09/05/2026
اس ملک میں اب زندگی گزارنا نہیں، صرف حالات سے لڑتے ہوئے دن کاٹنا رہ گیا ہے۔
گزشتہ رات لاہور سے واپسی پر اچانک میری بائیک کی چین ٹوٹ گئی۔ رات کے تقریباً 8 بج چکے تھے اور حکومتی پابندیوں کی وجہ سے تمام مکینک اور پنکچر کی دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ ایک سنسان سڑک، چاروں طرف اندھیرا، اور انسان بے بسی کے عالم میں کھڑا ہو… نہ کوئی مدد، نہ کوئی سہارا۔
وہ تو شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ ایک دوست نے بروقت فون اٹھا لیا اور میری مدد کے لیے آ گیا، ورنہ اس وقت حالات واقعی خوفناک محسوس ہو رہے تھے۔
لیکن وہاں کھڑے ہو کر جو منظر دیکھا، اس نے دل مزید بوجھل کر دیا۔ دو اور افراد اپنی فیملیز کے ساتھ سڑک کنارے پریشان کھڑے تھے۔ کسی کی بائیک پنکچر تھی، کسی کی خراب۔ ان کے ساتھ خواتین اور چھوٹے بچے بھی موجود تھے، مگر آس پاس ایک بھی دکان کھلی نہ تھی جہاں سے مدد مل سکتی۔ بچے خوفزدہ، خواتین پریشان، اور مرد بے بسی سے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ شاید کہیں سے کوئی سہارا مل جائے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک میں فیصلے تو ہو جاتے ہیں، مگر ان فیصلوں کے اثرات عام آدمی پر کیا پڑتے ہیں، اس کا شاید کبھی سوچا ہی نہیں جاتا۔ جو شخص دن بھر محنت مزدوری کے بعد رات کو اپنے گھر واپس جا رہا ہو، اگر راستے میں اس کی گاڑی خراب ہو جائے تو وہ کہاں جائے؟ کس کے دروازے پر دستک دے؟ کون اس کی مدد کرے؟
حکومت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ کم از کم مکینک، پنکچر اور ضروری گاڑیوں کی مرمت والی دکانوں کو رات گئے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے تاکہ عوام کو اس طرح سڑکوں پر ذلیل و خوار نہ ہونا پڑے، خصوصاً وہ لوگ جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس ملک کے عام لوگوں پر رحم فرمائے، کیونکہ یہاں عوام کو سہولتیں کم اور آزمائشیں زیادہ دی جا رہی ہیں۔