17/08/2024
*گلی کوچوں میں بیٹھنے کا سنگین فتنہ اور درمندانہ اپیل:*
جیسا کہ آپ حضرات کو بخوبی علم ہے کہ فتنوں کا دور ہے اور آئے روز طرح طرح کے سنگین فتنے نمودار ہوتے جارہے ہیں، جن کی روک تھام اور خاتمے کے لیے اگر انفرادی اور اجتماعی طور پر حکمت سے بھرپور مناسب اقدامات نہ کیے جائیں تو ان کی آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، پھر اس تباہی پر سوائے افسوس کے اور کیا رہ جاتا ہے! انھی فتنوں میں سے ایک سنگین فتنہ یہ عام ہوچکا ہے کہ ہمارے بہت سے لوگ خصوصًا نوجوان بلا ضرورت گھروں کے باہر، گلی کوچوں میں اور تعلیمی اداروں کے باہر محفل جمائے بیٹھے رہتے ہیں۔ اسمارٹ فون کی تباہ کاریوں میں قیمتی وقت اور صلاحتیں ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ اونچی آواز سے گانے اور فلمیں دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ بلند آواز سے باہمی گپ شپ، مذاق اور بیہودگیاں کررہے ہوتے ہیں۔ راہ چلتی ، گھروں میں داخل ہوتی اور گھروں سے نکلتی خواتین کو تاڑ رہے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ طرح طرح کے گناہوں اور دیگر اخلاقی خرابیوں میں مبتلا ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے خواتین کو گزرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آس پاس کے گھروں کے رہائشی بھی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ماحول کی خرابی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ بلکہ یہ سلسلہ اتنا سنگین اور خوفناک ہوتا جارہا ہے کہ اب تو راہ چلتی خواتین یعنی ہماری بہنوں اور بیٹیوں پر آوازیں کسنے اور انھیں ہراساں کرنے کی شکایات اور دیگر حیا سوز مناظر بھی سامنے آنے لگے ہیں، گویا کہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں اور معاشرے کی حیا کا محفوظ رہنا بھی مشکل ہوتا چلا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ کئی سارے نوجوان نشہ کرنے اور نشہ آور چیزوں کی خرید وفروخت کی بدترین عادت میں بھی مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ یہ خرابیاں بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔ اور یہ بات بھی بالکل واضح سی ہے کہ معاشرہ تباہی کے دہانے پر یکدم آکھڑا نہیں ہوتا، بلکہ جب مسلسل ایسے فتنوں سے چشم پوشیاں کی جاتی ہیں اور انھیں برداشت کیا جاتا ہے تب جاکر یہ افسوس ناک دن دیکھنے پڑتے ہیں!
اس لیے معاشرے کی اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر میری نہایت ہی درمندانہ اور مؤدبانہ گزارش ہے مساجد کے ائمہ کرام سے، حضرات اہلِ علم سے، دینی وسیاسی جماعتوں کے عہدیداران سے، دینی وعصری تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے، محلے اور علاقے کی کمیٹیوں کے ممبران سے، والدین سے اور اس اخلاقی زوال پر رنجیدہ اور فکرمند تمام حضرات سے کہ آپ سب حضرات ترجیحی بنیادوں پر انفرادی اور اجتماعی طور پر ایسے فتنوں کی روک تھام اور خاتمے کے لیے مناسب اقدامات کریں، مفید تدابیر اختیار کریں اور ایسے افراد کو تربیتی ماحول فراہم کریں، کیونکہ یہ ہماری شرعی واخلاقی ذمہ داری ہے، ورنہ تو یہ بڑھتا سیلاب ہماری نئی نسلوں کے اخلاقی کردار کو بہا لے جائے گا اور معاشرے کو تباہی سے ہم کنار کردے گا جو کہ دنیا وآخرت میں بڑے خسارے کا باعث ہوگا۔ یقینًا ہم سب اپنے معاشرے کی دینی ودنیاوی فلاح وبہبود کے لیے فکرمندی کا مظاہرہ کریں گے۔
آخر میں گلی کوچوں میں بیٹھنے والے بھائیوں سے یہ خیرخواہانہ اپیل ہے کہ اپنے آپ کو ان اخلاقی خرابیوں سے بچانے کی فکر کریں، اپنی زندگی بامقصد بنانے کی کوشش کریں اور اپنے آپ کو معاشرے کا ایک مثالی اور مفید فرد بنانے کا عزم کریں، یہ آپ کے لیے دونوں جہاں میں مفید رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہوجائے۔
✍🏼۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی