انجمن فیضان مصطفےٰﷺ بڑاپنڈ ظفروال

انجمن فیضان مصطفےٰﷺ  بڑاپنڈ  ظفروال تاجدار ختم نبوت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ باد

قربان، كفِ پاۓ محمدؐ پہ مری جان وہ جس نے کِیا خاکِ شفا ،خاکِ عرب کونعمان شفیق
16/09/2024

قربان، كفِ پاۓ محمدؐ پہ مری جان
وہ جس نے کِیا خاکِ شفا ،خاکِ عرب کو

نعمان شفیق

07/07/2024

وہ بھی ایک دور تھا 🥀
1990 تک کی ذاتی مشاہدہ کی تاریخ میں ہم اور ہمارے بزرگ اور آس پاس کے لوگ دوری میں اس طرح چٹنی بنا کے تندوری کی روٹی کھا لیا کرتے تھے۔ یہ چٹنی بنانے کے لئے دھنیا، پودینہ، کیچ میچ کے پتے، سبز مرچ، نمک، انگور کی بیل کے نرم کولے پتے وغیرہ زیادہ تر استعمال ہوتے تھے ۔۔ ٹماٹر کا استعمال بہت کم ہوتا تھا۔

یہ بھی دیکھا کہ لوگ پورے پیاز کو چارپائی کے پاوے پہ رکھ کے اوپر سے مکا مار کے توڑتے اور اس کے ساتھ تندور کی روٹی کھا لیتے تھے ۔۔۔ اگر سبزیوں میں کوئی چیز موجود نہ ہوتی تو اچار یا گڑ کے ساتھ روٹی کھا لیتے۔ سالن زیادہ تر تب ہی بنتا تھا جب مقامی گاؤں میں سبزی اُگنا شروع ہوجاتی تھی ۔۔۔ دکانوں پہ سبزی دستیاب نہیں ہوتی تھی ۔۔۔
ہمارے گاؤں کے دو ویہڑے (محلے) تھے ۔۔۔ ہیٹھلا ویہڑا اور اُتلا ویہڑہ ۔۔۔

دونوں محلوں میں کل ملا کے دو دکانیں تھیں ۔۔۔ جہاں سے گڑ، چینی دالیں وغیرہ دستیاب ہوتی تھیں ۔۔۔

گوشت تب ملتا تھا جب کسی کا جانور حلال ہوتا تھا ۔۔۔ جانور تب حلال ہوتا تھا جب وہ بیمار ہوتا تھا ۔۔۔ ورنہ گاؤں میں شادی اور عید پہ گوشت ملتا تھا ۔۔۔ یا پھر کسی مہمان کے آنے پر میزبان مسجد کے امام سے چوچا ذبح کروا لاتے تھے اور وہ پکایا جاتا تھا۔

توے پہ روٹی بہت کم بنتی تھی، ہر گھر کا طرزِ رہائش ایک طرح کا ہی ہوتا تھا ۔۔۔ حتہٰ کہ گھروں کی بناوٹ بھی ایک طرح کی ہوتی تھی ۔۔۔
کچے کھوٹے کچی چاردیواریاں یا پھر سوکھی جھاڑیوں کی باڑ ۔۔۔

مزے کی بات یہ ہے کہ تب لوگ آج کے لوگوں سے زیادہ خوش ہوتے تھے ۔۔۔ فکر معاش کا مسئلہ نہ تھا ۔۔۔ تمام گاؤں کو کھانا مل جاتا تھا ۔۔۔ چاہے جیسے بھی ۔۔۔ گاؤں میں فقیر نہیں ہوتے تھے بلکہ مدرسے کے بچے صرف شام کو روٹی مانگنے آتے تھے ۔۔۔

ہم خود ۔۔۔ اچھو، اکرو، عیسیٰ موسیٰ عطاء اللہ، تابو، شوکو، لیاقو، باؤ ۔۔۔ جھاؤ، ظلو ۔۔۔ تاری بشیرو ۔۔۔ اور نہ جانے کتنے ۔۔۔ تھے ۔۔۔
دوپہر کو کسی بیر، جامن، امردو، آم شہتوت کے درخت پہ حملہ آور ہوتے اور پیٹ بھر کے فروٹ کھا لیتے ۔۔۔ گنے توڑ کر کھا لیتے، مالٹے کھا لیتے، یہاں تک کہ کیکروں سے نکلنے والی گوند کھاتے تھے ۔۔۔ کچی سبزیاں کھاتے ۔۔۔ چھلیاں بھون کے کھا جاتے ۔۔۔

لیکن کھانا زیادہ تر صرف دو وقت ملتا تھا ۔۔۔ بھتے ویلے یعنی دس گیارہ بجے یا پھر شام ڈھلے ۔۔۔ اندھیرا ہونے سے پہلے ۔۔۔

لیکن آج کا وقت بہت بدل گیا ہے ۔۔۔ ہمارا بچپن تاریخ کے اوراق میں کہیں دب گیا ہے ۔۔۔
کبھی کبھار کوئی اس طرح کی تصویر نظر آتی ہے تو وہی دور دوبارہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے
بقول پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ عطاء کے
رام دیالا تیرے پچھوں ۔۔۔
اچے اچے چن چبارے
اچیاں اچیاں مڑھیاں
ون پونے ککر کنڈے
ولیں کدھیں چڑھیاں
چڑھیا جیٹھ تے کچڑے کوٹھے
چا چدھرانی لِمے
گجے بدل سون تے بھدرو
ویہڑے نمے نمے
اک سمندر منجیاں کنکاں
وا وگے تے ڈولے
دنداں ہیٹھ خدائ شربت
گنے پولے پولے
ٹوٹے ہویا دیس غضب دا
خلقاں اگیں سڑیاں
تیرے پچھوں رام دیالا

سامیہ نعمت Mian Zahid Hussain

زردار نمازی عید کے دن کپڑوں میں چمکتے جاتے ہیںنادار مسلماں مسجد میں جاتے بھی ہوئی شرماتے ہیںملبوس پریشاں دل غمگیں افلاس ...
18/06/2024

زردار نمازی عید کے دن کپڑوں میں چمکتے جاتے ہیں
نادار مسلماں مسجد میں جاتے بھی ہوئی شرماتے ہیں

ملبوس پریشاں دل غمگیں افلاس کے نشتر کھاتے ہیں
مسجد کے فرشتے انساں کو انسان سے کمتر پاتے ہیں

قرآں سے دھواں سا اٹھتا ہے ایمان کا سر جھک جاتا ہے
تسبیح سے اٹھتے ہیں شعلے سجدوں کو پسینہ آتا ہے

وہ واسطہ جس کو فاقوں روزے روزے بے بیچارہ کیا رکھے
دن دیکھ چکا شب دیکھ چکا قسمت کا سہارا کیا رکھے

خالی ہوں لہو سے جس کی رگیں وہ دل کا شرارہ کیا رکھے
ایمان کی لذت دیں کا بھرم افلاس کا مارا کیا رکھے

تاریک دکھائی دیتی ہے دنیا یہ مہ و خورشید اسے
روزی کا سہارا ہو جس دن وہ روز ہے روز عید اسے

اک مادر مفلس عید کے دن بچوں کو لئے بہلاتی ہے
سر ان کا کبھی سہلاتی ہے نرمی سے کبھی سمجھاتی ہے

قسمت پہ کبھی جھنجھلاتی ہے جینے سے کبھی تنگ آتی ہے
زردار پڑوسن خوش ہو کر سب دیکھتی ہے اور کھاتی ہے

پیسے کا پجاری دنیاں میں سچ پوچھو تو انساں ہو نہ سکا
دولت کبھی ایماں لا نہ سکی سرمایہ مسلماں ہو نہ سکا

نوخیز دلہن اور عید کا دن کپڑوں سے نمایاں بد حالی
کمہلائے ہوئے سے غنچے تر مرجھائی ہوئی سی ہریالی

سوکھا ہوا چہرہ غربت سے اتری ہوئی ہونٹوں کی لالی
مایوس نظر ٹوٹا ہوا دل اور ہاتھ بھی پیسے سے خالی

شوہر کی نظر حسرت سے بھری اٹھتی ہے تو خود جھک جاتی ہے
احساس محبت کی دنیاں اس منظر سے تھراتی ہے

خوں چوس رہا ہے پودوں کا اک پھول جو خنداں ہوتا ہے
پامال بنا کر سبزوں کو اک سرو خراما ہوتا ہے

چربی مل کر انسانوں کی اک چہرہ درخشاں ہوتا ہے
یہ عید کے جلوے بنتے ہیں جب خون غریباں ہوتا ہے

مفلس کی جوانی عید کے دن جب صبح سے آہیں بھرتی ہے
دنیا یہ امیروں کی دنیا تب عید کی خوشیاں کرتی ہے

نشور واحدی

چُھری ناں پھیری نفساں تے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنبے کیتی جاندے او
18/06/2024

چُھری ناں پھیری نفساں تے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنبے کیتی جاندے او

    کسی بھی حلقہ کے نمائندہ کا کام ہوتا ہے انصاف دلوانا کیا لوگوں کو  گلیاں نالیوں کے علاوہ بھی کچھ نظر آرہا ہے کسان کی ...
29/04/2024

کسی بھی حلقہ کے نمائندہ کا کام ہوتا ہے انصاف دلوانا کیا لوگوں کو گلیاں نالیوں کے علاوہ بھی کچھ نظر آرہا ہے کسان کی گندم کا انصاف کون دلوائے گا کس نے دلوانا ہے انصاف کون ریٹ صحیح لے کر دے گا کون ہے وہ نمائندہ جو کسانوں کو انصاف دلوائے گا ؟
جب فصل تیار ہو گئی ہے سب کو سستی گندم والا کیڑا جاگ گیا ہے اس وقت کہاں تھے جب یوریا 5000 کی گوارا 4500 اور ڈی اے پی 15000 کی کسانوں کو دی جا رہی تھی۔ کیڑا صرف امرود میں نہیں ہوتا وہ لوگ بھی گندم کا ریٹ بناتے پھر رہے ہیں جن کو یہ نہیں پتا کہ گندم کا پودا ہوتا ہے یا درخت؟
میاں زاہد حسین Mian Zahid Hussain
Mian Zahid Hussain

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ہمارادور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھی خبر یہ ہے کہ فیس بک پر بھی AI ( آرٹفیشل انٹیلیجنس) ن...
23/04/2024

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ہمارادور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھی خبر یہ ہے کہ فیس بک پر بھی AI ( آرٹفیشل انٹیلیجنس) نے قدم رنجہ فرما دیا اور ساتھ ہی دوسری سوشل ایپس پر بھی ۔۔ AI کے آنے سے گرافک ڈیزائنر ، آرٹسٹ ، فوٹوگرافرز ، انگریزی کانٹینٹ رائٹر کا مستبقل اور روزی روٹی تقریباً ختم ہونے کو ہے ۔ اب گرافک ڈیزائننگ کے کورس کرانے والوں کا بھی کام اور ضرورت ختم ہوگئی ۔ کیونکہ اب لوگ پیسے دیے کر کسی سے logos اور مونو گرام بنوانے کی بجائے AI سے کہیں بہترین بنوا لیتے ہیں ۔ اس لیے اب کورسز پر وقت اور پیسہ ضائع مت کیجیے گا کہ اب اس کا دور ختم ہوا ۔
اب سب کچھ آپ کی ایک ہدایت پر آپ کو مہیا کیا جائے گا ۔ جتنی آپ واضح ہدایات یعنی prompts اپنی AI کو دیں گے وہ اتنے ہی خوبصورت گرافکس ، تصاویر اور معلومات چند سیکنڈ میں آپ تک پہنچائے گی ۔

بری خبر یہ بھی ہے کہ اب انگریزی فری لانسرز اور کانٹینٹ ڈیولپرز کا دور بھی اختتام کو پہنچا ۔ اور اچھی خبر یہ ہے کہ اردو کانٹینٹ رائٹر کو AI نقصان نہیں پہنچا سکی کیونکہ اس tool کو اردو پر عبور نہیں ۔ وہ ایک روکھا پھیکا ، بدمزہ اور روبوٹک پیراگراف تو آپ کو لکھ دے گی لیکن پڑھنے والے کو فورا پتا چل جائے گا کہ یہ AI سے جینریٹ کیا گیا ہے ۔ یہ انگریزی سے اردو ترجمہ بھی بہت ہی بے ڈھنگا اور مضحکہ خیز کرتی ہے ، فی الحال اردو فری لانسرز کا کام چلتا رہے گا ۔
فیس بک اور واٹس ایپ پہ AI کا مثبت اور درست استعمال سیکھیے ، یہ ایک ایسا خزانہ آپ کے ہاتھ لگا ہے جو آپ کی زندگی تبدیل کرسکتا ہے ۔ اس سے فضول سوالات پوچھنے کی بجائے معلومات اکٹھی کریں ۔ کوڈنگ سیکھیں ۔ زندگی کے ہر معاملے میں ٹپس لیں ، اپنی پسند کی ریلز دیکھیں ، بیماری کی معلومات لیں ، گفتگو کا ہنر سیکھیں ، سوالات کریں , گرافکس بنوائیں ۔۔۔

فیس بک پر جو سرچ آپشن ہے وہاں گول نیلا دائرہ Meta AI ہے ، اگر آپ کی فیس بک پر موجود نہیں تو پلے سٹور پر جا کر فیس بک اپ ڈیٹ کرلیں یا انتظار کرلیں ۔ وہاں آپ جو کچھ لکھ کر سینڈ کا بٹن دبائیں گے اس کا جواب آپ کو فورا انباکس میں مل جائے گا ۔ آپ انباکس میں ہی اس سے مزید معلومات لے سکتے ہیں ۔
چیٹ جی بی ٹی اور Meta AI سے ٹیچرز کا کام بھی آسان ہوگیا ہے ، لیکچرز تیار کیے جاسکتے ہیں ، ریسرچ ورک ، leason plan وغیرہ ، لیکن طلبا کو یہی کہوں گا اس کی مدد ضرور لیں ، معلومات اکٹھی کریں لیکن اس پر مکمل انحصار مت کریں ۔ بڑے کالجز اور یونیورسٹیز نے اب اس کا توڑ AI detector سے ڈھونڈ رکھا ہے ، پوری اسائنمٹ پتا چل جاتی ہے کہ جینریٹڈ ہے ۔ اپنے علم میں اضافہ کریں چھاپہ خانہ مت بنیں ۔
اور ایک بات اور۔۔۔ آن لائن کوسزز سے بچ کے رہیں ۔ کوئی اللہ کا بندہ AI کورس کا چورن بھی بیچنا شروع کر دے گا ۔ آپ نے اس جھانسے میں نہیں آنا ، یو ٹیوب پت AI کی ویڈیوز موجود ہیں ، ہر کورس موجود ہے ۔ وہاں سے ایک گھنٹے میں سیکھ لیجیے۔

آپ کو اندازہ بھی نہیںAI صرف ایک tool نہیں ، بہت بڑا انقلاب ہے ۔۔۔۔ جو آنے والے چند سالوں میں سارا منظر نامہ تبدیل کردے گا ۔ اس سے کام لیجیے ۔

در سے آپ کے وابستگی دونوں جہاں کی بہترینسبت آپکی یا مصطفٰی ﷺ ایمان کی پہچان ہے💞 صلى اللّه عليه وآله وبارك وسلّم 💞     ّد...
23/03/2024

در سے آپ کے وابستگی دونوں جہاں کی بہتری
نسبت آپکی یا مصطفٰی ﷺ ایمان کی پہچان ہے

💞 صلى اللّه عليه وآله وبارك وسلّم 💞

ّدﷺّ

‏رمضان المبارک میں اپنے دستر خوان سجاتے وقت اہل فلس@طین کی بھوک فقر بے بسی آزمائش نہ بھو لیئے گا۔اللّہ  ہمارے مظلوم بہن ...
08/03/2024

‏رمضان المبارک میں اپنے
دستر خوان سجاتے وقت
اہل فلس@طین کی بھوک فقر
بے بسی آزمائش نہ بھو لیئے گا۔
اللّہ ہمارے مظلوم بہن بھائیوں
کی مشکلات دور فرمائے
ظالموں کی پکڑ فرمائے مسلمانوں کی
غیرت کو بیدار فرمائے آمین 🤲😢

اچانک ہی سامنے آ جانے والی  گندی اور فحش مواد والی ویڈیوز  کو ہمیشہ کیلئیے اپنی پروفائل سے ہٹانے کا آسان طریقہ۔1۔۔۔اوپر ...
29/02/2024

اچانک ہی سامنے آ جانے والی گندی اور فحش مواد والی ویڈیوز کو ہمیشہ کیلئیے اپنی پروفائل سے ہٹانے کا آسان طریقہ۔

1۔۔۔اوپر دائیں کونے میں لگی تین لکیروں کو دبائیں۔
2۔۔۔ پھر settings and privacy والے بٹن کو دبائیں۔
3۔۔۔پھر settings والا بٹن دبائیں۔
4۔۔۔پھر News feed والا بٹن دبائیں۔
5۔۔۔۔پھر Reduce والا بٹن دبائیں۔
6۔۔۔۔پھر Sensitive content والا بٹن دبائیں۔
7۔۔۔۔پھر Reduce more والا بٹن دبائیں۔
آخر میں دوسرے گول دائرے کو سلیکٹ کر کے ok کر دیں۔۔۔
تمام دوستوں کو یہ معلومات بھیجیں۔ تا کہ فیس بُک پر
اچانک سامنے آنی والی غیر اخلاقی مواد سے بچا جا سکےاور ہاں یاد رہے کہ فحش ویڈیوز کی زیادتی اپ کے ذہن کو ٹریپ کرتی ہے .. میں اس بات کو ڈس ایگری کرتا ہوں ۔اور ان کا بائیکاٹ کرتا ہوں ۔

تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنے کی اشد ضرورت ہے ڈاکٹر جہاں آرا لطفی کی مدلل اور معتدل تحریرمیری ڈیزائینرز سے خصوصا" اور خوا...
28/02/2024

تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنے کی اشد ضرورت ہے

ڈاکٹر جہاں آرا لطفی کی مدلل اور معتدل تحریر

میری ڈیزائینرز سے خصوصا" اور خواتین سے عموما" یہ گزارش ہے کہ اس قسم کے پرنٹ اور ڈیزائینگ سے پرہیز کریں ۔
اس کی دو وجوہات ہیں👇
نمبر ایک قران کریم اور احادیث مبارکہ سے بالکل مکمل طور پر مشابہت رکھتی خطاطی خواہ اس میں کچھ بھی لکھا ہو ہمیں احتراما" پہننے سے گریز کرنا چاہئیے۔۔کیونکہ یہ اور ایسے رسم الخط ایجاد ہی قران کی خطاطی کے طفیل ہوئے ہیں۔۔عربی زبان میں لکھی گئی دیگر عبارات یا تحریر کا خط بالکل واضح طور پر مختلف ہوتا ہے ۔ خطاطی کا یہ انداز جان بوجھ کر فیشن ڈیزائینرز نے اپنایا ہے۔
اردن میں مقیم فیشن ڈیزائنر ھنا صادق کے گاہکوں میں اردن کی ملکہ رانیہ سے لے کر سعودی شاہی خاندان کے افراد تک شامل ہیں۔ وہ لباس کو عربی خطاطی اور نظموں سے سجانے کی بھی ماہر ہیں۔
لیکن عرب بھی اس کام کو اگر کر رہے ہیں تو وہاں کے کچھ لوگ ہی اس کو پسند کرتے ہیں زیادہ تر نہیں کرتے اور کئی جگہ ان پر پابندی بھی لگائی گئی ہے۔۔ یقینا" ایسا خاص طور پر کیا جاتا ہے۔۔۔البتہ خریدار معصومیت میں لے لیتے ہیں۔
اب تو ہمیں سمجھ لینا چاہئیے کہ خاص طور پر ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔اس کے پیچھے کیا مذموم مقاصد ہیں ۔۔ظاہر ہے خطاطی کا فروغ تو ہے نہیں !!!
البتہ ٹوپیوں اور دستاروں پر لکھوانا کافی مروجہ تھا ۔۔بلکہ ایران و دیگر کئی ممالک میں جنگوں پر جانے والوں کے کرتوں پر قرآن کی آیات لکھنا یا بنائی یا کڑھائی کے ذریعے تیار کرنا جنگ میں کامیابی کی ضمانت کے طور پر کیا جاتا تھا ۔۔جو کہ قطعی درست نہیں۔ قرآن عمل کی کتاب ہے ۔۔اس کے ساتھ یہ مذاق کے مترادف ہے۔

خواہ عرب ہوں یا عجم کے اس کا ایک تقدس ہے۔۔جب آپ اس کے عادی ہوجائیں گے تو پھر وہ جو چاہئیں لکھ دیں۔۔۔جوتوں کے تلوں میں انڈر گارمنٹس پر موزوں پر اور حتیٰ کہ بچوں کے پیمپرز تک پر اس قسم کی واضح تحریر مل چکی ہیں ۔۔قران کو جلانے کے واقعات کھلم کھلا پیش آئے ہیں۔۔۔اور غز ۔۔ہ۔۔۔کی حالیہ جن۔ گ میں ان کے عزائم بالکل واضح ہو چکے ہیں ۔۔۔اس لیے برائے مہربانی اس قسم کے فیبرک ، لباس، حجاب اسکارف کرتے وغیرہ سب سے گریز کریں۔۔

دوسری بات یہ ہے کہ👇
بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ عربی زبان میں لکھی تحریر کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔
اس لیے جو واقعہ آج اچھرہ بازار میں پیش آیا جس میں ایک خاتون ایسا ہی ڈریس پہن کر بازارمیں جارہی تھیں انہیں دیکھ کر لوگ سمجھے اس پر کوئی آیت یا حدیث لکھی ہے ۔۔تو ان کے گرد ہجوم ہو گیا بڑی مشکل سےان کی جان بچائی۔۔۔(یہ ہمارے لوگوں کی بھی کس قدرجہالت ہی ہے کہ کسی بھی بات کو سوچے سمجھے بنا ہی مشتعل ہوجاتے ہیں) پولیس نے ان کی جان بچائی۔ اس پر سخت قانون سازی کی ضرورت ہے ایسے ہی کسی کی جان لے لینا کھیل بنالیا ہے۔۔۔بہت ہی قابل مذمت رویہ ہے ۔
ویسے بھی اس پر" حلوہ" لکھا ہے ۔
عرب ہر میٹھی چیز کو حلو یاحلوہ کہتے ہیں۔۔
جس سے مراد پیاری ، میٹھی میٹھی sweet
ہے۔۔۔ویسے بھی یہ کوئی اچھا لفظ نہیں کہ ہم اسے لکھوا کر پہنیں اور بازاروں میں لوگوں کی نظروں کا مرکز بنیں ۔

آخری بات یہ کہ
میں خود اور ہم میں سے بہت سے سوشل میڈیا پر لکھنے والے یہ کہہ چکے ہیں کہ
آپ خود اپنی طرف دیکھیں ۔۔۔آپ کے ٹھیلوں دکانوں دیواروں بینروں جھنڈوں اخبارات ورسائل اور اشتہارات پر جو آیات یا احادیث آپ خود لگاتے ہیں۔
کلمے لکھتے ہیں درود لکھتے ہیں۔ پھر جب وہ پرانے ہو جاتے ہیں تو
کیسے چیتھڑے اڑتے ہیں ان کے۔۔رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں خوف سے۔۔۔
کیا اہل مغرب سے زیادہ خود اپنے دینی شعار کا مذاق نہیں اڑاتے؟؟ ۔۔کیا آپ اس کی تقدس کو پامال نہیں کرتے؟؟
کبھی اس پر بھی غور کریں اور اس کا بھی تدارک کریں۔

طالب دعا: ڈاکٹر جہاں آرا لطفی
(کاپی کریں تو نام بھی کاپی کریں)

25فروری2024بروز اتوار


Mian Zahid Hussain
Mian Zahid Hussain

پڑھیے اور جانیٸے کیسے کسی جاہل کی لگاٸی آگ اچھے خاصے مسلمان کو مارنے جلانے کا باعث بنتی ہے *The Lucifer Effect*   (رقص ا...
25/02/2024

پڑھیے اور جانیٸے کیسے کسی جاہل کی لگاٸی آگ اچھے خاصے مسلمان کو مارنے جلانے کا باعث بنتی ہے
*The Lucifer Effect*
(رقص ابلیس)
21 اپریل 1995 بروز جمعرات گیارہ بجے دن ہزاروں افراد کا ایک مشتعل ہجوم پولیس چوکی کھیالی شاہ پور گوجرانوالہ کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے چکا تھا۔پولیس چوکی میں محصور چار پولیس اہلکار ہزاروں کے اس مجمع کے سامنے بے بس نظر آرہے تھے۔مساجد سے اعلانات کا سلسلہ ابھی بھی جاری تھا اور غیرت ایمانی کو انگیخت کرتے الفاظ کا لاوا تھا کہ امڈتا ہی چلا جا رہا تھا۔عیسائی فاروق کی ایک سزا۔۔سر تن سے جدا۔۔۔۔۔۔۔سر تن سے جدا۔۔۔۔۔جم غفیر نے چوکی تک جانے والے تمام راستے مسدود کر دیئے تھے اور پولیس کی مزید نفری کا وہاں پہنچنا ناممکن ہو گیا تھا۔ہجوم چوکی انچارج سے کسی محبوس کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا تھا۔۔۔پولیس مزاحمت پر شدید خشت باری کا سلسلہ شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مشتعل ہجوم نے چوکی پر دھاوا بول دیا۔راستے میں مزاحم آہنی جنگلے اور گیٹ کو اکھاڑ پھنکتے ہوئے ایک سیلاب بلا خیزکی طرح پولیس چوکی میں داخل ہو گیا۔چوکی کی کھڑکیاں، دروازے،گاڑیوں کے شیشے الغرض راستے میں آنے والی ہر چیز ان کے قہروغضب کا نشانہ بن گئی۔۔خشت باری سے شدید زخمی پولیس اہلکار اب ہجوم کے رحم و کرم پر تھے جن پر بدترین تشددکا سلسلہ ابھی بھی جاری تھا۔۔۔اسی دوران چوکی انچارج کے عقبی کمرہ کا دروازے توڑ ڈالاگیا اور اس میں چھپایا گیا ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا ایک شخص اب ان کی گرفت میں تھا۔۔۔جونہی اس کو چوکی سے باہر نکالا گیا فضا نعروں سے گونج اٹھی۔۔پھر ہر آدمی ہتھکڑیوں میں جکڑے اس انسان پر ٹوٹ پڑا۔۔اسی دوران اینٹوں سے لدی ایک ٹرالی جو اس ہجوم میں پھنسی ہوئی تھی سے اینٹیں اٹھا کر ان جنونیوں نے سڑک کے درمیان کھڑے اس شخص پر برسانا شروع کر دیں۔۔۔ہزارون ہاتھ۔۔۔ان گنت اینٹیں۔۔۔مرنے والا اپنے ہونٹ مسلسل ہلا رہا تھا جیسے کچھ پڑھ رہا ہو۔۔۔لیکن ہجوم کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا اور اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔۔۔راہگیر۔۔۔مردوزن بچے بوڑھے ہر کوئی اس جلتی ہو لاش پر تھوک رہا تھا۔۔۔مرنے والے کے ہاتھ ابھی بھی ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے۔۔۔ایماں کی حرارت والوں نے اسی پر بس نہ کیا۔۔اس کے ہتھکڑی والے ہاتھ میں رسی ڈال کر موٹرسایئکل کے پیچھے باندھ کر کھیالی شاہ پور سے چوک گوجرانوالہ تک گھسیٹ کر لے گئے اور چوک میں پہنچ کر ایک مرتبہ پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی کہ مٹی کے تیل سے صحیح جل نہ سکا تھا۔۔ پولیس اور انتظامیہ بمشکل اس دو مرتبہ جلائی گئی لاش کو اپنی تحویل میں لینے میں کامیاب ہو سکی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد اس ”مردود“ کی گوجرانوالہ میں تدفین بھی نہ ہونے دی گئی اور میت کو لاہور لے جایا گیا جہاں اسے رات گئے دفن کر دیا۔۔۔۔مرنے والے کے بیوی بچے اور بوڑھا والد خوف زدہ ہو کر گھر سے بھاگ گئے تھے۔۔۔۔اگلی صبح کسی عزیز نے ڈرتے ڈرتے گلی میں دری بچھا دی جہاں اس کی بیوی بہن اورننھے بچوں کی آہیں جب سسکیاں اور سسکیاں بین بن گئیں تب پتہ چلا کہ حقائق کچھ اور تھے۔۔۔۔۔۔

اسد کالونی شیخوپورہ روڈ پر رہائش پذیر جماعت اسلامی کے رکن قاری حبیب اللہ کا بیٹا۔۔۔ایم اے اسلامیات۔۔۔ایم اے عربی اور نیشنل کونسل فار طب سے فارغ التحصیل ایک طبیب فاروق سجاد جسے محلے میں اسی نسبت سے ڈاکٹر فاروق یا عطائی فاروق کی حیثیت جانا جاتا تھا۔جو نماز محلے کی مسجد کی بجائے اپنے کلینک جو کہ مدینہ کالونی میں تھا کی ایک مسجد میں پڑھا کرتاتھا۔محلے کے اکثریتی مسلک سے کبھی کبھار کی باہمی بحث و تکرار کے باعث ناپسند کیا جاتا تھا۔21 اپریل 1995 فجر کی نماز اور تلاوت کے بعد بچوں کو اسکول چھوڑ کر گھر واپس آکر پھر تلاوت میں مصروف ہو گیا۔بیوی کو جو باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھی کچھ سودا سلف لینے محلے کی دوکان پر جانا پڑا اور جاتے ہوئے فاروق سے کہہ گئی کہ چائے کا دھیان رکھنا جو قرآن پڑھتا ہوا باورچی خانہ میں آگیا۔تلاوت میں مستغرق فاروق چائے کے اچانک ابلنے پرگھبراہٹ میں آگیا اور جلدی سے چائے اتارنے کے دوران توازن نہ رکھ سکا اور قرآن سمیت چولہے پر جا گرا جس سے اس کے سر پر زخم آیا اور خون بہنے لگا اس دوران قرآن کے ایک صفحے کا کچھ حصہ بھی جل گیا۔ جس پر بے اختیار کف افسوس ملتے ہو ئے رونے لگا کہ یا اللہ یہ مجھ سے کیا ہو گیا ہے۔ گھر کے کھلے دروازے سے جھانکتی ایک ہمسائی یہ سب دیکھتے ہی شور مچانے لگی کہ ھائے ھائے عطائی فاروق نے قرآن جلا دیا۔۔پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے محلے کے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے اور فاروق کو مارنے پیٹنے لگے اور اس شدت سے مارا کہ اس کی پسلیاں تک توڑ دیں۔ اسی دوران پولیس کے تین اہلکار بھی اطلاع پاکر وہاں آ گئے اور ہجوم سے منت سماجت کرتے ہوئے بمشکل پولیس چوکی لے گئے۔۔۔۔اسی دوران کسی نے مسجد سے غیرت اسلامی کو للکارتے ہوئے اعلان کیا کہ عطائی فاروق نے قرآن جلا دیا اور آج ان کی دینی غیرت کے امتحان کا دن ہے۔۔پہلی مسجد سے دوسری مسجد۔۔دوسری سے تیسری اور پھر اس سے آگے اعلان کی نوعیت عطائی فاروق سے عیسائی فاروق ہو گئی اور قرآن بھی دو جلائے جانے کے اعلانات ہونے لگے۔پھر کیا تھا دودھ میں پانی ملانے والا بھولا ۔۔مرچوں میں پسی ہوئی اینٹین اورلکڑیوں کا برادہ ملانے والا شیرو۔۔۔کالی مرچوں میں گھوڑوں کا دانہ دالنے والا ٹیڈی رنگ باز۔۔۔ایک ہی بلیڈ سے بار بار کئی کئی کی دھاڑیاں مونڈنے والا بشیرا ۔۔۔ہفتوں پرانے گندے تیل میں جلیبیاں بنانے والا منیرا ۔۔۔بکرے کے گوشت میں پانی بھرے انجکشن لگانے اور مردار جانوروں کا گوشت بیچنے والا ماجھا۔۔۔ساری رات فحش فلمیں دیکھنے اور بازاروں میں بدنگاہی کرنے والا جمی پرنس۔۔۔جعلی ادویات بیچنے والا میڑک فیل ڈاکٹر ارشد عرف اچھو اور اپنی بہن بیٹیوں کی جایئداد پر ناحق قبضہ کرنے والا حاجی فضل اپنا اپنا کاروبار بند کرتے اس گستاخ کو جہنم واصل کرنے کے لیئے دوڑ پڑا۔۔۔پولیس اہلکا ر،فاروق سجادکو پولیس چوکی انچارج کے حوالے کر چکے تھے جس نے اسے اپنے عقبی کمرے میں چھپا دیا اور پھر چشم فلک نے ظلم و بربریت کا وہ وحشیانہ رقص ابلیس دیکھا جسے سننے اور بیان کرنے کے لیئے پتھر کا دل اور فولاد کا جگر چاہیئے. دم توڑتے فاروق سجاد کے لبوں پر سورہ قریش کی آیت وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ جاری تھا. 21 اپریل یوم اقبال مناتی سلطنت خدادا میں آخر کب تک خدا کے نام پر اہریمن کے پچاریوں کا یہ رقص خونیں یونہی ہوتا رہے گا
ارے کہیں کوئی ہے؟؟؟؟جو میکائیل کو آواز دے کہ میرے دیس کی مٹی بہت لال ہو چکی ہے.. کوئی ایسا ابر رحم برسا کہ میرے دیس کی مٹی دہل سکے کیونکہ اس مٹی سے اب خون کی بدبو آتی ہے....
وہ شاخ نور جسے ظلمتوں نے سینچا ہو
اگر پھلی تو شراروں کے پھول لائے گی
نہ پھل سکی تو نئی فصل گل کے آنے تک
ضمیر ارض میں اک زہر چھوڑ جائے گی
(5 دسمبر 2021)
(تحریر منصور الحسن)

ّدﷺّ

Address

Bara Pind Zafarwal Punjab
Zafarwal
00542

Telephone

+923004935740

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انجمن فیضان مصطفےٰﷺ بڑاپنڈ ظفروال posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share