22/09/2024
☆ایک بزرگ تھے، ان کا نام آغا تجمل حسینؒ تھا -
ان کے پاس ایک نوجوان مریدا ہوا -
: اس نے بابا جی سے کہا کہ دعا کریں مجھے کوئی مرتبہ مل جائے -
بابا جی نے کہا کیا چاہیے؟
:: انہوں نے کہا "گورنر" بن جاؤں -
تو وہ جوان کچھ عرصے بعد، Due course میں گورنر بن گیا، یعنی ”” سردار عبدالرب نشتر - ““
::: پھر ایک دن وہ ”گورنری ملنے کے بعد“ اپنے بزرگ کے پاس گئے! کہنے لگے کہ ”سکون نہیں ہے - “
تو بابا جی ہنسے ، پھر قہقہ لگایا اور کہا " بات سن"
تو نے ”” سکون مانگا ہی کب تھا - ““
" تو نے بادشاہی مانگی تھی ، سکون تو تو اب مانگ رہا ہے ، ادھر بادشاہی میں تجھے کیا سکون ملے گا "
“ اللہ سے تم ”دنیا مانگتے“ ہو تو تم خود ہی دیکھو کہ
تم کیا مانگتے ہو یعنی یہ کہ
" اے اللہ اپنے علاوہ باقی سب کچھ دے دے "
جب تم اللہ سے اللہ مانگو گے تو پھر تمہیں باقی کی ”پسندیدگیاں ترک“ کرنی پڑیں گی -
: وہ آدمی جو اللہ کے " علاوہ کی تلاش " کرتا ہے کہ
میں اللہ سے اللہ مانگوں گا تو پھر وہ "جھوٹ" بولتا ہے اس لیے
تیرے سوا کروں پسند کیا تیری کائنات میں
دونوں جہاں کی نعمتیں قیمت بندگی نہیں
بات اتنی ساری ہے کہ
پھر دونوں جہاں کی نعمتیں کس بات کی -
آپ تھوڑی دیر کے لئے یہ کہہ کر دیکھیں کہ
اے اللہ ہم تم سے بات چاہتے ہیں ، ہم تم سے کلام چاہتے ہیں چاہے دنیا جہان کی نعمتیں مجھ سے چھن جائیں تو بھی میرا گلہ نہ ہو گا -
تو کم لوگ ہیں ایسا کرنے والے، اس کی راہ میں شہید ہونے والے اور اس کی راہ میں جان دینے والے بہت کم لوگ ہوں گے -
:: پھر اللہ سے کمیونیکیشن، گفتگو اور مشاہدہ ان کو نصیب ہوتا ہے ““
جیسے جنگ کے دوران او ___ پی ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ
یہاں فائر کرو، وہاں فائر کرو،
:: اسی طرح اللہ تعالی کو تم کہتے ہو کہ اس طرح کر، یہاں جلوہ دے دے، یہاں دشمن کو غرق کر دے، یہاں ان سے مال چھین لے، یہاں ہمیں دے دے -
_______ اس طرح تو نہیں چلتا - ________
وہ اللہ ہے اور تم جیسے بندے وہ بناتا ہے وہ کیسے چلے گا تمہارے کہنے پر -
وہ اللہ آپ ہی اللہ ہے -
: اس لیے آپ ہی اللہ کے کہنے پر چلو اور اسے کہنے پر نہ چلاؤ ____
:: دیدار کا مقام یہ ہے کہ
جب تک نگاہوں سے ”غیر اللہ نہ نکلے تو پھر اللہ کا مشاہدہ کیسے ہو ___؟ “
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
گفتگو 10______صفحہ نمبر 29____30