رد ناصبیت رافضیت و ملحدین

رد ناصبیت  رافضیت و ملحدین ISLAMIC BAYAN OF ULAMAS & MUSLIMS HISTORY

اس وقت امریکہ ایران پر شدید حملے کر کے ایران کا سول انفراسٹرکچر تباہ کر رہا ہے اور ایران کی مرکزی سپلائی لائنز کو تباہ ک...
21/07/2026

اس وقت امریکہ ایران پر شدید حملے کر کے ایران کا سول انفراسٹرکچر تباہ کر رہا ہے اور ایران کی مرکزی سپلائی لائنز کو تباہ کر کے ایرانی مزاحمت کے تمام راستے مسدود کر رہا ہے اور جو خبریں مل رہی ہیں انکے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ امریکہ زمینی فوج کو ایران میں اتار سکے اور اسے کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہ ہو۔

آج کسی طرف سے ان امریکی اقدامات کی مذمت سامنے نہیں آئی خاص طور پر چین اور روس جو کہ ایرانی مددگار سمجھے جاتے تھے انہوں نے بھی کسی قسم کا سخت ردعمل نہیں دیا خلیجی ممالک بھی تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت اب ایران سے جنگ لڑنے کے لیے آمادہ ہو رہے ہیں کیونکہ ایران نے انکے لیے کوئی اور راستہ ہی نہیں چھوڑا۔
یہ بنیادی طور پر کوئی جنگ تھی ہی نہیں یہ طویل ہوئی تو اسکی وجہ یہ تھی کہ آبنائے ہرمز کی شکل میں ایران کے ہاتھ ایک ایسا ہتھیار لگ گیا تھا جس سے وہ دنیا بھر کو بلیک میل کر سکتا تھا ورنہ امریکہ اور ایران کی فوجی طاقت کا کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔
اب یوں لگ رہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو ایرانی اثرورسوخ سے نکالنے کا روڈ میپ اور سٹریٹجی بنا لی ہے اور ایران کے لیے آبنائے ہرمز پر چند ماہ پہلے والا تسلط برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔
اس وقت بھی پاکستان میں کئی لوگ رام کہانیاں سنا رہے ہیں اور غیرت وغیرہ کی منجن فروشی میں مصروف ہیں جناب عالی عرض یہ ہے کہ جنگ لڑنی ہو تو پہلے جنگ کے قابل بنا جاتا ہے ایرانی ملڑ اپنے عوام کی جان و مال کی قیمت پر اس جنگ کو لڑنا چاہتے ہیں مگر ان مظلوم عوام سے کسی نے نہیں پوچھا کہ آپ کو جنگ چاہیے یا امن و امان کے ساتھ جینے کا حق۔
ایرانی ملاؤں کو ایران پر اپنا تسلط برقرار رکھنا ہے چاہے پورے ایران کے لوگ مارے جائیں اور اسے وہ وطن پرستی کا نام دیتے ہیں کوئی ان ملاؤں سے پوچھے کہ پچاس سال سے تم کیا بھنگ گھوٹ رہے تھے؟
نہ تم دانشمندی کا مظاہرہ کر کے معاملات حل کر پائے جس سے ایران پر پابندیاں ختم ہوتیں اور عوام کو بہتر طرز زندگی حاصل ہوتا اور نہ ہی انہوں نے ایران کو اس قابل بنایا جو کسی بیرونی حملے کی صورت میں اپنے عوام کا دفاع کر پائے کیا آپ نے کوئی ایسا ملک دیکھا ہے جو جنگ اپنے عوام کو ڈھال بنا کے لڑنا چاہتا ہو؟
امریکہ کے ساتھ ایران کی جنگ بندی برابری کی بنیاد پر ممکن ہی نہ تھی مگر اسکے باوجود امریکہ نے ایران کو اچھی خاصی فیس سیونگ دی تھی مگر ملاؤں کو شاید امن قبول ہی نہ تھا وہ برابری کی بنیاد پر جنگ بندی چاہتے تھے مگر ایسا ہوتا نہیں جب طاقت میں کوئی برابری نہیں تو جنگ بندی میں برابری کیسے ممکن تھی؟
اس دفعہ تو ایران نے برائے نام بھی سسرا عیل پر کوئی میزائیل نہیں پھینکا اور بار بار پڑوسی مسلم ممالک پر حملہ آور ہو رہا ہے میرا سوال ہے کہ کیا قومی غیرت صرف ایران میں ہے اگر ان ممالک جن پر ایران حملہ کر رہا ہے ،کسی کی غیرت جاگ گئی اور اس نے ایران پر جوابی حملے شروع کر دیے تو پھر آج کل لوگ ایرانی قوم کی غیرت کا منجن بیچ رہے ہیں وہ جوابی حملہ کرنے والوں کو کیسے غلط کہہ سکتے ہیں؟
میرے نزدیک ایران جو پہلے جنگ نہ ہار کے جیتا ہوا تصور کیا جا رہا تھا آج نہ صرف اپنے ملک کا شدید نقصان کروائے گا بلکہ پہلے کے مقابلے میں بڑی توہین آمیز شرطوں پر اسے جنگ بندی کروانا پڑے گی

ایران کو عزت مل رہی تھی پاکستان معاہدہ کروا دیا تھا مگر ایران کی ایک حماقت نے اس کو یہاں تک پہنچا دیا کہ جو اقوام متحدہ ...
20/07/2026

ایران کو عزت مل رہی تھی پاکستان معاہدہ کروا دیا تھا مگر ایران کی ایک حماقت نے اس کو یہاں تک پہنچا دیا کہ جو اقوام متحدہ امریکہ اور یورپی ممالک کی لونڈی بنی ہوئی ہے آج اسی سے ایران حملے رکوانے کی بھیک مانگ رہا ہے ایک غلط فیصلہ ملکوں اور قوموں کی عزت کو خاک ملا دیتا ہے اور وہی غلط فیصلہ ایران جنگی بندی کے دوران کیا کہ امریکہ اور دیگر عرب ممالک پر حملہ کرنے کا کیا جس کے بعد ایران عالمی برادری کی ہمدردیوں اور سپورٹ سے محروم ہوگیا اور جو امریکہ عالمی تناظر میں سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار ہو گیا تھا اس نے ایران پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیئے اور اس بار روس اور چین سمیت کسی نے بھی اس کی نہ مذمت کی نہ ایرانی حمایت میں بولے سوال یہ کہ وہ کیوں بولتے انھوں نے معاہدہ کروا کر ایران کو زیرو سے ہیرو بنوا دیا تھا مگر ایران کو شاید یہ عزت راس نہ آئی اور اس نے اپنے حمایتی ممالک کے کروائے ہوئے معاہدہ کی ورزی کرتے ہوئے امریکہ اور دیگر عرب ممالک پر حملے شروع کردیے
یہاں پر ایک اور نقظہ کی طرف مبذول کروانا چاہوں گا جب تک ایران کو پاکستان کی حمایت حاصل رہی ایران ہیرو بنا اور ڈٹا رہا مگر ایران نے پاکستان کی اس سپورٹ کی قدر نہیں کی کل رات ہی پاکستان نے ایرانی ہٹ دھرمی پر یہ بیان دیتے ہوئے ایران کو سمجھایا کہ پاکستان سعودی عرب سے گئے معاہدے کا پابند ہے کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان پوری قوت کے ساتھ سعودی عرب کا تحفظ کرے گا جس کے بعد ایرانی غبارے سے ہوا مکمل طور پر نکل چکی ہے اور نوبت یہاں پر آ گئی ہے کہ ایران اقوام متحدہ سے حملے رکوانے کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو چکا ہے یہ حال ہوتا ہے ہمیشہ احسان فراموش لوگوں پھر ہیرو سے زیرو بنتے دیر نہیں لگتی

آؤ سناؤ پیار کی ایک کہانی😅یہ عراقی وزیراعظم علی زیدی ہے جو خامنائی کی لاش کو ایئرپورٹ پر وصول کرنے آیا، پورے عراق میں اس...
19/07/2026

آؤ سناؤ پیار کی ایک کہانی😅

یہ عراقی وزیراعظم علی زیدی ہے جو خامنائی کی لاش کو ایئرپورٹ پر وصول کرنے آیا، پورے عراق میں اس کے لیے چھٹی بھی کی اور تمام شیعہ پراکسیز کا متفقہ منتخب نمائندہ بھی ہے، اگلے ہی روز یہ جناب ٹرمپ سے ملتے ہیں ، عراق میں ایرانی پراکسیز کو غیر مسلح کرنے کی یقین دہانی بھی کرواتے ہیں اور عراقی پیٹرول امریکہ کو مفت استعمال کرنے کی آفر دے کر ٹرمپ کی خوشنودی بھی حاصل کرتے ہیں لیکن آپ نے کہیں پاکستان میں نہیں دیکھا ہوگا کہ کسی شیعہ نے ان کو یہودی ایجنٹ کہا ہو لیکن آئے روز دیگر مسلم ممالک کے سربراہان مثلاً عرب ممالک وغیرہ کے خلاف زہر اگلا جاتا رہتا ہے، بات اتنی ہے کہ دیگر لوگ ایران کو بھتہ نہیں دیتے اسی لیے ان کے خلاف خوب زہر اگلا جاتا ہے، ایران کو بھتہ دو پھر آپ نیتن یاہو کی گود میں بیٹھ جاؤ یہ مخصوص طبقہ مجال ہے آپ کو کچھ بول دے۔
افسوس ہے ایسے بے وقوفوں پر جو ان منافقین کو امت کا رہنماء سمجھتے ہیں

22/06/2025

ایران کے اندر تہران میں سنیوں کی کوئی مسجد نہیں ہے، وہاں پر ہم جمعہ کی جماعت سعودی عرب کے کونسل خانے میں پڑھتے ہیں...

اردنی سفیر کا بیان

15/06/2025

سن 1982 میں جب اسرا۔ئیل ( مرحب کے بچوں نے ) نے لبنان پر حملہ کیا تو اُس وقت عراق اور ایران کی جنگ بھی جاری تھی اور لبنان ایران کا اتحادی تھا تو صدام حکومت نے ایران حکومت کو یہ پیغام جاری کیا کہ ہم جنگ بندی کر لیتے ہیں اور آپ کو مرحب کے بچوں سے لڑنے کے لیے عراق سے گزر جانے کو رستہ بھی دیں گے لیکن خمینی نے اپنے ایک خطبے میں کہا کہ لبنان ہمارا حصہ تو ہے لیکن ہمیں اُسے بچانے سے پہلے عراق کو صدام حسین اور اُس کی سیکولر بعث پارٹی سے بچانا ہوگا اِس لیے ہم اپنے وسائل کو غلط لڑائی میں نہیں لگا سکتے اور القدس فتح کرنے سے پہلے ہمیں بغداد فتح کرنا ہے، ہمیں اپنی ترجیحات کو گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی ہماری بڑی ترجیح صدام سے لڑنا ہے قابض ریاست سے نہیں!

*اہل کوفہ  و مرحب کے بچوں  کی جنگ: ایک باطل کی دوسرے باطل سے پنجہ آزمائی!!*✍🏽شیخ معاویہ اعوان جب باطل ، باطل سے نبردآزما...
14/06/2025

*اہل کوفہ و مرحب کے بچوں کی جنگ: ایک باطل کی دوسرے باطل سے پنجہ آزمائی!!*

✍🏽شیخ معاویہ اعوان

جب باطل ، باطل سے نبردآزما ہو ، اور طاغوت ، طاغوت سے متصادم ہو ، تو اہلِ حق کے لیے خاموش تماشائی بن جانا شرعی بصیرت و ایمانی غیرت کے منافی ہے۔ ایسے پرآشوب لمحوں میں ان پر یہ فرضِ منصبی عائد ہوتا ہے کہ وہ حق و باطل کے مابین فرق و امتیاز کی صیقل شمشیر بن کر سامنے آئیں ، اور حقائق کو مغالطہ انگیزی کی گرد سے پاک کریں۔

موجودہ ایّام میں کوفی و مرحب کے بچے کی خونی کشمکش کا شور و شر ، درحقیقت اہلِ سنتِ حقہ کے اذہان میں فکری التباس اور عقیدتی آزمائش پیدا کرنے کی ایک منظم چال ہے۔ ایران جو سرزمینِ جغرافیہ سے زیادہ باطنِ رفض و ضلالت کا نمائندہ ہے ، صرف ایک ریاست نہیں ، بلکہ سبّ صحابہ کرام علیہم الرضوان ، طعن بر امہات المؤمنین رضی ﷲ عنہن ، اور ولایتِ فقیہ کے فاسد نظریات کا ایک مہلک مرکب ہے ایک ایسا مکتبِ باطل جس نے عداوتِ صحابہ کو اپنی دینی اساس اور انقلابی میراث کا جزوِ لاینفک بنا دیا ہے۔

یہی مجوسیت میں رچی بسی راف ضی مملکت ایران وہ خبیث و دجال صفت قوت ہے ، جس نے شام کی سرزمین کو خونِ اہلِ سنت کے دریاؤں سے سیراب کیا ، دمشق ، حلب اور حمص کے مینارِ توحید کو ویرانوں میں بدل دیا ، اور زینبی شعار کے جعلی عنوان کے تحت معصوم بچوں کی گردنیں تن سے جدا کروا کر کربلا کے نام پر سفّاکی کی نئی تاریخ رقم کی۔ یہی وہ باطن پرست حکومتِ شر ہے ، جو یمن کی وادیوں میں حوثی باغیوں کی پشت پناہی کرکے ، اہلِ سنت کے خلاف خنجر بردار ہوگئی ، اور توحید پرست قبیلوں کی لاشوں پر اپنی امامتِ مجروح کی بنیادیں استوار کرتی رہی۔ یہی وہ ملعون نظامِ ولایت ہے ، جس نے لبنان کے مظلوم سنی عوام پر "حزبُ الشیطان" کے نیزے آزمائے ، اور فاطمی ، زینبی اور مہدی کے نام پر تکفیر ، تشیع اور تعذیب کا خونی رقص رچایا۔

اور نہایت افسوس و اضطراب کا مقام ہے کہ آج چند سیاسی رومانیت کے اسیر جذباتی مسلمان ، فقط "یہود و نصاریٰ کی مخالفت" کے اندھے زاویے سے ، اس ایرانِ ( کوفی ) شر پرستی کو باطل کے مقابل ایک مزاحمتی قوت سمجھ کر اس کی تمجید و تحسین میں رطب اللسان ہیں حالانکہ وہ بھول چکے ہیں کہ باطل جب باطل سے ٹکراتا ہے ، تو اس میں حق کی حمایت نہیں ، بلکہ فتنوں کی فصل بوئی جاتی ہے۔

کیا وہ نادان بھول بیٹھے ہیں کہ وہی ملکِ مجوسیہ ، ایران جس نے ابوبکرِ صدیق و فاروقِ اعظم رضی ﷲ عنہما جیسی جلیل القدر ہستیوں پر کھلے عام سبّ و شتم کے زہرآلود تیر اپنے سرکاری منابر و ذرائع ابلاغ سے برسائے ، اور ان مقدس نفوس کو خلافتِ راشدہ کے مینار سے گرا کر اپنی ولایتِ باطلہ کی بنیادیں استوار کیں وہ ہمارے ایمان کے قلعے پر پہلا زہریلا وار ہے ، وہ ہماری عقیدت کا بدترین دشمن اور اسلامِ خالص کے خلاف ایک فکری یلغار ہے۔

کیا وہ خوابِ غفلت میں مدہوش اذہان اس حقیقت سے غافل ہوچکے ہیں کہ اسی ایران نے زینبی ، آمری اور فاطمی نعرہ ہائے شر کے پردے میں دمشق و حمص کے طاہر و معصوم سنی نوجوانوں کو قبروں میں اتارا ، اور ان کی لاشوں کو ولایتِ فقیہ کے بھاری پتھروں تلے دفن کیا؟ کیا یہ وہی رافضی فکر نہیں جو اہلِ سنت کی غیرت ، حمیت اور ایمان کے قلادے کو کاٹنے پر تُلی ہوئی ہے؟

یاد رکھئے! صہیونی مرحب کے بچوں کی ریاستِ اپنی تمام تر سفاکی و ظلم کے باوجود ایک کفریہ وجود ہے ، جس کا انکار و انحراف اہلِ ایمان پر بدیہی و واجب ہے ، مگر مجوسی العقیدہ ایران ( کوفی ) اس سے کہیں زیادہ مکار ، ملبّس اور منافق ریاست ہے ، جو "تحریرِ قدس" کے فریب کار نعرے تلے کربلا ، فلوجہ ، حلب ، حمص اور صنعا کی سنی بستیوں کو خونِ مظلوم سے لالہ زار بنا چکا ہے۔یہ معرکہ ، حق و باطل کا معرکہ نہیں بلکہ باطل کے دو زہریلے اور متصادم رُخوں کی باہمی کشمکش ہے ، جہاں کسی ایک فریق کی حمایت درحقیقت دوسرے باطل کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کا راستہ ، نہ تلبیسِ راف ضیت ہے نہ استکبارِ صہیونیت ، بلکہ حق کی پہچان ، براءت کی جرات ، اور فکری و عملی انحراف سے اجتناب ہے۔

یہ وہ گھڑی ہے جب علمبردارانِ منہجِ صحابہؓ کو جرأتِ اظہار ، صداقتِ کلمہ ، اور حزم و بصیرت کے ساتھ امت کو فکری التباسات و اعتقادی مغالطات سے نکالنے کا فریضہ بحسنِ و خوبی انجام دینا چاہیے۔ بیشک مجوسی افکار کا حامل ایران صہیونی ریاستِ اس رائیل ( مرحب کے بچے ) کا معاند و معارض سہی ، لیکن اہلِ سنت والجماعت کے لیے وہ بدترین معاند ، غدارِ عقیدہ ، اور دشمنِ ولایتِ صحابہؓ بھی ہے ، اور یہی حقیقت ہمارے فکری و ایمانی تناظر کا بنیادی نکتہ ہے۔

*ایران کہ اصلیت*1979 میں ایران میں  خمینی کی قیادت میں بادشاہت ختم کر کے راف ضی انقلاب لایا گیا۔ اس انقلاب نے پورے مشرقِ...
14/06/2025

*ایران کہ اصلیت*

1979 میں ایران میں خمینی کی قیادت میں بادشاہت ختم کر کے راف ضی انقلاب لایا گیا۔ اس انقلاب نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایک اسلامی بیداری ہے، مگر جلد ہی اس کے اثرات اور عزائم واضح ہونے لگے۔

1982 میں ایران نے لبنان میں حزب اللہ کے ذریعے مداخلت کی۔ اس مداخلت کے نتیجے میں آج تک لبنان کی خودمختاری بری طرح متاثر ہے، حکومت کمزور ہے اور ایک مسلسل سیاسی و معاشی بحران جاری ہے۔

1983 میں ایران نے عراق میں فرقہ وارانہ مداخلت شروع کی، جس سے شیعہ سنی تقسیم مزید گہری ہوئی۔ ایران کی مدد سے قائم ملیشیاؤں نے ہزاروں سنی مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ آج عراق داخلی انتشار، فرقہ واریت اور ایرانی اثر و رسوخ کا گڑھ بنا ہوا ہے۔

2011 میں شام میں خانہ جنگی کے دوران ایران نے بشار الاسد کی حمایت میں مداخلت کی۔ ایرانی ملیشیائیں، پاسدارانِ انقلاب اور حزب اللہ کی شمولیت سے لاکھوں سنی مسلمان شہید یا بے گھر ہوئے۔ آج شام ایک تباہ حال ملک ہے، جہاں ایران کا اثر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

2014 میں یمن میں ایران نے حوثی باغیوں کی حمایت کی۔ اس کے نتیجے میں خانہ جنگی شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے۔ یمن انسانی بحران کا شکار ہے، ہزاروں بچے بھوک سے مر چکے ہیں۔

2006 سے 2020 کے درمیان بحرین، کویت اور سعودی عرب میں ایران کی خفیہ مداخلت اور بغاوتوں کی کوششیں منظر عام پر آئیں۔ ان میں گرفتار افراد نے ایرانی حمایت کا اعتراف کیا۔ ان ممالک میں ایرانی اثر کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے۔

2011 میں لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت شروع ہوئی۔ اگرچہ ایران براہ راست فریق نہ تھا، مگر کئی خفیہ چینلز اور انقلابی میڈیا کے ذریعے ایرانی حمایت واضح تھی۔ قذافی کی ہلاکت کے بعد بعض اطلاعات کے مطابق ایران نواز حلقوں نے جشن منایا، اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ آج لیبیا خانہ جنگی، بیرونی مداخلت اور بدترین انتشار کا شکار ہے۔

2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے پر بھی ایران نواز عناصر نے جشن منایا تھا۔ عراق کی گلیوں میں مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ اس کے بعد ایران نے وہاں اپنے اثر و رسوخ کو اس قدر بڑھا لیا کہ آج عراقی پالیسی تقریباً تہران کے زیرِ اثر ہے۔

1987 میں ایران نے سعودی عرب میں حج کے دوران ہنگامہ آرائی کی، جس میں 400 سے زائد حجاج جاں بحق ہوئے۔ ایران نے اسے مذہبی احتجاج کہا، مگر عالمی سطح پر اسے انتہائی غیرذمہ دارانہ قدم سمجھا گیا۔

پاکستان میں بھی ایران کی مداخلت کے شواہد موجود ہیں۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کی پشت پناہی، اسلحے کی اسمگلنگ، اور مذہبی مقاصد کے نام پر پراکسی جنگ جیسے واقعات ماضی میں ریکارڈ پر آ چکے ہیں۔ نتیجتاً پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی اور ہزاروں جانیں گئیں۔

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے — کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟ یا یہ حقیقت ہے کہ جہاں ایران جاتا ہے، وہاں تباہی اور فرقہ واریت اپنے ساتھ لاتا ہے؟ کیا ایران واقعی اسلامی دنیا کی قیادت کے لائق ہے، یا وہ صرف اپنے جغرافیائی و فرقہ وارانہ ایجنڈے کے لیے کام کر رہا ہے؟

وہ ایران جس نے بیت اللہ پر بھی سیاسی عزائم کی لپیٹ میں چڑھائی کی، وہ ایران جس نے صدام اور قذافی کی موت پر جشن منایا، کیا وہ واقعی ہمارا خیرخواہ ہو سکتا ہے؟ کیا وہ ہمارے دلوں میں اسلامی ہیرو کا مقام پا سکتا ہے؟

کیا یہ وہی ایران نہیں جس نے شام میں مسلمانوں کا خون بہایا؟ کیا یہ وہی ایران نہیں جس نے یمن کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیا؟ کیا یہ وہی ایران نہیں جس کی پشت پناہی سے عراق میں ہزاروں بے گناہ مارے گئے؟ کیا یہی وہ ایران نہیں جس نے لیبیا میں معمر قذافی کی موت پر مٹھائیاں تقسیم کیں؟ کیا یہ وہی ایران نہیں جو حج جیسے مقدس موقع پر بھی فساد برپا کرنے سے باز نہ آیا؟

13/06/2025

بریکنگ نیوز 🚨🚨
آج ایرانی ڈائریکٹ اللّہ سے مدد مانگ رہے ہیں

🇮🇷 *ایران میں ہلاک ہونے والے افراد (ذرائع کے مطابق):*1. جنرل حسین سلامی – پاسداران انقلاب (IRGC) کا سربراہ، حملے میں مار...
13/06/2025

🇮🇷 *ایران میں ہلاک ہونے والے افراد (ذرائع کے مطابق):*

1. جنرل حسین سلامی – پاسداران انقلاب (IRGC) کا سربراہ، حملے میں مارا گیا۔

2. جنرل محمد باقری – ایرانی مسلح افواج کا چیف آف اسٹاف، ہلاک۔

3. غلام علی راشد – خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ کا کمانڈر، ہلاک۔

4. علی شمخانی – ملا خامنئی کا مشیر، پہلے شدید زخمی ہوئا، بعد میں مردار ہوا۔

5. ایٹمی سائنسدان:

فریدون عباسی دوانی

محمد مهدی طهرانچی
(دونوں سائنسدان اسرائیلی حملے میں مارے گئے)

6. عام شہری – تہران اور دیگر شہروں میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 50 سے زائد زخمی ہیں۔

13/06/2025

ایران کو چاہیے کہ وہ مسلم دنیا میں تخریبی کردار ادا کرنے والے زینبیون، فاطمیون اور دیگر مسلح گروہوں کو فوراً واپس بلائے۔ اس وقت سب سے بڑی ضرورت اپنے ملک کے دفاع اور سالمیت کی ہے، نہ کہ دوسروں کی زمینوں پر فساد برپا کرنے کی۔

Address

H. Safa
Jeddah
22233

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when رد ناصبیت رافضیت و ملحدین posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share