09/06/2023
یہ وہ غزل ہے جس کی سماع کے دوران حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رح کا وصال ہو گیا تھا۔ آپ کا اتنا بلند مقام تھا کہ آپ سلطان الہند الولی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح کے مُرید اور خلیفہ تھے۔آپ کا مزار اقدس دہلی شہر کے ایک علاقہ مہرولی شریف میں واقع ہے۔ مزار شریف آپ کے خلیفہ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رح نے اپنے مرشدِکریم کے حکم کے مطابق بذاتِ خود اُستوار فرمایا۔
یہ غزل چشتیہ سلسلہِ طریقت کے اکابر شیوخ میں سے ایک شیخ حضرت خواجہ احمد جام چشتی رح کا شاہکار کلام ہے ۔
————————————————-
منزلِ عِشق از مکانِ دیگر است
مردِ اِیں راہ را نِشانِ دیگر است
عِشق کی منزل اور جگہ سے ہے اِس راہ کے مرد کا نِشان اور ہے
عقل کہ داند کہ ایں رمزِ کُجاست
کاں جماعت را نِشانِ دیگر است
عقل کو کیا معلوم کہ یہ راز کیا ہے ؟ اِس جماعت کا تو نِشان ہی اور ہے
عاشقانِ خواجگانِ چِشت را
از قدم تا سر نِشانِ دیگر است
خواجگانِ چِشت کے عُشاق سر تا پا اور نِشان رکھتے ہیں
کِشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زماں از غیب جانِ دیگر است
جو تسلیم و رضا کے خنجر سے قتل ہوتے ہیں
اُنہیں غیب سے ہر آن ایک نئی جان عطا ہوتی ہے
عِشق را در مدرسہ تعلیم نیست
ایں چُنیں عِلمت بیانِ دیگر است
عِشق کو مدرسوں میں نہیں پڑھایا جاتا،اِس قِسم کے عِلم کے لئے اور بیان درکار ہے
بر سَرِ بازار صرافان عِشق
زیر ہر دارِ جوانِ دیگر است
عِشق کا قیمتی سودا رکھنے والے بازار میں ہر سولی کے نیچے ایک جوان اور ہے
دِل خورد زخمے زدیدہ خوں چکد
ایں چُنیں تیر از کَمانِ دیگر است
دِل زَخمی ہے اور آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے،اِس قِسم کا تِیر اور قِسم کی کمان سے چلتا ہے
احمدا تا گُم نہ کر دی ہوش را
کایں جرس از کاروانِ دیگر است
احمد تا کہ تو اپنے ہوش نہ کھو بیٹھے یہ جرس ایک اور قافلے سے ہے
کلام ؛ حضرت خواجہ شیخ احمد جام چِشتی رح
🌸🌸🌸