Qazi Fazl Ullah Fans

Qazi Fazl Ullah Fans This page belongs to the Fans of Qazi Fazlullah Sb.Only videos of Qazi Sb will be shared on this page

27/12/2023

*نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ناداں مسلمانو!*
*تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں (علامہ اقبال)*

*قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ*

سیاست دراصل
"القیام علی الشئی بما یصلحہ"
سے عبارت ہے ۔
"یعنی کسی چیزکی اصلاح کی ذمہ داری لینا"
اب اس کا اطلاق کسی بھی چیز کی اصلاح کی ذمہ داری پر ہوسکتا ہے۔لیکن جو سیاست متبادر الی الذہن ہے یعنی سن کے اس کا جو تصورذہن میں آجاتا ہے تو وہ
"اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد ہے"
جو کہ فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں کیونکہ امور اجتماعی کی ذمہ داری بھی تو کسی نہ کسی نے لینی ہے اگر چہ یہ طلب اور تگ ودو تقویٰ کے خلاف ہے۔رسول پاکﷺنے فرمایا
لانومّرمن استامرنا
جس نے ہم سے امارت مانگی ہم اس کو امارت نہیں دیتے۔
لیکن یہ بات خیرالقرون کی تھی جہاں بہت سارے اہل لوگ موجود تھے اور ہر ایک بطورخوداس کا اہل تھا۔لیکن جب یہ معلوم ہوجائے کہ اگر میں اس فلاں کام کےلیے آگے نہ آؤں تو یہ نااہل کے ہاتھ میں جاکرکسی کے لیے ضرر کا باعث ہوگا یا ملک وقوم کے لیے ضرر کاباعث ہوگا تو پھر ایسے میں اس کا تقاضا کرنا یا اس کے لیے تگ ودو کرنا کوئی بری بات نہیں بلکہ بسا اوقات وہ ایک مستحسن عمل ہے ۔حضرت یوسف علیہ السلام نے اسی وجہ سے مطالبہ کیا تھا کہ
اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم
مجھے زمین کے خزانوں پر لگادے یقیناً میں(اس کی)حفاظت کرنے والا اور (اس کام کا)عالم(ماہر)ہوں۔
البتہ اب تو سیاست نام ہی اس کا رہ گیا ہے کہ اقتدار ملے یا اس میں کچھ حصہ ملے اور کچھ نہ ہو تو کچھ مفاد تو ضرورملے اور انتخابی سیاست تو نام بھی اسی کا ہے ۔اس لیے اس کے لیے الیکٹ ایبلز ڈھونڈنے پڑتے ہیں ،ان کی منت سماجت کی جاتی ہے کہ ان کا اپنا بھی ایک کافی ووٹ بینک ہوتا ہے اور سینٹ کے لیے سرمایہ داروں،جاگیرداروں اور صنعت کاروں کو آس دی جاتی ہے کہ ان کے پاس ایک بڑا منی بینک ہوتا ہے ۔بالفاظ دیگرساری سیاسی پارٹیاں بنکرز کو ڈھونڈتی رہتی ہیں ۔یعنی وہ جن کے پاس ووٹ بینک ہے یا وہ جن کے پاس منی بینک ہے کہ وہی تو فنڈنگ کرتے ہیں ۔پارٹی کو کم ہی کرتے ہونگے پارٹی والوں کو زیادہ کرتے رہتے ہیں اور پارٹی والے تو سب معلوم ہوتے ہیں اور ان کے مدارج ،درجات ،گریڈز اور لیول ہوتے ہیں۔اور جو بڑی پارٹیاں ہیں جن کا کہ اقتدار میں آنے کےا مکانات ہوتے ہیں وہ ایک تیسرے بینک والوں کے ساتھ بھی بنا کے رکھتے ہیں اور وہ بینک ہے پاور بینک ۔تو گویا افرادی قوت والے ،مالی قوت والے اور قوت والے تینوں مل جائیں تو اقتدار میں آنے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں اور ان سارے بینکوں والوں کو جو ساتھ شامل کیا جاتا ہے تو اصل میں ووٹ بینک والے اور منی بینک والے بھی توپاور بینک والوں کے ساتھ ان ٹچ رہتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے کہ اگلے دو تین دنوں میں آپ سے ملنے کے لیے کچھ لوگ آئیں گے پھر ان کے ساتھ اپنا معاملہ سیٹل Settleکروائیں اور ان آنے والوں کو بھی بتادیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں سے جاکے ملیں ۔
یہ ایسا ہے جیسا کہ بٹیر پکڑنے والے مختلف طریقے اپناتے ہیں ۔ان میں ایک "چغہ"والا ہوتا ہےتو جب وہ بٹیر دیکھ لیتا ہے تو آواز لگاتا ہے "نیشتہ"نون کے کسرہ کو اشباعی اور یاء کو ممدودہ کرکے کہتے ہیں "نیشتہ"تو بیٹیر دبک جاتا ہے اور ساتھ وہ دوسرے اس پر جال کھینچ لیتے ہیں۔اب ان کے اپنے اصول ہوتے ہیں کہ بٹیر کس کا ہوگا "نیشتہ "والے کا یا کہ جال والے کا یا کہ مشترک ہوگا جبکہ یہاں کے یہ سیاسی بٹیر سارے پاور بینک والوں کے ہوتے ہیں ۔یہ انہی کے اشارات پر اٹھتے بیٹھتے اور اچھلتے کھودتے ہیں۔اس لیے تو یہ کبھی اپنے پارٹی لیڈر کو راہ درمیان چھوڑ دیتے ہیں اور جب تک رہتے ہیں تو یہ پارٹی میں پاور بینک والوں کے لیے کام کرتے ہیں اور لیڈر سے کرواتے رہتے ہیں کہ پاور بینک والوں کے مرضی یہ ہے ۔اب ساروں کو تو پاور بینک والوں کی طاقت تو معلوم ہوتی ہی ہے لہذا وہ وہی کرتے ہیں جو القاء ،الہام یا وحی وہاں سے آتی ہے اور اس میں ساری پارٹیاں شامل ہیں۔البتہ ان کے بھی درجات ،مدارج ،سٹیجز اور لیول ہوتے ہیں کہ اس سے کیا کام لینا ہے،اور کتنا لینا ہے اور اس دوسرے سے کیا کام لینا ہے اور کتنا لینا ہے اور ہر ایک کو کتنا دینا ہے ،کب دینا ہے اور کب تک دینا ہے۔
"لکل نباء مستقر"
ہر بات (اورکام)کا ایک مستقر(وقت مقرر)ہوتا ہے ۔
اور پیچھے ہے کہ
"فسوف تعلمون"
سو جلد تمہیں سمجھ آجائے گی۔
اور یہاں بھی سمجھ آجاتی ہے اس لیے لہجوں میں کبھی مٹھاس ہوتی ہے ،کبھی تلخی آجاتی ہے۔کبھی پاور بینک والوں کو للکارا جاتا ہے اور کبھی ان سے تقاضا کیاجاتا ہے اور کبھی ریاست کا تمسخراڑاتے ہیں اور کبھی ریاست کے تحفظ کے مامے بن جاتے ہیں اور ریاستی اداروں کے بھی کبھی اینٹ سے اینٹ بجانے کا ایک پُھسپھسا سا غبارہ پھاڑ دیتے ہیں اور کبھی لیول پلئینگ فیلڈ کا عریضہ پیش کرتے ہیں اور یہ بھی اپنے اپنے انداز سے سارے کرتے ہیں۔کہ کس کو کس انداز سے بات کرنا آتا ہے تو کوئی تو اپنی بات کو کچھ انقلابی شعراء کے چند اشعار کا تڑکہ لگالیتے ہیں حتی کہ کچھ وہ لوگ جن کو نہ کبھی فیض مسلمان لگا تھا ،نہ جالب اور نہ ہی احمد فراز ،وہ بھی ان کے اشعار کو اپنے مقصد کے لیے گنگناتے ہیں اگر چہ اس کا شعر کہتے ہوئے یہ پتہ نہیں لگتا کہ وہ شعر پڑھ رہا ہے کہ کبھی نہ عروض وقوافی پڑھے اور نہ ہی کبھی شعری ذوق رہا ہے ۔تو اس کا شعر کہنا شعر تو نہیں ہوتا لیکن اسے نثر بھی نہیں کہا جاسکتا تو پتہ نہیں کیاکہتا ہے ۔لیکن ہمارے ہاں پشتو میں ایک ضرب المثل ہے کہ
"غرضی خو پہ خٹہ اور لگئ"
"غرضی بندہ غرض کے وقت کیچڑ پر بھی آگ لگاتا ہے"
جو لگتا تو نہیں لیکن اس کی خود غرضی کا کیا علاج۔
کہ غرض پاگل بنادیتا ہے اور پاگلوں کے حرکات تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔
چونکہ ہمارا تو ذوق ابتداء ہی سے شعری رہا ہے کہ پرائمری سکولز کے ٹائم سے میں نعت خوانی کرتا رہا ۔بعد ازاں عربی ادب میں اشعار کے مجموعے اور فارسی ادب میں اشعار کے مجموعے اساتذہ سے پڑھے اور سکول میں پشتو ،فارسی ،اردو حتی کہ انگریزی نظمیں تو پڑھی ہی تھیں ۔پھر سیاسی میدان میں شعروں کی طبع آزمائی کرتے رہے جبکہ مذہبی اجتماعات میں بابا عبدالرحمن ،مولانا روم اور علامہ اقبال ودیگران کے اشعار تو تقاریر کا حصہ ہوتے جبکہ سیاسی اجتماعات میں فیض ،جالب ،احمد فراز ،ساحر لدھیانوی اور ساغر صدیقی وغیرہ کے اشعار کے تڑکے لگاتے۔تو ہم اسلام آباد یونیورسٹی میں تھے تو کچھ اس ذوق کے طلباء نے فیض احمدفیض کی وفات پر یونیورسٹی ہاسٹل سے باہر جمع ہوکر اس کو Tributeپیش کیا۔تو دوسرے دن یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس کچھ دیگر طلباء نے ہمارے خلاف درخواست دی کہ ان طلباء کو یونیورسٹی سے نکالاجائے ۔اب وہ زمانہ افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کا تھا اور اس قسم کے اجلاس ،اشتراکیت کا سپورٹ سمجھا جاتا تھا اور اس زمانے میں جنرل ضیاء کی حکومت یعنی مارشل لاء تھا اور اس کی پالیسی انٹی سوویت یونین حوالے سے فرنٹ پر تھی ۔تو جب درخواست چلی گئی تو یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے اس پر بات کی کہ کیا کیا جائے تو انتظامیہ میں بھی تو ہر فکر کے لوگ ہوتے ہیں تو ایک دو اچھے فکر کے حامل لوگوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اس میں قوم پرست طلبہ تنظیم کے کچھ طالب علم بھی تھے اور کچھ سوشلسٹ فکر کے حامل بھی تھے ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس میں تو قاضی فضل اللہ بھی تھے جو ایک مذہبی طلبہ تنظیم کے صدر ہیں ،ساتھ وہ مدرسے کے فارغ التحصیل بلکہ دین پڑھانے والے بھی ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ تو جہاد افغانستان کے حوالے سے جمعیۃ علماء اسلام کی نمائندگی کرتے رہتے ہیں کہ اس زمانے میں کچھ علماء کرام تو جنرل ضیاء الحق صاحب کے ساتھ تھے بصورتے یا بدیگر کہ اس نے بعضوں کو اپنی بنائی ہوئی شوراؤں میں کھپایا تھا اور بہت ساروں کے مدرسوں کے لیے گرانٹس دیا کرتا تھا۔نیز محکمہ تعلیم کے زیر سایہ ایک ادارہ مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب پرنٹ کرواکر ان کو فراہم کرتا تھا تو ساروں کی اپنی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں تو بہت سارے مشہور اور بڑے علماء بھی جماعتی سرگرمیوں سے کنارہ کش کیا ہوئے تھے مخالف ہوئے تھے اور مفتی محمود صاحب وفات پاچکے تھے توبعض علماء اپنا گروپ بناچکے تھے ۔اور بہانے کئی ایک تھے ۔ایک تو یہ کہ مفتی صاحب کا بیٹا ٹھیک ہے فاضل تو ہے لیکن تدریسی مہارت اب تک پیدا نہیں ہوئی ۔اب جوان ہے اس کو پڑھانے دیں اور جب مہارت ،پختگی اور میچورٹی آئے تو پھر وہ قیادت سنبھالیں گے ۔ہم نے سوچا کہ اب نہیں ہوگا تو پھر تو کبھی بھی نہیں ہوگا اگر چہ کام مشکل تھا ۔اور پھر یہ کہ آپ لوگ تو ایم آر ڈی میں ہیں وہ تو ساری سیکولر جماعتیں ہیں اورا س میں پیپلز پارٹی ہے جس کی سربراہی عورت کررہی ہے اور اس میں این ڈی پی ہے جس کی کم از کم صوبہ سرحد میں کرتا دھرتا ایک عورت ہے اور عورت کی سربراہی؟پھر مولانا صاحب جوان تھے جذباتیت تو ہوتی ہے تو حکمت اس میں تھی کہ اینٹی پاور بینک سیاست ہو اور اس کا ماحول بھی تھا کہ پاور بینک مسلط تھا۔اور سیاست پر قدغنیں تھیں ۔تو وہ زیادہ تر نظر بند ہوتے یا گھر میں یا کسی ریسٹ ہاؤس میں اور جو کچھ سرپھرے نوجوان تھے جن میں اکثریت تعلیمی اداروں کے طلباء کی تھی اور کچھ متحرک قسم کے بڑے بھی ساتھ ہوتے تو ساری تکالیف اور اذیتیں ،مصائب ،لاٹھی چارج ،آنسو گیس وغیرہ وغیرہ یہ لوگ ہمارے ساتھ برداشت کرتے رہے۔اور اس زمانے میں توسوویت یونین افغانستان آیا تھا لیکن قوم پرست اور سوشلسٹ پاکستان بالخصوص سرحد ،بلوچستان اور سندھ میں بھنگڑے ڈالتے رہتے کہ سرخ انقلاب آرہا ہے اور مہاجرین کو کوستے رہتے کہ یہ بھگوڑے آئے ہیں۔
بہر تقدیرتو کام مشکل یہ تھا کہ ایک جانب ہم ایم آرڈی میں تھے اور دوسری جانب افغانستان کے مسئلے پر ہم سوویت مداخلت کے خلاف تھے تو مولانا صاحب تو زیادہ تر نظر بندرہتے اور نہ بھی رہتے تو داخلی سیات کے حوالے سے تو ایم آرڈی میں سرگرم رہنا ضروری تھا کہ ایک اکیلے ہم تو اس قابل نہ تھے کہ مارشل لاء سے لڑیں تو وہاں پر بھی اپنا ریکارڈ خراب نہیں کرنا چاہتے تھے ۔تو مشورہ یہ تھا کہ افغان مجاہدین کے اجتماعات میں قاضی فضل اللہ جائے گا اور یہ اس لیے بھی کہ وہ مولوی تھے اور مجھ پر بھی مولوی کا ٹھپہ تو لگاہوا تھا پھر ساتھ یہ نوجوان لوگ بھی ہوتے تو اجلاس میں ان ایک دو حضرات نے اس کا سہارا لیا اور یوں میں تو بچ ہی گیا لیکن جیسا کہ قانون میں ہے کہ شبہ کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے تو شبہ پیدا ہوا کہ یہ تو افغان مجاہدین کے اجتماعات میں جمعیت علماء اسلام کی نمائندگی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ نوجوانوں کو حضرت شاہ صاحب کا فلسفہ پڑھاکے کوشش کرتا ہے کہ وہ نہ تو ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کے فکر کے حامل بنیں اور نہ ہی الحادی اشتراکیت کے ۔تو کہا گیا کہ اس کے حوالے سے تو اس کے اپنے مسلک کے علماء کہتے ہیں کہ یہ سوشلزم سکھا اور پڑھا رہا ہے تو جواب دیا گیاکہ وہ مذہبی فتوی یا رائے نہیں سیاسی ہے کہ وہ علماء جنرل ضیاء کی طرف ہیں اور یہ دوسری جانب ایم آرڈی کے ساتھ ہیں۔
بہر تقدیر ہم کوئی الزام نہیں دیتے ان لوگوں کو جنہوں نے یونیورسٹی کو یہ درخواست دی تھی کہ وہ اسلامی جذبہ کے تحت صحیح سمجھتے تھے نہ ان علماء کو کوئی الزام دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنے تئیں اسلام کو محفوظ بنانے کے لیے ہمارے خلاف ایسی رائے دیتے تھے ۔
سو بات یہ کرنی تھی پاپولر پالٹکس جس کو پاور پالٹکس کہتے ہیں یا اس کو مفاداتی سیاست بھی کہہ سکتے ہیں ا س کا تقاضا یہی ہے کہ کسی وقت کون سی بات تمہارے فائدے میں جاسکتی ہے جبکہ ہمارے اس دور کے پالٹکس میں تو پاور تھا ہی نہیں کہ مارشل لاء تھا تو ایک تو نظریات کی تعلیم وترویج ہوتی اور ہم سب بڑے نظریاتی بنتے کہ مفادات کا تو میدان ہی مہیا نہیں تھا اور شکر ہے کہ نہیں تھا۔ورنہ تو
؎ خر درکان نمک رفت نمک شد
اور
؎ چوں گِل بسیار شود فیلان بلغزند
اور رسول پاکﷺنے فرمایاکہ
ان من التقوی ان لاتجد
یہ بھی تقویٰ میں سے ہے کہ تم پاتے نہیں ۔یعنی تمہیں موقع میسر نہ ہوا۔
اس کو حضرت شاہ صاحب "اختطاف الی خظِرۃ القدس"کہتے ہیں کہ اچک کے لیجانا خظِرۃ القدس کی طرف۔
شاید وہ مرحلہ ایسا تھا ورنہ تو انسان مادی دنیا میں مادیات اور اس میں غرق ہونے اور اس کو ہر ممکنہ طریقہ سے حاصل کرنے سے کیسے چوکے گا؟
"الا من رحم ربک"
اور خدا تادم مرگ بچاکے رکھے ۔لغزشیں تو بہت ہوئی ہونگی لیکن اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے کیونکہ بہت ساری لغزشیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ بندے کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا نہ کرنے سے پہلے ، نہ کرتے وقت اور نہ کرنے کے بعد ۔
بہر تقدیر تو کہنا یہ تھا کہ اس وقت کی سیاست کو اقدار کی سیاست کہہ سکتے ہیں جس میں زمان ومکان اور احوال وظروف کا حصہ زیادہ تھا۔اقدار وافکار کی سیاست میں افراد کی بھی اورملک وقوم کی بھی اصلاح احوال مدنظر ہوتا ہے ۔دراصل یہ سیاست زیادہ تر موضوعی ہوتی ہے یعنی افکار وتصورات اور نظریات کی اصلاح کی ہوتی ہے۔اس سیاست میں اخلاقیات کا مقام سب سے اوپر ہوتا ہے یہ اولین ترجیح ہوتی ہے جبکہ اقتدار کی سیاست معروضی ہوتی ہے یعنی اس میں زمینی حقائق کو دیکھ کر منصوبہ سازی کی جاتی ہے ۔ہرسیاست دان اپنی سیاست کو احوال وظروف ،زمان ومکان اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے میں لگا رہتا ہے۔یعنی یہ اقدار ،اخلاق اور نظریات نہیں بلکہ اس میں نمبرز گیم ہوتا ہے لہذا ہر پارٹی اپنے ساتھ ان کو شامل اور ان کو اہمیت دیتی ہے جو اس کے لیے سیٹ جیت سکتے ہیں جبکہ انہی الیکٹ ایبلز خصوصاً جو کسی ذمہ دار پوسٹ پرآجاتے اس کے متعلق یہی لیڈرز کہتےتھے کہ یہ تو پیتا ہے یعنی شراب یا چرس یا بھنگ ۔لیکن ساتھ شامل ہوکے پھر اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے مسجد بنائی ہے ،یہ شب زندہ دار ہے وغیرہ وغیرہ اور اس بھگٹٹ میں کئی ایک الیکٹ ایبلز اورسرمایہ داروں کو شامل کروارہے ہیں جیساکہ ایک ایک حلقے سے چار چار کو لڑوائیں گے ۔تو جب ٹکٹس کی تقسیم ہوگی تو جس کو نہ ملے وہ اس رفتار سے خزان کی پتوں کی طرح گرکر علیحدہ ہوجائیں گے۔
ایسے میں پارٹیاں اتحادات بھی کرتی ہیں اپنے لیے زیادہ سیٹ لینے کے اساس پر نہ کہ کسی نظریاتی ہم آہنگی کے اساس پر۔ یعنی یہ گیم ہے اور اس کے لیے اچھے بیٹرز ہی کو ترجیح حاصل ہے جبکہ اب تو اخلاقیات کی حالت یہ ہے کہ فلسطین میں بچوں ،بوڑھوں ،عورتوں سب کا قتل عام ہورہا ہے اور اور تو درکنار مسلمان ممالک بھی انسانی امداد بھجواتے ہیں یعنی خوراک اور دوا وغیرہ یعنی انہوں نے اس کو بھی کھیل سمجھ رکھا ہے اور ظاہر بات ہے کھیل کو تو جاری رکھنا ہوتا ہے ۔پلیئرز زخمی ہوں تو ان کا علاج کیا جاتا ہے ،ان کو کھانا دیا جاتا ہے لیکن ساتھ یہ کہ کھیلو ۔یہ مختصر جنگ بندی کیا ہوتی ہے اور کس لیے ہوتی ہے تاکہ وقفے میں فلسطینیوں کوکھانا دے کر قربانی کے لیے کچھ فربہ کیا جائے ۔کچھ خدا کا خوف کریں۔
میکاؤلی جس کو ماڈرن پالٹکس کا باوا آدم سمجھا جاتا ہے اور سارے اس کو فالو کرتے ہیں وہ لکھتا ہے کہ
"ری پبلک ہی آئیڈیل ہے لیکن اس کے لیے عوام کا نیک ہونا لازمی ہے جبکہ وہ نیک نہیں"
اور ہم کہتے ہیں وہ اس لیے نیک نہیں کہ نظام اور ان کے ان کے داتا ان کو نیک ہونے نہیں دیتے ورنہ پھر تو وہ دھتکارے جائیں گے اور پھر تو نیک اور صالح نمائندے منتخب ہونگے تو یہ بدمعاش اور استحصالی پھر کیا کریں گے ۔لہذا اس کی خیر اسی میں ہے کہ عوام اس حوالے سے کبھی بھی نیک نہ بنیں وہ ان کو بھوکا اور مجبور رکھتے ہیں تاکہ ان کو کہیں نیک سوچنے کا موقع اور وقت ہی نہ ملے ۔تبھی میکاؤلی کہتا ہے کہ
اقتدار کے لیے اخلاقیات کو نظر انداز کیا جاتا ہے ،اقدار کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔
ایسے لوگوں کو اقتدار ملے تو وہ ریاست کا تحفظ ترجیح اولین قرار دیتے ہیں بایں معنی کہ اس کے لیے اخلاق کا جنازہ نکالنا ہے ،اقدار کو روندنا ہے یاکہ نظریہ کو بالائے طاق رکھنا ہے تو وہ بھی کردیتے ہیں اس لیے کہ ان کو پتہ ہے کہ یہ ریاست رہے اور میرے یہ طریقے رہے تو اقتدار میں رہ سکتے ہیں ورنہ نہیں ۔وہ تو اس کے لیے انسانوں کے خون سے ہولی بھی کھیلتے ہیں ،ان کے عہود ووعدے مفاہمت ومصالحت او رمحاذ واتحاد وغیرہ اسی ایک مقصد کے لیے ہوتے ہیں اور جیسے ہی ان کو کوئی خطرہ محسوس ہو تو کاہے کا وعدہ ،کون سی مفاہمت ومصالحت اور کون سا اتحاد ومحاذ؟سب کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے ۔کہ یہ قرآن وحدیث کا حکم تو نہیں؟اور یہ کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے اور یہ جوڑتوڑ اس کھیل کا لازمی حصہ ہے اور یہ کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی ۔اور بدقسمتی یہ کہ یہ بات نظریات کے بارے میں بھی کی جاتی ہے ۔یہ اتحادات وغیرہ تب بنتے ہیں جب غیر سیاسی لوگ یعنی پاور بینک والے زیادہ دخل اندازی کرتے ہیں اور سیاست دان خود کو محسوس کرجاتے ہیں کہ ہم تو ایسا کارتوس ہیں جس میں چھرے یا گولی تو ہے لیکن اس کے ساتھ بارود نہیں اور بارود تو پاور بینک میں ہوتا ہے تو پھر یہ باردو کے حصول کے لیے متحد ہوجاتے ہیں اور ہر ایک کا تقاضا ہوتا ہے کہ میرے اندر ذرا زیادہ بھروادیا جائے۔ان میں سے کسی کا یہ مطالبہ کبھی نہیں ہوتا نہ ہوسکتا ہے کہ ہمیں بارود دیں اور بس ۔بلکہ یہی کہتے ہیں کہ یہ آپ لوگوں نے فلاں کو کیوں بھروادیا اور ہمیں کھوکھلا چھوڑ دیا۔ایسے میں عامۃ الناس میں بے چینی ،اضطراب،غصہ اور ذہنی ہیجان پیدا ہوتا ہے اور اس لیے ہر پارٹی جب انتخابات آجاتے ہیں تو منشور کمیٹیاں بنادیتے ہیں کہ ایک انقلابی منشور د دیں لیکن بدقسمتی سے ملک میں لکھے ہوئے دستور اور لکھی ہوئی قوانین پر کتنا عمل ہوتا ہے کہ پارٹیوں سے گلہ کیا جائے کہ لکھے ہوئے منشور پر عمل نہیں ہوا۔لیکن خطرہ یہ ہے کہ یہ غصہ ،اضطراب ،بے چینی اور ذہنی ہیجان کہیں بے قابو نہ ہوجائے ورنہ تو پھر ہر بندے کے اندر ہی اندر ایک میدان جنگ پیدا ہوجاتا ہے اور یوں ملک میں داخلی اور اندرونی جنگ کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے ۔یہ آئے دن کے واقعات جو عدم برداشت ،عدم صبر اور غصے کیوجہ سے رونما ہوتے ہیں یہ وہ سگنلز ہیں کہ اندر ہی اندر ایک میدان بنا ہوا ہے ہر بندے کے اندر ایک ہیجانی کیفیت ہے اور صرف پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں نہیں دنیا تو ایک اکائی ہے تو ترقی یافتہ ممالک میں آئے روز ایسے دل خراش واقعات رونما ہورہے ہیں چاہے مقامی محرکات میں اختلاف ہو لیکن اندرونی ذہنی کیفیات تو وہی ہیجان واضطراب والے ہیں حتی کہ خودکشیاں بھی ہورہی ہیں اور وجہ یہی ذہنی ہیجان اور اضطراب ہے اور پھر ممالک کے درمیان بھی جنگیں ہوتی ہیں جبکہ جنگ کے بعد کیا ہوگا اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی اور نتیجہ ظاہر ہے کہ تباہی وبربادی ،افراتفری اور خانہ جنگیاں ہوتی ہیں یعنی ڈھیر سارے تنازعات جنم لیتے ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ساری جماعتیں اقتدار میں رہیں یا شریک اقتدار رہیں اور جو بھی اٹھتا ہے تو کہتا ہے کہ پچھتر سال سے آپ پاکستان کو لوٹ رہے ہیں اس ملک کے نظریے کا مذاق اڑارہے ہیں پتہ نہیں یہ کس سے کہہ رہے ہیں ؟اگر پاور بینک والوں سے کہہ رہے ہیں تو یہی جماعتیں ان کو لانے والی تھیں ان کا ساتھ دینے والی تھیں اور سب نے مختلف اوقات میں ساتھ دیا یا تو اس لیے کہ اس کے مخالف کو رگڑا لگایا جارہا تھا یا اس لیے کہ ان کو کچھ حصہ مل گیا تھا۔ ہاں یہ ٹھیک ہے ان میں کوئی بھی آخر تک ان کے ساتھ نہیں رہا اس لیے کہ مخالف رگڑا گیا تو ان کا مقصد پورا ہوگیا۔یا پھر ان کو مزید کی آس تھی وہ نہیں مل رہا یا جو مل رہا تھا وہ ختم ہوگیا یا کاٹ دیا گیا اور اگر کوئی حکومت یہاں کی جو جمہوریت ہے کنٹرولڈ مینجڈ اور انجنیئرڈ اس کے تخت آئی تو بھی یہ ساری جماعتیں مختلف اوقات میں اقتدار میں رہیں یا شراکت اقتدار میں تو اس قسم کے جذباتی جملے کہہ کر یہ عوام کو تو مسحور کردیتے ہیں لیکن ضمیر نام کی کوئی چیز بھی تو ہوتی ہے لیکن غالباً اس وقت اس کو سلادیا جاتا ہے ،پُھسلا دیا جاتا ہے یا وہ خود کہیں گھاس چرنے چلی جاتی ہے ۔یہاں حکومتیں بنتی ہیں تو داخلی پاور بینک کی مرضی سے تو بنتی ہی ہیں لیکن اس میں خارجی پاور بینک یعنی عالمی طاقت کی مرضی لینی بھی ضروری ہوتی ہے کہ کون سی پارٹی اور کون سا وزیر اعظم ہوگا ورنہ پیٹریاٹ بنانا تو ایک آسان کھیل ہے ایک دو تین کی طرح ۔اور پھر کابینہ میں تین وزارتیں وزارت خارجہ تو یہ عالمی طاقت کی مرضی کے مطابق ان کے منظور نظر کو دیا جائے گا ،وزارت دفاع داخلی پاور بینک کی مرضی سے اور وزارت خزانہ خارجی منی بینک کے حکم کےمطابق یعنی عالمی مالیاتی اداروں کی مرضی سے دیاجائے گا۔اوریہ اس لیے کہ ملک ان کا مقروض ہے اور قرضوں کے بمع سود کے حصول کے لیے ان کا کارندہ ضروری ہوتا ہے۔اور کہنے کو ہم آزاد بھی ہیں اور خودمختار بھی ۔یہ صحیح ہے ساری دنیا میں اصل پاور طاقت ور اور اداروں کے پاس ہوتی ہےلیکن جس انداز سے تھرڈ ورلڈ اور بالخصوص مملکت خداداد میں ہوتا ہے یہ بہت کم ہی کہیں ہوتا ہے ۔دراصل تھرڈ ورلڈ میں سیاست دان مالک تو بالکل نہیں ہوتے بلکہ راہن اور اجارہ دار بھی نہیں ہوتے یہ ہاری اور کسان ہوتے ہیں کہ جب مالک چاہے ایک کو نکالے اور دوسرے کو دیدے ۔سیاست دانوں کی یہ جنگ ہاری بننے پر ہوتی ہے ۔اب یہ یہاں کا سیٹ اپ ہے یہ اپ سیٹ نہیں ہوگا اور اس میں عقل مند و ہ ہے جو اپنے لیے ان زمینی حقائق میں ہاری بننے کا راستہ نکالے ۔یہی ہے پاور پالٹکس بلکہ پالٹکس آف پاور کہ پاور بینک سے بنا کے رکھے تو کچھ نہ کچھ ملے گا ۔ اب پھر سے جو الیکٹ ایبلز کی کچھ تھوک کے حساب سے او رکچھ پرچون کے حساب سے پوسٹنگ ،ٹرانسفر شروع ہوچکی ہے یہ اس پالٹکس کی ماہیت ہے یہی اس کا جنس اور فصل ہے۔
سو سیاست کا یہ ورژن جو سکہ رائج الوقت بن چکا ہے یعنی اقتدار کی سیاست جس کے لیے معروضی حالات ہی کو سب کچھ سمجھا جاتا ہے اور اس میں اخلاق واقدار یا نظریات کا بہت کم ہی گزر ہوتا ہے بلکہ جوش اور جذبات میں لاکر لوگوں کو ساتھ لگایا جاتا ہے جس کے لیے جو نظام ہوتا ہے جیسا تیسا بھی ہے اس کی بھی مٹی پلید کی جاتی ہے انتظامی ہو ،عسکری ہو کہ عدالتی ہو یاکہ مقننہ ہو ان کی وقعت کا خون کرجاتے ہیں جسکا نتیجہ پھر افراتفری ہی ہوتی ہے اگر چہ یہ ادارے اور ان کی تاریخ کچھ مثالی نہیں لیکن مثالی تو کوئی بھی نہیں لیکن اگر نظام گرجاتا ہے تو لیبیا اور عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ وہاں کیا ہے افراتفری ہے ،گینگز ہیں ،مافیاز ہیں ،قتل وغارت گری ہے ،جان ،مال عزت وآبرو کچھ بھی محفوظ نہیں اگر چہ ان کے وہ قتل شدہ حکمران بھی کوئی زیادہ اچھے نہ تھے کہ آمر تھے البتہ کرپٹ نہیں تھے ۔اب مخالفین نے بھی کہا خصوصاً عراق کے سابق صدر کے حوالے سے کہ اس نے کوئی چیز اپنے نام نہیں رکھی سب کچھ ریاست کے نام پر تھا ۔اس کے دور میں تعلیم کی شرح سو فیصد اور پی ایچ ڈی کے لیول تک مفت تھی ،انفراسٹرکچر تھا ۔لیبیا کی حالت اس جیسی تو نہ تھی لیکن خطہ میں سب سے بہتر تھی لیکن وہ دونوں کبھی کبھی عالمی سامراج کے مقابلے میں ڈٹ جاتے تو سامراجی قوتوں نے ان کو پروپیگنڈا سےفریم کیا اور یہ ففتھ جنریشن وار جو پروپیگنڈا اور مسلسل پروپیگنڈا سے چلتی ہے اس کی ابتداء تقریباً وہاں سے ہوئی کہ یہ ایسے ہیں ،ایسے ہیں ،تھے لیکن جو پروپیگنڈا کیا گیا ویسے نہیں تھے۔توان کی صفحہ ہستی سے مٹانے کا سامان کردیا ۔اب ان کے مخالفین بھی خود کو کوس رہے ہیں کہ نظام کو گرا کر ہم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑا چلایا ہے۔
تاریخ کو دیکھ کر یہ نظر آتا ہے کہ بڑوں بڑوں نے برداشت کیا لیکن نظام کو نہیں گرایاکہ ان کو اس کے آفٹر ایفیکٹس کا ادراک تھا کہ یوں سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔
سقراط جس کو جدید فلسفے کا باواآدم مانا جاتا ہے اس کو ناحق سزا دی گئی۔عقیدت مندوں نے اس سے کہا کہ ہم منصوبہ بناچکے ہیں کہ جیل کا دیوار توڑ کر آپ کو نکالیں گے ۔اس نے کہا میری تو رائے ہے کہ یہ نہ کریں اور اگر کرنا چاہتے ہو تو کرو دیوار توڑو لیکن میں نے تو جیل سے نہیں نکلنا ہے کہ نظام نے مجھے اندر ڈالا ہے۔انہوں نے کہا لیکن جرم کے بغیر ڈالا ہے ۔تو سقراط نے کہا تو کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ میں جرم کروں اور جیل میں ڈالا جاؤں ۔پھر سزا سنانے کے بعد انہوں نے اس سے کہا کہ اس عدالتی حکم کو نہ مانیں اور اس سے انکار کریں اور زہر کا پیالہ نہ پئیں وہ بزور تو نہیں پلاسکتے ۔تو سقراط نے کہا کہ نہیں میں آنے والی نسلوں کے لیے لاقانونیت کا دروازہ نہیں کھولنا چاہتا کہ یوں تو عدالت اور قضا ایک مسخرہ بن جائے گا۔لہذا موت کو گلے لگالیا اور امر ہوگیا۔
رسول پاکﷺ کے رحلت کے بعد کئی ایک فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ان میں ایک ارتداد کا فتنہ بھی تھا ۔اس کو زیر کرنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر بھجوایا ۔وہاں کے ایک قبیلے کے سردار مالک بن نویرہ نے از سر نو شہادت پڑھ کے اسلام کا اظہار کردیا لیکن خالد رضی اللہ عنہ سمجھے کہ یہ جان بچانے کے لیے ایساکررہا ہے لہذا اس کو قتل کردیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے قصاص لیا جائے ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو اس کی اجتہادی خطا ہے جس پر سزا تو نہیں دی جاسکتی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تو پھر اس کو معزول کریں ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول پاکﷺنے اس کو "سیف اللہ" کہا تو میں اللہ کی تلوار کو نیچے تو نہیں کرسکتا اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ فتوحات پر فتوحات کررہے تھے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اسے معزول کیا اور خالد رضی اللہ عنہ نے اسے انا کا مسئلہ بالکل بھی نہیں بنایا بلکہ فرمایا کہ اب ایک سپاہی کے طور پر زیادہ جانفشانی سے لڑوں گا کہ اب تو کندھوں سے بڑی ذمہ داری اتر گئی۔یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک فیصلہ صرف اس مذکورہ وجہ سے نہیں تھا بلکہ ایک تصور کی اصلاح کرنا مقصود تھی کہ فتوحات حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی وجہ سے نہیں اسلام کی وجہ سے ہورہی ہیں۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کوجیل میں رکھا گیا ،اس کے عقیدت مند اس سے ملنے آئے اور کہا کہ ہم ایک تحریک شروع کرنے والے ہیں تاکہ اس حکومت کو چلتا کریں لیکن آپ کی دعا کی ضرورت ہے ۔ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایاکہ کیا اس حکومت کو ختم کرکے اس سے بہتر قائم کرسکتے ہو ؟انہو ں نے کہا یہ تو پتہ نہیں کہ ایسا کربھی سکیں گے ۔پھر ابن تیمیہ نے فرمایا تو کیا اس جیسی حکومت قائم کروگے یا اس سے بھی بدتر یا سرے سے کچھ قائم ہی نہ کرسکوگے؟تو اگر اس جیسی حکومت قائم کرنی ہے تو پھر اسے ہی رہنے دو کہ فائدہ کیا ہوگا اور اگر اس سے بدتر قائم ہوگئی تو خسارے میں رہے اور اگر سرے سے حکومت ہی قائم نہ کرسکو تو افراتفری ہوگی جہاں جان ،مال اور عزت وآبرو سب داؤ پر لگیں گے اور سب کے لگیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ بھی تو حکومت پر تنقید کرتے ہیں اور اس لیے جیل میں پڑے ہیں ۔ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آج اگر یہ مجھے رہا کریں تو کل جمعہ ہے جمعہ کے خطبہ میں پھر ان پر گرفت کروں گا کہ بحیثیت عالم کے وہ میری ذمہ داری ہے تو اس میں کوتاہی تو نہیں کرسکتا ورنہ گرفت ہوگی لیکن میں تو ان کو اصلاح پر لانے کے لیے یہ سب کچھ کرتا ہوں یہ میری ان کے لیے خیر خواہی ہے اور دین تو نام ہی خیر خواہی کا ہے اور یہ سب سے پہلے ایک عالم کی ذمہ داری ہے ۔
جنگ عظیم دوم میں جنرل میک آرتھر امریکی جنرل تھا وہ اس جنگ میں ہیرو کے طور پر ابھرے ،بے شمار فتوحات کیے اور لوگ سوچتے تھے کہ ریٹائرڈ ہوکر صدارتی الیکشن لڑیں گے اور کامیاب ہونگے ۔لیکن اس جنگ میں جاپان کے ایک علاقے میں پیش قدمی سے اسے روکا گیا ۔امریکی حکومت نے اسے روکا ۔جنرل میک آرتھر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کو غیر صحیح کہا اگر چہ پیش قدمی روک بھی دی لیکن اس بات پر اسے امریکہ واپس بلالیا گیا اور پھر وہ تاریخ بن گیا ۔
تو پاکستان میں توا یک مدت سے اداروں کی جو تضحیک وتمسخر کیا جارہا ہے اس سے تو اداروں کی عزت خاک میں مل گئی ہے چاہے وہ پارلیمان ہو ،عدلیہ ہو ،انتظامیہ ہو یا کہ مقتدرہ ہو۔ ایسے میں ملک وقوم آگے کیسے بڑھیں گے یہ تو رجعت قہقری اور ریورس گیر ہے اور ادارے بھی تو ادرے ہیں انہوں نے بھی تو اصلاح نہ کرنے کا عزم کیا ہوا ہے ۔
اب حل کیا ہے؟
آئین ،دستور،قانون اور اس پر عمل۔کہ ہر ادارہ اپنے حدود میں رہے اور اخلاص سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور سنجیدگی اختیار کریں ۔اور ساتھ اور اختلاف دونوں میں توازن اور اعتدال پیدا کرے کہ انسانوں سے ہر میدان میں وہی مطلوب ہے کہ توازن واعتدال عقل کا تقاضا ہے اور انسان ذی عقل ہے اور یہ نقل کا بھی حکم ہے جس کا کہ مسلمان مکلف ہے
والسماء رفعہا ووضع المیزان ان لا تطغوا فی المیزان واقیمواالوزن بالقسط ولا تخسرواالمیزان
میں یہی حکم تو ہے کہ تکوینی نظام اعتدال اور توازن پر استوار ہے۔تو تمہیں تشریعی حکم بھی یہی ہے کہ توازن کو مضطرب نہ کرو بلکہ اعتدال قائم رکھو اور فرمایا
لقدارسلنا رسلنا بالبینات وانزلنا معہم الکتاب والمیزان لیقوم الناس بالقسط
کہ رسل کے ساتھ ہم نے کتاب اور میزان نازل کیا ۔یہی کتاب میزان یعنی عدل واعتدال اور توازن کا حکم دیتا ہے۔
لیکن کام یہ مشکل بہت ہے کہ جذبات ہیں ،احساسات ہیں ،مفادات ہیں وغیرہ وغیرہ۔لیکن سیاست تو تقاضا ہی اصلاح امور ومعاملات کی کرتی ہے اور یہ بھی اجتماعی امور ومعاملات میں کہ اس میں فساد تباہ کن ہے لیکن اس سیاست کا کیاکیا جائے کہ یہاں تو جذبات کو ابھارنا بلکہ اکسانا پڑتا ہے اور وہاں پھر توازن اور اعتدال باقی نہیں رہتا ہے ۔
؎ نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے ناداں مسلمانو!
تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

10/12/2023

امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کا اپنے کو مناظروں سے منع کرنا؟



Qazi Fazl Ullah Advocate
Qazi Fazl Ullah Fans


Address

Swabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qazi Fazl Ullah Fans posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Qazi Fazl Ullah Fans:

Share