے اس جواب کا بعد میں متعدد بار ذکر کیا اور کہا کہ عجیب جواب دیا ہے کہ آٹھ ہو جاتی ہیں لیکن بارہ رہ جاتی ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت! میں سوال کرنے والے کے ساتھ کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا تھا اس لیے جو معاملہ تھا وہ میں نے بتا دیا۔

ہمارے ہاں بھی بعض دانش وروں نے یہ سوال کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت محمدؐ کے زمانے میں اس طرح تراویح نہیں ہوتی تھیں اس لیے یہ بعد میں مولویوں کی ایجاد لگتی ہے۔ یہ عجیب سی روایت بن گئی ہے کہ دین کی جس بات سے انکار کرنا مقصود ہو اسے مولویوں کی ایجاد کہہ کر پہلے تو اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ سرے سے اس کا انکار ہی کر دیا جاتا ہے۔ یہ دیکھے بغیر کہ اس کی بنیاد قرآن کریم پر ہے، سنت نبویؐ پر ہے، یا تعامل صحابہؓ پر ہے۔ بس مولوی کا لفظ اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کے کھاتے میں ڈال کر دین کی کسی بھی بات سے انکار کر دیا جائے۔

گزشتہ روز ایک نوجوان نے مجھ سے یہی سوال کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تراویح اس طرح ادا نہیں کی گئیں تو بعد میں مولویوں نے یہ کیوں شروع کر دی تھیں؟ میں نے اس سے کہا کہ بیٹا پہلے یہ معلوم کر لو کہ یہ تراویح شروع کس مولوی نے کی تھیں؟ کہنے لگا کہ یہ مجھے معلوم نہیں ہے، میں نے کہا کہ معلوم تو کر لینا چاہیے۔ اس نے کہا کہ آپ ہی بتا دیں۔ میں نے بتایا کہ حضرت عمرؓ نے حکم دیا تھا، حضرت ابی بن کعبؓ نے سب سے پہلے تراویح پڑھائی تھیں، اور ان کے پیچھے پڑھنے والے کم و بیش سبھی صحابہ کرامؓ تھے۔ اس لیے اگر ان مولویوں پر اعتماد ہے تو تم بھی پڑھ لیا کرو لیکن اگر خدانخواستہ ان پر اعتماد نہیں ہے تو پھر صرف تراویح کا معاملہ نہیں، پورے دین سے دستبرداری اختیار کرنا ہوگی کہ سارا دین انہی کے واسطے سے ہم تک پہنچا ہے۔ اور شاید بعض دانشور حضرات اپنے طرز فکر سے اسی قسم کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
Copy

07/02/2024

We export worldwide home delivery Best Quality All kinds of Medina Monawrah Dates @ very competitive Prices.
We never compromise on Quality. Feel free to contact us.

07/02/2024

*تین٣ اہم ترین نصیحتیں*

سلف صالحین (پرانے بزرگوں) کا معمول تھا کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے تو ان تینوں نصیحتوں کی تلقین کرتے اور جب ایک دوسرے سے دور ہوتے تو لکھ کر اِرسال کرتے تھے۔

_وہ تین نصائح یہ ہیں:_

*مَنْ أَصْلَحَ سَرِيرَتَهُ أَصْلَحَ اللَّهُ عَلَانِيَتَهُ، وَمَنْ أَصْلَحَ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ كَفَاهُ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنِ اهْتَمَّ بِأَمْرِ آخِرَتِهِ كَفَاهُ اللَّهُ أَمْرَ دُنْيَاهُ*
*(١)* جس نے اپنی مخفی حالت (خلوت و تنہائی) کی اصلاح کرلی ،اللہ تعالیٰ اُس کی علانیہ حالت (جلوت) کو درست کردیں گے۔

*(٢)* جس نے اپنے اور اللہ کے درمیانی معاملات کو درست کرلیا اللہ تعالیٰ اُس کے اور لوگوں کے درمیانی معاملات کو درست کردیں گے۔

*(٣)* جو اپنی آخرت کے معاملہ کیلئے فکر مند رہا اللہ تعالیٰ اُس کے دنیا کے کاموں کیلئے کافی ہوجائیں گے۔

(كتاب الإخلاص والنية لابن أبي الدنيا:ص:54۔رقم:25)

_سبحان اللہ، کیسا عجیب نسخہ_ اور
_کتنی عظیم خوش خبریاں ہیں!!!_

11/01/2024

🖋 #سورہ #البقرہ کی تلاوت پر دوام اختیار کرنے والے کے لئے شیخ احمد عیسی المعصراوی کے فرمودات:

📚 جو شخص طویل مدت کے لئے سورہ البقرہ کی تلاوت کرے وہ اپنی زندگی میں عجیب چیزوں کا مشاہدہ کرے گا۔
اس کا جسم شفایاب ہو گا، اس کے رزق میں اضافہ ہو گا، اس کو شرح صدر نصیب ہو گا اور اس کی عمر میں برکت کا ظہور ہو گا۔

📚 جو شخص کئی ماہ تک روزانہ رات کو سورہ البقرہ کی تلاوت کرے گا، اللہ تعالی اس کی بیماری کو عافیت میں بدل دے گا۔ اس کی مشکل کو دور کر دے گا، تنگی کو فراخی سے بدل دے گا اور ہر جہت سے اس پر برکات کا نزول ہو گا اور وہ اپنی زندگی میں مسرور ہو گا۔

📚 اچھی طرح جان لو کہ تمہاری خواہشات پوری ہوں گی تمہاری زندگی میں برکات کا اضافہ ہو جائے گا اور تمہیں دکھوں اور پریشانیوں سے نجات ملے گی۔تمہاری حسنات میں بڑھوتری ہو گی۔ ایک ماہ مسلسل پڑھنے سے مندرجہ بالا انعامات کا مستحق بنا جا سکتا ہے۔

📚 اپنے اندر بیٹھے وہم کے بتوں کو کچل ڈال اس کلہاڑے سے جو سورہ البقرہ کی شکل میں تمہارے پاس ہے۔ ان لوگوں سے پوچھ لو جنہوں نے سورہ البقرہ کی تلاوت سے شرح صدر حاصل کیا۔ جنہیں ان کی معاملات میں آسانی ملی وہ تمہیں ہاں میں جواب دیں گے۔

📚 الصادق الامین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس سورہ کو اپنا لینا برکت کا باعث ہے۔

یعنی اس کی تلاوت، اس کی حفاظت و نگہبانی تجھے تیرے مال و اہل و اولاد، جسم اور روح میں برکات عطا کرے گی۔

📚 سورہ البقرہ کی مثال ایسے ہے جیسے کھجور، جب تک پک کر تیار نہ ہو جائے، اس کا ذائقہ بالکل اچھا نہیں ہوتا۔ اس سورہ کی تکرار اور اس کی تلاوت پر مجاہدہ نفس سے ہی زندگی میں حلاوت اور خوشی حاصل کی جا سکتی ہے۔

📚 سورہ البقرہ کی مسلسل تلاوت بندے کو ایسی بھلائیاں نصیب کرتی ہے جس کا وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔ اور اسے ایسے اشرار سے محفوظ رکھتی ہے جو اس کے علم میں نہیں اور اندر ایسا منافع ہے کہ کوئ عقلمند اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔

📚 سورہ البقرہ کی تلاوت سے دلوں کو جلا ملتی ہے۔ دل کی سختی دور ہوتی ہے۔
آدمی کو خلوت کی عبادت لذت آشنا کرتی ہے۔ اس کی روح روحانیت کے درجات پر فائز ہوتی ہے۔

📚 نظر بد، حسد اور سحر کا درد پتھر کی طرح انسانی جسم میں موجود ہو تو سورہ البقرہ کی تکرار اس کو توڑ کر ختم کردیتی ہے۔

📚 ابتداء میں سورہ البقرہ کی تلاوت بہت مشکل کام ہے۔ اس لئے کہ شیطان جانتا ہے کہ 'علم الیقین' کا نفع عظیم ہے۔ اور وہ نہیں چاہتا کہ تو پکا ہوا پھل توڑ سکے۔ لیکن تقریبا 12 صفحات کی تلاوت کر لینے کے بعد تیری روح چستی و نشاط کو محسوس کرنے لگتی ہے۔

📚 شیخ کہتے ہیں کہ وہ مسلسل دو ماہ تک دو رکعت میں سورہ البقرہ کی تلاوت کرتے تھے اور تیسری رکعت میں سورہ الضحی پڑھتے تھے ۔ وہ فرماتے ہیں کی اللہ تعالی نے اس سورہ کی برکت سے رزق ، عافیت کے خوبصورت دروازے کھول دیے۔

📚 ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نذر بد اور حسد، محسود کے جسم میں ٹھوس چیز کی کی طرح موجود ہوتی ہے مگر سورہ البقرہ اور معوذتین کی تلاوت کی تکرار سے پگھل کر جسم سے زائل ہو جاتی ہے۔
📚 جس نے سورہ البقرہ کی تلاوت کو معمول بنایا اس کے دل کو دائمی خوشی و درحت اور اس کی زندگی میں بے شمار خیرات و بھلائیاں نصیب ہوں گی۔

📚 پس تو ایسا بن جا کی اس سے تجھے انس ہو جائے۔ اس سورہ کے عشق میں تم گم ہو جاو اور اس کا شوق تیرے دل میں ہمیشہ رہے۔

📎 اس سورہ کو پڑھنا اور دوسروں کو اس سے واقف کرانا ایسا صدقہ ہے جو قیامت تک جاری و ساری رہے

Address

Medina

Telephone

+966508025722

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dar ul Ahsaan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share