15/04/2022
رمضان کیسے گزاریں!
از قلم: محمد سلیم قادری رضوی۔
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔۔ اس کی ہر ہر ساعت اپنے اندر بے شمار رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کو سموئے ہوئے ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
"ھو شھر اوّلہ رحمۃ و اوسطہ مغفرۃ و آخرہ عتق من النار" (شعب الایمان، کتاب الصیام، باب فضائل شھر رمضان، حدیث: 3336)
یعنی: رمضان وہ مہینہ ہے جس کے پہلے دس دن رحمت کے دن ہیں، درمیانے دس دن مغفرت و بخشش کے ہیں اور آخری دس دن دوزخ سے آزادی کے ہیں۔
اس ماہ کو نیکیوں کا موسم بہار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔۔ اس ماہ میں اعمال خیر پر ملنے والے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے اور اس قدر بڑھا دیا جاتا ہے کہ نفل کا ثواب فرض کے ثواب تک اور فرض کا ستر درجوں تک ۔۔۔۔( مشکوۃ ،کتاب الصوم ،حدیث :۱۹۶۵)۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ گناہوں کی معافی کا بھی مہینہ ہے۔
جان عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
"من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ"
(بخاری: ۱۹۰۱، مسلم: ۱۷۵)
یعنی: جس نے رمضان کے روزے ایمان اور اجر و ثواب کی نیت سے رکھے تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دئے گئے۔
اسی طرح فرمایا:
"من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ"
(بخاری: ۳۷، مسلم: ۱۷۴)
"جس نے رمضان میں ایمان اور اجر و ثواب کی نیت سے عبادت وقیام اللیل کیا تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے گئے"
یہی وہ عظیم الشان مہینہ ہے جس کے داخل ہوتے ہی ماہ مدینہ صلی اللہ والہ وسلم کے فرمان کے مطابق جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازوں کو بند کردیا جاتا ہے اور شیاطین قید کر دئے جاتے ہیں۔ (بخاری: ۱۸۹۹۔ مسلم: ۱۰۷۹)
رمضان المبارک کے فضائل کو کہاں تک بیان کیا جائے! آئیے جن کے وسیلہ و طفیل ہمیں ہر نعمت و توفیق خیر نصیب ہوتی ہے ان کی حیات پاک کے ایام میں ایک نظر ڈالتے ہیں اور اخذ فیوض کرتے ہوئے رمضان المبارک کی اہمیت، فضیلت اور برکت کو سمجھنے کی سعی کرتے ہیں۔۔۔۔
رمضان المبارک اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معمولات مبارکہ:
*ماہ رمضان کو پانے کی دعا فرماتے:
رمضان المبارک کی آمد سے دو ماہ پہلے ہی رمضان المبارک کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم دعا فرمانے لگتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نظر پاک میں رمضان شریف کی اہمیت کس قدر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قلب اطہر میں رمضان کی محبت و الفت کا کیا عالم تھا!
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب ماہ رجب آتا تو آپ یہ دعا فرماتے:
"اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان"
(مسند البزار: مسند ابی حمزۃ انس بن مالک: حدیث نمبر: 6496)
یعنی: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کو بابرکت بنا اور ہمیں رمضان نصیب فرما.
*شعبان المعظم میں روزوں کی کثرت فرماتے:
نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم شعبان میں رمضان کی تیاریاں شروع کر دیتے۔
حدیث پاک میں ہے:
"کان اکثر صیام رسول اللہ بعد رمضان فی شعبان" (مصنف عبد الرزاق: کتاب الصیام: حدیث نمبر ۷۸۵۸)
یعنی: رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان کے بعد شعبان میں سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔
*رمضان کے فضائل بیان کرکے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذوق و شوق کو مہمیز لگاتے:
مشکوۃ شریف کی حدیث میں ملتا ہے کہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے رمضان کی آمد سے قبل ایک جامع اور بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں رمضان کی اہمیت، اس میں اجر و ثواب کی زیادتی، اور دیگر متعلقہ چیزوں کو بیان کرکے اپنے اصحاب اور آنی والی امت کو رمضان شریف کی اہمیت سے واقف فرمایا اور انہیں رمضان المبارک کی رحمتوں کو حاصل کرنے پر ابھارا۔
( مشکوۃ ،کتاب الصوم ،حدیث :۱۹۶۵)۔
*رمضان کی آمد پر خوشی کا اظہار فرماتے، اور اسے خوش آمدید کہتے:
ماہ رمضان المبارک کی آمد پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام علیہم الرضوان کو مبارکباد دیتے ارشاد فرماتے:
"اتاکم رمضان سید الشھور فمرحبا بہ و اھلا" (لطائف المعارف: فضل شھر رمضان)
لوگو! تمہارے پاس مہینوں کا سردار رمضان المبارک آگیا ہے۔ ہم اسے خوش آمدید کہیں گے۔
*آرام ترک فرمادیتے :
حضور سید العابدین صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان المبارک کے ایام میں آرام ترک فرمادیتے۔ ایک روایت کے مطابق پوری پوری رات قیام فرماتے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں:
"کان رسول اللہ اذا دخل رمضان شدّ مئزرہ، ثم لم یأت فراشہ حتی ینسلخ"
یعنی: جیسے ہی ماہ رمضان شروع ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمر کس لیتے اور اس کے اختتام تک آرام نہ فرماتے۔
حضرت جبریل امین کے ساتھ قران مجید کا دور فرماتے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سناتے.
*عبادات کے ساتھ ساتھ صدقہ و خیرات میں بھی اضافہ فرمادیتے:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانوں میں سب سے زیادہ سخی ہیں۔ آپ کا دریائے سخاوت رمضان المبارک میں بہت جوش پر ہوتا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل و احسان کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:
"کان رسول اللہ اذا دخل شھر رمضان اطلق کل اسیر و اعطی کل سائل" (شعب الایمان، کتاب الصیام: ۳۳۵۷)
یعنی: جب رمضان شریف کا مہینہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قیدی کو رہا کر دیتے اور ہر مانگنے والے کو عطا فرماتے۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان نے جب نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا رمضان المبارک کے ساتھ ایسا گہرا تعلق اور اس ماہ میں آپ کے معمولات کو ملاحظہ کیا تو ان حضرات کے دل میں رمضان المبارک کی ایسی محبت گھر کر گئی کہ وہ چھ مہینے رمضان المبارک کو پانے کی دعائیں کرتے اور چھ ماہ اس ماہ میں کی گئ عبادات کی قبولیت کی دعائیں کرتے رہتے. یعنی چھ ماہ رمضان کی آمد قریب آنے کی خوشی کرتے اور چھ ماہ رمضان شریف کی جدائی کا غم برداشت کرتے۔ یوں ان کا سارا سال رمضان المبارک کی یاد میں گزر جاتا۔
محترم قارئین!
آپ نے ملاحظہ کیا کہ رمضان کیسا بابرکت اور عظیم الشان مہینہ ہے! یقینا آپ کو ادراک ہوگیا ہوگا کہ رمضان شریف دیگر مہینوں کی طرح کوئی مہینہ نہیں ہے بلکہ رب تعالی کی رحمت کے پانی سے نہا کر تطہیر نفس اور تعمیر شخصیت کرنے کے لئے اور دائمی فلاح یعنی جنت کو پانے کے لیے ایک ٹریننگ سیشن اور تربیتی زمانہ ہے۔ اگر ہم روزہ و رمضان کی روح کو پالیں اور ظاہری و باطنی آداب کو ملحوظ رکھ کر اسلاف کرام کی طرز پر اس ماہ مبارک کو گزاریں تو یہ مہینہ واقعی ہماری زندگی میں روحانی انقلاب اور حصول تقوی میں کامیابی کا پیش خیمہ ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہر شخص رمضان کے انوار و تجلیات سے کما حقہ مستفید ہوسکتا ہے؟
تو اس کا جواب یقینا یہی ہوگا کہ اس سے حقیقتا وہی لوگ مستفید ہوتے ہیں جو شعوری طور پر اس ماہ کی خصوصی تیاری کرتے ہیں اور جو دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والے ہیں۔ جن کے پیش نظر ہمہ وقت اس کا تقدس و احترام رہتا ہے۔ ورنہ ایک تعداد ہے جو ایسے عظیم مہینے میں بھی سعادتوں کے دروازے خود پر بند کرکے محرومیوں اور پستیوں کو گلے لگالیتی ہے!
آہ افسوس ہماری زندگی میں بھی کتنی ہی مرتبہ یہ ماہ مبارک تشریف لایا لیکن ہم غفلتوں کے دبیز پردوں کو چاک نہ کرسکے۔۔۔۔ لیکن اللہ کی رحمت سے ایک بار پھر ہم اس ماہ کو پانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔۔۔۔ ممکن ہے یہ زندگی میں رمضان کی آخری آخری بہاریں ہوں۔۔۔ کیوں نا اس بار ہم اپنے رمضان کو یادگار بناتے ہوئے اپنے رب کو راضی کرنے میں جُت جائیں۔
یاد رہے جہاں نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رمضان شریف کے فضائل کو بیان فرمایا ہے وہیں اس کی قدر و منزلت سے غافل رہنے والوں اور رب تعالی کو راضی کرنے کی عملی کوششیں ترک کرنے والوں کو وعید بھی سنائی ہے۔ جیسا کہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص، اس کی ناک خاک آلود ہو گئی۔ پوچھا گیا کون یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟۔ فرمایا: "جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور گزر گیا اور وہ اپنی بخشش نہ کروا سکا۔"
(مسند احمد، مسند ابی ھریرۃ: حدیث نمبر: ۷۴۵۱)
ہم اللہ عزوجل سے اس کا فضل طلب کرتے ہیں۔
رمضان المبارک میں کرنے کے کام
اس عنوان سے ہم چند ان چیزوں کو اختصارا بیان کریں گے جن کے ذریعے ہم رمضان المبارک کی ذیادہ سے ذیادہ برکات سمیٹنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں:
۱:اہداف/ نیتیں مقرر کریں:
رمضان شریف کے حوالے سے اچھی اچھی نیتیں کرلیں۔ اپنے اہداف مقرر کرلیں۔ ان نیتوں اور اہداف کو صفحات پر منتقل کریں۔ اور روزانہ کچھ وقت اسے ملاحظہ کریں۔ اپنا احتساب کریں کہ جو اہداف مقرر کئے گئے کیا آپ ان پر عمل کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو کن رکاوٹوں کے باعث؟ اور ان رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے؟
۲: باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں: اگرچہ نماز جماعت سے پڑھنے کا تعلق رمضان کے ساتھ خاص نہیں لیکن اگر اس حوالے سے کوئی سستی کوتاہی موجود رہی ہے تو اسے اس ماہ میں دور کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پورے ماہ میں کوئی جماعت تو جماعت تکبیر اولی بھی فوت نہ ہو۔ اس حوالے سے اپنے سونے جاگنے کے اوقات اور ان دیگر امور پر کڑی نظر رکھیں جن میں غفلت کے سبب جماعت چھوٹنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ اس ماہ عظیم کی برکت سے باجماعت نماز کی عادت پختہ تر ہوجائے گی۔
۳: ذوق و شوق کے ساتھ مکمل تراویح ادا کریں:
دیکھا گیا ہے بعض لوگ اپنی کاروباری مصروفیات کو آڑ بنا کر چند روزہ تراویح ادا کرنے کے بعد اسے ترک کردیتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ سستی کے باعث چھوڑ دیتے ہیں۔ مساجد میں ابتدائی ایام میں نماز تراویح کے شرکاء کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ کم ہوتے ہوتے آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ عزم کریں اور مکمل تراویح ادا کریں۔
۴: ختم قرآن:
رمضان اور قرآن میں خاص تعلق ہے۔ اسلاف کرام اس ماہ میں تلاوت قرآن کثرت سے کیا کرتے تھے اور کئی کئی قرآن اس ماہ میں ختم فرماتے۔ الحمداللہ آج اس گئے گزرے دور میں بھی ختم قرآن کے حوالے سے رجحان پایا جاتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سے مذہبی ماحول سے وابستہ افراد ختم قرآن نہیں کرتے بلکہ چند پارے پڑھ کر تلاوت قرآن کو ترک کردیتے ہیں جبکہ بہت سے ایسے افراد کہ جن کا کسی مذہبی ماحول سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا اور وہ دنیا دار کہلاتے ہیں، وہ کئی کئی مرتبہ قرآن مجید ختم کر لیتے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ اس ماہ میں کثرت سے ذوق و شوق کے ساتھ تلاوت قرآن کی جائے اور فہم قرآن حاصل کرنے کی جستجو بھی کی جائے۔ اس مقصد کے لیے تفسیر قرآن کا مطالعہ، کسی صحیح العقیدہ عالم دین سے قرآن مجید کی تفسیر سماعت کرنا، خلاصہ تراویح و دروس قرآن کی نشستوں میں شرکت کی جاسکتی ہے۔
۵: ذکر اللہ کی کثرت:
رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اپنی قدر و قیمت میں گوہر و جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ ان قیمتی ساعتوں کو غفلت میں گزار دینا یا فضول و لایعنی کاموں کی نذر کر دینا حماقت اور سخت محرومی کی بات ہے۔
اس ماہ عظیم میں کثرت کے ساتھ اللہ تبارک و تعالی کا ذکر کرنا چاہیے۔ گو کہ ذکر کی کئی صورتیں ہیں جن کا تفصیلی بیان یہاں پر مقصود نہیں۔ یہاں میری ذکر سے مراد اوراد و اذکار کی کثرت ہے۔
مثلا کلمہ شریف و استغفار کی کثرت اور درود و سلام کی کثرت کرنی چاہیے اور اس حوالے سے ایک ہدف متعین کرلینا چاہئے مثلا:
روزانہ دو سو مرتبہ کلمہ شریف، سو مرتبہ استغفار اور پانچ سو مرتبہ درود پاک پڑھنا اپنا معمول بنا لے۔ اپنی مصروفیات و مشاغل کے اعتبار سے اس میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔
۶: دعاؤں کا اہتمام:
رمضان شریف دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اس کا ہر ہر لمحہ مبارک و قبولیت کا حامل ہے خصوصا دوران روزہ اور وقت افطار نیز نماز تہجد (رات کے آخری پہر میں ادا کرنے) کے بعد کے لمحات میں دعاؤں کی قبولیت کی امید بڑی قوی ہے۔ ان لمحات میں خصوصا اور پورے رمضان میں عموما جب جب، جتنا موقع ملے رب تعالی سے دونوں جہانوں کی خیر کا سوال کرنے میں مشغول رہنا چاہئے۔
۷: وقت کے ضیاع سے بچنا:
رمضان سے قبل ہی اپنی غیر ضروری مصروفیات کو ختم کردیں۔ اس ماہ میں خود کو اللہ عزوجل کا قرب پانے کے لئے فارغ کرلیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل سے جتنا دور رہنا ممکن ہو، دور رہیں۔ دوستوں کے ساتھ فضول بیٹھنے اور بے مقصد ملاقاتوں سے گریز کریں۔ اپنی زبان پر خاص توجہ دیں۔ غیبت و جھوٹ سے بچنے کا خصوصی اہتمام کریں۔
اپنا دن بھر کا نظام الاوقات ترتیب دیں اور کوشش کریں جتنا ممکن ہو وقت مسجد میں گزاریں۔
۸: اخلاق درست رکھیں:
غصہ اور چڑچڑے پن سے خود کو بچائیں۔ لوگوں سے لڑنے جھگڑنے سے گریز کریں۔ اچھے اخلاق کو اختیار کریں۔ صبر و تحمل اور عفو درگزر سے کام لیں۔
۹: روزے کے باطنی آداب ملحوظ رکھیں:
روزہ کا مقصد صرف کھانے پینے اور شہوات سے بچنا نہیں ہے بلکہ ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ روزے کی روح کو پانے اور روزے کے باطنی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے اعضاء کو گناہوں سے بھی بچاتا رہے۔
۱۰: ہمدردی و غمخواری:
رمضان ہمدردی اورغمخواری کامہینہ ہے. کوشش کریں اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور بھلائی کریں۔ زیادہ سے زیادہ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، لوگوں کے کام آئیں اور تعاون کریں۔ خلق خدا کی خدمت میں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قرب کا راز پوشیدہ ہے۔
اللہ تعالی ماہ رمضان کی برکات ہمیں عطا فرمائے اور یہ ماہ زندگی میں بار بار عافیتوں کے ساتھ عبادتوں کے ساتھ دیکھنا نصیب فرمائے۔ اس ماہ کے صدقے ہماری کامل مغفرت فرمائے۔ اٰمین