21/02/2026
#روزے کے دنیوی #فوائد #انفرادی اور #اجتماعی
کل ایک وڈیو نظروں سے گذری ایک نوجوان قرآن مجید بمع ترجمہ سامنے رکھتے ہوئے سوال کر رہا تھا کہ روزے کا ذاتی اور انفرادی کیا فائدہ ؟ سوائے اس کے کہ بندہ میں ایک چڑچڑاپن آجاتا ہے ، ذہن پر ایک بوجھ سوار ہوجاتا ہے سارا دن بھوک اور پیاس کی وجہ سے ۔
اسی طرح روزے سے اجتماعی زندگی کے طور پر کوئی فائدہ نہیں سماج پر ایک غیر ضروری سخت روایت ہے جس سے کاروبار سے لے کے دفاتر تک سب ہی متاثر ہو رہے ہیں ۔
ایسی سوچ پر حیران کم افسوس زیادہ ہوتا ہے کہ روزے کے دنیوی فوائد بیان کیے جائیں سمجھائیں جائیں تو ہی معقول ہے وگرنہ ان لوگوں کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ۔
دنیوی فوائد سے پہلے عرض کرتا چلوں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے روزے فرض کیے ہیں لہذا روزا رکھنے میں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی غرض اللّٰہ کی رضا اور شریعت کے حکم پر عمل کرنا ہی ہونا چاہیے اور بس ۔ اس سے بڑی غرض اور فائدہ ایک مسلمان کی نظر میں کیا ہو سکتا ہے ؟
بہرحال دنیاوی فائدہ اگر ہو تو وہ فائدہ فقط ایک مزید ترغیب کی حیثیت رکھتا ہے اصلِ سبب نہیں یہ حضرات مذہب سے زیادہ جدید سائنس کی بات ماننے والے ہیں تو ان کو سائنس ہی کی زبان میں روزے کے فوائد بیان کرتے ییں شاید کہ اتر جائے دل میں بات۔
روزہ صرف بھوکا رہنا نہیں بلکہ جسمانی detox، سیل ریپیئر، انسولین کنٹرول، دماغی بہتری اور نفس کی تربیت کا مکمل نظام ہے۔ 2016 میں جاپانی سائنسدان Yoshinori Ohsumi نے آٹو فیجی فاسٹ کی تھیوری پیش کی جس پر انہیں نوبل انعام ملا یہ آٹو فیجی فاسٹ کیا ہے ؟
Autophagy یونانی الفاظ سے بنا ہے، مطلب: “خود کو کھانا”۔
یہ ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے جس میں جسم خراب یا بوڑھے خلیات کو توڑتا ہے خراب پروٹین اور سیلولر فضلہ صاف کرتا ہے انہیں ری سائیکل کرکے نئی توانائی اور نئے خلیات بناتا ہے اس کے ممکنہ فوائد یہ ہیں کہ
خلیاتی صفائی ہوتی ہے سوزش (Inflammation) میں کمی واقع ہوتی ہے انسولین حساسیت بہتر اور دماغی صحت میں بہتری نیز ممکنہ طور پر بڑھاپے کی رفتار میں کمی ہوتی ہے۔
ڈاکٹرز تو intermittent fasting کروا رہے ہیں کہ کیا کھانا ہے کے ساتھ کب کھانا ہے اور کب تک نہیں کھانا تجویز کر رہے ہیں اگر آپ کو معلوم نہیں تو ذرا معلومات لیں ڈاکٹرز سے رجوع کریں کہ فاسٹ کا دنیاوی اور طبی کیا فائدہ ہے مسلمانوں پر اعتراض کر کے خود کی جہالت کا اظہار کیوں ؟۔
روزے کے فوائد فقط انفرادی اور ذاتی حد تک محدود نہیں بلکہ خاندانی اور معاشرتی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسا کہ روزے میں بھوک اور پیاس کا احساس امیر غریب چھوٹے بڑے سب میں یکساں ہوتے ہیں اور یہی احساس کی یکسانیت سماجی مساوات قائم کرتی ہے جس سے ہمدردی اور سخاوت جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں ، جو فرد یا گھر رمضان کے علاوہ مجبوراً ایک وقت کا فاقہ برداشت کرتا ہے اس کیفیت کو بتکلف گذرنے والا محسوس کرتا ہے جس سے ہمدردی اور سخاوت پیدا ہوتی ہے ۔
پھر سحری اور افطاری میں خاندان اکٹھا بیٹھتا ہے مشترکہ عبادات اور دعا سے روحانی تعلق مضبوط ہوتا ہے جس سے نسلوں کے درمیان محبت اور روایات کی منتقلی ہوتی ہے جس سے خاندانی اور سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ ملتا ہے۔
مزید یہ کہ روزہ غصہ، جھوٹ اور بدزبانی سے بچنے کی تربیت دیتا ہے۔ سماجی رویّوں میں نرمی اور برداشت پیدا ہوتی ہے جھگڑوں اور جرائم میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے گویا روزہ ایک فرد سے لے کر معاشرے کی عملی ، اخلاقی اصلاح کی تربیت ہے اتحاد اور ہمدردی کا سبب ہے ۔
یہ ایک طویل موضوع ہے جس پر مستقل کتابیں تحریر ہو سکتی ہیں جن میں مشاہدات اور تجربات مثالوں سے بیان کی جا سکتی ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے ہی مفید ہیں جن کے دل میں حق قبول کرنے کا جذبہ ہو ۔ وما علینا الاالبلاغ
ٰ_چنا