16/06/2026
🌿💚 امیرالمؤمنین حضرت علیؓ کے آنسو اور حضرت عمر فاروقؓ کی یاد 💚🌿
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمدٍ خاتم النبيين، وعلى آله وأصحابه أجمعين.
اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ایمان، اخلاص، ایثار اور باہمی محبت کا ایسا عظیم نمونہ بنایا کہ قیامت تک آنے والی امت ان کے کردار سے روشنی حاصل کرتی رہے گی۔ قرآنِ کریم نے ان مقدس نفوس کی باہمی محبت اور رحمت کو یوں بیان فرمایا:
﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾
"محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔"
(الفتح: 29)
اسی باہمی محبت اور اخلاص کی ایک ایمان افروز جھلک امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔
روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علیؓ ایک پرانی اور بوسیدہ چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ آپؓ کے غلام حضرت ابو مریم رحمہ اللہ نے عرض کیا:
"يا أمير المؤمنين! لو نزعت هذه العباءة، فقد بَلِيَت."
"اے امیرالمؤمنین! اگر آپ یہ چادر تبدیل فرما لیں تو بہتر ہوگا، کیونکہ یہ بہت پرانی ہو چکی ہے۔"
یہ سن کر حضرت علیؓ نے چادر کا کنارا اپنی آنکھوں سے لگایا، آپؓ کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور فرمایا:
"إن هذه العباءة كسانيها خليلي عمر بن الخطاب."
"یہ چادر مجھے میرے خلیل اور محبوب دوست عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بطورِ تحفہ عطا کی تھی۔"
پھر حضرت علیؓ حضرت عمر فاروقؓ کو یاد کرتے ہوئے رو پڑے اور فرمایا:
"رحم الله عمر، كان ناصحاً لله ولرسوله وللمؤمنين."
"اللہ عمر پر رحم فرمائے، وہ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور تمام مسلمانوں کے سچے خیر خواہ تھے۔"
یہ کہتے ہوئے آپؓ اتنا روئے کہ آپ کے سینہ مبارک سے رونے کی آواز سنائی دینے لگی۔
🌹 حضرت علیؓ کی نظر میں حضرت عمرؓ
جب حضرت عمر فاروقؓ کا وصال ہوا تو حضرت علیؓ نے فرمایا:
"ما خلَّفتَ أحداً أحبَّ إليَّ أن ألقى اللهَ بمثل عمله منك."
"آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جس کے اعمال جیسے اعمال کے ساتھ میں اللہ سے ملاقات کرنا زیادہ پسند کروں۔"
(صحیح البخاری)
یہ الفاظ اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ اہلِ بیتِ اطہار اور صحابۂ کرامؓ کے درمیان محبت، احترام اور اعتماد کا رشتہ نہایت مضبوط تھا۔
🌿 قرآن کا حکم کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے ہمیں صحابۂ کرامؓ کے بارے میں یہ دعا سکھائی:
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾
"اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے، اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔"
(الحشر: 10)
⭐ اس واقعہ سے حاصل ہونے والے اسباق
✅ صحابۂ کرامؓ ایک دوسرے سے گہری محبت کرتے تھے۔
✅ حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ کے تعلقات اخلاص، احترام اور بھائی چارے پر قائم تھے۔
✅ اپنے محسنوں کی یاد اور ان کے احسانات کو زندہ رکھنا اہلِ وفا کا شیوہ ہے۔
✅ اہلِ بیتؓ اور صحابۂ کرامؓ کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔
✅ امت کا اتحاد صحابۂ کرامؓ کی سیرت کو سمجھنے اور اپنانے میں ہے، نہ کہ ان کے درمیان تفریق پیدا کرنے میں۔
🌹 دعا
اللَّهُمَّ ارْضَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَنْ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ.
اے اللہ! حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے راضی ہو جا، اور ہمیں بھی ان کی محبت، ادب اور اتباع نصیب فرما۔ آمین۔
📚 حوالہ جات
▪ ابن شبہ، تاریخ المدینہ المنورہ، ج 2، ص 938۔
▪ محب الدین الطبری، الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ۔
▪ ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔
▪ صحیح البخاری، کتاب فضائل الصحابہ، مناقب عمر بن الخطابؓ۔
✍️ تحریر
صلصالِ سبیلِ مدینہ منورہ
میاں محمد ذیشان حیدر
نقشبندی مجددی کیلانی
🏛 منجانب
جامع مسجد خرم دارالعلوم قدیمیہ
حضرت میاں ولی محمد سراء رحمۃ اللہ علیہ
#محمد #وائرل #لویرے