10/01/2026
ایک مجلس کی تین طلاق — قرآن کے خلاف ایک خود ساختہ مذہبی روایت
ہمارے معاشرے میں بعض مولوی حضرات اور روایتی فقہی کتابیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ
اگر شوہر ایک ہی وقت میں تین بار “طلاق، طلاق، طلاق” کہہ دے تو فوراً نکاح ختم ہو جاتا ہے۔
❗ لیکن یہ نظریہ براہِ راست قرآنِ مجید کے خلاف ہے۔
📖 قرآن کیا کہتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ"
(سورۃ البقرہ 2:229)
ترجمہ:
طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے رخصت کرنا ہے۔
پھر آگے فرمایا:
"فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ"
(سورۃ البقرہ 2:230)
یعنی تیسری طلاق کے بعد نکاح ختم ہوتا ہے —
اور یہ واضح کرتا ہے کہ طلاق مرحلہ وار ہے، ایک جھٹکے میں نہیں۔
📖 عدت کا واضح حکم:
"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ"
(سورۃ البقرہ 2:228)
یعنی طلاق یافتہ عورت کم از کم تین حیض/مدت تک انتظار کرے گی۔
❗ سوال یہ ہے:
اگر ایک مجلس کی تین طلاق فوراً نافذ ہو جاتی ہے
تو قرآن کی مقرر کردہ عدت، مہلت، اصلاح اور رجوع کہاں گیا؟
حقیقت واضح ہے:
قرآن کے مطابق ایک طلاق = ایک مدت
تین طلاقیں = تین الگ اوقات اور کم از کم تین ماہ
ایک ساتھ تین طلاق = قرآن میں کہیں نہیں
یہ تصور بعد میں گھڑی گئی فقہی روایات کا نتیجہ ہے،
نہ کہ اللہ کے کلام کا۔
🔥 افسوسناک حقیقت: آج عورتوں کی زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں
صرف اس لیے کہ
مولوی کی بات کو قرآن پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
ہمارا ایمان کیا ہونا چاہیے؟
ہمارا دین قرآن ہے
قرآن کے خلاف ہر روایت رد ہے
نبی ﷺ کے بعد کوئی مولوی، کوئی امام، کوئی کتاب
قرآن سے بڑا نہیں
جاگو! دین کو اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لو۔