17/08/2026
۔۔۔۔ جلوہ وصال خصم حقیقی ۔۔۔
باطن میں تیرا دھڑکنا، یہ روح کا راز ہے یارا
تیرے پردے، تیرے جلوے، تیرا اعجاز ہے یارا
خود عاشق،خود معشوق،خود عشق جگاتا ہے
ہر بھیس میں تو خود ہی کرتا ، پرواز ہے یارا
پاکی و ناپاکی کے سب رنگ ایک ہو جاتے ہیں
جو اس راز کو سمجھے،وہی تیرا ہمراز ہے یارا
تیرے مے خانے ہیں، تیرے ہی جام ہیں ساقی
تیری محفل، تیری مستی، تیری پرواز ہے یارا
کبھی برق کی صورت، کبھی تو بادلوں جیسا
قہر کرم تیرے ہیں، تجھ سے ہوتا آغاز ہے یارا
روح و نفس کا تو خود ہی سلطان معظم ہے
تو خود آقا، تو خود مولا،تو خود ہمراز ہے یارا
تجھے جو باہر ڈھونڈے، اس نے کھو دیا تجھے
اول و آخر، تو ظاہر و باطن، تیری پرواز ہے یارا
دلوں کے بھید کھول کھول سناتے ہو، بتاتے ہو
تو ہی مشکل کشا، میرا تو ہی کارساز ہے یارا
افضال ہجر فراق کیسا،چھوڑ قصے جدائی کے
جہاں دیکھا تو خود ہے، توں بڑا فنکار ہے یارا
゚