08/03/2026
Surah baqarah verse 103, 104_Urdu سورہ البقرہ کی آیات 103 اور 104 جادو کے منفی اثرات، ایمان و تقویٰ کی اہمیت، اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادب و احترام کے معاملے پر روشنی ڈالتی ہیں۔ آیت 103 جادوگروں کو ایمان اور تقویٰ کی طرف بلا کر حقیقی ثواب کی نوید دیتی ہے، جبکہ آیت 104 صحابہ کرام کو نبی ﷺ سے مخاطب ہوتے وقت "راعِنا" کی بجائے "انظُرنا" کہنے کا حکم دیتی ہے، جو آدابِ رسالت کا بنیادی حصہ ہے۔
آیت 103: جادو اور ایمان کی حقیقت
تفسیر: یہ آیت پچھلی آیات (101-102) کے تسلسل میں ہے، جہاں جادو کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوگ (جو جادو اور باطل چیزوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں) ایمان لاتے اور تقویٰ (خدا ترسی) اختیار کرتے، تو اللہ کے ہاں جو بہترین بدلہ ہے، وہ اس جادو اور دنیاوی فائدے سے کہیں بہتر ہوتا۔
نکتہ: یہ جادوگروں کے لیے ایک انتباہ اور دعوتِ فکر ہے کہ جادو جیسی شیطانی چیزیں وقتی فائدہ دے سکتی ہیں، لیکن حقیقی کامیابی ایمان اور تقویٰ میں ہے۔ تفسیر قرطبی 48/2 کے مطابق، بعض بزرگان دین نے اس سے جادوگر کے کافر ہونے کا استدلال کیا ہے۔
Irfan-ul-Quran
آیت 104: آدابِ رسالت اور الفاظ کا چناؤ
تفسیر: "اے ایمان والو! (نبی ﷺ سے) 'راعِنا' (ہماری رعایت کیجئے) نہ کہا کرو، بلکہ 'انظُرنا' (ہم پر نظرِ کرم کیجئے / ہمیں مہلت دیجئے) کہا کرو، اور (ادب کے ساتھ) سنا کرو، اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
وجہِ نزول: صحابہ کرامؓ نبی کریم ﷺ سے گفتگو کے دوران 'راعِنا' کا لفظ استعمال کرتے تھے، جس کا مطلب "ہماری رعایت فرمائیے" ہے۔ یہودی اس لفظ کو اپنی زبان میں ایک توہین آمیز معنی (راعیِ نا - ہمارا چرواہا) میں استعمال کرتے تھے اور اس کے ذریعے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس لفظ سے روک دیا تاکہ دشمنوں کو گستاخی کا موقع نہ ملے اور ادب و احترام کا تقاضا پورا ہو Dawat-e-Islami۔
تعلیم: یہ آیت سکھاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ادب میں الفاظ کا چناؤ انتہائی محتاط ہونا چاہیے اور ایسی بات کہنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے توہین کا پہلو نکلتا ہو، خواہ نیت ٹھیک ہی کیوں نہ ہو۔
Dawat-e-Islami
خلاصہ:
103: جادو پر ایمان و تقویٰ کو ترجیح دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
104: نبی کریم ﷺ کے ساتھ گفتگو میں ادب و احترام کا خاص خیال رکھیں اور توہین آمیز الفاظ سے بچیں۔
——————————————————- … Translation Urdu audio