08/05/2026
الحمدللہ…إقرأ آن لائن قرآن اکیڈمی کے لیے یہ لمحہ بے حد خوشی،اور شکر کا لمحہ ہے کہ ہماری قابلِ فخر اسٹوڈنٹ، جو لندن (UK) سے تعلق رکھتی ہیں، انہوں نے نہایت کم عرصے میں اپنا مبارک سفرِ قرآن مکمل کر لیا۔
الحمد سے والناس تک…
ایک ایسا سفر جس میں صرف حروف نہیں پڑھے جاتے بلکہ دل سنورتے ہیں، روحیں جاگتی ہیں اور بندہ اپنے رب کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔
کل جب ان کا ختمِ قرآن ہو رہا تھا اور وہ آخری سورتیں تلاوت کر رہی تھیں تو خوشی، کیفیت اور محبتِ قرآن کے غلبے سے ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ وہ اپنے جذبات کو روک نہ سکیں۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ کلام ہی ایسا ہے… دلوں کو بدل دینے والا، روحوں کو نرم کر دینے والا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اللّٰهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللّٰهِ
اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا… جس سے خوفِ الٰہی رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر ان کے جسم اور دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم پڑ جاتے ہیں۔
اور فرمایا:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ
سچے ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرز اٹھتے ہیں۔
یہ وہی قرآن ہے کہ اگر پہاڑ پر نازل ہوتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا:
لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ
تو پھر ایک نرم دل انسان اس کے سامنے کیسے نہ پگھلے؟
اور پھر جب ختمِ قرآن کے بعد دعا کا لمحہ آیا تو کئی لوگ اس بابرکت مجلس میں شریک تھے۔ سب اپنے رب کے حضور امیدیں لیے بیٹھے تھے، ہاتھ اٹھے ہوئے تھے، دل جھکے ہوئے تھے، آنکھیں نم تھیں۔ کیونکہ اہلِ علم فرماتے ہیں کہ ختمِ قرآن کے موقع پر مانگی جانے والی دعا قبولیت کے بہت قریب ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس مجلس میں مانگی جانے والی ہر دعا کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین۔
فرشتوں نے جب پہلی بار اس وحیِ الٰہی کی نورانی صدا سنی تو گویا آسمانوں میں یہ مبارک صدا گونجی:
“مبارک ہے وہ سینہ جو اس کلام کو محفوظ کرے گا… مبارک ہے وہ زبان جو اسے پڑھے گی…”
إقرأ آن لائن قرآن اکیڈمی کی ہمیشہ یہی کوشش ہے کہ قرآن صرف زبانوں تک محدود نہ رہے بلکہ دلوں میں اترے، آنکھوں کو نم کرے، روحوں کو جگائے اور زندگیوں کو بدل دے۔
ہم اپنی اس قابلِ فخر اسٹوڈنٹ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کے اس سفر کو قبول فرمائے، قرآن کو ان کے لیے دنیا و آخرت کی روشنی بنائے، اور انہیں اہلِ قرآن میں شامل فرمائے۔ آمین۔
ختمِ قرآن… دراصل ایک اختتام نہیں،
بلکہ اللہ کے کلام کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔