29/05/2026
"حاجیو آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو"
اے حجاج کرام !
خوش نصیب ہو کہ تمہیں حج کی سعادت نصیب ہوئی تم نے بیت اللہ شریف کے انوار و تجلیات کو اپنے دامن میں سمیٹا ، اب میری بات سنو !
چلو چلو مدینہ شریف کی جانب چلو !
اس شہنشاہ ہر دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں جس نے کعبہ معظمہ کو بت خانہ سے بیت اللہ شریف و قبلہ بنایا ، اگر یہ کعبہ ہے اور یقینا کعبہ ہے تو مدینے کا تاجدار تو کعبہ کا بھی کعبہ (قبلہ) ہے۔
کعبے کا کعبہ ؟
یہاں کعبے کا کعبہ کہہ کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان و عظمت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ہمارے جسم کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اور روح کا قبلہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات پاک ۔۔۔مطلب کیا ہوا کہ اگر دل عشق مصطفی سے خالی ہو تو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا فائدہ نہ دے گا ، کوئی عبادت قبول نہیں بلکہ ایمان کی دولت سے ہی محروم کہلاۓ گا۔
ترمذی شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے طواف کعبہ کرتے ہوے کعبہ کو مخاطب کر کے فرمایا
"اے کعبہ تو بھی پاکیزہ تیری ہوا بھی پاکیزہ ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جان ہے اللہ تعالی کے نزدیک مومن کی عزت تجھ سے کہیں ذیادہ ہے۔"
جب مومن کی عزت کعبہ شریف سے ذیادہ ہے تو جن کے صدقے مومن کو عزت ملی جن کے صدقے اور رضا سے کعبہ قبلہ بنا ان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان و عظمت اور شان عزت کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔
حضرت علامہ صفوری علیہ رحمۃ کتاب شرف المصطفی سے نقل فرماتے ہیں
"قیامت کے روز کعبہ شریف اپنے رب سے عرض کرے گا ۔ کہ الہی مجھے مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت کی اجازت دے ۔تو اللہ عزوجل اسے اجازت دے گا ۔ اور وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کے لیے حاضر ہو گا۔"
کعبہ کا قبلہ بننے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضا تھی جو اللہ نے قبول فرمائی ۔۔۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نظر کعبہ پر نہ پڑتی تو کوئی نظر بھی ادھر نہ اٹھتی ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوق الہی میں افضل و اعلی ہیں ، کعبہ بھی مخلوق ہے عرش و کرسی بھی مخلوق ہے