30/05/2026
سب سے پہلے تو اس سوال کا جواب دیجئے کہ : کسی صاحبِ حق کو اس کا حق دینا عدل (انصاف) ہے یا ظلم ؟
آپکا جواب یقیناً یہی ہوگا کہ یہ عین عدل یعنی انصاف کی بات ہے۔
اچھا اور کسی کا حق مار کر کسی دوسرے کو دے دینا کیا ہے ؟ یعنی حق کسی اور کا ہو ۔۔۔ اور ہم دے کسی اور کو دیں ؟ تو آپ مانتے ہیں نا کہ یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔
جی مانتا ہوں!
اچھا ، جب یہ اصول طے پا گیا تو اب ہم بھی اسی اصول پر قائم ہیں اور آپ نے بھی اسی اصول پر قائم رہنا ہے ۔
اور ہماری اگلی بات توجہ سے سننی ہے ۔۔۔ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ موجود ہے ، وہ ہمارا خالق و مالک ہے اور ہم اس کے بندے اور غلام ہیں ۔۔۔ چونکہ وہ آقا ہے ، اس لیے ہمارے جان ، مال اور وقت پر پہلا حق اسی کا ہے اور شریعت کے مطابق عیدِ قربان پر قربانی کا جانور ذبح کرنا اللہ کا وہی حقِ بندگی ادا کرنا ہے ۔۔۔ پس ، جب ہم خدا کا حق خدا کو دے رہے ہیں تو تمہاری منطق کے مطابق بھی یہ عین عدل ہے ۔۔۔ پھر اس پر ظلم یا ناانصافی کا اعتراض کیسے بن گیا ؟
آسان کرتا ہوں مزید ۔۔۔ ابھی آپ نے تسلیم کیا کہ کسی کا حق اٹھا کر زبردستی کسی اور کو دینا یہ " ظلم " ہے ۔
اب بتائیے ۔۔۔ " قربانی " کے بجائے " واٹر کولر " لگانا خود تمہارے اس طے شدہ اصول کے تحت ظلم کہلانا چاہئے کہ نہیں ؟
باالکل کہلانا چاہئے ۔
فلہٰذا ، اگر تمہیں کسی کا حق اسے دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے تو عیدِ قربان کے اس شعار پر بھی تمہارا اعتراض عقلی طور پر باطل ہو جاتا ہے ۔ اور اگر تمہارا اصل مسئلہ قربانی نہیں بلکہ یہ ہے کہ تم خدا کے وجود یا اس کی شریعت کو ہی نہیں مانتے تو پھر منافقت چھوڑو اور سیدھے راستے سے آؤ ہم سے قربانی پر نہیں، پہلے خدا کے وجود (Existence of God) پر مناظرہ کرو۔
سمجھنے والے کیلئے تو اتنی ہی بات کافی ہے لیکن تم پھر بھی کہہ سکتے ہو کہ ٹھیک ہے ۔۔ اگر خدا کا حق ہے بھی تو ۔۔۔ خدا کو جانور کی جان لینے کی کیا ضرورت ہے ؟ وہی پیسہ غریبوں کو دے کر بھی تو خدا کا حق ادا کیا جا سکتا ہے نا ؟
جواب سنو بھی اور سوال کا جواب بھی دو : قربانی یہ حق کس کا ہے ؟ اللہ کا۔
تو یہ طے کرنے کا اختیار بھی کس کا ہوا کہ وہ حق کیسے ادا ہوگا ؟ ظاہر ہے اللہ کا ۔ بتاؤ ، اگر تمہارا کوئی مقروض تمہارا حق مار کر تمہاری مرضی کے بغیر وہ پیسہ کسی تیسرے بندے کو دان کر دے اور کہے کہ "میں نے آپ کا حق ادا کر دیا تو کیا تم اسے انصاف مانو گے؟ ہرگز نہیں۔ جب مال اور جان اللہ کی ہے تو وہ جیسے حکم دے گا ، ویسے ہی حق ادا ہوگا ۔ شریعتِ الٰہی نے زکوٰۃ کا مال غریب کا حق طے کیا ہے اور عید پر جانور کا خون بہانا اللہ کا حق طے کیا ہے تم ایک کا حق اٹھا کر دوسرے کو دے کر "انصاف" کے ٹھیکیدار نہیں بن سکتے۔
رہا یہ اعتراض کہ آپ جانور کا گلا کاٹ کر معصوم مخلوق پر ظلم کر رہے ہیں ، جانور کا بھی تو جینے کا حق ہے!
میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ بھئی ۔۔۔ اگر جانور کا جینے کا حق ہے اور اسے مارنا ظلم ہے تو پھر پورا سال جو کے ایف سی ، میکڈونلڈز اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں اربوں ٹن چکن اور بیف اڑایا جاتا ہے ، اس وقت تمہاری یہ رحم دلی کہاں منہ چھپا کر سو رہی ہوتی ہے ؟ تب تو کوئی لبرل وہاں جا کر واٹر کولر لگانے کا بھاشن نہیں دیتا ۔۔ تو کیوں ؟
پرلے درجے کی منافقت ، اسے کہتے ہیں!
اور تم لوگ ہو پرلے درجے کے منافق!
Copied