Light of Madina

Light of Madina Light of Madina is an Islamic page.

14/06/2025
آج بھی مدینہ کے شہری کسی اجنبی کو دیکھتے ہیں تو اُسے محمد کہہ کر پکارتے ہیں اور ساتھی کو یا صدیق - لہٰذا یہ دنیا کا واح...
14/03/2025

آج بھی مدینہ کے شہری کسی اجنبی کو دیکھتے ہیں تو اُسے محمد کہہ کر پکارتے ہیں اور ساتھی کو یا صدیق - لہٰذا یہ دنیا کا واحد شہر ہے جس میں ہر مہمان، ہر اجنبی کا نام محمد اور ہر ساتھی صدیق ہے ۔ انصار نے حضورﷺ کی تواضح کی اور ان کی نسلیں حضورﷺ کے مہمانوں کی خدمت کر رہی ہیں۔

رمضان میں پورا مدینہ اشیائے خورونوش لے کر مسجد نبوی ﷺ حاضر ہو جاتا ہے - دستر خوان بچھا دیے جاتے ہیں، میزبانوں کے بچے مسجد نبوی ﷺ کے دالانوں، ستونوں اور دروازوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، حضور ﷺ کا جو بھی مہمان نظر آتا ہے وہ اس کی ٹانگوں سے لپٹ کر افطار کی دعوت دیتے ہیں ۔ مہمان دعوت قبول کر لے تو میزبان کے چہرے پر روشنی پھیل جاتی ہے، نامنظور کر دے تو میزبان کی پلکیں گیلی ہو جاتی ہیں -

میں مسجد نبوی ﷺ میں داخل ہوا تو ایک سات آٹھ برس کا بچہ میری ٹانگ سے لپٹ گیا اور بڑی محبت سے کہنے لگا:
’’چچا، چچا آپ میرے ساتھ بیٹھیں گے‘‘

میرے منجمد وجود میں ایک نیلگوں شعلہ سا لرز اٹھا، میں نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسا دیا اور سوچا کہ یہ لوگ واقعی مستحق تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اللہ کے گھر سے اٹھ کر ان کے گھر آ ٹھہرتے اور پھر واپس نہ جاتے۔

وہاں روضہ اطہر کے قریب ایک دروازہ ہے "باب جبرائیل" - آپ ﷺ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا کے حجرہ مبارک میں قیام فرماتے تھے - افطار کا وقت ہوتا، دستر خوان بچھتا، گھر میں موجود چند کھجوریں اور دودھ کا ایک آدھا پیالہ اس دستر خوان پرچن دیا جاتا -

سیدنا حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے:
’’عائشہ باہر دیکھئے باب جبرائیل کے پاس کوئی مسافر تو نہیں‘‘

آپؓ اٹھ کر دیکھتیں، واپس آ کرعرض کرتیں:
"یا رسول اللہ ﷺ وہاں ایک مسافر بیٹھا ہے۔‘‘

آپﷺ کھجوریں اور دودھ کا وہ پیالہ باہر بھجوا دیتے -

میں جونہی باب جبرائیل کے قریب پہنچا، میرے پیروں کے ناخنوں سے رانوں کی ہڈیوں تک ہر چیز پتھر ہو گئی، میں وہی بیٹھ گیا، باب جبرائیل کے اندر ذرا سا ہٹ کر حضرت عائشہؓ کے حجرے میں میرے حضور ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔

میں نے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا،
"آج بھی رمضان ہے، ابھی چند لمحوں بعد اذان ہو گی، ہو سکتا ہے آج بھی میرے حضور ﷺ حضرت عائشہؓ سے پوچھیں:
’’ذرا دیکھئے باہر کوئی مسافرتو نہیں‘‘

اور ام المومنین عرض کریں گی:

’’یا رسول اللہﷺ باہر ایک مسافر بیٹھا ہے، شکل سے مسکین نظر آتا ہے، نادم ہے، شرمسار ہے، تھکا ہارا ہے، سوال کرنے کا حوصلہ نہیں، بھکاری ہے لیکن مانگنے کی جرأت نہیں، لوگ یہاں کشکول لے کر آتے ہیں‘ یہ خود کشکول بن کر آ گیا، اس پر رحم فرمائیں یا رسول اللہﷺ، بیچارہ سوالی ہے، بے چارہ بھکاری ہے‘‘ -

اور

پھر میرا پورا وجود آنکھیں بن گیا اور سارے اعضاء آنسو !!!!

Copied

پاکیزہ روحوں کی محبت 🥹ابو العاص نبی کریم ﷺ کے پاس بعثت سے پہلے گئے اور کہا:"میں آپ کی بڑی بیٹی زینب سے شادی کرنا چاہتا ہ...
28/01/2025

پاکیزہ روحوں کی محبت 🥹

ابو العاص نبی کریم ﷺ کے پاس بعثت سے پہلے گئے اور کہا:
"میں آپ کی بڑی بیٹی زینب سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔"
(ادب)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میں ایسا نہیں کروں گا جب تک اس سے اجازت نہ لے لوں۔"
(شرع)

نبی کریم ﷺ زینب کے پاس گئے اور فرمایا:
"تمہارے خالہ زاد بھائی تم سے نکاح کا کہتے ہیں، کیا تم اسے اپنے لیے پسند کرتی ہو؟"
زینب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور وہ مسکرا دی۔
(حیا)

زینب نے ابو العاص بن ربیع سے شادی کی، جس سے ایک محبت بھری کہانی کا آغاز ہوا، اور انہوں نے علی اور امامہ کو جنم دیا۔
(خوشی)

پھر ایک مرحلہ آیا ، جب نبی کریم ﷺ کو نبوت ملی، اور ابو العاص سفر پر تھے۔ جب وہ واپس آئے تو معلوم ہوا کہ ان کی بیوی مسلمان ہو چکی ہیں۔
(عقیدہ)

زینب نے انہیں اپنے اسلام کی خوش خبری سنائی، تو ابو العاص ان سے دور ہٹ گئے۔
(احترام)

زینب حیران ہوئیں اور ان کے پیچھے گئیں۔ انہوں نے کہا:
"میرے والد نبی بن گئے ہیں، اور میں مسلمان ہو گئی ہوں۔"
ابو العاص نے کہا: "کیا آپ نے مجھے پہلے بتایا یا مجھ سے اجازت لی ؟"
زینب نے جواب دیا:
"میں اپنے والد کو جھوٹا نہیں کہہ سکتی، وہ صادق اور امین ہیں۔ اور میں اکیلی نہیں ہوں؛ میری ماں، میرے بھائی، میرے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب، تمہارے چچا زاد بھائی عثمان بن عفان، اور تمہارے دوست ابو بکر صدیق بھی مسلمان ہو چکے ہیں۔"

ابو العاص نے کہا:
"میں نہیں چاہتا کہ لوگ کہیں کہ اس نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور اپنے آباؤ اجداد سے بے وفائی کی صرف اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے۔ اور تمہارے والد پر الزام لگانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا تم میری بات سمجھ سکتی ہو؟"
(تعمیری مکالمہ)

زینب نے کہا:
"اگر میں نہ سمجھوں گی، تو کون سمجھے گا؟ لیکن میں تمہاری بیوی ہوں، اور تمہیں حق پر آنے میں مدد دوں گی جب تک تم اس کے لیے تیار نہ ہو جاؤ۔"
(سمجھداری اور برداشت)

زینب نے اپنے وعدے کو بیس سال نبھایا۔
(اللہ کے لیے صبر)

ابو العاص اپنی کفر کی حالت پر قائم رہے، پھر ہجرت کا وقت آیا۔
زینب نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور پوچھا:
"کیا آپ مجھے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہیں؟"
(محبت)

نبی ﷺ نے اجازت دے دی۔
(رحمت)

زینب مکہ میں رہیں، یہاں تک کہ غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ ابو العاص قریش کے لشکر کے ساتھ جنگ کے لیے نکلے، اور زینب دعا کرتی رہیں:
"یا اللہ! میں ڈرتی ہوں کہ ایسا دن نہ آئے جس میں میرے بچے یتیم ہو جائیں یا میں اپنے والد کو کھو دوں۔"
(حیرت اور دعا)

ابو العاص غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور قید ہو گئے۔ جب زینب کو پتا چلا تو انہوں نے پوچھا:
"میرے والد نے کیا کیا؟"
انہیں بتایا گیا: "مسلمان جیت گئے۔"
انہوں نے شکرانے کے طور پر سجدہ کیا۔

پھر انہوں نے پوچھا:
"میرے شوہر کا کیا ہوا؟"
جواب ملا: "انہیں قیدی بنا لیا گیا۔"
زینب نے کہا: "میں اپنے شوہر کی رہائی کے لیے فدیہ بھیجوں گی۔"
(عقل مندی)

زینب کے پاس قیمتی چیز کچھ نہ تھی،
تو انہوں نے اپنی ماں خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وہ ہار نکالا جو وہ ہمیشہ پہنتی تھیں، اور اسے ابو العاص کے بھائی کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس بھیج دیا۔

نبی کریم ﷺ نے فدیہ وصول کرتے وقت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار دیکھا تو رو پڑے اور پوچھا:
"یہ ہار کس کا فدیہ ہے؟"
جواب دیا گیا: "یہ ابو العاص بن ربیع کا ہے۔"
(وفا)

نبی ﷺ نے کہا:
"یہ شخص دامادی کے رشتے میں کبھی برا نہیں نکلا۔ کیا تم اسے آزاد کر دو گے بلافدیہ ؟ اور زینب کو ان کا ہار واپس کر دو۔"
(انصاف اور تواضع)

صحابہ نے کہا: "ہاں، یا رسول اللہ۔"
(صحابہ کا ادب)

نبی ﷺ نے ابو العاص کو ہار دیا اور فرمایا:
"اپنی بیوی کو کہنا، خدیجہ کے ہار کی حفاظت کرے۔"
(اعتماد ان کے اخلاق پر باوجود کے وہ حالت کفر میں ہیں)

پھر نبی ﷺ نے ابو العاص سے کہا:
"کیا تم زینب کو میرے پاس واپس بھیج سکتے ہو؟"
ابو العاص نے کہا: "ہاں۔"
(مردانگی)

زینب ابو العاص کو مکہ کے دروازے پر خوش آمدید کرنے آئیں، جہاں انہوں نے کہا:
"میں جا رہا ہوں، لیکن تمہیں اپنے والد کے پاس جانا ہوگا۔"
(وعدہ نبھانا)
زینب نے کہا کیا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں گے
کہا نہیں
سو وہ خاموشی سے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینۃ منورہ آگئیں
(فرمانبرداری)

چھ سال تک زینب کے رشتے آتے رہے لیکن انہوں نے ہر رشتے کے لیے انکار کیا، ابو العاص کے لوٹنے کی امید پر۔
(وفاداری)

چھ سال بعد، ابو العاص قافلے کے ساتھ شام جا رہے تھے۔ صحابہ نے قافلہ قبضے میں لے لیا، لیکن ابو العاص نکلنے میں کامیاب ہوگئے ، اور ابو العاص رات کے وقت زینب کے دروازے پر پہنچے۔ دروازے بجایا:
(اعتماد)
زینب نے پوچھا: "کیا تم مسلمان ہو گئے؟"
(امید)

انہوں نے کہا: "نہیں، میں بھاگ کر آیا ہوں۔"
زینب نے کہا:
"کیا تم اسلام قبول کر لو گے؟"
(اصرار اور وعدہ)

ابو العاص نے جواب دیا: "نہیں۔"

زینب نے کہا: "فکر نہ کرو، خالہ زاد بھائی کے بیٹے، اور علی و امامہ کے والد، خوش آمدید۔"
(فضل اور عدل)

فجر کی نماز کے بعد، نبی کریم ﷺ نے سنا کہ مسجد کے آخر سے زینب کی آواز آ رہی ہے:
"میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دی ہے۔"
(شجاعت)

نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: "کیا تم نے وہ سنا جو میں نے سنا؟"
صحابہ نے کہا: "جی، یا رسول اللہ۔"

زینب نے کہا:
"یا رسول اللہ، اگر ابو العاص سے دور کارشتہ شمار کروں تو وہ خالہ زاد ہیں، اور اگر قریبی رشتہ ہو تو میرے بچوں کے والد ہیں۔ میں نے انہیں پناہ دی ہے۔"

نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
"یہ شخص سسرالی رشتے میں برا نہیں نکلا، وعدہ کرتا تھا تو پورا کرتا تھا، اور بات کرتا تھا تو سچ کہتا تھا۔
اگر تم اس کے مال کو واپس کر دو اور اسے چھوڑ دو تو یہ مجھے پسند ہے، لیکن فیصلہ تمہارا ہے، اور تمہارے حق میں ہے۔"
(مشورہ)

صحابہ نے کہا: "ہم اس کا مال واپس کریں گے، یا رسول اللہ۔"
(صحابہ کا ادب)

نبی کریم ﷺ نے زینب سے کہا:
"اپنے خالہ زاد بھائی کی مہمان نوازی کرنا، لیکن یاد رکھو، ان کی قربت تمہارے لیے حلال نہیں۔"
(رحمت اور شریعت)

زینب نے کہا: "جی، یا رسول اللہ۔"
(اطاعت)

زینب نے ابو العاص کو خوش آمدید کہا اور کہا:
"کیا تمہارے لئے ہم سے جدا رہنا آسان ہے؟ کیا تم اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے؟"
(محبت اور امید)

ابو العاص نے جواب دیا: "نہیں۔"
انہوں نے اپنا مال لیا اور مکہ واپس چلے گئے۔

مکہ پہنچ کر، ابو العاص نے لوگوں سے کہا:
"یہ لو تمہارا مال، کیا کسی کا کچھ باقی رہ گیا ہے؟"
(امانت داری)

لوگوں نے کہا: "نہیں، تم نے بہترین وفا کی ہے۔ تمہیں اسکا بہترین بدلہ ملے "
(فطرت)

پھر ابو العاص نے کہا:
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"
(ہدایت اور نعمت)

ابو العاص فوراً مدینہ روانہ ہوئے اور فجر کے وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا:
"یا رسول اللہ، آپ نے مجھے کل پناہ دی تھی، آج میں ایمان لے کر آیا ہوں۔"
(خوبصورتی سے ہدایت دینا)

پھر ابو العاص نے عرض کیا :
یارسول اللہ کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں زینب کے پاس جاوں؟
(۔ محبت اور ازدواجی تعلقات)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی العاص کو ساتھ لیا اور زینب کا دروازے کھٹکھٹایا
اور زینب باہر آئیں تو ان سے کہا
تمہارے خالہ زاد بھائی تمہاری طرف لوٹنا چاہتے ہیں کیا تم انہیں قبول کرتی ہو
(والد اور کفیل )
زینب کا چہرہ سرخ ہوگیا اور وہ مسکرا دیں
( رضامندی)

اس واقعہ کے سال بعد زینب کا انتقال ہوگیا ،
ابوالعاص بہت شدت سے روئے یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آنسو صاف کررہے ہیں اور تسلی دے رہے ہیں
ابو العاص نے کہا
یا رسول اللہ زینب کے بعد میرے لئے اس دنیا میں کوئی رغبت نہیں
(رفیقہ حیات کی محبت )

اس حادثہ کے سال بعد ابو العاص بھی انتقال کرگئے
( پاکیزہ روحوں کا ملن)
اگر آپ یہ قصہ مکمل پڑھ چکے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل و اولاد و اصحاب پر درود و سلام بھیجئے..
صَلَ اللہُ تَعالیٰ عَلیٰ خَیرِ خَلقِہِ مُحَمّدٍ وَ عَلیٰ آلہِ وَ اَصحَابِہِ وَسلّمَ تَسلِیمَاً کَثِیرًا کَثِیرا اِلیٰ یَومِ الّدِین
ایک سال کا وصال۔
ایک سال کا فراق ۔۔

محبت کی یہ داستاں 👆🏻👆🏻👆🏻اس روئے ارضی کی تمام افسانوی محبت رومانوی کرداروں سے کروڑ ہا درجہ اعلی و اولا افضل و احسن ہے۔۔۔
الفاظ معذور ہیں اعتراف حسن پر۔۔۔

Allah k Ghar k leay 1000like 👍♥️🕋
11/08/2024

Allah k Ghar k leay 1000like 👍♥️🕋

ASSALAM O ALIKUM Tmam Ehbab DAROOD E PAK phar kr post ko aagy share kar dein.jazak Allah💙
11/08/2024

ASSALAM O ALIKUM
Tmam Ehbab DAROOD E PAK phar kr post ko aagy share kar dein.jazak Allah💙

نیا اسلامی سال شروع، مکہ مکرمہ میں کلاک ٹاور کویکم محرم کی نشاندہی کے لیےمکمل روشن کیا گیا ہے۔
07/07/2024

نیا اسلامی سال شروع، مکہ مکرمہ میں کلاک ٹاور کویکم محرم کی نشاندہی کے لیےمکمل روشن کیا گیا ہے۔

*حج کے دوران کتنا فاصلہ طہ کرنا ھوتا ہے۔*1-منیٰ ،مکہ مکرمہ سے 10-12 کیلومیٹرکے فاصلہ پر دو طرفہ پہاڑوں کے درمیان ایک بہت...
23/05/2024

*حج کے دوران کتنا فاصلہ طہ کرنا ھوتا ہے۔*
1-منیٰ ،مکہ مکرمہ سے 10-12 کیلومیٹرکے فاصلہ پر دو طرفہ پہاڑوں کے درمیان ایک بہت بڑا میدان ہے۔

2- عرفات ،منیٰ سے تقریبا 12-13 کیلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ میدان عرفات کے شروع میں مسجد نمرہ نامی ایک بہت بڑی مسجد ہے جس میں زوال کے فوراً بعد خطبہ ہوتا ہے پھر ایک اذان اور دو اقامت سے ظہر اور عصر کی نمازیں جماعت سے ادا ہوتی ہیں۔

3- مزدلفہ ،منی سے 7-8 کیلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔9 ذی الحجہ کو غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام عرفات سے مزدلفہ آکر عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ یہاں رات کو قیام فرماتے ہیں اور نماز فجر کے بعد قبلہ رخ کھڑے ہوکر دعائیں کرتے ہیں۔ اور منیٰ روانا ہوتے ہیں جمرات پر کنکریاں مارنے ۔

4- جمرات، مزدلفہ سےتقریبا 7-8 کیلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔
یہ منیٰ میں 3 مشہور مقام ہیں جہاں اب دیوار کی شکل میں بڑے بڑے ستون بنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، نبی اکرم
کے طریقہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع میں ان جگہوں پر کنکریاں ماری جاتی ہیں۔

5- مکہ مکرمہ حرم، منیٰ سے 10-12 کیلومیٹرکے فاصلہ پر یے وہاں طواف زیارت کرنے جانا ہوتا ہے : یہ حج کا رکن ہے، اس کے بغیر حج پورا نہیں ہوتا۔ اس کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور یام نحر یعنی دسویں سے بارہویں تک کرنا واجب ہے۔
حج وعمرہ ٹرینر ۔فرخندہ جبیں

Beautiful Makkah azan
18/04/2024

Beautiful Makkah azan

1027 likes, 49 comments. “Azan e Makkah 🕋♥️🇸🇦”

سبع مساجد غزوہ خندق کا تاریخی پس منظر مدینہ منورہ
30/03/2024

سبع مساجد غزوہ خندق کا تاریخی پس منظر
مدینہ منورہ

Check out sohail awan🍂⚘️’s video.

مدینہ منورہ کی تمام زیارات کے لیے ہمیں tiktokID پر follow کریں ۔جزاک اللہ خیر ⚘️🌷
30/03/2024

مدینہ منورہ کی تمام زیارات کے لیے ہمیں tiktokID پر follow کریں ۔جزاک اللہ خیر ⚘️🌷

Check out sohail awan🍂⚘️’s video.

Address

Medina

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Light of Madina posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Light of Madina:

Share