Al-Kāfī Academy - The Way to Succeed

Al-Kāfī Academy - The Way to Succeed There are many paths around us, but some people are very confused about where to go, This page will

رمضان کیسے گزاریں! از قلم: محمد سلیم قادری رضوی۔رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک...
15/04/2022

رمضان کیسے گزاریں!

از قلم: محمد سلیم قادری رضوی۔

رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔۔ اس کی ہر ہر ساعت اپنے اندر بے شمار رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کو سموئے ہوئے ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ والہ وسلم فرماتے ہیں:

"ھو شھر اوّلہ رحمۃ و اوسطہ مغفرۃ و آخرہ عتق من النار" (شعب الایمان، کتاب الصیام، باب فضائل شھر رمضان، حدیث: 3336)

یعنی: رمضان وہ مہینہ ہے جس کے پہلے دس دن رحمت کے دن ہیں، درمیانے دس دن مغفرت و بخشش کے ہیں اور آخری دس دن دوزخ سے آزادی کے ہیں۔

اس ماہ کو نیکیوں کا موسم بہار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔۔ اس ماہ میں اعمال خیر پر ملنے والے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے اور اس قدر بڑھا دیا جاتا ہے کہ نفل کا ثواب فرض کے ثواب تک اور فرض کا ستر درجوں تک ۔۔۔۔( مشکوۃ ،کتاب الصوم ،حدیث :۱۹۶۵)۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ گناہوں کی معافی کا بھی مہینہ ہے۔

جان عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:

"من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ"
(بخاری: ۱۹۰۱، مسلم: ۱۷۵)

یعنی: جس نے رمضان کے روزے ایمان اور اجر و ثواب کی نیت سے رکھے تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دئے گئے۔

اسی طرح فرمایا:

"من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ"
(بخاری: ۳۷، مسلم: ۱۷۴)

"جس نے رمضان میں ایمان اور اجر و ثواب کی نیت سے عبادت وقیام اللیل کیا تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے گئے"

یہی وہ عظیم الشان مہینہ ہے جس کے داخل ہوتے ہی ماہ مدینہ صلی اللہ والہ وسلم کے فرمان کے مطابق جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازوں کو بند کردیا جاتا ہے اور شیاطین قید کر دئے جاتے ہیں۔ (بخاری: ۱۸۹۹۔ مسلم: ۱۰۷۹)

رمضان المبارک کے فضائل کو کہاں تک بیان کیا جائے! آئیے جن کے وسیلہ و طفیل ہمیں ہر نعمت و توفیق خیر نصیب ہوتی ہے ان کی حیات پاک کے ایام میں ایک نظر ڈالتے ہیں اور اخذ فیوض کرتے ہوئے رمضان المبارک کی اہمیت، فضیلت اور برکت کو سمجھنے کی سعی کرتے ہیں۔۔۔۔

رمضان المبارک اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معمولات مبارکہ:

*ماہ رمضان کو پانے کی دعا فرماتے:

رمضان المبارک کی آمد سے دو ماہ پہلے ہی رمضان المبارک کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم دعا فرمانے لگتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نظر پاک میں رمضان شریف کی اہمیت کس قدر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قلب اطہر میں رمضان کی محبت و الفت کا کیا عالم تھا!

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب ماہ رجب آتا تو آپ یہ دعا فرماتے:

"اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان"

(مسند البزار: مسند ابی حمزۃ انس بن مالک: حدیث نمبر: 6496)

یعنی: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کو بابرکت بنا اور ہمیں رمضان نصیب فرما.

*شعبان المعظم میں روزوں کی کثرت فرماتے:

نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم شعبان میں رمضان کی تیاریاں شروع کر دیتے۔

حدیث پاک میں ہے:

"کان اکثر صیام رسول اللہ بعد رمضان فی شعبان" (مصنف عبد الرزاق: کتاب الصیام: حدیث نمبر ۷۸۵۸)

یعنی: رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان کے بعد شعبان میں سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔

*رمضان کے فضائل بیان کرکے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذوق و شوق کو مہمیز لگاتے:

مشکوۃ شریف کی حدیث میں ملتا ہے کہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے رمضان کی آمد سے قبل ایک جامع اور بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں رمضان کی اہمیت، اس میں اجر و ثواب کی زیادتی، اور دیگر متعلقہ چیزوں کو بیان کرکے اپنے اصحاب اور آنی والی امت کو رمضان شریف کی اہمیت سے واقف فرمایا اور انہیں رمضان المبارک کی رحمتوں کو حاصل کرنے پر ابھارا۔

( مشکوۃ ،کتاب الصوم ،حدیث :۱۹۶۵)۔

*رمضان کی آمد پر خوشی کا اظہار فرماتے، اور اسے خوش آمدید کہتے:

ماہ رمضان المبارک کی آمد پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام علیہم الرضوان کو مبارکباد دیتے ارشاد فرماتے:

"اتاکم رمضان سید الشھور فمرحبا بہ و اھلا" (لطائف المعارف: فضل شھر رمضان)

لوگو! تمہارے پاس مہینوں کا سردار رمضان المبارک آگیا ہے۔ ہم اسے خوش آمدید کہیں گے۔

*آرام ترک فرمادیتے :

حضور سید العابدین صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان المبارک کے ایام میں آرام ترک فرمادیتے۔ ایک روایت کے مطابق پوری پوری رات قیام فرماتے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں:

"کان رسول اللہ اذا دخل رمضان شدّ مئزرہ، ثم لم یأت فراشہ حتی ینسلخ"

یعنی: جیسے ہی ماہ رمضان شروع ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمر کس لیتے اور اس کے اختتام تک آرام نہ فرماتے۔

حضرت جبریل امین کے ساتھ قران مجید کا دور فرماتے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سناتے.

*عبادات کے ساتھ ساتھ صدقہ و خیرات میں بھی اضافہ فرمادیتے:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانوں میں سب سے زیادہ سخی ہیں۔ آپ کا دریائے سخاوت رمضان المبارک میں بہت جوش پر ہوتا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل و احسان کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:

"کان رسول اللہ اذا دخل شھر رمضان اطلق کل اسیر و اعطی کل سائل" (شعب الایمان، کتاب الصیام: ۳۳۵۷)

یعنی: جب رمضان شریف کا مہینہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قیدی کو رہا کر دیتے اور ہر مانگنے والے کو عطا فرماتے۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان نے جب نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا رمضان المبارک کے ساتھ ایسا گہرا تعلق اور اس ماہ میں آپ کے معمولات کو ملاحظہ کیا تو ان حضرات کے دل میں رمضان المبارک کی ایسی محبت گھر کر گئی کہ وہ چھ مہینے رمضان المبارک کو پانے کی دعائیں کرتے اور چھ ماہ اس ماہ میں کی گئ عبادات کی قبولیت کی دعائیں کرتے رہتے. یعنی چھ ماہ رمضان کی آمد قریب آنے کی خوشی کرتے اور چھ ماہ رمضان شریف کی جدائی کا غم برداشت کرتے۔ یوں ان کا سارا سال رمضان المبارک کی یاد میں گزر جاتا۔

محترم قارئین!

آپ نے ملاحظہ کیا کہ رمضان کیسا بابرکت اور عظیم الشان مہینہ ہے! یقینا آپ کو ادراک ہوگیا ہوگا کہ رمضان شریف دیگر مہینوں کی طرح کوئی مہینہ نہیں ہے بلکہ رب تعالی کی رحمت کے پانی سے نہا کر تطہیر نفس اور تعمیر شخصیت کرنے کے لئے اور دائمی فلاح یعنی جنت کو پانے کے لیے ایک ٹریننگ سیشن اور تربیتی زمانہ ہے۔ اگر ہم روزہ و رمضان کی روح کو پالیں اور ظاہری و باطنی آداب کو ملحوظ رکھ کر اسلاف کرام کی طرز پر اس ماہ مبارک کو گزاریں تو یہ مہینہ واقعی ہماری زندگی میں روحانی انقلاب اور حصول تقوی میں کامیابی کا پیش خیمہ ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہر شخص رمضان کے انوار و تجلیات سے کما حقہ مستفید ہوسکتا ہے؟
تو اس کا جواب یقینا یہی ہوگا کہ اس سے حقیقتا وہی لوگ مستفید ہوتے ہیں جو شعوری طور پر اس ماہ کی خصوصی تیاری کرتے ہیں اور جو دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والے ہیں۔ جن کے پیش نظر ہمہ وقت اس کا تقدس و احترام رہتا ہے۔ ورنہ ایک تعداد ہے جو ایسے عظیم مہینے میں بھی سعادتوں کے دروازے خود پر بند کرکے محرومیوں اور پستیوں کو گلے لگالیتی ہے!
آہ افسوس ہماری زندگی میں بھی کتنی ہی مرتبہ یہ ماہ مبارک تشریف لایا لیکن ہم غفلتوں کے دبیز پردوں کو چاک نہ کرسکے۔۔۔۔ لیکن اللہ کی رحمت سے ایک بار پھر ہم اس ماہ کو پانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔۔۔۔ ممکن ہے یہ زندگی میں رمضان کی آخری آخری بہاریں ہوں۔۔۔ کیوں نا اس بار ہم اپنے رمضان کو یادگار بناتے ہوئے اپنے رب کو راضی کرنے میں جُت جائیں۔
یاد رہے جہاں نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رمضان شریف کے فضائل کو بیان فرمایا ہے وہیں اس کی قدر و منزلت سے غافل رہنے والوں اور رب تعالی کو راضی کرنے کی عملی کوششیں ترک کرنے والوں کو وعید بھی سنائی ہے۔ جیسا کہ:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص، اس کی ناک خاک آلود ہو گئی۔ پوچھا گیا کون یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟۔ فرمایا: "جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور گزر گیا اور وہ اپنی بخشش نہ کروا سکا۔"

(مسند احمد، مسند ابی ھریرۃ: حدیث نمبر: ۷۴۵۱)

ہم اللہ عزوجل سے اس کا فضل طلب کرتے ہیں۔

رمضان المبارک میں کرنے کے کام

اس عنوان سے ہم چند ان چیزوں کو اختصارا بیان کریں گے جن کے ذریعے ہم رمضان المبارک کی ذیادہ سے ذیادہ برکات سمیٹنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں:

۱:اہداف/ نیتیں مقرر کریں:

رمضان شریف کے حوالے سے اچھی اچھی نیتیں کرلیں۔ اپنے اہداف مقرر کرلیں۔ ان نیتوں اور اہداف کو صفحات پر منتقل کریں۔ اور روزانہ کچھ وقت اسے ملاحظہ کریں۔ اپنا احتساب کریں کہ جو اہداف مقرر کئے گئے کیا آپ ان پر عمل کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو کن رکاوٹوں کے باعث؟ اور ان رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے؟

۲: باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں: اگرچہ نماز جماعت سے پڑھنے کا تعلق رمضان کے ساتھ خاص نہیں لیکن اگر اس حوالے سے کوئی سستی کوتاہی موجود رہی ہے تو اسے اس ماہ میں دور کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پورے ماہ میں کوئی جماعت تو جماعت تکبیر اولی بھی فوت نہ ہو۔ اس حوالے سے اپنے سونے جاگنے کے اوقات اور ان دیگر امور پر کڑی نظر رکھیں جن میں غفلت کے سبب جماعت چھوٹنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ اس ماہ عظیم کی برکت سے باجماعت نماز کی عادت پختہ تر ہوجائے گی۔

۳: ذوق و شوق کے ساتھ مکمل تراویح ادا کریں:

دیکھا گیا ہے بعض لوگ اپنی کاروباری مصروفیات کو آڑ بنا کر چند روزہ تراویح ادا کرنے کے بعد اسے ترک کردیتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ سستی کے باعث چھوڑ دیتے ہیں۔ مساجد میں ابتدائی ایام میں نماز تراویح کے شرکاء کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ کم ہوتے ہوتے آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ عزم کریں اور مکمل تراویح ادا کریں۔

۴: ختم قرآن:
رمضان اور قرآن میں خاص تعلق ہے۔ اسلاف کرام اس ماہ میں تلاوت قرآن کثرت سے کیا کرتے تھے اور کئی کئی قرآن اس ماہ میں ختم فرماتے۔ الحمداللہ آج اس گئے گزرے دور میں بھی ختم قرآن کے حوالے سے رجحان پایا جاتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سے مذہبی ماحول سے وابستہ افراد ختم قرآن نہیں کرتے بلکہ چند پارے پڑھ کر تلاوت قرآن کو ترک کردیتے ہیں جبکہ بہت سے ایسے افراد کہ جن کا کسی مذہبی ماحول سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا اور وہ دنیا دار کہلاتے ہیں، وہ کئی کئی مرتبہ قرآن مجید ختم کر لیتے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ اس ماہ میں کثرت سے ذوق و شوق کے ساتھ تلاوت قرآن کی جائے اور فہم قرآن حاصل کرنے کی جستجو بھی کی جائے۔ اس مقصد کے لیے تفسیر قرآن کا مطالعہ، کسی صحیح العقیدہ عالم دین سے قرآن مجید کی تفسیر سماعت کرنا، خلاصہ تراویح و دروس قرآن کی نشستوں میں شرکت کی جاسکتی ہے۔

۵: ذکر اللہ کی کثرت:

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اپنی قدر و قیمت میں گوہر و جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ ان قیمتی ساعتوں کو غفلت میں گزار دینا یا فضول و لایعنی کاموں کی نذر کر دینا حماقت اور سخت محرومی کی بات ہے۔

اس ماہ عظیم میں کثرت کے ساتھ اللہ تبارک و تعالی کا ذکر کرنا چاہیے۔ گو کہ ذکر کی کئی صورتیں ہیں جن کا تفصیلی بیان یہاں پر مقصود نہیں۔ یہاں میری ذکر سے مراد اوراد و اذکار کی کثرت ہے۔

مثلا کلمہ شریف و استغفار کی کثرت اور درود و سلام کی کثرت کرنی چاہیے اور اس حوالے سے ایک ہدف متعین کرلینا چاہئے مثلا:

روزانہ دو سو مرتبہ کلمہ شریف، سو مرتبہ استغفار اور پانچ سو مرتبہ درود پاک پڑھنا اپنا معمول بنا لے۔ اپنی مصروفیات و مشاغل کے اعتبار سے اس میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔

۶: دعاؤں کا اہتمام:

رمضان شریف دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اس کا ہر ہر لمحہ مبارک و قبولیت کا حامل ہے خصوصا دوران روزہ اور وقت افطار نیز نماز تہجد (رات کے آخری پہر میں ادا کرنے) کے بعد کے لمحات میں دعاؤں کی قبولیت کی امید بڑی قوی ہے۔ ان لمحات میں خصوصا اور پورے رمضان میں عموما جب جب، جتنا موقع ملے رب تعالی سے دونوں جہانوں کی خیر کا سوال کرنے میں مشغول رہنا چاہئے۔

۷: وقت کے ضیاع سے بچنا:

رمضان سے قبل ہی اپنی غیر ضروری مصروفیات کو ختم کردیں۔ اس ماہ میں خود کو اللہ عزوجل کا قرب پانے کے لئے فارغ کرلیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل سے جتنا دور رہنا ممکن ہو، دور رہیں۔ دوستوں کے ساتھ فضول بیٹھنے اور بے مقصد ملاقاتوں سے گریز کریں۔ اپنی زبان پر خاص توجہ دیں۔ غیبت و جھوٹ سے بچنے کا خصوصی اہتمام کریں۔

اپنا دن بھر کا نظام الاوقات ترتیب دیں اور کوشش کریں جتنا ممکن ہو وقت مسجد میں گزاریں۔

۸: اخلاق درست رکھیں:

غصہ اور چڑچڑے پن سے خود کو بچائیں۔ لوگوں سے لڑنے جھگڑنے سے گریز کریں۔ اچھے اخلاق کو اختیار کریں۔ صبر و تحمل اور عفو درگزر سے کام لیں۔

۹: روزے کے باطنی آداب ملحوظ رکھیں:

روزہ کا مقصد صرف کھانے پینے اور شہوات سے بچنا نہیں ہے بلکہ ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ روزے کی روح کو پانے اور روزے کے باطنی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے اعضاء کو گناہوں سے بھی بچاتا رہے۔

۱۰: ہمدردی و غمخواری:

رمضان ہمدردی اورغمخواری کامہینہ ہے. کوشش کریں اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور بھلائی کریں۔ زیادہ سے زیادہ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، لوگوں کے کام آئیں اور تعاون کریں۔ خلق خدا کی خدمت میں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قرب کا راز پوشیدہ ہے۔

اللہ تعالی ماہ رمضان کی برکات ہمیں عطا فرمائے اور یہ ماہ زندگی میں بار بار عافیتوں کے ساتھ عبادتوں کے ساتھ دیکھنا نصیب فرمائے۔ اس ماہ کے صدقے ہماری کامل مغفرت فرمائے۔ اٰمین

قابل رحم بڑھاپااز قلم : محمد سلیم قادری رضوی.اس جہاں میں کسی چیز کو ثبات نہیں، ہر شئے تغیر پذیر ہے۔۔۔۔زندگی رفتہ رفتہ مو...
15/04/2022

قابل رحم بڑھاپا

از قلم : محمد سلیم قادری رضوی.

اس جہاں میں کسی چیز کو ثبات نہیں، ہر شئے تغیر پذیر ہے۔۔۔۔

زندگی رفتہ رفتہ موت کی آغوش میں چلی جاتی ہے۔۔۔ جوان دیکھتے ہی دیکھتے بڑھاپے سے بغل گیر ہوجاتے ہیں۔۔۔

بوڑھوں سے پوچھیں بتائیے زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ کہیں گے کچھ نہیں ایک سراب ہے۔۔۔۔

موت کی دہلیز پر کھڑے لوگوں سے زندگی کے بارے میں استفسار کریں۔۔۔ کہیں گے ایک پانی کے بلبلے کی طرح ہے جو ابھر کر مٹ گیا یا ایک شعلہ کی طرح ہے جو بھڑک کر بجھ گیا۔۔۔۔ کب کیسے کہاں زندگی گزر گئی کچھ خبر نہیں۔۔۔ حوادثات زمانہ نے سنبھلنے ہی نہ دیا اب ہوش آیا تو خود کو بڑھاپے کے بے رحم پنجوں میں بے بس پایا۔۔۔۔

*انسان اپنی زندگی میں تین مراحل سے گزرتا ہے، بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔۔۔۔

اکثر لوگوں کا بچپن کھیل کود کی نذر ہوجاتا ہے۔۔۔۔ جوانی غفلت کی بھینٹ چڑ جاتی ہے اور بڑھاپا حسرت و یاس کی تصویر بن جاتا ہے۔۔۔۔ کیوں نہ ہو کہ بڑھاپا ایک بارِ گراں ہے، ایک کربناک حقیقت ہے۔۔۔۔۔

غور کریں تو کمسن اور عمر رسیدہ لوگ ایک جیسے لاچار ہوتے ہیں۔۔۔ مگر بچے کی لاچاری پر سب کو پیار آتا ہے۔ لوگ آگے بڑھ بڑھ کر اپنی محبتیں نثار کرتے ہیں۔۔۔ لیکن بڑھاپے کے بوجھ تلے دبے ہوئے انسان سے لوگ بجائے ہمدردی و محبت کے بیزاری سے پیش آتے ہیں۔۔۔۔ لوگوں کے رویوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ جس طرح کسی شیر خوار بچے کے سن بلوغت تک پہنچنے کے لیے بےچین رہتے ہیں ٹھیک اسی طرح وہ بوڑھے انسان کے قبر میں جانے کیلئے بھی بے تابی سے منتظر رہتے ہیں۔۔۔۔ دیکھا جائے تو بوڑھے، بچوں سے ذیادہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔۔۔۔

**میں چھوٹا تھا۔۔۔ بڑھاپے کی آزمائشوں سے بے خبر۔۔۔۔ ایک دن علاقہ کی ایک بوڑھی عورت کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔ مجھ سے باتیں کرنے لگی۔۔۔۔ اپنے دکھ، بیماریاں بتانے لگی۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہ آیا کہ کیا جواب دوں۔۔۔۔ اٹکتے جھجکتے میں نے کہا "اللہ آپ کو خوش رکھے لمبی زندگی دے"۔۔۔۔ میرے جملے سے وہ چونک گئی۔۔۔۔ کہنے لگی "بس! بہت جی لی اب لمبی عمر کی دعا نہ دو بس اب جینے کی تمنا نہیں"۔۔۔۔ اس وقت میں سمجھ نہ سکا۔۔۔ یہ الفاظ بارہا ذہن میں گونجتے۔۔۔ اُس وقت میں تو بس یہی جانتا تھا کہ ہر شخص زندگی سے پیار کرتا ہے اور ذیادہ سے دیادہ جینا چاہتا ہے۔۔۔۔ میری نظر میں تو اس بوڑھی عورت کو بھی زندگی سے پیار ہونا چاہئے تھا۔۔۔ ان کے جوان جوان بچے تھے، پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں، مال و دولت کی بھی ریل پیل تھی۔۔۔
لیکن اس وقت ان کا کرب سمجھ نہ آیا پھر جب شعور پروان چڑھا تو آج اُس بڑھیا کے الفاظ سمجھ آئے کہ زندگی اگر تلخ ہوجائے تو کتنی تلخ ہوجاتی ہے۔۔۔۔ اتنی تلخ کہ پھر ایام زیست بوجھ معلوم ہوتے ہیں اور موت غم حیات سے رہائی کا دروازہ۔۔۔۔ پھر احساس ہوا کہ بھرے گھر میں تنہا ہونا اور سب کی بیزاری کا نشانہ بننا ان کے لئے کتنی تکلیف کا باعث ہوگا۔۔۔

آہ کتنی قابل رحم حالت ہے اس شخص کی جس کے اعضاء ایک ایک کر کے رفتہ رفتہ اس کا ساتھ چھوڑ رہے ہوں۔۔۔۔

*وہ کان جو باریک و خفیف آواز سن لیتا تھا، آج اونچا سنتا ہے۔۔۔ لوگ چیخ چیخ کر بات کرتے اور اس سے تنگ آجاتے ہیں۔۔۔۔

*وہ آنکھ جو کبھی بڑی شفاف تھی آج ہیبت ناک دھبوں اور پرچھائیوں کے رقص کا میدان بن گئی ہے۔

*ہاتھ پاؤں جو کبھی بڑی برق رفتاری سے کام کرتے تھے اب بے جان معلوم ہورہے ہیں۔

* اٹھتے بیٹھتے گر جانے کے ڈر سے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔

*کھاتے اور پیتے ہوئے کھانے اور پینے کے بعد کے اثرات کے خیال سے ڈر لگ رہا ہے اور کچھ نہ کھانے پینے کی حالت میں گنھاؤنی موت شکار کے لئے آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

* وہ بچے جن کو زمانے کی دھوپ اور تند ہواؤں سے بچا کر ناز و انداز سے پالا تھا، جن کو بولنے کے لئے منہ میں زبانیں دی تھیں۔ جنہیں انگلی پکڑ کر چلایا تھا آج وہ اپنی جوانی کے جوش میں گرج دار آوازوں سے برس رہے ہیں۔۔۔۔

ہائے کتنا قابل رحم ہے بڑھاپا!۔۔۔۔ ہمارے اردگرد بڑھاپے کے بے رحم پنجوں میں سسکتے کتنے ہی بوڑھے ہیں۔۔۔۔

کسی بوڑھے کو کئی طرح کی بیماریوں سے لڑتے اور اپنوں کے دھکے کھاتا دیکھتا ہوں تو دل تڑپ جاتا ہے۔۔۔۔اللہ کریم سب کے حال پر رحم کرے۔

سنو اے جوانو!

بوڑھے محبت کے سہارے کے مستحق ہیں۔۔۔۔ اُن کے کرب کو سمجھو۔۔۔۔ سنو تم اُن کی آنکھ بن جاؤ، اُن کے کان بنو۔۔۔ اُن کا سہارا ہوجاؤ۔۔۔۔
اُنہیں دھتکارو مت۔۔۔ اُن کی تعظیم کرو۔۔۔۔ اُن کے ترش لہجے کو نظر انداز کرو۔۔۔۔ دیکھو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا فرمارہے ہیں:

۱:"بے شک میری اُمت کے معمر افراد (بوڑھے افراد) کی عزت و تکریم میری بزرگی و عظمت سے ہے۔‘‘

عسقلاني، لسان الميزان، 6 : 303 2. هندي، کنز العمال، 3 : 172، رقم : 6013

۲:جو جوان کسی بوڑھے کی عمر رسیدگی کے باعث اس کی عزت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس جوان کے لیے کسی کو مقرر فرما دیتا ہے جو اس کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے۔‘‘

(ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في إجلال الکبير، 4 : 372، رقم : 2022)

اپنے بچو کے ناز نخرے اٹھانے والو! اپنے بوڑھے ماں باپ سے الجھو مت، ان کو جھڑکو مت۔۔۔۔
ان سے عاجزی اور محبت سے پیش آؤ۔۔۔۔ قران فرماتا ہے:

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ

اور ان کے لیے (والدین کے لئے) نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ۔

اللہ تعالی ہمیں قابل رحم اور معذوری والے بڑھاپے سے بچائے۔۔۔ زندگی کے ہر مرحلے میں عافیت سے ہمکنار رکھے۔
سچ ہے "یک بڑھاپا و صد عیب" یعنی ایک بڑھاپے میں انسان میں سو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور پھر بڑھاپا خود وہ بیماری ہے جس کی کوئی دوا نہیں۔۔۔۔۔

ایک کروڑ درود پاک کا ہدفاز قلم : محمد سلیم قادری رضویرسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث کے مطابق کسی امر خیر کی ت...
15/04/2022

ایک کروڑ درود پاک کا ہدف

از قلم : محمد سلیم قادری رضوی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث کے مطابق کسی امر خیر کی ترغیب دلانے والے کو ویسا ہی اجر ملتا ہے جیسا کہ اس نیکی پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے۔۔۔۔ ارشاد ہوا:

حدیثِ پاک میں ہے: اِنَّ الدَّالَّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ یعنی بے شک نیکی کی راہ دکھانے والا،نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔

مُفَسِّرِ شَہِیر،حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: یعنی نیکی کرنے والا، کرانے والا،بتانے والااورمشورہ دینے والا، سب ثواب کے حقدارہیں۔

یہ ارشاد پاک نہایت ایمان افروز اور کار تبلیغ پر ابھارنے والا ہے۔۔۔ حسب موقع لوگوں کو اچھی اچھی باتوں اور نیکیوں کی ترغیب دلاتے رہنا چاہئے۔۔۔۔ کیا خبر آپ کا کون سا جملہ کس پر کیا اثر کر جائے۔۔۔۔

ایسے بہت سے واقعات ہیں جن سے یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ترغیب دلانے والے نے اپنے بات کو اتنا اہم نہیں سمجھا لیکن وہ ترغیب نتائج کے اعتبار سے بہت غیر معمولی ثابت ہوئی۔بسا اوقات تو کسی کی زندگی تبدیل ہوئی، کسی کو کوئی جہت مل گئی۔ مختصرا کہوں تو بڑے بڑے کاموں کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا اس کام کا محرک اور ترغیب دینے والا، عمل پر ابھارنے والا کوئی اور تھا اور کام کر دکھانے والا کوئی اور احقر کی "الکافی اسلامک اکیڈمی" میں "تیارئ رمضان کورس" کا سلسلہ تھا۔۔۔ اس کی پہلی نشست میں احقر نے درود پاک پڑھنے کی ترغیب دلائی۔۔۔
بات چلتے چلتے ایک کروڑ درود پاک پر آگئی۔۔۔ احقر نے اس تعداد کے حوالے سے ڈاکٹر اقبال سے منسوب واقعہ سنایا اور چند صوفیاء کے حوالے دئے۔۔۔ پھر چونکہ گفتگو یہ ہورہی تھی کہ مقاصد و اہداف کے حصول کو۔ممکن بنانے کے کیا طریقے ہیں تو اس ایک کروڑ درود کے حوالے سے میں نے مختلف چیزیں عرض کیں۔۔۔

پھر میں نے بطور ترغیب اپنا واقعہ بتایا کہ جب میں نے ایک کروڑ درود پاک پڑھنے کا ارادہ کیا تو اپنی عادت کے مطابق کہ میں جو چیز پڑھتا ہوں یا عمل میں لانے کی کوشش کرتا ہوں تو دوسرے دوستوں کو بھی اس کی ترغیب دلاتا ہوں، لہذا میں نے بھی چند ایک دوستوں کو ایک کروڑ درود پاک کے فضائل کے حوالے سے بتایا اور اس ہدف کو پورا کرنے پر ابھارا، چار دوستوں نے درود پاک کی تعداد پوری کرنے کے حوالے سے کوششیں شروع کیں۔

ہم نے طریقہ یہ بنایا کہ وہ تینوں دوست درود پاک پڑھنے کے بعد تعداد مجھے بھیج دیا کرتے تھے کچھ عرصہ تو یہ سلسلہ چلتا رہا پھر رمضان شریف کی آمد سے یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ تعداد جو پڑھی گئی تھی وہ یوں تھی ایک دوست کے تقریبا 12 لاکھ ایک دوست نے چار لاکھ اور ایک دوست نے تقریبا 6 لاکھ پڑھے تھے۔

دوستوں کی جانب سے سلسلہ موقوف ہونے کے بعد میں بھی اپنے درود پاک شمار کرنے سے رہ گیا کیونکہ خود حساب لگانا، یاد رکھنا یہ بہت مشکل معاملہ ہے۔

پھر کچھ مہینوں کے بعد اچانک دوبارہ دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور مطلوبہ تعداد کو پورا کرنا چاہیے تو میں نے ایک دوست جو ماشاءاللہ بکثرت درود پاک پڑھتے ہیں اور سب سے زیادہ ہم دوستوں میں وہی درود پاک پڑھتے ہیں، تو ان سے عرض کی کہ میں روزانہ درود پاک کی تعداد آپ کو میسج کر دیا کروں گا اگر میں کسی دن بھول جاؤں تو آپ سوالیہ نشان بنا کر مجھے میسج کر دیا کریں۔ انہوں نے حامی بھر لی اس طرح پھر پابندی سے درود پاک کی تعداد لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ کسی ماہ بہت زیادہ درود پاک پڑھنے میں آجاتا ہے کبھی درود پاک کی تعداد بہت کم ہو جاتی ہے تو پھر دل میں جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ ان شاء اللہ اگلے ماہ اس تعداد کو بڑھانا ہے۔ وہ میرے دوست ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو درود پاک کا ٹوٹل کر کے مجھے بھیج دیتے ہیں۔ جسے میں گذشتہ ماہ کے مجموعے میں شامل کر دیتا ہوں۔ اس طرح الحمدللہ عزوجل ایک کروڑ درود پاک کے ہدف کی طرف پیش قدمی جاری ہے۔

میری یہ بات سن کر ہمارے کلاس کے طلبہ میں ایک ہمارے دوست مجیب ملک نے اس بات کو ماشاءاللہ بڑے اچھے انداز میں لیا۔ ان کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ مجھے بھی یہ کرنا ہے انہوں نے انفرادی طور پر ایک کروڑ درود پاک پڑھنے کی ترغیب عام کرنے کے بجائے اپنے چند دوستوں سے مشاورت کر کے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ درود پاک پڑھنے کا منصوبہ بنایا۔

اس مقصد کے لئے ایک گروپ تشکیل دیا جس کا نام "درود پاک شریف" رکھا۔ اس درود پاک کے گروپ میں موجود سب دوستوں نے درود پاک کی تعداد روزانہ میسج کرنا شروع کی اور الحمدللہ اس پر عمل کو اندازا پندرہ دن ہو چکے ہیں۔ الحمدللہ اس گروپ کو میں پچھلے آٹھ نو دن سے دیکھ رہا ہوں۔ کوئی فضول چیز نہیں، کوئی اضافی یا کسی بھی طرح کی غیر متعلقہ شیئرنگ نہیں ہوتی۔صرف اور صرف درود پاک بھیجے جاتے ہیں اور الحمدللہ میں نے ایک ہفتے کی تعداد گنی تو وہ تقریبا پانچ لاکھ تک تھی تو اس سے اندازہ ہوا ہے کہ جلد ہی یہ سارے دوست مل کر ڈیڑھ کروڑ کا اپنا ہدف کو پورا کر لیں گے۔

یہاں یہ بھی عرض کروں جب آپ روزانہ درود پاک گنتے ہیں اور کسی کو بھیجتے ہیں تو آپ کے درود پاک پڑھنے کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوجاتا ہے۔

مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ ماشااللہ ایک تیر نشانے پر لگا اور دوستوں کو ایک جہت مل گئی اور سب ایک مشن پر جُٹ گئے۔

اگر آپ اس تحریر کو پڑھ کر اس درود پاک کے گروپ میں شامل ہونا چاہیں تو آگاہ کردیں ان شاء اللہ شامل کرلیا جائے گا۔

اللہ تعالی ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق نصیب کرے۔ امین

کربِ مسلسل کے شکار لوگاز قلم : محمد سلیم قادری رضویہوا کی مخالف سمت میں چلنے والے تھوڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔ صف شکنی کی رِیت کو ...
15/04/2022

کربِ مسلسل کے شکار لوگ

از قلم : محمد سلیم قادری رضوی

ہوا کی مخالف سمت میں چلنے والے تھوڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔ صف شکنی کی رِیت کو زندہ کرنے والے چند ہوتے ہیں۔۔۔۔ ہر ایک ان راہوں کا مسافر نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ اکثریت تو بس جدھر کی ہوا ہو اس سمت لڑکھتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔

یہ انقلابی لوگ کون ہوتے ہیں!

یہ کس کربِ مسلسل سے گزرتے ہیں!

شاید اس درد کی کسک کو محسوس کرنا بھی ہر ایک کے بس کا روگ نہیں ہے۔۔۔۔

یہ صاحبان کرب، مطمعن اور خوشحال لوگوں کے درمیان بےچین و مضطرب لوگ ہوتے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب عام افراد اپنے آشیانوں میں داد عیش دیتے ہیں۔۔۔۔ اُنہیں اپنی زندگی مکمل محسوس ہوتی ہے اور جب انہیں زندگی کے مقاصد گھر بنانے، کھانے پینے، شادی کرنے، بچوں کو جنم دینے اور مر جانے سے ذیادہ کچھ سجھائی نہیں دیتے۔۔۔۔ ٹھیک اُسی لمحے یہ انقلابی لوگ، یہ اونچی اڑان کے خواب دیکھنے والے ان تمام چیزوں کی موجودگی کے باوجود غم و اندوہ کی تصویر بنے، ہجوم میں تنہا رہ جانے کے شدید احساس تلے مضمحل ہوتے ہیں۔

جب لوگ اندھی تقلید کی عملی تصویر بنے ہجوم کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں یہ دیوانے ان راہوں پر چلنے کے لئے بے قرار ہوتے اور رہتے ہیں جس پر کوئی نقش قدم نہیں ملتا۔۔۔۔

مثال دینے والے نے ان انقلابیوں کی کیا خوب مثال دی ہے، کہ ان انقلابیوں کی مثال اس عقاب کے بچہ کی سی ہوتی ہے جسے گھر کی مرغی کے انڈوں میں رکھ کر نکالا گیا ہو اور جب اس نے آنکھ کھولی ہو تو اپنے اردگرد مرغی کے بچوں کو پایا ہو اور ان کے ساتھ ہی پل بڑھ کر وہ پروان چڑھا ہو۔۔۔۔ اس کے ساتھ پلنے بڑھنے والے چوزے اور ان کی ماں مرغی یہی چاہتی ہے کہ وہ بچہ عقاب ان ہی کی طرح ہو، وہی فطرت، وہی عادات، وہی طرز زندگی اختیار کرے جبکہ وہ چاہتا ہے کہ یہ اس کی طرح کھلی ہواؤں اور لا محدود آسمانوں کے خواب دیکھنے والے بن جائیں.

لیکن وہ جلد ہی اپنے آپ کو اجنبی اور اچھوت کے طور پر پاتا ہے اور وہ چوزے مع اپنی ماں کے سب ہی اُس کو چونچیں مارتے ہیں۔ مگر اس کو اپنے خون میں بلند چوٹیوں کا بلاوا بڑی بلند آواز سے اور مسلسل سنائی دیتا ہے، ڈربے کی سڑاند اس کی ناک میں کھٹکتی ہے۔

جب تک اس کے پَر پرزے پوری طرح نکل نہیں آتے وہ یہ سب کچھ چپ چاپ برداشت کرلیتا ہے اور پھر وہ ہوا پر سوار ہوجاتا ہے اور اپنے سابقہ بھائیوں اور ان کی ماں پر محبت آمیز الوداعی نظر ڈالتا ہے جبکہ وہ مزید دانے اور کیڑے ڈھونڈنے کے لئے زمین کھود رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مستی میں آکر کڑ کڑاتے جاتے ہیں۔۔۔۔ عقاب انہیں اسی حالت میں چھوڑ کر اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے نکل جاتا ہے۔۔۔۔

اس مثال کی جامعیت کو کن الفاظ میں بیان کیا جائے!

یہ ہر انقلابی کی کہانی کا خلاصہ و عرق ہے۔۔۔۔ کسی بھی زمانہ ساز، نباض عصر کی سیرت کے اوراق پر نظر ڈالیں اور مذکورہ مثال میں عقاب کی جگہ انہیں رکھ دیں اور ان کے اردگرد بسنے والوں کو چوزے تصور کرلیں آپ کو یہی سب نظر آئے گا کہ انقلابیوں کا شروع میں مذاق اڑایا جاتا ہے، ان کی باتوں کو مجنوں کی بڑ کہا جاتا ہے، ان پر آوازیں کسی جاتی ہیں، طعنے دئے جاتے ہیں لیکن وہ ان چیزوں سے بیگانہ اپنی متعین سمت کی جانب چلتے رہتے ہیں، جیسے کوئی نیند میں چلتا ہے۔۔۔۔ ہر شئے سے بیگانہ۔۔۔۔

پھر جب یہ عملی قدم اٹھانے لگتے ہیں۔۔۔ اپنے بنائے ہوئے خاکوں میں رنگ بھرنے لگتے ہیں تو پھر ان پر ہنسنے والے ان کی راہوں میں کانٹے بچھاتے ہیں، روڑے اٹکاتے ہیں لیکن یہ کرب مسلسل کے شکار لوگ اپنی دنیا بسا کر رہتے ہیں، اپنے خواب حقیقت بنا کر رہتے ہیں۔۔۔۔ اور پھر وہ وقت آتا ہے کہ یہ ہنسنے والے، جلنے والے اُنہیں جھک کر سلام کرنے لگتے ہیں، تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کی قلابیں ملانے لگتے ہیں۔۔۔۔

بس نتیجہ یہ ہے کہ عظیم لوگ کرب مسلسل کا شکار ہوتے ہیں ان کے پاس حاضر و موجود کو دیکھنے کا دوسروں سے مختلف زاویہ ہوتا ہے، ان کے پاس خواب ہوتے ہیں کوئی ان کے کان میں سرگوشیاں کرتا ہے اور وہ اپنا رزق ہمیشہ اونچے پہاڑوں کی سب سے بلند چوٹی پر پاتے ہیں۔۔۔

یقینا آپ کا سابقہ بھی کسی کرب مسلسل کا شکار فرد سے پڑتا ہوگا۔۔۔۔ ان کھوئے کھوئے، مست ملنگ لوگوں پر نشتر طنز و تنقید مت چلائیے گا۔۔۔۔ یہ اپنے کرب کے ہاتھوں کچھ کر گزرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔۔۔۔

ان کا احترام کریں۔۔۔ ان کے خوابوں کا احترام کریں۔۔۔۔

آئیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ کریم ہمیں بھی کچھ کر گزرنے کی تڑپ سے آشنا کردے۔ امین

انسانوں میں پائے جانے والی جانوروں کی عادات و صفاتاز قلم : محمد سلیم رضوی۔انسان رنگ برنگ ہیں۔۔۔۔۔ایک دوسرے سے بہت مختلف۔...
15/04/2022

انسانوں میں پائے جانے والی جانوروں کی عادات و صفات

از قلم : محمد سلیم رضوی۔

انسان رنگ برنگ ہیں۔۔۔۔۔ایک دوسرے سے بہت مختلف۔۔۔۔۔مزاج و عادات میں بہت تفاوت ہے۔۔۔۔۔غور کرنے پر بعض انسانوں میں جانوروں سے مشابہ عادات و خصائل نظر آتے ہیں۔۔۔۔

چناچہ "المستطرف فی کل فن مستظرف" میں امام بہاء الدین محمد بن احمد مصری شافعی علیہ الرحمہ نے اسے بیان کیا ہے۔۔۔۔

آپ فرماتے ہیں:

"انسان پر لازم ہے کہ وہ فقط متقی اور پرہیزگاروں کی صحبت اختیار کرے اس لیے کہ اللہ عزوجل کے لئے محبت دین و دنیا کے لئے فائدہ مند ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ شریر لوگوں سے میل جول رکھنے سے بچے، فاسقوں کی صحبت ترک کرے اور بد خصلت لوگوں سے دور رہے"

پھر آپ نے آیت مبارک

وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا طَٰٓئِرٍۢ يَّطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ

(اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور کوئی پرند کہ اپنے پروں پر اڑتا ہے مگر تم جیسی امتیں)

پیش فرما کر بیان کیا کہ اللہ تعالی نے اس آیت میں ہمارے اور تمام جانوروں کے درمیان مماثلت کا اثبات فرمایا ہے۔ جس کا تعلق خاص طور سے اخلاق و عادات سے ہے۔۔۔۔
ہر شخص میں ہی جانوروں والے اخلاق و عادات ہوتی ہیں اسی لئے لوگوں میں مختلف عادتیں پائی جاتی ہیں

اسی طرح
شیخ افضل الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"میں نے لوگوں کا تجربہ کیا ہے. پس ان میں سے بعض کو سانپ کی طرح، بعض کو بچھوں کی طرح، بعض کو درندوں کی طرح اور بعض کو بھیڑیے کی طرح دیکھا۔

پس کوئی تو ڈنگ مارنے والا قاتل ہے سانپ کی طرح نازک ہونے کے باوجود اور بعض ڈسنے والے ہیں بچھو کی طرح، کوئی دھوکہ دینے والا ہے لومڑی کی طرح، کوئی لپکتا ہے کتے کی طرح، کوئی خود پسند ہے بھیڑیے کی طرح، کوئی کند ذہن ہے ریچھ کی طرح، کوئی حیلہ گر ہے چیتے کی طرح، کوئی شدید غضب اور شجاعت والا ہے شیر کی طرح، کوئی نادان ہے گدھے کی طرح، کوئی کینہ رکھنے والا ہے اونٹ کی طرح، کوئی اس نیکی کو بھولنے والا ہے جو میں نے اس سے کی ہے چوہے کی طرح،

والله ان لوگوں کے درمیان میں خود کو اس چوزے کی مثل سمجھتا ہوں جس پر ابھی بال تک نہیں اُگے یا اس پرندے کی طرح جس کے پر نہیں ہیں.. جب وہ مجھے اذیت دینے کے لئے یوں ٹوٹے پڑتے ہیں جس طرح مکھیاں شہد پر یا کتے مردار پر یا چیلیں گوشت پر۔(اس وقت میں خود کو بہت بے بس و کمزور اور لاچار پاتا ہوں).

آپ مزید فرماتے ہیں: "لوگ مجھے کھینچ رہے ہیں ۔۔۔۔نوچ رہے ہیں۔۔۔۔پرخچے اڑ رہے ہیں۔۔۔۔۔مجھے کاٹ رہے ہیں۔۔۔۔۔ڈس رہے ہیں۔۔۔۔۔لعنت کر رہے ہیں۔۔۔۔۔میری مذمت کر رہے ہیں۔۔۔۔۔اور مجھے کوس رہے ہیں۔۔۔۔۔ایسی حالت میں مجھے صبر و سلامتی کہاں۔۔۔۔۔۔

علاوہ ازیں جن درندوں اور کیڑوں کی تکلیف کی ہم نے مثالیں بیان کی ہیں ان سے زیادہ لوگوں کا ضرر تکلیف کا باعث ہے۔۔۔۔کیونکہ جانور مجھے آخرت کے اعمال سے منع نہیں کرتے۔۔۔مجھ پر پابندی نہیں لگاتے۔۔۔۔میرا راز نہیں کھولتے۔۔۔۔میرے کلام کی وجہ سے مجھ پر عیب نہیں رکھتے۔۔۔۔مجھے ستانے پر ایک دوسرے کو نہیں ابھارتے۔۔۔۔اور میرے اور میرے رب کے درمیان حائل نہیں ہوتے۔۔۔۔جبکہ انسان یہ سب کام کرتے ہیں. (لطائف المنن، ص 712،مفہوما)

علامہ محمد بن احمد مصری شافعی علیہ الرحمہ(المتوفی 852ھ) لکھتے ہیں:

چیتے والا مزاج :

جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو اخلاقیات میں جاھل ہو، جسامت میں طاقتور ہو اور اس کے دشمن اس سے محفوظ نہ ہوں تو اُسے چیتوں کی دنیا سے شمار کرو۔

کتوں والا مزاج :

جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو لوگوں کی عزتوں پر حملہ کرتا ہوں تو وہ شخص کتوں کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔
کتے کی عادت ہے کہ جو اسے کچھ نہیں کہتا اور اسے تکلیف نہیں دیتا یہ اس پر بھی حملہ آور ہوتا ہے۔ لہذا تم اس کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو کتے کے ساتھ کرتے ہو کہ جب وہ بھونکتا ہے تو تم اسے چھوڑ کر نکل جاتے ہو۔

گدھوں والا مزاج :

جب تم کسی ایسے انسان کو دیکھو جس کی عادت ہر معاملے میں اختلاف کرنے کی ہو کہ تم ہاں کہو اور وہ نہ کہے اور اگر تم نہ کہو تو وہ ہاں کہے تو اسے گدھوں کی دنیا سے شمار کرو۔ کیونکہ گدھے کی عادت ہوتی ہے ہے کہ اسے قریب کیا جائے تو دور ہو جاتا ہے اور دور کیا جائے تو قریب ہوجاتا ہے۔ جس کے سبب نہ تمہیں اس سے کوئی نفع حاصل ہوتا ہے اور نہ وہ تم سے جدا ہوتا ہے۔

برے لوگ

جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو لوگوں کی جان و مال پر حملہ کرتا ہے تو اسے برے لوگوں میں شمار کرو اور اس سے ایسے بچو جیسے شیر سے بچتے ہو۔

لومڑی والا مزاج

جب تم کسی خبیث انسان سے ملو جو کثرت سے دھوکا دیتا ہے تو اسے لومڑیوں میں سے شمار کرو۔

خنافس والا مزاج :

جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو علم و حکمت کی بات نہ سنے. علماء کی مجلس سے متنفر ہو اور دنیا داروں کی باتوں سے محبت کرے تو اسے خنافس (نجاست اور گوبر میں پیدا ہونے والا سیاہ رنگ کا دوسینگ والا ایک کیڑا) شمار کرو۔ خنافس گندگی کھانے، نجاست میں رہنے کو پسند کرتا ہے اور مشک اور پھول کی خوشبو سے متنفر ہوتا ہے اور جب کبھی اچھی خوشبو سونگھ لے تو اسی وقت مر جاتا ہے۔

موروں والا مزاج :

جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ شوہر کے لئے سجنے والی عورت کی طرح سجتا ہے کہ اجلے کپڑے پہنے، باربار عمامہ ٹھیک کرے اور خود پسندی اختیار کرے تو اسے موروں میں شمار کرو۔

اونٹوں والا مزاج :

جب تو کسی ایسے شخص کو دیکھے کہ دشمنی رکھتا ہے اور غلطیاں معاف نہیں کرتا اور طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی بدلہ لیتا ہے تو اسے اونٹوں کی دنیا سے شمار کرو۔
ایسے شخص کے بارے میں عرب کے لوگ کہتے ہیں: "احقد من الجمل" یعنی اونٹ سے بڑھ کر کینہ رکھنے والا.
لہٰذا دشمنی رکھنے والے شخص کے قرب سے بچنا چاہیے اور اسی بات پر کہتے ہیں کہ عقل مند شخص کو چاہئے کہ وہ شریروں اور دھوکہ دینے والوں اور ان لوگوں سے بچے جن میں وفا نہیں ہوتی اور جس نے ایسا کرلیا تو اس نے اپنے اخلاق، اپنی جان اور اپنے بدن کو بچالیا۔
(دین و دنیا کی انوکھی باتیں ج، 1،ص، 290)

اللہ تعالی ہر قسم کے شر اور شریروں سے ہماری حفاظت فرمائے۔۔۔۔۔

اس تحریر کا مقصد صرف اتنا تھا کہ تم اپنی دوستی اور صحبت کے لیے اچھے لوگوں کا انتخاب کرو اور لوگوں کے شر سے آگاہ رہے تاکہ دکھ وتکالیف سے خود کو بچا سکو۔۔۔۔

خبردار کسی کی دل آزاری مت کرنا۔۔۔۔ غیبت مت کرنا اور خود کو کسی سے اچھا سمجھ کر تکبر میں مبتلا مت ہوجانا کیونکہ انسان کو اپنے عیوب نظر نہیں آتے۔۔۔۔۔

کتابوں سے عشق کیسے ہوا؟از قلم : محمد سلیم قادری رضوی۔ہر وہ شخص جو کتاب دوست ہے اور جسے کتابوں کے مطالعے کا جنون کی حد تک...
15/04/2022

کتابوں سے عشق کیسے ہوا؟

از قلم : محمد سلیم قادری رضوی۔

ہر وہ شخص جو کتاب دوست ہے اور جسے کتابوں کے مطالعے کا جنون کی حد تک شوق ہے اُس کی کتاب دوستی کی ابتدا اور سبب کے حوالے سے ایک کہانی ہوگی۔
الحمد للہ عزوجل احقر کو بھی کتاب سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے اور اس تعلق کی حد یہ ہے کہ مجھے آج تک خود سے بڑھ کر کوئی کتاب سے محبت کرنے والا نہیں ملا۔ شاید یہ کسی کو مبالغہ معلوم ہو لیکن اگر میں اپنا حال عرض کروں تو سب میری اس بات کو تسلیم کرلیں گے۔ میں ذیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ غرضِ تحریر فقط اتنا ہے کہ میں یہ بیان کروں کہ میرا کتاب سے مستحکم تعلق کا آغاز کیسے ہوا۔

میرے والد کو تعلیم سے بہت دلچسپی اور محبت ہے۔ وہ کچھ مجبوریوں کے باعث چند کلاسیں پڑھنے کے بعد اپنی تعلیم جاری نہیں سکے تھے جس کا انہیں شدید قلق تھا۔ انہوں نے ہماری (ہم بھائیوں اور بہن) کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی اور کبھی کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا۔
ہمارا گھر کوئی مذہبی گھرانہ نہیں تھا البتہ تایا ابو کی وساطت سے میں نے دارالعلوم امجدیہ کراچی ضرور دیکھا ہوا تھا اور وہی میرے لیے پوری دنیا تھی۔ اُس کے علاوہ مجھے نہ کسی مکتبہ کا علم تھا نہ علماء کا۔

یہاں یہ عرض کردوں کہ مجھے بچپن سے کہانیاں پڑھنے کا شوق رہا اور اس کا ایک سبب یہ بنا کہ ہمارے گھر میں ٹی وی نہیں تھا تو والد صاحب ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے، ہم رات سونے سے پہلے تک ان سے روز دو تین کہانیاں سنتے تھے۔ ہمارا سر ان کے سینے پر ہوتا تھا اور ہم جس انہماک سے کہانیاں سنتے تھے وہ دیدنی ہوتا تھا۔ والد صاحب کے لئے کہانیاں بنانا یقینا مشکل ہوتا ہوگا، آج سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے ذہن سے وضع کرکے اور بعض کہانیوں میں تبدیلیاں کرکے ہمیں بہت سی کہانیاں سنائیں تھیں، بہرحال یہ ایک مشکل کام تھا پھر انہوں نے ہمیں کہانیاں سنانے کے لئے "نونہال" رسالے کی مدد لی، مختصر یہ کہ "نونہال" پورے ماہ نہیں چلتا تھا تو بطور امداد اس کے ساتھ کچھ اور رسالے بھی شامل کرلئے گئے۔ جن میں جگنو، ساتھی، پھول، چندا، ہمدرد صحت کے نام یاد آرہے ہیں۔ پھر جب میں اردو پڑھنے کے قابل ہوا تو خود ہی ان رسائل کو پڑھنے لگا، لیکن مسئلہ یہ بنا کہ میں مہینہ کی شروع کی تاریخوں میں ہی تمام رسالے، ماہنامے نمٹادیا کرتا تھا جن کی تعداد چھ سات ہوتی تھی۔ پھر طلب مجھے پرانی کتابیں بیچنے والوں تک لے گئی اور گذشتہ شمارے بنڈل کے بنڈل لا کر وہ بھی پڑھنے لگا۔۔۔ رفتہ رفتہ یہ سلسلہ عمران سیریز، ابن صفی اور دیگر ناولز تک دراز ہوتا چلا گیا۔ لیکن اس دوران دینی کتب کا مطالعہ نہ ہونے کے برابر تھا اور ان کے نام اور ملنے کے پتے بھی معلوم نہیں تھے۔

اسی اثنا میں میرا میٹرک مکمل ہوا اور میں نے فرسٹ ائیر کوچنگ کے لئے شہر کے معروف کوچنگ سینٹر "meritourios" میں داخلہ لیا۔

میریٹوریس ایک پورا ایجوکیشن سسٹم ہے جس کے تحت اسکول، کالج اور کوچنگ سینٹر ہیں۔
اس پورے نیٹ ورک کے بانی اور منتظم (پرنسپل) "سر صفی الدین صدیقی صاحب" ہیں۔ جو کہ ماہر رضویات ڈاکٹر پروفیسر محمد مسعود احمد نقش بندی مجددی علیہ الرحمہ کے مرید ہیں۔ آپ ہر سال ادارے کے تحت ربیع الاول میں محفل میلاد کرتے ہیں۔ جس میں تمام برانچز کے طلباء شریک ہوتے۔ طالبات کی محفل علیحدہ ہوتی۔ اس محفل کے اختتام پر حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کا ایک رسالہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ مجھے اس محفل سے حضرت ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کا رسالہ "محبت کی نشانی" ملا۔ داڑھی کے عنوان پر کیا ہی عشق افروز تحریر ہے سبحان اللہ۔

اس رسالہ نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ غائبانہ طور پر میں ڈاکٹر صاحب کا دیوانہ ہوگیا۔ ہر وقت ان کی زیارت و ملاقات کا سوچنے لگا، لیکن افسوس!

معلومات اور تلاش کے بعد مجھے علم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی رہائش تو ہمارے علاقہ سے کافی قریب ہے لیکن آپ کا کچھ ماہ یا ایک سال قبل وصال ہوچکا ہے۔ اب ان کے شہزادے ان کے جانشین ہیں۔

. . . . . . .***۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحب کے مکان کی تلاش میں مجھے کافی پریشانی ہوئی میں کئی گھنٹے حضرت کے علاقہ پی ای سی ایچ کی گلیوں میں گھومتا رہا اور کافی لوگوں سے پوچھنے کے بعد بالآخر حضرت کے گھر پہنچ گیا۔ دھڑکتے دل سے بیل بجائی، حضرت کے شہزادے و جانشین قبلہ ابو السرور محمد مسرور میاں حفظہ اللہ تک پہنچا اور اپنا اتنا ہی تعارف کرواسکا کہ قبلہ مسعود ملت علیہ الرحمہ کا محب ہوں۔ حضرت نے بے انتہاء شفقت فرمائی اپنا گرویدہ کرلیا، انداز گفتگو و نشست و برخاست، تواضع و شفقت نے احساس دلایا کہ واقعی ڈاکٹر صاحب کے تربیت یافتہ ہیں۔ حضرت نے جہاں چائے اور دیگر لوازمات سے مہمان نوازی کی وہیں رخصت فرماتے ہوئے قبلہ مسعود ملت کے بہت سے رسائل عنایت فرمائے جنہیں لے کر میں خوشی سے اڑتا اڑتا گھر پہنچا تھا۔

ان کتب و رسائل میں ایک کتاب "موجِ خیال" بھی تھی۔ یقین جانیں اس کتاب نے مجھے بے انتہا متاثر کیا۔ کتاب کے اکثر سے زائد صفحات میں نے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالے اور رات کب گزر گئی مجھے اس کا احساس نہ رہا۔ یہ کتاب حضرت کے تحریر کردہ مختلف مضامین کا مجموعہ ہے۔
اس میں حضرت کے افکار اور گرد و پیش اور حاضر و موجود کے حوالے سے حضرت کا منفرد زاویہ اور تجزیہ۔۔۔۔ اللہ اللہ

کیا کیا لکھو! اتنا کہوں گا کہ حضرت کے تحریر کردہ جملے ذہن پر نقش ہوتے چلے گئے اور ایسے نقش ہوئے کہ آج بھی قدم قدم پر ذہن میں ان جملوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

موج خیال نے مجھے بدل کے رکھ دیا۔ بعض جملے اتنے پُر تاثیر تھے کہ میرے درس نظامی کی طرف آنے اور دین کے ساتھ وابستگی میں شدت کا سبب فقط وہ جملے بنے۔ یہاں سے پھر دینی کتب کے مطالعہ کا آغاز ہوا شوق رہبری کا فریضہ انجام دیتا رہا راستے ملتے رہے اور الحمد للہ یہ سفر اب بھی جاری ہے۔

اس پوری تحریر میں قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ "محفل کے اختتام پر تقسیم کیا گیا ایک رسالہ بسا اوقات ایک تیر کی مانند اگر نشانہ پر لگ جائے تو کتنا مؤثر ہوسکتا ہے"۔

میں اکثر اپنے احباب سے کہتا ہوں کالج یونیورسٹی کے طلباء میں دینی کتب کی تقسیم کا سلسلہ ضرور ہونا چاہیے۔ اللہ کرے ہمارے لوگ قلم و قرطاس کی اہمیت سے واقف ہوجائیں. جمود ختم ہو اور ہمارا کتاب سے تعلق مستحکم ہوجائے۔ اٰمین

اگر آپ کی بھی کتاب دوستی کے پیچھے کوئی واقعہ ہے تو ممکن ہو تو اسے ضرور قلمبند کیجئے گا، مجھے بتائیے گا۔ میرے لئے باعث مسرت ہوگا۔

Address

الکافی اسلامک اکیڈمی، ثناء اپارٹمنٹ، P. E. C. H. S بلاک 6، نزد محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی۔
Trarkhel
75400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Kāfī Academy - The Way to Succeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share