الصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ

الصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ اللہ سے ڈر کر گناہ چھوڑ دینے والا جنتی ہے Islam is our Religion, Truth is our Politics, Commerce is our Economy, and Power lies only with Allah.

18/10/2024

اللہ اور اسکے نبی کے فرمان میں کوئی فرق نہیں ہوتی۔ نبی صرف اسی بات کو وحی کہتا ہے جو اس پر نازل ہوتی ہے۔ نبی لوگوں کو اس وحی کی پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے یہ کبھی نہیں کہتا کہ میرے غلام بن جاؤ۔

15/10/2024

جو قوم اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق اصول اپنائے گی وہ ضرور کامیاب ہو گی۔ چاہے اس کا ٹائٹل یہود، نصاری، مسلم کوئی بھی ہو۔ مشرقی ہو یا مغربی۔ انگلش بولے یا عربی بولے۔ پینٹ شرٹ پہنے یا شلوار قمیض پہنے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ کو کسی قوم سے نفرت نہیں ہے نا ہی کوئی قوم اللہ کی چہیتی ہے۔

14/10/2024

قرآن ہی محمد نبی اللہ کا کلام ہے جو نبی نے روزانہ ایک پیراگراف یعنی رکوع اپنے صحابہ کو پڑھ کو سنایا اور اسی کے مطابق نصیحت کی۔ محمد نبی اللہ نے بتایا کہ یہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے صحابہ نے نبی کی بات کو مان لیا اور اسکی تصدیق کی۔

08/10/2024

يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ﴿لقمان: ١٧﴾ اس آیت میں صاف صاف حکم درج ہے کہ اچھائی کی تلقین کرو اور برائی سے روکو اور (اس دوران آنے والی) اذیت پر صبر کرو۔
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ﴿العنكبوت: ٤٥﴾۔ یقینی طور پر اللہ کے قرآن میں تضاد نہیں ہے۔ اللہ نے اس آیت میں بھی یہی درج کیا ہے کہ تم فحاشی اور برائی سے روکتے ہو۔ لیکن تنھی کی بجائے ینھی کا ترجمہ کرنے سے قرآن کا مفہوم ہی بدل دیا گیا اور قرآن میں تضاد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ یعنی نماز فحاشی اور برائی سے روکتی ہے۔

انسان کو چاہئے کہ اللہ کا حکم مانے لیکن انسان نے اپنے آپ سے حکم اتار کر نماز پر تھوپ دیا۔

06/10/2024

صلاۃ یہ ہے کہ تم فحاشی اور برائی سے روکتے ہو۔ اگر قرآن کے مطابق صلاۃ قائم ہوتی تو برائی ضرور رکتی۔ پروشہ کے سوال کا جواب۔

05/10/2024

قرآن میں ہی صلاۃ کا طریقہ درج ہے صلاۃ کا طریقہ کسی مقام سے اخذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ معیار قرآن ہے۔ کوئی مقام نہیں ہے۔
اللہ نے کہا کہ امن ہو تو اس طریقہ سے صلاۃ پڑھو جیسے تمہیں سکھایا گیا ہے۔ اللہ نے تو سکھایا ہے یعنی صلاۃ کا طریقہ قرآن میں درج کیا ہے۔
وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِن وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰ أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿النساء: ١٠٢﴾
لوگوں نے جان بوجھ کر علمی اسلحہ کو جنگی اسلحہ بنا کر اس آیت کو صلاۃ کے بجائے قتال سے جوڑ دیا ہے کیونکہ قتال تو کبھی کبھار ہوتا ہے لیکن صلاۃ تو روزانہ مقررہ اوقات پر فرض ہے۔ خود کو ایک عظیم فریضہ سے مبرہ قرار دے دیا ہے یعنی خود کو نہیں بدلا بلکہ قرآن کے معنی ہی بدل دیئے ہیں۔

30/09/2024

وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِن وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰ أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا [٤:١٠٢] فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا [٤:١٠٣]
اللہ نے تو کہا ہے کہ جب ذہنی اطمینان ہو تو صلاۃ پڑھو۔ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ لیکن لوگون کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ جنگ کے دوران صلاۃ کا ہے۔ حالانکہ یہ سب جانتے ہیں کہ جب جان کو خطرہ ہو تو حرام چیز بھی بضرورت کھانے کی اجازت ہے۔ صلاۃ ہی کیا اکثر فرائض ساقط ہو جاتے ہین۔ یعنی قرآن میں درج طریقہ بحالت اطمینان صلاۃ کا ہے جنگ کے دوران صلاۃ کا نہیں ہے۔ یاد رکھئے قرآن میں صلاۃ کا یہی ایک طریقہ درج ہے۔

27/09/2024

سر تن سے جدا مسئلہ کا حل:
مَنْ سَبَّ نَبِيًّا فَاقْتُلُوهُ وَمَن سَبَّ أَصْحَابِي فَاضْرِبُوهُ سمیت نبی سے منسوب ہر اس حدیث کو بیان کرنے پر پابندی لگنی چاہئے جو قرآن کے خلاف ہے۔

اگر کسی فرد کے پاس اس مسئلہ کا کوئي دوسرا حل موجود ہے تو وہ بیان کرے۔

06/09/2024

اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ﴿العنكبوت: ٤٥﴾
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ﴿لقمان: ١٧﴾
جو لوگ صلاۃ کا مطلب جاننا چاہئے ہیں تو ان کو یہ دونوں آیات غور سے پڑھنی چاہئے کیونکہ ان میں بتایا گیا ہے کہ صلاۃ کیا ہے؟

06/09/2024

اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ﴿العنكبوت: ٤٥﴾
کچھ لوگوں کے خیال سے اس آیت کے مطابق صلاۃ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ جو فرد صلاۃ بھی پڑھتا ہوں لیکن برائی سے نہ رکتا ہو۔ ذمہ دار کون ہو گا؟ صلاۃ یا وہ فرد خود ذمہ دار ہو گا۔

31/08/2024

صلاۃ یعنی برائی سے روکنے کا کام انسان کا ہے جیسے پیغمبر دوسرے لوگوں کو برائی سے روکتے تھے۔ صلاۃ ایک ہستی یا ذات نہیں ہے جس کی ذمہ داری لوگوں کو برائی سے روکنا ہے نا ہی اللہ قیامت کے دن صلاۃ سے پوچھے گا۔ سوال تو انسان سے کیا جائے گا کہ انسان نے دوسرے انسانوں کو برائی سے کیوں نہیں روکا تھا۔

23/08/2024

کسی بھی انسان میں تبدیلی تعلیم و تربیت سے آتی ہے۔
مروجہ نماز میں اذان ہوتی ہے لوگ پندرہ منٹ میں مسجد میں آ جاتے ہیں۔ پھر نماز ہوتی ہے جس میں امام قرآن میں سے ایک رکوع تلاوت تو کرتا ہے لیکن لوگوں کو معلوم نہیں ہو پاتا کہ قرآن کے اس رکوع یعنی پیراگراف میں اللہ نے کیا بتایا ہے۔
مروجہ نماز سے کیسے لوگوں میں تبدیلی آ سکتی ہے؟

Address

Sialkot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to الصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ:

Share