Sultan ul Faqar

Directions

Sultan ul Faqar Sultan ul Faqar is the best way to giving islamic knowledge of his followers.

17/03/2026

اگر ہم پرسکون رہنا چاہتے ہیں، تو ہمیں زندگی سے وہ مطالبات کرنا چھوڑنے ہوں گے جو وہ ہمیں دینے کی استطاعت نہیں رکھتی۔

_

16/03/2026

Laila tu qadar ki raat

15/03/2026

Hazoor meri to sari bahar apse ha

13/03/2026

sab bolyn ameen

12/03/2026

رمضان میں الله کے گھر کا منظر Sultan ul Faqar

12/03/2026

میں صدقے یا رسولﷺ

12/03/2026
03/03/2026

💚
*انسان کے سینہ کا مقام لوحِ محفوظ اور طُورِ سینا کی مانند ہے ۔ سینہ مکدّر ہے۔ جب تک کدورت سے کلیتاً پاک نہیں ہوتا ، اپنے مقام کو نہیں پا سکتا ۔*
*طُورِ سِینا پر نُور کی جو جھلک حضرت سیّدنا موسیٰ کلیم اللّه علیہ السلام نے دیکھی ، وہی نُور کی جھلک اللّٰه کے مقبول بندوں پہ بھی ظاہر ہو سکتی ہے اور ہُوا کرتی ہے ۔*

*حضرت بُو علی شاہ قلندر پانی پتی جب تمام علائق سے منقطع ہوئے ، محوِ حق ہوئے۔ وجدانی عالم میں فرماتے۔ نُور کی ایک تجلی طور پر پڑی ۔ طُور جل گیا حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے ۔ ایسی تجلّی روز میرے دل پر وارد ہوتی ہے ۔*

*ف :- یہ حضورِ اقدس صَلِّ اللّٰهُ عَلَی٘هِ وَآلِهٖ وَسَلِّم کی اُمّت کی شان کا شَرف و برکت ہے ، طُور جَل کر کوئلہ نہیں بنا ، کاجل بنا ۔*
💚

🌹 _*یَا حَیَّیُ یَا قَیُّوم*_ 🌹

08/11/2025

ایک دفعہ ایک گدھ اور ایک شاہین بلند پرواز ہو گئے۔بلندی پر ہوا میں تیرنے لگ گئے۔وہ دونوں ایک جیسےہی نظر آ رہے تھے۔ اپنی بلندیوں پر مست، زمین سے بے نیاز،آسمان سے بے خبر، بس مصروفِ پرواز۔

دیکھنے والے بڑے حیران ہوۓ کہ یہ دونوں ہم فطرت نہیں ہیں، ہم پرواز کیسے ہو گئے؟ شاہین نے گدھ سے کہا “ دیکھو اس دنیا میں ذوقِ پرواز کے علاوہ اور کوئی بات قابلِ غور نہیں۔” گدھ نے بھی تکلفاً کہہ دیا” ہاں مجھے بھی پرواز عزیز ہے، میرے پَر بھی مجھے بلند پروازی کے لیے ملے۔”

لیکن کچھ ہی لمحوں بعد گدھ نے نیچے دیکھا۔ اُسے دور سے ایک مرا ہوا گھوڑا نظر آیا۔ اس نے شاہین سے کہا “ جہنم میں گئی تمہاری بلند پروازی اور بلند نگاہی، مجھے میری منزل پکار رہی ہے۔”
اتنا کہہ کر گدھ نے ایک لمبا غوطہ لگایا اور اپنی منزلِ مُردار پر آ گرا۔ فطرت الگ الگ تھی، منزل الگ الگ رہی۔ہم سفر آدمی اگر ہم فطرت نہ ہو تو ساتھ کبھی منزل تک نہیں پہنچتا۔

انسانوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ معلوم کرنا مشکل نہیں ہو گا کہ فطرت اپنا اظہار کرتی رہتی ہے۔ جو کمینہ ہے وہ کمینہ ہی ہےخواہ وہ کسی مقام و مرتبہ میں ہو۔ میاں محمد صاحب رح کا ایک مشہور شعر ہے کہ

نیچاں دی اشنائی کولوں کسے نئیں پھل پایا
ککر تے انگور چڑھایا ، ہر گچھا زخمایا

( کمینے انسان کی دوستی کبھی کوئی پھل نہیں دیتی جس طرح کیکر پر انگور کی بیل چڑھانے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ہر گچھا زخمی ہو جاتا ہے۔)

۔۔۔۔۔حضرت واصف علی واصف رح

(کتاب :۔ حرف حرف حقیقت)

Address

Al Nawariyah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sultan ul Faqar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share