29/12/2022
سورۃ ق_Surah Qaf
مشرکوں کے الزامات _ Accusations from Mushreken
ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ (ق: 1).
The perfect: Paramount completion.
کامل! اہم ترین مجموعۃ
بَلْ عَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ (ق: 2)
Rather they found it strange that there came a cautioner from among themselves. Hence stated the disbelievers, this is something odd
بلکہ انھوں نے بڑے تعجب کا اظہار کیا کہ جب انہی میں سے انہیں ایک آگاہ کرنے والا آیا، چنانچہ وہ بولے یہ تو عجیب بات ہے.
أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ذَلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ (ق: 3).
When put to death and become dust, that is a distant return (unlikely).
جب موت واقع ہوجائے اور ہم خاک ہو جائیں. یہ تو ایک دور کی واپسی ہے. (ناممکن)
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِنْدَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ (ق: 4)
We are fully aware, what the Earth consumes of them and we have accurate record.
ہمیں تو پورا علم ہے کہ زمین انکا کیا کچھ کھا جاتی ہے، ہمارے پاس اسکا ایک درست قائدہ اور قانون موجود ہے.
بَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ (ق: 5).
Rather they denied when truth came to them, hence they are utterly confused.
دراصل انھوں نے مسترد کردیا اس سچائی کو جو ان تک پہنچی اور انجام کار وہ شش و پنج کی کیفیت میں پڑ گئے.
احتساب کا ثبوت Proof of accountability
أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ (ق: 6).
Have they not observed the sky above them, how we constructed it and decorated it and within it is no rift.
کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کا مشاہدہ نہیں کیا کس خوبی سےھم نے اسے بنایا اورا سے سجایا ہم نے، کہ اسمیں کوئی دراڑ نہیں ہے.
وَالأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (ق: 7)
And we reinforced the planet earth, fixed mountain into it and grew into it all sorts of magnificent pairs.
پھر اس کرہ زمین کو ہم نے مستحکم کیا اسمیں پہاڑوں کو نسب کر کے، اگاۓ اسمیں ہر قسم کے شاندار جوڑے.
تَبْصِرَةً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ (ق: 8.
Enlightments and reminder for all those free willed authorised servants.
بصیرت افروز اور سبق آموز ہر اسکے لئے جسے مکمل آزادی کے ساتھ اختیارات دیئے گئے ہیں.
وَنَزَّلْنَا مِنْ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا فَأَنْبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ (ق: 9)
And from the skies sent down favourable water, hence grew via it lush gardens and harvest of grains.
اور کائنات کی بلندیوں سے بھیجا فیض رساں پانی، کہ اسکے ذریعے گھنے باغات اور دانوں سے بھری فصلیں پیدا کیں.
وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ (ق: 10).
Tall date trees moving up through the air arranged in an orderly manner(systematic).
اونچے کھجور کے درخت بلندیوں کو چھوتے ہوئے منظم انداز سے.
رِزْقًا لِلْعِبَادِ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا كَذَلِكَ الْخُرُوجُ (ق: 11)
Provision for those who serve willingly. This is how we give life to dead land, thus is the emergence.
سامان رزق مکمل بندوں کے لیۓ، اسی طرح ہم حیات نو عطا کرتے ہیں مردہ زمین کو موت کی کیفیت سے باہر نکال لانا بھی اسی کی مانند ہے.
پانچ اقوام سے سبق_Lesson from five nations
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ (ق: 12).
Rejecting before them were people of Noah, people of firmness and stability and Thamud
اس سے قبل جھٹلایا قوم نوح نے جو پختہ اور مستحکم لوگوں میں سے تھے اور ثمود نے.
وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ (ق: 13).
And Aad and pharaoh and brethren of lot.
اورعاد نے اور فرعون نے اور لوط سے بھائی بنتی(برادری) رکھنے والوں نے.
وَأَصْحَابُ الأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ (ق: 14)
People with abundance of luxuries and the nations succeeding all of them rejected the message. Hence the threatening of Divine vengeance became justified.
وہ جو وافر عیش و عشرت کے حامل لوگ تھے اور جو قومیں انکی پیروی کرتی رہیں، تمام نے پیغام کو جھٹلایا چنانچہ الہامی انتقام کی دھمکی کا جواز ثابت ہوگیا (دھمکی ایک حقیقت بن گئی)..
ٹھوس ثبوت _Solid Proof
أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ (ق: 15).
Did we were incapable in the first creation rather they are in confusion about de novo creation.
کیا ہم نا اہل تھے تخلیق اول کے، بلکہ یہ تخلیق نو کے بارے میں شکوک میں پڑے ہیں.
مشرکین کی سزا انصاف کی بنیاد پر-Punishment of Mushriks on the basis of justice
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق: 16)
And this is in fact we created the Mankind and we know with what whispers in his thoughts and we are the one close to his jugular veins.
یہ حقیقت ہے کہ ہم ہی نے انسان کی تخلیق کی ہے اور علم رکھتے ہیں اسکے خیالات میں جو سر گوشی بھی ہورہی ہوتی ہے، اور ہم ہی تو ہم اسکی شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں.
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنْ الْيَمِينِ وَعَنْ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (ق: 17).
When (his thoughts) encounters a cross road, towards right or left, an obstruction.
اور جب( اسکی سوچ) کو ایک رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے، دائیں اور بائیں جانب سے ایک دوراہے پر.
مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (ق: 18).
Not a word does he thinks nothing but he has pressence of forth coming observer (an observer describing an event yet to happen).
ایک لفظ چاہیے وہ سوچے یا بولے، مگر یہ کہ وہ اپنے قریب پاتا ہے، ایک پیشکی علم رکھنے والا نگران.
وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ (ق: 19)
And arrives the agony of death as inevitable truth, this is what you tried to evade.
پھر موت کی اذیت آپہنچی ہے ایک حقیقت بن کر، یہ جسے تو ہمیشہ سے ٹالنے کی کوشش کرتا رہا ہے.
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ذَلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ (ق: 20)
And the trumpet is blown. This is the day of declaration of intention to punish.
جب اعلان بِگل بجا دیا جاۓ گا، یہ ہے وہ دن پیش آگاہیوں کے پورا ہونے کا.
وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ (ق: 21)
And arrive with all and every self being driven with a witness.
پھر ہر نفس حاضر ہوگی اپنی نفسانی خواہشات پر چلنے کی گواہی کے ساتھ.
لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ (ق: 22).
You were oblivious to this, but now we have removed your veil, hence perceive this confined day.
اچھا یقینی طور پر تم اس سے غافل تھے، مگر اب ہم نے تمہارے تمام پڑے پردے ہٹا دیئے ہیں (چنانچہ) اب اس محدود دن کا ادراک کرو.
وَقَالَ قَرِينُهُ هَذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ (ق: 23).
And his associate (inside self) will state, this is what was forth coming.
پھر اسکا قریب ترین ساتھی (شعور /self) کہے گا، یہ تھا وہ کچھ جو وقوع پذیر ہونا تھا.
أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ (ق: 24)
Throw into hell every rejector holding his opinion of denial firmly.
پھینک دو جھنمہ میں ایسے جھٹلانے والے کو جو مضبوطی سے جھٹلانے کی رائے پر قائم رہا.
مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُرِيبٍ (ق: 25)
Forbidder of goodness, assailant and doubter.
ہر اچھائی سے روکنے والا جارحیت کرنے والا، شکوک و شبہات برھانے والا.
الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ (ق: 26)
He is the one who sets up with Allah another authority so cast him into severe suffering.
یہ وہ ہے کہ جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے الہ بھی ٹھرا رکھےتھے تو اسے سخت مصائب میں ڈال دیا جائے.
قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَكِنْ كَانَ فِي ضَلاَلٍ بَعِيدٍ (ق: 27).
His associate (inner self) will say Oh my lord I did not mislead him, on the contrary he was already far astray.
اسکا قریب ترین ساتھی (اندرونی شعور) کہےگا، اے میرے رب میں نے اس سے سر کشی نہیں کروائی بلکہ یہ تو خود گمراہیوں میں بہت دورجا چکا تھا.
قَالَ لاَ تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيدِ (ق: 28).
He (Allah) responds do not confront in my presence; I have sufficiently warned you earlier.
جواب ملے گا، ہمارے حضور جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں میں نے تمہیں پہلے ہی پیش آگاہیوں پر مطلع کردیا تھا.
مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِيدِ (ق: 29).
Nothing can be changed now in my presence and I am never unjust towards my creature.
اب نہ ہی میرے فرمان تبدیل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی میں اپنی مخلوق پر ظلم کرتا ہوں.
يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلْ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (ق: 30)
On that day we (Allah) will ask to hell, are you filled, and it will answer us, is there yet more.
کہ اس دن ہم جھنمہ سے کہیں گے کہ کیا خود کو بھرا ہوا پاتی ہے، وہ کہے گی اس سے زیادہ کچھ اور ہے.
توبہ کرنے والے دل کا انعام_ Reward of repentant heart
وَأُزْلِفَتْ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ (ق: 31)
And will be brought closer the livelihood of righteous unextended.
قریب کردی جائے گی امن وآفیت کی زندگی احساس کرنے والوں کے لیے. ایک دراز شده (زندگی).
هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ (ق: 32).
This is what was promised to every individual (livelihood) totally preserved in all directions.
یہ ہے وہ وعدہ جو تم سب سےکیا گیا تھا یہ کہ تمام سمتوں سے مکمل محفوظ ہوگی (جنتی زندگی).
مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ (ق: 33).
For those who were apprehensive of merciful, not showing himself and present oneself with a remorseful heart.
جو اسکو موجود بھی نہ پاکر اپنے رب کی گرفت کا احساس کرتے ہیں، اور پشیمان دل سے اسکو حضور اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں.
ادْخُلُوهَا بِسَلاَمٍ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ (ق: 34).
Enter into it with a state of tranquillity, that would remain for over lasting period.
ایک سکون کی کیفیت میں اسمیں داخل ہوجاؤ، وہ بڑی لمبی مدت کا دورانیہ ہوگا.
لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ (ق: 35)
For them will be whatever was in it, and from us even more.
انکے لیے وہ کچھ ہے اسمیں موجود اور ہمارے پاس سے مزید اور.
Lesson from history of destructions of nation.
قوموں کی تباہی کی تاریخ سے حاصل ہونے والا سبق
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلاَدِ هَلْ مِنْ مَحِيصٍ (ق: 36).
And how many generations before them did we ruined, who were greater than them, “an eradication ", they explored the land, was there a place to escape?
کتنی ہی نسلیں ان سے پہلے ہم نے تباہ کردی جو قوت میں ان سے زیادہ تھیں" مکمل صفایا" انھوں نے زمین کے چپے چپے کو چھان مارا کیا وہاں سے فرار ہونے کی کوئی جگہ تھی؟
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ (ق: 37)
This should be a reminder for those who possess intelligence or are able to hear and witness.
اس بیان میں انکے لئے ایک یاددہانی ہے جو شعور رکھتے ہیں سنتے ہیں اور ان باتوں کی شہادتیں بھی انکے پاس ہیں.
وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (ق: 38).
Certainly, we created the celestial bodies in skies and planet Earth and whatever between, them in six era and there touched us no weakness.
ہم نے تمام خلائی اجسام اور سیارہ زمین کو، اور جو کچھ بھی ان کے درمیان موجود ہے، چھ مراحل میں تخلیق کیا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ لاحق نہ ہوئی.
Direction and guidance _ہدایت اور سمت
فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ (ق: 39).
So be patient to what they say and glorify your lord with expressing his admiration before sunrise and before sunset.
لہذا تم حوصلے سے کام لو چاہے یہ جو کچھ بھی کہتے رہیں، اور مصروف کار رہو اسکی تعریف کے اظہار میں، سورج کے طلوع ہونے سے قبل سے لے کر سورج کے غروب ہونے سے پہلے تک.
Prescribed prostration _مشروع سجدہ
وَمِنْ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ (ق: 40)
During the night also glorify him and prostate what is prescribed.
اور رات کے عرصے میں بھی مصروف کار رہو اسکے تجویز کنندہ احکام کی تابع فرمانی میں.
وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِي مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ (ق: 41).
Listen closely for the day when a herald will call you about a situation approaching (situation about to happen).
زرا دیھان دینا اس لمحے پر، جب ایک خبر رساں تمہیں خبر دے گا، اس صورتحال کی جوقریب آرہی ہوگی.
يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ (ق: 42).
The day they will hear a loud cry inevitably, that will be the day of appearance.
وہ دن کہ جب ایک ہولناک آواز حقیقت بن کر سنائی دے گی، وہ دن ہوگا پیشی کا دن..
إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُ (ق: 43).
Indeed, it is we who give life and cause death, and to us is the destination
یقیناً ہم ہی زندگی دیتے ہیں اور موت دیتے ہیں اور ہمارے پاس ہے اس کی منزل مقصود.
يَوْمَ تَشَقَّقُ الأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ذَلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ (ق: 44).
The day when the Earth cracks away from them rapidly, such assembling is easy for us to do.
وقت کا وہ مرحلہ جب تیزی سے زمین انکے لئے پھٹ جائے گی وہ حشر برپا کرنا ہمارے لئے آسان ہے.
نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ (ق: 45).
We are fully aware of whatever they say and you are not appointed upon them to force them, however remind with this compilation (Quran) who ever heeds my warning.
ہم بخوبی علم رکھتے ہیں کہ وہ کیا کچھ بول رہے ہیں (خرافات) تم ان پر طاقت سے اصلاح کرنے والے نہیں بناۓ گئے ہو، فلھذا اس تالیف (قرآن) کے ذریعے ان کو یادھانی کرواؤ جو تنبیہ کا خوف رکھتے ہیں.