12/07/2026
روایات کے مطابق، جب یزیدی فوج کا یہ قافلہ حلب کے قریب پہنچا تو انہوں نے شہر کے باہر ایک مسیحی کلیسا (Monastery) کے پاس پڑاؤ ڈالا۔
اس کلیسا کے عیسائی راہب (Monk) نے رات کے وقت دیکھا کہ جہاں امام حسین علیہ السلام کا سرِ مبارک ایک نیزے پر رکھا ہوا ہے، وہاں سے ایک نور بلند ہو رہا ہے جو آسمان تک جا رہا ہے اور فرشتے الہیٰ تسبیح و تقدیس کر رہے ہیں۔
یہ منظر دیکھ کر راہب دنگ رہ گیا اور اس نے یزیدی فوج کے لشکر کے سردار (خولی یا شمر) سے بات کی اور پوچھا کہ یہ کس کا سر ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ (معاذ اللہ) ایک باغی کا سر ہے جنہوں نے حکومت کے خلاف خروج کیا تھا، اور یہ محمد (ص) کے نواسے حسین بن علی (ع) کا سر ہے۔
۲. راہب کا احتجاج اور عقیدت
راہب یہ سن کر شدید صدمے میں آ گیا اور اس نے کہا: "تم پر افسوس ہے! اگر ہمارے نبی عیسیٰؑ کا کوئی بیٹا یا نواسہ ہوتا تو ہم اسے اپنی آنکھوں پر بٹھاتے اور اس کی خاکِ پا کو تبرک بناتے۔"
راہب نے فوجیوں کو بھاری رقم (کچھ روایات کے مطابق اپنے تمام لعل و جواہر اور درہم) پیش کیے اور التجا کی کہ صرف ایک رات کے لیے یہ سرِ مبارک اس کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ اس کی زیارت اور عبادت کر سکے۔
لالچی فوجیوں نے رقم لے کر سرِ انور ایک رات کے لیے راہب کے حوالے کر دیا۔
۳. کلیسا میں سرِ انور کا غسل اور معجزہ
راہب سرِ مبارک کو کلیسا کے اندر لے گیا۔ اس نے انتہائی احترام کے ساتھ سرِ پاک کو عطر اور گلاب سے غسل دیا، اس پر خوشبو لگائی اور اسے ایک صاف پتھر پر رکھا۔
وہ پوری رات سرِ حسین علیہ السلام کے سامنے بیٹھ کر روتا رہا، ان پر نازل ہونے والے نور کا مشاہدہ کرتا رہا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہا۔
صبح ہونے سے پہلے، راہب نے سرِ مبارک کے وسیلے سے کلمہ شہادت پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔