Sahibzada Moulana Zia Ul Hassan

Sahibzada Moulana Zia Ul Hassan Islamic Scholar,Qualified from Karachi.
at

01/06/2026

مسجد کا امام ہو ، یا مدرسہ کا مدرس ، یا قوم کا رہبر!
زیادہ اپنی قوم سے لگاؤ نہ رکھے! 👇

اس واقعے کو پڑھیں: 👇

*ایک رات مولانا جلال الدین رومی نے اپنے استاد حضرت شمس تبریزی کواپنے گھر دعوت دی مرشد شمس تشریف لے آئے۔ کھانے کے سب برتن تیار ہو گئے تو شمش نے رومی سے فرمایا : کیا تم مجھے پینے کے لیے شراب لا سکتے ہو ؟ رومی یہ سن کر حیران رہ گئے کیا استاد بھی شراب پیتے ہیں؟*‼️

*شمس نے کہا: "ہاں، بالکل ۔ "
رومی نے عرض کیا: مجھے معاف کیجیے، مجھے اس کا علم نہیں " تھا۔*

*شمس نے فرمایا: اب جان گئے ہو، لہٰذا شراب لا دو۔ رومی بولے: اس وقت رات گئے کہاں سے لاؤں ؟ "

شمس نے کہا: اپنے کسی خادم کو بھیج دو۔ رومی نے کہا: میرے نوکروں کے سامنے میری عزت ختم ہو جائے گی۔*

*"شمس نے کہا:
پھر خود ہی جا کر لے آؤ۔*

*رومی پریشان ہوئے: "پورا شہر مجھے جانتا ہے، میں کیسے جا کر شراب خریدوں؟*

*شمس نے فرمایا: 👇
اگر تم واقعی میرے شاگرد ہو تو وہی کرو جو میں کہتا " ہوں۔ ورنہ آج نہ میں کھاؤں گا، نہ بات کروں گا، نہ سو سکوں گا۔*

*استاد کی محبت اور اطاعت میں رومی نے چادر اوڑھی بوتل چھپائی اور عیسائیوں کے محلے کی طرف چل دیے۔*

*جب تک وہ راستے میں تھے، کسی کو شک نہ ہوا۔ لیکن جیسے ہی وہ عیسائی محلے میں داخل ہوئے، لوگ حیران ہوئے اور ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، سب نے دیکھا کہ رومی شراب خانے میں گئے اور بوتل خرید کر چادر کے نیچے چھپا لی۔ پھر وہ نکلے تو لوگ اور بھی زیادہ ہو گئے اور ان کے پیچھے پیچھے مسجد تک پہنچ گئے۔*

*مسجد کے دروازے پر ایک شخص نے شور مچا دیا: "اے لوگو! تمہارا امام شیخ جلال الدین رومی، ابھی عیسائی محلے سے شراب خرید کر آ رہا ہے" یہ کہہ کر اس نے رومی کی چادر ہٹا دی اور بوتل سب کے سامنے آ گئی۔*‼️

*ہجوم نے غصے میں آکر رومی کے منہ پر تھوکا، انہیں مارا یہاں تک کہ ان کی پگڑی بھی گر گئی۔*

*رومی خاموش رہے، انہوں نے اپنی صفائی پیش نہیں کی۔*

*لوگ اور بھی یقین کر بیٹھے کہ وہ دھوکہ کھا گئے ہیں۔ انہوں نے رومی کو بری طرح مارا اور کچھ نے تو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا۔*⚔⚔

*اسی وقت شمس تبریزی کی آواز بلند ہوئی اے بے شرم لوگو! تم نے ایک عالم اور فقیہ پر شراب " نوشی کا الزام لگا دیا۔ جان لو کہ اس بوتل میں شراب " إنہیں بلکہ سرکہ ہے-*

*ایک شخص بولا: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ شراب خانے سے بوتل لائے ہیں۔شمس نے بوتل کھولی اور کچھ قطرے لوگوں کے ہاتھ پر ڈالے تاکہ وہ سونگھ سکیں ۔ سب حیران رہ گئے کہ واقعی یہ تو سرکہ ہے-*

*اصل بات یہ تھی کہ شمس پہلے ہی شراب خانے گئے تھے اور دکاندار کو کہہ دیا تھا کہ اگر رومی بوتل لینے آئیں تو انہیں شراب کے بجائے سرکہ دیا جائے۔*

*اب لوگ اپنے سر پیٹنے لگے اور شرمندگی کے مارے رومی کے قدموں میں گر گئے۔ سب نے معافی مانگی اور ان کے ہاتھ چومے پھر آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔*

*رومی نے شمس سے عرض کیا:
آج آپ نے مجھے کتنی بڑی آزمائش میں ڈال دیا، یہاں تک " کہ میری عزت اور وقار میرے مریدوں کے سامنے خاک میں مل گئی۔ اس سب کا کیا مطلب تھا ؟*

*شمس نے فرمایا:* 👇

*تاکہ تم سمجھ لو کہ لوگوں کی عزت اور شہرت محض " ایک فریب ہے۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ ان لوگوں کا احترام ہمیشہ قائم رہتا ہے ؟

تم نے خود دیکھا، محض ایک بوتل کے شک پر وہ تمہارے دشمن بن گئے، تم پر تھوکا مارا اور قریب تھا کہ جان لے لیتے۔

یہی وہ عزت ہے جس پر تم نازاں تھے، جو ایک پل میں ختم ہو گئی۔*😢

*آج کے بعد لوگوں کی عزت پر بھروسہ نہ کرنا۔

اصل عزت صرف اللہ کے پاس ہے جو وقت کے ساتھ نہ بدلتی اور نہ مٹتی ہے۔*💯

*وہی بہتر جانتا ہے کہ کون واقعی باعزت ہے اور کون جھوٹی عزت کا طلبگار ۔

لہٰذا آئندہ اپنی نظر صرف اللہ پر رکھو۔*

*🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا وَ مَولَانَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہِ وَ صَحْبِہِ وَ بَارِکْ وَ سَلِّم🌹*

26/05/2026

قربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوگا یا جانور کے مقام کا؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اگر کوئی برطانیہ میں مقیم ہو اوروہ پاکستان میں کسی کواپنا وکیل بنا دے کہ آپ میری طرف سے قربانی کریں، چونکہ عموماً برطانیہ والے پاکستان سے دو دن پہلے عید کرتے ہیں یعنی جس دن پاکستان میں عید ہوتی ہے وہ ان کا تیسرا دن ہوتا ہے اور جب پاکستان میں عید کا دوسرا دن ہوتا ہے تو ان کے ایامِ عید ختم ہو چکے ہوتے ہیں تو کیا یہ وکیل ان کی طرف سے دوسرے دن میں قربانی کر سکتا ہے یا نہیں؟ یعنی قربانی میںقربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوتا ہے یا جانور کے مقام کا؟ جبکہ فتاویٰ رحیمیہ میں ہے کہ جانور کے مقام کا اعتبار ہوگا اور دارالافتاء دارالعلوم کراچی سے فتویٰ دیاگیاہے کہ قربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوگا، جس کی فوٹو کاپی ساتھ منسلک کی جاتی ہے، برائے کرم اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔ مستفتی:ارشاد الرحمن،اٹک الجواب ومنہ الصدق والصواب بطور تمہید چند امور کا ابتداء میں ذکر کرنا ضروری ہے، تاکہ اصل مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ کے اندر قربانی کا تعلق چونکہ مخصوص ایام و مخصوص زمانہ کے ساتھ رکھا گیا ہے، اس لیے فقہاء کرام نے قربانی کے وجوب کے لیے بنیادی اعتبار سے دو شرطیں ضروری قرار دی ہیں: ۱-ایک یہ کہ نفسِ وجوب پایا جائے، یعنی ایامِ نحر کے مخصوص ایام شروع ہوجائیں، جو ذو الحجہ کی دسویں تاریخ کے دن صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سے لے کر بارھویں ذو الحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے تک ہے، یعنی مذکورہ ایام کا دخول قربانی کے نفسِ وجوب کے لیے بنیادی شرط ہے، ان تین ایام میں جس دن بھی چاہے قربانی کرنا جائز ہے، ان دنوں کے علاوہ میں قربانی کرنا جائز نہیں، جیساکہ ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے: ’’وأیام النحر ثلاثۃ: یوم الأضحی وہو الیوم العاشر من ذی الحجۃ، والحادی عشر، والثانی عشر بعد طلوع الفجر من الیوم الأول إلٰی غروب الشمس من الیوم الثانی عشر‘‘۔ (کتاب التضحیۃ، ج:۴،ص:۱۹۸،ط: داراحیاء التراث العربی۔ کذا فی الہندیۃ، الأضحیۃ، الباب الثالث: فی وقت الأضحیۃ، ج:۵،ص:۲۹۵،ط:رشیدیہ) اس طرح ان ایام کے گزرنے کے بعد بھی قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا، جیساکہ ’’فتح القدیر‘‘ میں ہے: ’’ ولو ذہب الوقت تسقط الأضحیۃ۔‘‘ (فتح القدیر،الأضحیۃ، ج:۸،ص:۴۲۵،ط:رشیدیہ) ۲- دوسری یہ کہ شرطِ وجوب بھی ہو اور وہ ’’غنی‘‘ (مالداری) ہے، یعنی اس شخص پر قربانی لازم ہو جاتی ہے جو مقدارِ نصاب یا اس سے زائد کا مالک ہو، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہو جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد دیگر اشیاء اس کی ملکیت میں ہوں، جیساکہ ’’الدر مع الرد‘‘ میں ہے: ’’وشرائطہا أی شرائط وجوبہا: الإسلام والإقامۃ، والیسار الذی یتعلق بہٖ وجوب صدقۃ الفطر‘‘ وفی الشامیۃ:( قولہ: والیسار) بأن ملک مائتی درہم أو عرضًا یساویہا غیر مسکنہ وثیاب اللبس أو متاع یحتاجہٗ إلٰی أن یذبح الأضحیۃ ولولہٗ عقار یستغلہٗ، فقیل: تلزم لو قیمتہٗ نصاباً وصاحب الثیاب الأربعۃ لو ساوٰی الرابع نصابًا غنی وثلاثۃ فلا۔۔۔الخ۔‘‘ (الأضحیۃ، ج:۶،ص:۳۱۲،ط:سعید) غرضیکہ یہ دو چیزیں قربانی کے وجوب کے لیے بنیادی شرطیں ہیں، لہٰذا پہلی شرط کے مطابق وقت کے داخل ہونے کے بعد ہی قربانی کرنا جائز ہوگا، نہ وقت سے پہلے جائز ہے اور نہ ہی وقت کے ختم ہونے کے بعد جائز ہے، جیساکہ ’’شرح العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر‘‘ میں ہے: ’’فلایجوز فی لیلۃ النحر ألبتۃ لوقوعہا قبل وقتہا لا فی لیلۃ التشریق المحض لخروجہٖ‘‘۔ (الأضحیۃ، ج:۸، ص:۴۳۲، ط:رشیدیہ) نیز قربانی کرنے والا جس ملک میں موجود ہے اس ملک کے ایام النحر کا اعتبار ہوگا، اگر کوئی پاکستانی مثلاً برطانیہ میں رہ رہا ہے اور وہاں ایام النحر شروع ہوجائیں تو اس پر لازم ہے کہ برطانیہ کے ایامِ نحر کے اعتبار سے قربانی کرے، کیونکہ وہاں نفسِ وجوب کا سبب پایا جاچکا ہے۔ پھر یہ کہ قربانی کرنے والے حضرات یا تو شہری ہوتے ہیں یا دیہاتی، شہری باشندوں کا حکم الگ ہے اور دیہات میں رہنے والوں کا حکم الگ ہے۔ شہری باشندوں کے لیے نمازِ عید سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا جائز نہیں، جبکہ دیہات میں رہنے والوں کے لیے طلوعِ صبح صادق کے ساتھ ہی قربانی کا جانور ذبح کرنا درست ہے، اس لیے کہ ان پر عید کی نماز واجب نہیں، جیساکہ ’’ہندیہ‘‘ میں ہے: ’’والوقت المستحب للتضحیۃ فی حق أہل السواد بعد طلوع الشمس وفی حق أہل المصر بعد الخطبۃ، کذا فی الظہیریۃ۔‘‘ (الأضحیۃ، الباب الثالث فی وقت الأضحیۃ، ج:۵، ص:۲۹۵، ط:رشیدیہ) ’’فتح القدیر‘‘ میں ہے: ’’ووقت الأضحیۃ یدخل بطلوع الفجر من یوم النحر إلا أنہٗ لایجوز لأہل الأمصار الذبح حتی یصلی الإمام العید۔‘‘ (الأضحیۃ،ج: ۸،ص:۴۳۰،ط:رشیدیہ) مذکورہ سطور سے معلوم ہوا کہ نفسِ وجوب کا تعلق مکلف یعنی قربانی کرنے والے کے ذمہ کے ساتھ ہے، لہٰذا نفسِ وجوب میں قربانی کرنے والے کے محل (مکان) کا اعتبار ہوگا۔ نیز مذکورہ بالا تفصیل کا تعلق اس مسئلہ کے ساتھ ہے کہ اگر کوئی شخص بذاتِ خود اپنے مکان ومحل میں قربانی کرے، لیکن اگر کوئی شخص از خود اپنے محل میں قربانی نہیں کرتا، بلکہ کسی دوسرے ملک میں رہنے والے کسی دوسرے شخص کو اپنی قربانی کا وکیل بنادے تو اس مسئلہ سے متعلق حکم کے لیے آئندہ سطور میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں: چونکہ نفسِ وجوب کا سبب یوم النحر ہے، جیساکہ اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوا، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی قربانی کے لیے کسی دوسرے ملک میں رہنے والے کسی شخص کو وکیل بنادے تو ایسی صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ قربانی کا وکیل بننے والا اور کروانے والا (مؤکل) دونوں کے ہاں یوم النحر ہوچکا ہے یا نہیں؟ اگر یوم نحر ہوچکا ہے تو نفس وجوب ہوگیا، اب دیگر شرائط کے پائے جانے کی صورت میں قربانی کرنے والا خود قربانی کرے یا کسی کو وکیل بناکر کروائے، دونوں صورتوں میں قربانی شرعاًادا ہوجائے گی، لیکن قربانی والا جہاں رہ رہا ہے اگر وہاں یوم نحر نہیں ہوا ہے جوکہ نفس وجوب کا سبب ہے تو جس طرح اس وقت وہ خود اپنی قربانی نہیں کرسکتا، اسی طرح اس کی طرف سے کوئی اور بھی نہیں کرسکتا، اگرچہ دوسرے شخص یعنی وکیل کے شہر یا ملک میں یوم النحر شروع ہو چکا ہو۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قربانی کے لیے رقم کسی دوسرے ملک میں بھیج دے اور کسی کو قربانی کرنے کے لیے کہہ دے تو اس طرح رقم بھیج کر قربانی کرنا اگرچہ درست ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن اتنی بات ضروری ہے کہ قربانی دونوں ملکوں کے مشترکہ دن میں کی جائے ورنہ قربانی درست نہیں ہوگی، مثلاً: برطانیہ میں پاکستان کے حساب سے دو دن پہلے اگر قربانی کے ایام شروع ہوتے ہیں اور پاکستان میں دو دن بعد تو برطانیہ میں رہنے والے آدمی کی قربانی پاکستان میں صرف پہلے دن میں صحیح ہوگی، دوسرے اور تیسرے دن میں نہیں، کیونکہ پاکستان کا پہلا دن برطانیہ کے حساب سے قربانی کا تیسرا دن ہے، جبکہ دوسرا اور تیسرا دن برطانیہ کے حساب سے قربانی کا دن نہیں۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ برطانیہ کا وقت پاکستان کے وقت سے پانچ گھنٹے پیچھے ہے، مثلاً: جب پاکستان میں صبح ساڑھے چھ بج رہے ہوتے ہیں تو برطانیہ میں رات کا ڈیڑھ بج رہا ہوتا ہے، لہٰذا اگر کوئی آدمی برطانیہ میں رہ رہا ہو اور وہ پاکستان میں کسی کو اپنی قربانی کا جانور ذبح کرنے کا وکیل بنادے تو پاکستان میں اس کی قربانی اس وقت تک شرعاً معتبر نہ ہوگی جب تک برطانیہ میں یوم نحر کی صبح طلوع نہ ہو، کیونکہ یومِ نحر کی ابتداء دس ذو الحجہ کی طلوع صبح صادق سے ہوتی ہے۔ لہٰذا برطانیہ اور پاکستان کے ایام النحر میں جو دن دونوں ملکوں میں مشترک ہو صرف اس دن میں قربانی کرنا صحیح ہوگا، اس کے علاوہ دنوں میں قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا۔ باقی فقہاء کی جن عبارات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکان اضحیہ کا اعتبار ہے تو اس کا تعلق ’’ادائ‘‘ سے ہے یعنی جانور جس جگہ پر ہے ذبح کے احکامات میں وہاں کا اعتبار ہوگا، نفس وجوب میں وہاں کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ نفس وجوب میں مکلف یعنی قربانی کرنے والے کے محل کا اعتبار ہوگا۔ اگر جانور دیہات میں ہے تو اس صورت میں دیہات میں قربانی کے جانور کو صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد ذبح کرنا جائز ہوگا، اگرچہ خود قربانی کروانے والا شہر میں ہو، جیساکہ ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے: ’’ولو أخرج الأضحیۃ من المصر فذبح قبل صلٰوۃ العید قالوا: إن خرج من المصر مقدار ما یباح للمسافر قصر الصلوٰۃ فی ذلک المکان جاز الذبح قبل صلوٰۃ العید وإلا لا‘‘۔ (الأضحیۃ، الباب الرابع: فیما بالمکان والزمان،ج: ۵،ص:۲۹۶،ط:رشیدیہ) ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے: ’’روی عن أبی یوسفؒ: یعتبر المکان الذی یکون فیہ الذبح، ولایعتبر المکان الذی فیہ المذبوح عنہ وإنما کان کذٰلک لأن الذبح ہو القربۃ فیعتبر مکان فعلہا لإمکان المفعول عنہ۔‘‘ (کتاب: التضحیۃ، فصل: وأما شرائط إقامۃ الواجب، ج:۵، ص:۷۴،ط:سعید) اس کے برعکس اگر جانور شہر میں ہے اور قربانی کرنے والا دیہات میں ہو تو اس صورت میں جب تک شہر میں کسی ایک جگہ پر بھی عید کی نماز نہیں ہوگی، جانور کو ذبح کرنا جائز نہیں ہوگا، جیساکہ ’’ہندیہ‘‘ میں ہے: ’’ولو کان الرجل بالسواد وأہلہ بالمصر لم تجز التضحیۃ عنہ إلا بعد صلٰوۃ الإمام‘‘۔ (الأضحیۃ، الباب الرابع: فیما یتعلق بالمکان والزمان،ج: ۵،ص:۲۹۶،ط:رشیدیہ) غرضیکہ ’’مکان الأضحیۃ‘‘ سے مطلق مراد لینا کہ قربانی کا جانور جہاں پر ہے وہاں اگر ایام نحر شروع ہیں تو قربانی کرنا جائز ہے، چاہے قربانی کرنے والا کسی ایسے ملک میں کیوں نہ ہو جہاں ایام نحر اَبھی شروع ہی نہیں ہوئے ہیں، ہرگز درست نہیں، کیونکہ جہاں ایامِ نحر شروع ہی نہیں ہیں وہاں اس شخص پر وجوب کا سبب ہی متحقق نہیں ہوا اور وجوب ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا جب تک کہ نفسِ وجوب کا تحقق نہ ہو۔ اس پوری تفصیل کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہوا کہ قربانی کروانے والے (مؤکل) اور کرنے والے (وکیل) کے مکان میں اگر اختلاف اور فرق ہوتو دونوں جگہوں میں دیگر شرائط کے ساتھ ایام نحر کا پایا جانا ضروری ہے۔ باقی جہاں ’’فتاوی رحیمیہ‘‘ میں ایک سوال کے جواب سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مفتی صاحبv نے مطلق مکان اضحیہ کو معتبر قرار دیا ہے خواہ قربانی کروانے والے شخص (مؤکل) پر نفسِ وجوب (ایامِ نحر کا پایا جانا) متحقق ہوا ہو یا نہیں۔ تو گزشتہ تفصیل اور فقہاء کرام کی صریح عبارات کے مطابق یہ رائے درست نہیں ہے، کیونکہ جواب میںپیش کردہ صاحبِ ہدایہ کی عبارت کا تعلق شہری اور دیہاتی سے متعلق ہے کہ شہری اگر دیہات میں اپنا جانور قربانی کی نیت سے بھیج دے تو ایسی صورت میں مؤکل کے شہر میں عید کی نماز پڑھی گئی ہو یا نہ پڑھی گئی ہو بہر دو صورت دیہات میں اس جانور کی قربانی شرعاً معتبر ہوگی اور اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ شہر میں رہنے والے شخص پرقربانی کا وجوب متحقق ہو چکا ہو اور وہ ایام نحر ہیں۔ قربانی کا وجوب متحقق ہونے سے قبل اگر جانور ذبح کردیا جائے تو لامحالہ ایسی قربانی شرعاً معتبر نہیں۔ لہٰذا حضرت مفتی صاحبv کا سائل کے جواب میں یہ فرمانا کہ مدراس میں عید الاضحی پیر کے دن ہو اور مدراس میں رہنے والا کوئی شخص حیدر آباد میں رہنے والے کسی شخص کو اپنی قربانی کے لیے وکیل بنادے، جبکہ حیدر آباد میں عید الاضحی مدراس سے ایک دن قبل یعنی بروز اتوار ہو تو مدراس والے کی طرف سے حیدرآباد میں بروز اتوار قربانی کی جاسکتی ہے۔ تو حضرت مفتی صاحبv کی یہ رائے فقہی عبارات کے مطابق درست نہیں ہے، کیونکہ قربانی کا جانور ذبح ہوتے وقت مدراس والے پر قربانی کا وجوب ہی متحقق نہیں ہوا جس کی تحقیقی تفصیل ماقبل میں گزری اور ادباً عرض ہے کہ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں ہمیں حضرت مفتی صاحبv کی تحقیق یا رائے سے اتفاق نہیں ہے۔ باقی زیرِ بحث مسئلہ کے بارے میں استفتاء کے ہمراہ منسلک دارالعلوم کراچی کے فتویٰ کو بغور پڑھنے کے بعد واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی مطلق جانور کا محل معتبر نہیں، بلکہ مؤکل پر بھی نفسِ وجوب کا پایا جانا ضروری ہے، یعنی دونوں جگہوں پر ایامِ نحر کا پایا جانا ضروری ہے ، لہٰذا اس مسئلہ میں ان کی اور ہماری آراء میں کوئی اختلاف نہیں۔ فقط واللہ اعلم الجواب صحیح الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ محمد عبد المجید دین پوری محمد انعام الحق محمد شفیق عارف طارق جمیل الجواب صحیح الجواب صحیح متخصص فقہ اسلامی محمد عبد القادر محمد داؤد جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن

24/05/2026

ام عمارہ نسیبہ بنت کعب: وہ مجاہدہ طبیبہ جنہوں نے اپنے وجود کو نبی کریم ﷺ کے لیے ڈھال بنا دیا
خاندانِ بنو مازن (قبیلہ خزرج) کے چشم و چراغ عمرو بن عوف کے شجرے سے تعلق رکھنے والی اس عظیم خاتون کا نام نسیبہ بنت کعب ہے۔ ان کی والدہ گرامی رباب بنت عبداللہ تھیں۔ نسیبہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح زید بن عاصم بن کعب سے ہوا، جن سے ان کے نامور بیٹے حبیب پیدا ہوئے (جنہیں بعد میں مسيلمہ کذاب نے بڑی بے دردی سے شہید کیا)۔ زید کے انتقال کے بعد وہ غزيہ بن عمرو کے عقدِ نکاح میں آئیں، جو بیعتِ عقبہ کے خوش نصیب شرکاء میں سے تھے۔

شعورِ دین اور سفرِ عقبہ
جب اسلام کی روشنی نسیبہ کے قلب میں اتری، تو انہوں نے حق و باطل کے اس معرکے کی حساسیت کو فوراً بھانپ لیا۔ ان کا ماننا تھا کہ دینِ حق کی نصرت کے لیے کسی بھی مومن کا پیچھے بیٹھ رہنا جائز نہیں ہو سکتا۔ ایمان کی بنیادی حقیقتوں پر ان کی نظر اتنی گہری تھی کہ انہوں نے اسلامی دعوت کو درپیش تمام اندرونی و بیرونی خطرات کا ادراک کر لیا تھا۔ وہ مدینہ اور مکہ دونوں جگہوں کی اسلامی سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر رہتیں، یہی وجہ تھی کہ وہ خود بیعتِ عقبہ کے موقع پر حاضر ہوئیں تاکہ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر وفاداری کا عہد کر سکیں۔ اسی دن سے انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا اور تاریخ کے ہر کٹھن موڑ پر صفِ اول میں نظر آئیں۔
غزوۂ احد: جرات و شجاعت کی لازوال داستان
احد کے میدان میں جب رن پڑا، تو نسیبہ اپنے سرفروش بیٹوں اور چند جانثار صحابہ کے ساتھ رسالت مآب ﷺ کے گرد حصار بن کر کھڑی ہو گئیں۔
سعید بن زید انصاری روایت کرتے ہیں کہ ام سعد بنت سعد بن الربیع بیان کرتی ہیں:
"میں ایک بار ام عمارہ سے ملنے گئی اور ان سے احد کے احوال دریافت کیے۔ انہوں نے بتایا: 'میں صبح سویرے پانی کا مشکیزہ لے کر نکلی تھی تاکہ زخمیوں کی خدمت کروں اور حالات کا جائزہ لوں۔ اس وقت تک لشکرِ اسلام کا پلہ بھاری تھا اور فتح کے آثار نمایاں تھے۔ لیکن جب اچانک مسلمانوں میں افراتفری مچی اور وہ پسپا ہونے لگے، تو میں لپک کر اللہ کے رسول ﷺ کے قریب پہنچ گئی اور خود تلوار تھام کر دشمن کے آگے دیوار بن گئی۔ میں کبھی تلوار سے وار کرتی تو کبھی کمان سے تیر برساتی، یہاں تک کہ دشمن کے پے درپے حملوں نے مجھے شدید زخمی کر دیا۔'
ام سعد کہتی ہیں کہ میں نے ان کے موڈھے پر ایک گہرا اور ہولناک زخم دیکھا تو پوچھا کہ یہ کس کا وار تھا؟ ام عمارہ نے جواب دیا: "یہ ابن قمئہ کا وار تھا، اللہ اسے برباد کرے۔ جب مسلم فوج کے قدم اکھڑ گئے تو وہ بدبخت چلاتا ہوا آگے بڑھا: 'مجھے محمد (ﷺ) کا پتا بتاؤ، اگر وہ بچ گئے تو میرا بچنا بیکار ہے!' اس نازک وقت میں، میں، مصعب بن عمیر اور چند ثابت قدم صحابہ اس کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ اس نے مجھ پر یہ گہرا وار کیا، میں نے بھی پلٹ کر اس پر کئی ضربیں لگائیں، مگر وہ بدبخت دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لیے میری تلوار اس کے جسم کو نہ کاٹ سکی۔"

بے مثال استقامت اور جرات کا ہمالیہ
میدانِ احد میں نسیبہ رضی اللہ عنہا کے اس کردار کو دیکھیے؛ نہ کوئی لغزش، نہ خوف، نہ فرار کا خیال اور نہ ہی کوئی عذر۔ ان کا ہر قدم ایمان کے اعلیٰ ترین درجے پر تھا اور انہوں نے خطرے کی سنگینی کے مطابق حق ادا کیا۔ دین کی حفاظت اور نبی کریم ﷺ کے دفاع کا جو جذبہ ان کے اندر موجزن تھا، وہ اس وقت کے بڑے بڑے جلیل القدر مردوں سے کسی بھی طرح کم نہ تھا۔ جب اچھے اچھوں کے قدم ڈگمگا رہے تھے، وہ چند جانثاروں کے ساتھ چٹان کی طرح جمی رہیں۔
اس ہولناک صورتحال میں ایک خاتون اس سے بڑھ کر اور کیا قربانی دے سکتی تھی؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بڑے بڑے سورما بھی وہ نہ کر سکے جو انہوں نے کر دکھایا۔ یاد رہے کہ یہ وہی ابن قمئہ تھا جس نے لوہے کے لباس میں ملبوس ہو کر اسلام کے عظیم علمدار حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، اور جو زرہ اور ڈھال کے بلبوتے پر مسلم کمانڈ کے مرکز تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ ایسے خوفناک جنگجو کے سامنے ام عمارہ ڈٹ گئیں؛ وہ وار پر وار کر رہی تھیں، مگر دشمن کی زرہ آڑے آ رہی تھی۔ اسی دوران اس نے نسیبہ کے کندھے پر ایسا کاری وار کیا جس سے ایک ایسا گہرا زخم آیا جس میں انسان کی پوری ہتھیلی سما جائے۔ اس کے باوجود، اس غازی خاتون نے بہتے خون کے ساتھ لڑائی جاری رکھی!

فتحِ حق اور جنت کی رفاقت
جب ایمان دلوں میں راسخ ہو جائے، تو تاریخ ایسے ہی سنہرے ابواب رقم کرتی ہے۔ احد کا معرکہ ختم ہوا تو ام عمارہ شدید زخمیوں میں شامل تھیں، مگر ان کا نام ان غازیوں میں لکھا جا چکا تھا جنہوں نے پیاسوں کو سیراب کیا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی اور میدانِ جنگ میں تلوار چلا کر رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے تحسین حاصل کی۔ آپ ﷺ نے ان کے بیٹے عبداللہ سے فرمایا تھا:
"اللہ تمہارے اس گھرانے پر برکتیں نازل فرمائے، تمہاری ماں کا مرتبہ تو آج فلاں اور فلاں سے بھی بڑھ کر ہے۔
یہ سن کر ام عمارہ رضی اللہ عنہا تڑپ اٹھیں اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرما دیجیے کہ آخرت میں ہمیں آپ کی ہمسائیگی نصیب ہو جائے۔" حضور ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا:
"اے اللہ! ان سب کو جنت میں میرا رفیق بنا دے۔
جنت کی رفاقت کی مہر لگتے ہی ام عمارہ پکار اٹھیں: "اب دنیا میں مجھ پر کوئی بھی مصیبت آئے، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔"
احد کے بعد تاریخ کا کوئی ایسا میدان نہیں تھا جہاں ام عمارہ نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ دیا ہو۔ وہ اسلام کی تحریک کا ایک متحرک حصہ بن چکی تھیں اور دشمنوں کی ہر سازش پر گہری نظر رکھتی تھیں۔

بیٹے کی شہادت اور یمامہ کا انتقام
ام عمارہ کی زندگی صبر اور استقامت کا بہترین نمونہ تھی۔ وہ آزمائش کا وقت تھا جب نبی کریم ﷺ نے ان کے لختِ جگر حبیب کو مسيلمہ کذاب کے پاس سفیر بنا کر بھیجا، مگر اس بدبخت نے انہیں وحشیانہ طریقے سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے شہید کر دیا۔ نسیبہ نے اس المناک خبر کو پہاڑ جیسے جگر کے ساتھ سنا اور اپنے رب سے عہد کیا کہ وہ یا تو خود مسيلمہ کو ختم کر دیں گی یا اس راہ میں اپنی جان قربان کر دیں گی۔
جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکرِ یمامہ روانہ ہوا، تو وہ اپنے دوسرے بیٹے عبداللہ کے ساتھ اس فوج کا حصہ بن کر نکلیں۔ وہاں پہنچ کر خونریز جنگ ہوئی، مرتدین نے شروع میں مسلمانوں کو پیچھے دھکیلا مگر لشکرِ اسلام باطل کی جڑ کاٹنے کے لیے پرعزم تھا۔ فضا "اللہ اکبر" کے نعروں سے گونج اٹھی۔ احد اور بدر کے غازیوں نے مرتدین کی صفیں الٹ دیں، جس کے بعد مسيلمہ اپنے بچے کچھچے فوجیوں کے ساتھ ایک قلعہ نما باغ (حدیقۃ الموت) میں محصور ہو گیا۔ مسلمانوں نے بے پناہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس باغ کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئے۔
ام عمارہ اس موت کے باغ میں تلوار لہراتی ہوئی داخل ہوئیں، ان کی آنکھیں صرف اپنے بیٹے کے قاتل مسيلمہ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ دشمن کے مہرے ان کا راستہ روک رہے تھے، مگر وہ صفیں چیرنے کا ہنر جانتی تھیں۔ آخر کار وہ اور ان کا بیٹا عبداللہ مسيلمہ کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ عبداللہ نے اس پر زوردار وار کیا اور اسی لمحے حضرت وحشی بن حرب کا نیزہ بھی اس کے جسم کے پار ہو گیا، جس سے وہ کذاب واصلِ جہنم ہوا اور اللہ نے ام عمارہ کے دل کو ٹھنڈک پہنچائی۔

خلیفہِ وقت کی نظر میں مقام و مرتبہ
اس عظیم معرکے سے جب ام عمارہ واپس مدینہ آئیں، تو ان کے جسم پر بارہ گہرے زخم تھے اور ایک ہاتھ بھی کٹ چکا تھا۔ وہ اپنے گھر میں زیرِ علاج تھیں، مگر ان کا جذبہ اب بھی جوان تھا۔ جب خلیفہِ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کے زخموں اور کٹے ہوئے ہاتھ کا علم ہوا، تو وہ ذاتی طور پر ان کے گھر عیادت کے لیے تشریف لاتے، ان کا حال پوچھتے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔ یہ اسلام ہی ہے جو معاشرے میں ایسی اعلیٰ اقدار پیدا کرتا ہے جہاں وقت کا حکمران اور رسول ﷺ کا یارِ غار خود چل کر ایک انصاری خاتون کی عیادت کرتا ہے۔
یہ تھیں نسیبہ رضی اللہ عنہا؛ ایک عظیم مربی، مجاہدہ، اور داعیہ جنہوں نے مردوں کی تربیت کی، اپنے عہدِ وفا کو سچ کر دکھایا اور رہتی دنیا تک کی خواتین کے لیے قربانی، ایثار اور استقامت کا ایک روشن مینار بن گئیں۔
اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے، آمین!

معزز قارئین! آپ نے اس ایمان افروز واقعے کو آخر تک پڑھا، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہو، تو اسے لائک اور کمنٹ کے ذریعے آگے بڑھانے میں ہماری مدد کریں تاکہ یہ پیغام دوسروں تک پہنچے۔
حوالہ جات
المغازی
الطبقات الکبریٰ
السیرۃ النبویہ
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ
سیر اعلام النبلاء
المستدرک علی الصحیحین

20/05/2026

جب ایک صحابی نے دوسرے صحابی کو نظر لگادی تو پھر رسول پاک ؐ نے ہمیشہ کےلئے نظر کا کیا علاج بتایا

ایک دن رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف سفر فرما رہے تھے۔
دورانِ سفر ان کا گزر ایک کنویں کے پاس سے ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس جگہ کا نام (شِعب الخَرَّار) تھا۔
صحابیِ رسول سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے غسل کرنے اور اپنے جسم کو سفر کے گرد و غبار سے صاف کرنے کا ارادہ کیا۔
یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ مکہ، مدینہ یا عموماً صحرائی علاقوں کے مردوں کی جلد مٹی سے بھری ہواؤں اور انتہائی تیز دھوپ کے براہِ راست اثر کی وجہ سے خشک اور گندمی (سانولی) ہوتی ہے۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی جلد اس کے بالکل برعکس تھی۔
وہ انتہائی سفید، صاف اور خوبصورت تھی۔
یہی وہ چیز تھی جس نے دوسرے صحابی سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی جب انہوں نے سیدنا سہل کو غسل کرتے ہوئے دیکھا۔
انہوں نے (تعجب سے) کہا
(ما رأيت كاليوم، ولا جلد مخبأة)
(یعنی: میں نے آج سے پہلے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا، اور نہ ہی کسی ایسی دوشیزہ (پردہ نشین لڑکی) کی جلد دیکھی ہے جو کبھی دھوپ میں نہ نکلی ہو، بلکہ یہ تو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے)۔
ابھی عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل کو دیکھا ہی تھا اور یہ جملہ زبان سے نکالا ہی تھا کہ سیدنا سہل بن حنیف فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور پھر ہوش میں نہ آئے۔
صحابہ کرام نے انہیں ہوش میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر افسوس کہ وہ ناکام رہے۔
چنانچہ انہوں نے سیدنا سہل کو اٹھایا اور تیزی سے نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں لے گئے اور عرض کیا:
(اے اللہ کے رسول! کیا آپ سہل کی خبر لیں گے؟ اللہ کی قسم! وہ اپنا سر تک نہیں اٹھا پا رہے ہیں)۔
نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا
(هل تتهمون فيه من أحد؟)
(کیا تمہیں اس معاملے میں کسی پر شک ہے؟)
انہوں نے عرض کیا:
(عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھا تھا)۔
تب رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو بھیجا تاکہ وہ عامر بن ربیعہ کو بلا لائیں۔
جب عامر تشریف لائے، تو نبی کریم ﷺ نے شدید ناراضگی میں ان سے سوال کیا اور فرمایا
(علامَ يقتل أحدكم أخاه؟ هلا إذا رأيت ما يعجبك بركت!)
(یعنی: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو (محض نظر کی چوٹ سے) کیوں قتل کرنے پر تلا ہوا ہے؟ جب تم نے کوئی ایسی چیز دیکھی تھی جو تمہیں پسند آئی، تو تم نے برکت کی دعا کیوں نہ دی؟!)
(هلا إذا رأيت ما يعجبك بركت)
کا کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی کے پاس کوئی خوبصورت یا اچھی چیز دیکھیں جو آپ کی توجہ کھینچ لے، تو آپ پر لازم ہے کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ اس شخص کے لیے اس چیز میں مزید اضافہ کرے اور برکت عطا فرمائے۔
چنانچہ آپ کہیں:
(اللهم بارك)
یا کہیں:
(تبارك الله)
یا کہیں:
(بارك الله لك)
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو فہمائش اور ملامت کرنے کے بعد، نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ سہل کے لیے غسل کریں۔
(يغتسل لسهل)
(سہل کے لیے غسل کرے)۔
(يغتسل لسهل) یعنی سہل کے لیے غسل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
آپ ﷺ نے عامر کو حکم دیا کہ وہ پاک پانی لائیں۔
اس سے اپنا چہرہ، دونوں ہاتھ کہنیوں تک، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے اطراف (ٹخنوں اور انگلیوں سمیت) دھوئیں۔
اور اپنے تہبند (لوئی) کا اندرونی حصہ بھی اس برتن کے پانی میں ڈبوئیں۔
یہ سارا پانی ایک ہی برتن میں جمع کیا گیا۔
پھر اس پانی کو پیچھے کی طرف سے سیدنا سہل کے سر اور پیٹھ پر بہا دیا گیا۔
اس کے بعد کیا ہوا؟
جیسے ہی وہ پانی سیدنا سہل پر ڈالا گیا، وہ اسی وقت ہوش میں آ گئے۔
اٹھ کھڑے ہوئے اور صحابہ کے درمیان یوں چلنے لگے جیسے انہیں کبھی کوئی تکلیف ہی نہ ہوئی ہو۔
کیا اس چیز کو "حسد" کہا جائے گا؟
جی نہیں!
اس کو (العین) یعنی نظرِ بد کہا جاتا ہے۔
تو پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟
ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔
عائن (نظر لگانے والا):
یہ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی کے پاس کوئی اچھی یا خوبصورت چیز دیکھتا ہے۔
وہ اسے پسند آتی ہے، لیکن وہ اس کے لیے برکت اور اضافے کی دعا کرنا بھول جاتا ہے۔
نتیجے کے طور پر، بغیر کسی بری نیت یا ارادے کے، اس کی نظر دوسرے کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔
نظر لگانے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
باپ، ماں، بھائی یا کوئی بھی ایسا شخص جو آپ سے محبت کرتا ہو۔
یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ سے نفرت کرتا ہو۔
یہاں تک کہ نظر لگانے والا کوئی نیک انسان، کوئی مذہبی شخص یا کوئی دیندار لڑکی بھی ہو سکتی ہے۔
حاسد (حسد کرنے والا):
یہ وہ بدخواہ اور کینہ پرور شخص ہوتا ہے جو دل میں نفرت چھپائے ہوتا ہے۔
وہ یہ تمنا کرتا ہے کہ آپ کے پاس موجود نعمت آپ سے چھن جائے اور آپ اس سے محروم ہو جائیں۔
ایسے شخص کا عذاب اللہ کے ہاں بہت ہی زیادہ سخت ہے۔
اسی لیے، جب بھی آپ کسی دوسرے کے پاس کوئی اچھی چیز دیکھیں، تو آپ کو کہنا چاہیے
(اللهم بارك، ما شاء الله تبارك الله، اللهم زد وبارك)
اور اگر وہ خوبصورت یا اچھی چیز خود میری اپنی ہو اور میری ملکیت ہو، تو مجھے کہنا چاہیے
(ما شاء الله لا قوة إلا بالله)
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے
(وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)
[الكهف: 39]
(ترجمہ: اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے کیوں نہ کہا کہ جو اللہ چاہے، اللہ کی مدد کے بغیر کوئی طاقت نہیں)۔
نظرِ بد کے نقصانات (احادیث کی روشنی میں)
نظرِ بد انسان کو قبر تک پہنچا سکتی ہے، اس لیے اپنے ضمیر کو اس گناہ سے پاک رکھیں، خواہ آپ کو یقین ہی کیوں نہ ہو کہ آپ اس کا سبب نہیں بنے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے
(العين حق، ولو كان شيء سابق القدر سبقت العين، وإذا استغسلتم فاغسلوا)
(رواہ مسلم)
(ترجمہ: نظر کا لگنا حق (سچ) ہے، اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظرِ بد ہوتی۔ اور جب تم سے غسل کا مطالبہ کیا جائے تو غسل کر دیا کرو)۔

امام ابو نعیم اصبہانی نے الحلیہ میں اور ابنِ عدی نے حسن سند کے ساتھ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(العين تدخل الرجل القبر، وتدخل الجمل القدر)
ترجمہ: نظرِ بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں داخل کر دیتی ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لئے (ان کلمات سے) پناہ طلب کیا کرتے تھے: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ
''میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔" (صحیح بخاری:3371)

اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔ نظر بد سے بچنے کی یہ مسنون دعا خود بھی پڑھا کریں اور شئیر کرکے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

15/05/2026

کس کو کس سے کیا چاہیئے ۔محبت بمقابلہ مال
غور کریں ۔۔۔۔۔۔۔اور سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے گردوپیش کو

﴿إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا﴾
“جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اُس کا بھائی ہمارے والد کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں۔”
يوسف کے بھائیوں نے اُن سے مال یا دولت کی وجہ سے حسد نہیں کیا،
بلکہ اُس محبت کی وجہ سے کیا
جو اُن کے والد کے دل میں اُن کے لیے تھی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
دل کی نعمتیں
ہاتھ کی نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔
محبت، خلوص، توجہ،
اچھا اخلاق،
اور کسی کے دل میں جگہ بن جانا
یہ وہ خزانے ہیں
جو دنیا کے مال سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں۔
کبھی ایک نرم بات،
ایک مخلص دعا،
یا ایک محبت بھری مسکراہٹ
کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سکون دے دیتی ہے۔
اس لیے لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کریں،
کیونکہ محبت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے،
اور پاکیزہ دل
اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔
اے اللہ!
ہمارے دلوں کو حسد، کینہ اور نفرت سے پاک فرما،
ہمیں محبت، اخلاص اور رحم دلی عطا فرما،
ہماری زبان کو نرم اور ہمارے اخلاق کو حسین بنا،
اور ہمیں ایسا انسان بنا
جس کی موجودگی دوسروں کے لیے سکون اور رحمت کا سبب ہو۔
ہمیں سچی محبتیں، پاکیزہ تعلقات اور دلوں کی راحت عطا فرما۔
آمین يا رب العالمين۔

25/04/2026

تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:

"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"
اس شخص نے جواب دیا: "اے عبداللہ! میرا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔"
عمرؓ نے دوبارہ یہی بات کہی۔
شخص نے پھر وہی جواب دیا۔
عمرؓ نے پوچھا: "اسے کیا مصروفیت ہے؟"
تو اس نے جواب دیا: "یہ ہاتھ غزوۂ مؤتہ میں زخمی ہوا تھا، اب حرکت نہیں کرتا۔"

یہ سن کر عمرؓ اس کے پاس بیٹھ گئے اور رونے لگے، اور سوالات کرنے لگے:

"تجھے وضو کون کراتا ہے؟
تیرے کپڑے کون دھوتا ہے؟
تیرا سر کون دھوتا ہے؟
اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔؟"

اور ہر سوال کے ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
پھر انہوں نے اس کے لیے ایک خادم، ایک سواری اور کھانے کا بندوبست کیا، اور اس سے معذرت کرنے لگے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی بات کہہ دی جو اسے تکلیف دے گئی۔

اسی طرح قوانین بنتے ہیں...

عمرؓ رات کو مدینے کی گلیوں میں گشت کرتے تھے، نہ کہ رعایا پر نظر رکھنے کے لیے، بلکہ ان کے حالات جاننے کے لیے۔

ایک رات انہوں نے ایک دیہاتی عورت کو اپنے شوہر کی یاد میں اشعار پڑھتے سنا:

"طویل ہو گیا ہے یہ رات، اور اس کا اندھیرا بڑھ گیا ہے
مجھے نیند نہیں آتی کہ میرا محبوب میرے ساتھ نہیں
اگر نہ ہوتی وہ ذات جس کا عرش آسمانوں پر ہے
تو یہ بستر میرے ہجر کی شدت سے ہل گیا ہوتا"

امیر المؤمنین قریب آئے، سنا، اور پھر دروازے کے پیچھے سے پوچھا:
"اے بہن! کیا ہوا؟"

عورت نے جواب دیا:
"میرے شوہر کئی مہینوں سے جہاد کے لیے گئے ہوئے ہیں، میں انہیں یاد کرتی ہوں۔"

عمرؓ فوراً اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور پوچھا:
"عورت اپنے شوہر کی جدائی کتنے عرصے برداشت کر سکتی ہے؟"

بیٹی شرما گئی اور سر جھکا لیا، تو عمرؓ نے عاجزی سے کہا:
"اللہ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اگر یہ سوال رعایا کے معاملے کے لیے نہ ہوتا تو میں نہ پوچھتا۔"

حفصہؓ نے جواب دیا:
"چار، پانچ یا چھ مہینے۔"

عمرؓ واپس گئے اور تمام فوجی کمانڈروں کو لکھا:
"فوجوں کو چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔"

یوں عورت کے ایک فطری حق کی بنیاد پر ایک قانون بنا۔
یہ قانون ریاست نے نہیں، بلکہ معاشرے (ایک دیہاتی عورت اور حفصہؓ) نے تشکیل دیا۔ ریاست نے صرف اسے نافذ کیا۔

اسی طرح عورت کا قانون تشکیل پایا۔

ایک رات عمرؓ گشت پر تھے تو ایک بچے کی رونے کی آواز سنی۔ قریب گئے اور پوچھا:
"کیا ہوا بچے کو؟"

ماں نے کہا:
"میں اسے دودھ چھڑوا رہی ہوں، اس لیے رو رہا ہے۔"

ظاہر ہے، یہ عام بات تھی۔ لیکن عمرؓ نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ عورت صرف اس لیے بچے کو وقت سے پہلے دودھ چھڑا رہی ہے تاکہ بیت المال سے ملنے والے سو درہم حاصل کر سکے، جو صرف دودھ چھڑانے کے بعد دیے جاتے تھے۔

عمرؓ گھر واپس گئے، مگر نیند نہ آئی۔ اس بچے کی سسکیوں نے دل کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے فوراً حکم جاری کیا:
"بچے کو پیدائش کے وقت ہی سے سو درہم دیے جائیں، نہ کہ دودھ چھڑانے کے بعد۔"

یوں بچوں کے لیے قانون بنا جو ان کی مناسب غذا اور صحت کا ضامن بن گیا۔
اگر عمرؓ اس عورت سے گفتگو نہ کرتے تو یہ قانون نہ بنتا۔

یوں بچے کا قانون بھی تشکیل پایا۔

عمرؓ کو اپنے بھائی زید سے محبت تھی، جو حروبِ ارتداد میں شہید ہو گئے تھے۔
ایک دن بازار میں عمرؓ کی ملاقات زید کے قاتل سے ہوئی، جو اب مسلمان ہو چکا تھا۔

عمرؓ نے غصے سے کہا:
"اللہ کی قسم! میں تجھ سے اتنی نفرت کرتا ہوں جتنا زمین بہتے ہوئے خون سے کرتی ہے!"

اعرابی نے پوچھا:
"کیا اس نفرت سے میرے حقوق متاثر ہوں گے، اے امیر المؤمنین؟"

عمرؓ نے کہا:
"نہیں۔"

تو اعرابی نے بے پروائی سے کہا:
"محبت کا غم تو عورتیں کرتی ہیں۔"
(یعنی مجھے تمہاری محبت کی پروا نہیں، میرے اور تمہارے درمیان صرف حقوق اور فرائض کا رشتہ ہے)

عمرؓ نے غصے کے باوجود نہ اسے جیل بھیجا، نہ سزا دی۔
اس کی آزادی رائے کا احترام کیا۔

یوں معاشرے میں آزادیِ اظہار کا قانون بنا۔

ایک عورت نے ایک جمعے کے خطبے کے دوران کہا:
"اے عمر! تم غلطی پر ہو۔"

یہ اس وقت ہوا جب عمرؓ نے مہر کی حد مقرر کرنے کا قانون تجویز کیا۔
وہ عورت عام تھی، مگر اس کی دلیل درست تھی۔

عمرؓ نے نہ اسے گرفتار کیا، نہ سزا دی، نہ شرمندہ کیا، بلکہ علی الاعلان کہا:
"عمر غلطی پر تھا، اور عورت نے درست کہا۔"

اور اس قانون کو واپس لے لیا۔
یوں مہر کی مقدار کا فیصلہ معاشرے پر چھوڑ دیا گیا۔

یوں قوانین بنتے ہیں۔۔۔ معاشرے کی ضرورت، خواہش، روایت، اور فطری تقاضوں سے۔

قانون نہ ایوان اقتدار میں بنتے ہیں، نہ محلات میں، بلکہ لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، ان کی حالت سن کر، ان سے سیکھ کر۔
اصل قانون ساز معاشرہ ہے،؛ اقتدار
نہیں۔

Address

Moh: Sahibzadgan Village & P/O Tordher
Swabi
23610

Telephone

+923138843990

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahibzada Moulana Zia Ul Hassan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share