Quran Translation Urdu audio

Quran Translation Urdu audio Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Quran Translation Urdu audio, Religious organisation, Jizan airport, Jizan.

🎧 Quran Audio with Urdu Translation
🌄 Peaceful Mountain & Nature Views
📖 Understand Allah’s Message
🤲 Listen • Reflect • Share
قرآن کا خوبصورت پیغام 🤍اردو ترجمہ کے ساتھ سنیں، سمجھیں، اور شیئر کریں

08/03/2026

Surah baqarah verse 103, 104_Urdu سورہ البقرہ کی آیات 103 اور 104 جادو کے منفی اثرات، ایمان و تقویٰ کی اہمیت، اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادب و احترام کے معاملے پر روشنی ڈالتی ہیں۔ آیت 103 جادوگروں کو ایمان اور تقویٰ کی طرف بلا کر حقیقی ثواب کی نوید دیتی ہے، جبکہ آیت 104 صحابہ کرام کو نبی ﷺ سے مخاطب ہوتے وقت "راعِنا" کی بجائے "انظُرنا" کہنے کا حکم دیتی ہے، جو آدابِ رسالت کا بنیادی حصہ ہے۔
آیت 103: جادو اور ایمان کی حقیقت
تفسیر: یہ آیت پچھلی آیات (101-102) کے تسلسل میں ہے، جہاں جادو کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوگ (جو جادو اور باطل چیزوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں) ایمان لاتے اور تقویٰ (خدا ترسی) اختیار کرتے، تو اللہ کے ہاں جو بہترین بدلہ ہے، وہ اس جادو اور دنیاوی فائدے سے کہیں بہتر ہوتا۔
نکتہ: یہ جادوگروں کے لیے ایک انتباہ اور دعوتِ فکر ہے کہ جادو جیسی شیطانی چیزیں وقتی فائدہ دے سکتی ہیں، لیکن حقیقی کامیابی ایمان اور تقویٰ میں ہے۔ تفسیر قرطبی 48/2 کے مطابق، بعض بزرگان دین نے اس سے جادوگر کے کافر ہونے کا استدلال کیا ہے۔
Irfan-ul-Quran

آیت 104: آدابِ رسالت اور الفاظ کا چناؤ
تفسیر: "اے ایمان والو! (نبی ﷺ سے) 'راعِنا' (ہماری رعایت کیجئے) نہ کہا کرو، بلکہ 'انظُرنا' (ہم پر نظرِ کرم کیجئے / ہمیں مہلت دیجئے) کہا کرو، اور (ادب کے ساتھ) سنا کرو، اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
وجہِ نزول: صحابہ کرامؓ نبی کریم ﷺ سے گفتگو کے دوران 'راعِنا' کا لفظ استعمال کرتے تھے، جس کا مطلب "ہماری رعایت فرمائیے" ہے۔ یہودی اس لفظ کو اپنی زبان میں ایک توہین آمیز معنی (راعیِ نا - ہمارا چرواہا) میں استعمال کرتے تھے اور اس کے ذریعے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس لفظ سے روک دیا تاکہ دشمنوں کو گستاخی کا موقع نہ ملے اور ادب و احترام کا تقاضا پورا ہو Dawat-e-Islami۔
تعلیم: یہ آیت سکھاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ادب میں الفاظ کا چناؤ انتہائی محتاط ہونا چاہیے اور ایسی بات کہنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے توہین کا پہلو نکلتا ہو، خواہ نیت ٹھیک ہی کیوں نہ ہو۔
Dawat-e-Islami

خلاصہ:
103: جادو پر ایمان و تقویٰ کو ترجیح دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
104: نبی کریم ﷺ کے ساتھ گفتگو میں ادب و احترام کا خاص خیال رکھیں اور توہین آمیز الفاظ سے بچیں۔
——————————————————- … Translation Urdu audio

04/03/2026

Surah Al baqarah verse 101_ Urdu

سورہ البقرہ کی آیت 101 میں اہل کتاب (یہودیوں) کے اس رویے کی مذمت کی گئی ہے کہ جب نبی کریمﷺ (جو ان کی تورات کی تصدیق کرنے والے تھے) ان کے پاس آئے، تو انہوں نے اپنی کتاب (تورات) کو پس پشت ڈال دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں۔ یہ ان کی ضد، عناد اور حقانیت کو چھپانے کی عکاسی کرتا ہے۔

آیت 101 کا مفہوم و تشریح:
[رسول کی آمد اور تصدیق ] اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو بھیجا، جو نہ صرف سچے رسول ہیں بلکہ ان کے پاس موجود کتاب (تورات) کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ اصل میں اللہ کی طرف سے تھی۔
اہل کتاب کا رویہ: ان میں سے ایک گروہ نے اپنی کتاب (تورات) کے ان پیشگوئیوں اور احکامات کو، جو نبی آخرالزماں ﷺ کے بارے میں تھے، پس پشت ڈال دیا۔
پس پشت ڈالنے کا مطلب: اس سے مراد تورات کو چھوڑ دینا، اس پر عمل نہ کرنا اور اس میں موجود آپ ﷺ کی نشانیاں چھپانا ہے، جیسے وہ ان سے ناواقف ہوں۔
پیٹھ پیچھے ڈالنا: یہ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کی پرواہ نہ کرنا اور اسے نظر انداز کر دینا۔

خلاصہ:
یہ آیت یہود کے اس رویے کو بے نقاب کرتی ہے کہ اپنی خود غرضی کی وجہ سے انہوں نے حق کو جاننے کے باوجود اسے چھوڑ دیا اور اپنی ہی کتاب کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا۔
————————————— … Translation Urdu audio

03/03/2026

Surah baqarah verses 99,100 | Urdu translation-

یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ایسی نشانیاں جو آپ کی نبوت کی صریح دلیل بن سکیں نازل فرما دی ہیں یہودیوں کی مخصوص معلومات کا ذخیرہ ان کی کتاب کی پوشیدہ باتیں ان کی تحریف و تبدیل احکام وغیرہ سب ہم نے اپنی معجزہ نما کتاب قرآن کریم میں بیان فرما دیئے ہیں جنہیں سن کر ہر زندہ ضمیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ یہودیوں کو ان کا حسد و بغض روک دے ورنہ ہر شخص جان سکتا ہے, کہ ایسا پاکیزہ خوبیوں والا حکمتوں والا کلام (قرآن )ایک حقیقی اوراپنے رب سے آخر الزمان نبی (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر نازل ہو ئی ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن صوریا قطوبنی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ بطور نبوت کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس سے ہم پہچان لیں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسی خاص روشن دلیلیں ہیں اس پر یہ آیت پاک نازل ہوئی چونکہ یہودیوں نے اس بات سے انکار کر دیا تھا کہ ہم سے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کوئی عہد لیا گیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو ان کی عادت ہی ہے کہ عہد کیا اور توڑا بلکہ ان کے اکثریت تو ایمان سے بالکل خالی ہے ”نَبَذَ“ کا معنی پھینک دینا ہے چونکہ ان لوگوں نے کتاب اللہ کو اور عہد باری تعالیٰ کو اس طرح چھوڑ رکھا تھا گویا پھینک دیا تھا اس لیے ان کی مذمت میں یہی لفظ لایا
گیا
۔
۔
۔
——————————————————-
…. Translation Urdu audio

02/03/2026

جیسا کہ قبل ازیں عرض کیا جا چکا ہے ‘ ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت یہود کے لیے بہت بڑی آزمائش ثابت ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ آخری نبوت کا وقت قریب ہے اور یہ نبی بھی حسب سابق بنی اسرائیل میں سے مبعوث ہوگا۔ لیکن نبی آخر الزمان حضرت ﷺ کی بعثت بنی اسماعیل میں سے ہوگئی۔ یہود جس احساس برتری کا شکار تھے اس کی رو سے وہ بنی اسماعیل کو حقیر سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اُمّی لوگ ہیں ‘ اَن پڑھ ہیں ‘ ان کے پاس نہ کوئی کتاب ہے نہ شریعت ہے اور نہ کوئی قانون اور ضابطہ ہے ‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک شخص کو کیسے چن لیا ؟ ان کا خیال تھا کہ یہ سب جبرائیل کی شرارت ہے کہ وہ وحی لے کر محمد عربی ﷺ کے پاس چلا گیا۔ لہٰذا وہ حضرت جبرائیل کو اپنا دشمن تصور کرتے تھے اور انہیں گالیاں دیتے تھے۔
تو اللہ عزوجل نے ان لوگوں کو بھی سخت وارننگ دی آیت نمبر ( ۹۸)
تو کان کھول کر سن لو) جو کوئی بھی دشمن ہے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا تو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اعلان ہے کہ) اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے۔
——————————————————— Translation Urdu audio

01/03/2026

سورہ بقرہ کی آیت 96 یہودیوں کی دنیا پرستی اور موت سے شدید ڈر کی عکاسی کرتی ہے، جہاں وہ طویل زندگی کے خواہشمند ہیں۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ ہزار سالہ عمر بھی انہیں عذابِ الٰہی سے نہیں بچا سکتی۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے بخوبی واقف ہے اور ان کے برے کاموں کی سزا ضرور دے گا۔

تفسیر نکات:-
دنیا کی ہوس: یہودیوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ زندگی کے حریص (خواہشمند) ہیں۔
موت کا ڈر: وہ طویل عمر پانے کی خواہش رکھتے ہیں، چاہے وہ مشرکین کی طرح ہو یا پھر شیطانی طویل زندگی۔
عذاب سے لاپروائی: طویل زندگی پانے کے باوجود بھی، وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ طویل عمر انہیں آخرت کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔
اللہ کی نگرانی: آیت کے آخر میں تنبیہ ہے کہ اللہ ان کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور وہ ہرگز سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔

یہ آیت دنیاوی زندگی کی عارضی لذتوں کے پیچھے بھاگنے اور آخرت کو فراموش کرنے والوں کے لیے ایک سخت وارننگ ہے۔
———————————————
…… Translation Urdu audio

28/02/2026

28/02/2026

سورہ البقرہ کی آیات 94 اور 95 میں یہودیوں کے اس دعوے کی نفی کی گئی ہے کہ آخرت صرف ان کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں چیلنج کیا کہ اگر وہ سچے ہیں تو موت کی آرزو کریں، لیکن ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے وہ ہرگز ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ وہ اپنی دنیاوی زندگی سے بہت محبت کرتے ہیں ۔

آیت 94 کا ترجمہ اور تفسیر:
"اے نبی( صلی اللہ علیہ وسلم)کہ دیجئے: ان سے اگر آخرت کا گھر اللہ کے نزدیک سب لوگوں (مسلمانوں)کو چھوڑ کر خاص تمہارے ہی لئے ہے تو (اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو) تو موت کی آرزو کرو"۔

* تفسیر: یہود کہا کرتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے ہیں اور جنت صرف ہماری ہے۔ اللہ نے انہیں موت کی تمنا کرنے کو کہا تاکہ سچائی واضح ہو جائے۔ یہ ایک مباہلہ کی طرح کا چیلنج تھا، جیسا کہ Dawat-e-Islami میں ذکر ہے۔
*
‎آیت 95 کا ترجمہ اور تفسیر:
"اور وہ اپنے ہاتھوں کے کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہرگز اس کی (موت) آرزو نہیں کریں گے، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے"۔

* تفسیر: وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے نبیوں کے قتل اور دیگر نافرمانیوں (اپنے ہاتھوں کے اعمال) کی وجہ سے آخرت میں سزا پائیں گے، اس لیے وہ موت سے ڈرتے ہیں۔
*
* ان آیات کریمہ کی چند اہم نکات:-
* سچے ایمان کی علامت آخرت کے لیے تیاری اور موت کا خوف نہ ہونا ہے۔
* غلط دعوے کرنے والے اور اللہ کے نافرمان موت سے ڈرتے ہیں ۔
* یہودیوں کا اپنی دنیاوی زندگی سے شدید لگاؤ ان کے جھوٹا ہونے کا ثبوت دیا گیاہے۔
——————————————————
Translation Urdu audio

27/02/2026

تم قرآن کی روح کو کبھی پہنچ ہی نہیں سکتے۔

ایک ایک بات دل کو چھو لینے والی ہے ایک بار ضرور سنیں ۔

Address

Jizan Airport
Jizan
82734

Telephone

+966511404341

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quran Translation Urdu audio posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share