20/08/2024
حضرت پوری حدیث لکھیں پلیز
تاکہ سب کو سمجھ ائے کے انتہا پسند لوگوں کے بارے میں یہ حدیث کا ٹکڑا جو اپ نے پوسٹ کیا یہ انتہا پسند لوگوں کے لیے ہی ارشاد ہے
ورنہ ایکسٹریمسٹ مائنڈ سیٹ، دین کے بےوپاری کاروباری ٹھیکے دار ہر ضعیف روایت پر اپنی حیالی دنیا میں دین سے خارج کا تصور بانٹتے پھریں گے
اور نبی ﷺ کی بات توڑ مروڑ کے نہ جانے کہاں کہاں پر فٹ کریں گے
کیونکہ یہ ارشاد بھی اپ نے ایکسٹریمسٹ لوگوں کے لیے ہی فرمایا ہے
جو ہر عمل میں حد سے زیادہ گزرنے والے تھے ان کو روکنے کے لیے یہ فرمایا
جس طرح اپ بیان کر رہے اس طرح بات توڑ کر تو
ضعیف روایات پکڑ کر مزید ایکسٹریمسٹ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی کریں گے۔
بہت شکریہ 🙏💕
پوری حدیث نیچے لکھی ہے
تین حضرات ( علی بن ابی طالب ، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم ) نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے ، جب انہیں حضور اکرم ﷺ کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا آنحضرت ﷺ سے کیا مقابلہ ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا ۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا ۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا ۔ پھر آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں ؟ سن لو ! اللهُ کی قسم ! الله رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں ۔ میں تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں ۔ نماز بھی پڑھتا ہوں ( رات میں ) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں ۔ میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
”جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی، وہ مجھ سے نہیں“
( صحیح بخاری: 5063)