UMMAH TIME

Call Directions Contact the place of worship

UMMAH TIME یہی ہے آرزو تعلیم قرآن عام ہوجائے

ہر پرچم سے اونچا پرچم اسلام ہوجائے

ان شاءاللہ تعالیٰ

28/10/2025

اسلام میں بچوں کو گود لینا کیوں جائز نھیں ہے ؟. ملحدین کے مشہور اعتراض کا جواب

مصیبت یہ ہیکہ عربی ان بیچاروں کو سمجھ نہیں آتی اور اردو تراجم یہ لوگ پڑھتے نہیں۔ َمستشرقین، عیسائیوں اور ہندؤوں کے چند م...
25/10/2025

مصیبت یہ ہیکہ عربی ان بیچاروں کو سمجھ نہیں آتی اور اردو تراجم یہ لوگ پڑھتے نہیں۔ َ

مستشرقین، عیسائیوں اور ہندؤوں کے چند مشہور اعتراض پڑھ لیتے ہیں جس سے ان ملحدین کو لگتا ہے کہ یہ بہت بڑی بلا ہے۔

آج تک جتنے ملحدین سے سامنا ہوا، سب میں ایک چیز مشترک پائی وہ یہ کہ "بیچاروں کو اسلامی عقائد، تفسیر و حدیث کے الف باء کا علم نہیں ہوتا"
اور یہی کم علمی انکے الحاد کا سبب بن گئی ہوتی ہے۔

موصوف نے پوسٹ میں لکھا کہ "اردو میں قران پڑھنے سے الحاد ملتا ہے "
اگر ایسا ہوتا تو اب تک تقریباً علماء ملحد ہو چکے ہوتے، قران کا اعجاز تو یہ ہیکہ اس کو جتنا مادری زبان میں سمجھ کر پڑھیں گے اتنا اسکا حسن اور نکھار اپ پر واضح ہوگا اور اپ کو پتہ چلے گا کہ واقعی قرآن مجید خالق کائنات کی الہامی کتاب ہے۔

اور جن ملحدین کا کہنا ہے کہ اردو میں قران پڑھنے سے الحاد ملتا ہے انکی مثال اس گدھے کی ہے جس کو مالک نے سبز چشمے پہنائے تھے جس کو ہر چیز پھر گھاس نظر آتی تھی، اور بوسے کو بھی سبز گاس سمجھ کر ہڑپ کر جاتا۔

اگر ملحدین ضد اور عناد کے یہ چشمے اتار کر قرآن کا مطالعہ کریں گے تو یقیناً انکی شرح صدر ہو جائے گی۔
ہدایت انابت والوں کا مقدر ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
ویھدی الیہ من ینیب

اور گمراہی فاسقوں کا مقدر ہوا کرتی ہے۔
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ

✍️لقمان اختر

اہل مورد کو لفظ حدیث سے چڑ کیوں ؟ بھائی علی کاظمی نے اس نکتہ کو اٹھایا  جس پر کافی عرصہ سے  لکھنے کا دل چاہ رہا تھا ، ان...
23/10/2025

اہل مورد کو لفظ حدیث سے چڑ کیوں ؟

بھائی علی کاظمی نے اس نکتہ کو اٹھایا جس پر کافی عرصہ سے لکھنے کا دل چاہ رہا تھا ، انہوں نے اس استفہام کے بابت دلی ترجمانی کردی ہے :

علم النبی کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب کے پیچھے دراصلا س فکری رجحان کی نمائندگی ہے جو حدیث کے کلاسیکی منہج ومفہوم سے الگ ایک نئی تعبیر قائم کرنے کی کوشش پر مبنی ہے ۔
حدیث ایک باقاعدہ اصطلاحی و فنی مفہوم رکھتی ہے، جو محدثین کے متفقہ اصولوں کے تحت منضبط ہوئی اور جس کے ساتھ اس کا سب سے اساسی پہلو اس کی حجیت ناگزیر طور پر وابستہ ہے ۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو “علم النبی" کے نام بیان کیا جاتا ہے تو یہ تعبیر اپنے اندر ایک ایسا مفہومی وروایتی انحراف رکھتی ہے جو حدیث کے اس منہجی نظام سے کلی طور پر مغائرت رکھتا ہے ۔

علم ایک توصیفی اصطلاح ہے، جب کہ "حدیث" ایک تشریعی و الزامی اصطلاح ہے ،

لہٰذا “علم النبی” کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو تو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کی شرعی حجیت کو غیر محسوس طور پر کمزور کر دیا جاتا ہے ۔
اس تعبیر کا مقصد اس رجحان کو پروان چڑھانا ہے کہ نبی کریم ص کے اقوال کو محض فکری یا روحانی تعبیر سمجھا جائے، نہ
کہ دین و شریعت کا ماخذ ۔

تاریخی طور پر اس رجحان کی جڑیں ان خارجیانہ علمیات میں پیوست ہیں جن میں "قرآن مرکزیت" یا حدیثی روایت سے فکری احتراز کا تصور ابھرا، اور جن میں سنت کو قابل احترام تو مانا گیا مگر حدیثی روایتوں کو اس کا لازمی ماخذ تسلیم نہیں کیاجاتا۔

یہ ایک علمی قضیہ ومسلمہ بھی ہے کہ دینی اصطلاحات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک پورے نظام علم کے حامل مفاہیم ہوتے ہیں ان کی تبدیلی صرف لسانی نہیں بلکہ منہجی و اصولی تبدیلی کو جنم دیتی ہے ۔

چنانچہ علم النبی" کی تعبیر محدثانہ اصولوں سے آزادی وانحراف کے اس تصور پر قائم ہے جو علم حدیث کے تسلسل میں ایک فکری و منہجی انقطاع پیدا کرتی ہے۔

الزامی جواب:🔥 کیا آپ کوئی ایک ملحد بتا سکتے ہیں جس نے بونگیوں کے سوا بھی کچھ ایجاد کیا ہو؟جتنی بڑی ایجادات ہیں، وہ انہی ...
04/10/2025

الزامی جواب:🔥
کیا آپ کوئی ایک ملحد بتا سکتے ہیں جس نے بونگیوں کے سوا بھی کچھ ایجاد کیا ہو؟
جتنی بڑی ایجادات ہیں، وہ انہی سائنسدانوں نے کیں جو خدا پر یقین رکھتے تھے، یا کم از کم خدا کے وجود کو مانتے تھے۔
جیسا کہ نیوٹن، میکسم پلانک، گلیلیو، کاپر نیکس، کیپلر حتیٰ کہ آئن سٹائن بھی ملحد نہیں تھا بلکہ کائنات میں نظم اور خالق کے وجود کو مانتا تھا۔
سپر پاور وہی خالق کائنات ہے جس کا دعویٰ تمام مذاہب کرتے ہیں، لھذا آپ کا اعتراض ہی باطل ہے

✒️ لقمان اختر

نہیں نہیں ہمیں آپ سے بالکل بھی توقع نہیں ہے کہ آپ مظلوم مسلمانوں کی مدد کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اعلیٰ درجے کے ...
02/10/2025

نہیں نہیں ہمیں آپ سے بالکل بھی توقع نہیں ہے کہ آپ مظلوم مسلمانوں کی مدد کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اعلیٰ درجے کے بے غیرت ، موت کا انتہا درجے کا خوف رکھنے والے نام کے مسلمان ہیں
مسلمانوں نے آپ سے توقع رکھی بھی نہیں ہے آپ کو غلط فہمی ہو گئی ہے شاید

پیدائشی طور پر ایک شہری سوچ سمجھ کر اپنی شہریت قبول نہیں کرتا۔ اگر وہ بڑا ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف بغاوت کرے تو اس کی س...
30/09/2025

پیدائشی طور پر ایک شہری سوچ سمجھ کر اپنی شہریت قبول نہیں کرتا۔ اگر وہ بڑا ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف بغاوت کرے تو اس کی سزا موت ہی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ریاست نام کی چیز بھی ایک تنگ نظر اور متعصب ادارہ ہے۔

2️⃣پیدائشی طور پر ایک بچہ اپنے والدین کا انتخاب نہیں کرتا۔ اگر وہ بڑا ہو کر والدین کو چھوڑ دے تو اس کی سزا عاق ہونا اور گھر سے نکال دینا ہی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ والدین بھی ایک تنگ نظر اور متعصب رشتہ ہیں۔

🏵️دوم:🏵️
1️⃣اگر اویس اقبال جلیبی کی مکمل معلومات لئے بغیر جلیبی کھا لے اور بعد میں اس کا حقیقی مکروہ چہرہ دیکھ کر جلیبی چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو اس کی سزا شوگر، موٹاپا اور دانتوں کا خراب ہونا ہی ہے۔ ویسے ایسا گھٹیا میٹھا فی الوقت دنیا میں جلیبی کے سوا کوئی نہیں۔

2️⃣اگر اویس اقبال دماغ کی مکمل معلومات لئے بغیر دماغ استعمال کر لے اور بعد میں اس کا 'مکروہ چہرہ' دیکھ کر دماغ چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو اس کی سزا جہالت، تضاد اور لاجک کی رسوائی ہی ہے۔ ویسے ایسا گھٹیا آلہ فی الوقت دنیا میں اویس اقبال کے دماغ کے سوا کوئی نہیں۔
✍️ھارون الرشید ھاشمی

یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ امتحان دینے والا طالبعلم کبھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا سکتا۔ حالانکہ حقیقت برعکس ہے: طالبعل...
24/09/2025

یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ امتحان دینے والا طالبعلم کبھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا سکتا۔ حالانکہ حقیقت برعکس ہے: طالبعلم محنت بھی کرتا ہے، امتحان کا دھیان بھی رکھتا ہے اور اسی تیاری کی وجہ سے اس کی کامیابی اور خوشی زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ اسی طرح، مومن موت کو انجام نہیں بلکہ آغاز سمجھتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر لمحے کو بامقصد اور پر سکون جیتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہے کہ اس کے بعد اصل کامیابی اور لطف آنے والا ہے۔

📗قرآنی جواب:📗
اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (الأنبياء: 35) یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں بھلائی اور برائی کے ساتھ آزماتے ہیں، اور آخرکار ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے۔ اس آیت سے واضح ہے کہ موت کا خوف مومن کے لیے زندگی کو بے لذت نہیں بناتا بلکہ زندگی کو بامقصد اور کامیاب بناتا ہے۔

🧠عقلی جواب:🧠
اگر موت کے ڈر سے زندگی کا لطف ختم ہوتا تو ڈاکٹر، سپاہی اور طالبعلم کبھی پر سکون نہ رہتے، کیونکہ یہ سب اپنے انجام کی فکر رکھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی فکر انہیں بہتر اور کامیاب زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی ہے۔

🌹الزامی جواب:🌹
اگر موت کا ڈر زندگی کا لطف چھین لیتا ہے، تو ملحد اور دہریے جو موت کے بعد فنا کو مانتے ہیں، سب سے زیادہ پرسکون ہونے چاہئیں۔ لیکن حقیقت برعکس ہے۔ وہی سب سے زیادہ ڈپریشن، خودکشی اور بے مقصدیت کا شکار ہیں۔

☘️مثالی جواب:☘️
ایمان والے کا موت سے تعلق ایسا ہے جیسے مسافر کا گھر واپسی سے۔ سفر میں بھی لطف اٹھاتا ہے، لیکن اصل سکون اور خوشی اپنے مستقل گھر پہنچنے پر ہے۔

🌴تمثیلی جواب:🌴
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈرائیور کہے۔ ٹریفک کے قوانین ماننے والے ڈرائیور کبھی ڈرائیونگ کا لطف نہیں اٹھا سکتے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قوانین ماننے والا ہی سکون اور اطمینان سے سفر کرتا ہے، جبکہ قانون توڑنے والا حادثے میں اپنی جان اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے۔ اسی طرح، موت کو یاد رکھنے والا انسان ہی زندگی کو پر سکون اور بامقصد گزارتا ہے۔
✍️ ھارون الرشید ھاشمی

اگر سب کچھ پہلے سے معلوم ہونا ڈرامہ ہے، تو پھر تمہارے استاد کا سوالیہ پیپر بھی ڈرامہ ہونا چاہیے تھا، کیونکہ وہ بھی جانتا...
24/09/2025

اگر سب کچھ پہلے سے معلوم ہونا ڈرامہ ہے، تو پھر تمہارے استاد کا سوالیہ پیپر بھی ڈرامہ ہونا چاہیے تھا، کیونکہ وہ بھی جانتا تھا کون پاس ہوگا اور کون فیل
اور اگر دنیا کا ظلم دیکھ کے انصاف جھوٹ لگتا ہے، تو یاد رکھو… امتحان کے دوران پرچے چیک نہیں ہوتے، اصل نتیجہ تو آخر میں آتا ہے۔"

ایتھیسٹ اور اگناسٹک برادران سے ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنی میڈیسن وقت پر لیا کریں۔ جب آپ اینزائٹی اور ڈپریشن کی گولیاں ...
20/09/2025

ایتھیسٹ اور اگناسٹک برادران سے ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنی میڈیسن وقت پر لیا کریں۔

جب آپ اینزائٹی اور ڈپریشن کی گولیاں چھوڑ دیتے ہیں تو اس کا نقصان صرف آپ کو نہیں، ہمیں متکلمین کو بھی ہوتا ہے۔ آپ اچانک بڑے بڑے اعتراضات لے کر آ دھمکتے ہیں، اور ہم سوچنے لگتے ہیں کہ جواب دیں یا پہلے آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

یہ کوئی مذاق نہیں، حقیقت ہے۔ الحاد کے میدان میں بارہا یہ منظر سامنے آیا کہ ایک صاحب بڑے جوش سے خدا پر اعتراضات کرتے رہے، لیکن جب علاج اور سکون ملا تو خود اعتراف کیا کہ "ہمیں دلیل کی ضرورت نہیں تھی، سکون چاہیے تھا۔" گویا اعتراضات صرف دل کی چیخ تھے، جنہیں "فلسفہ" کا نام دے دیا گیا تھا۔

فرق یہ ہے کہ مسلمان جب ٹوٹتا ہے تو کہتا ہے یا اللہ مدد فرما، اور اس کے دل میں امید کی کرن جاگ اٹھتی ہے۔ لیکن خدا کے منکر کے پاس کوئی در نہیں ہوتا، کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ وہ اپنی رات کی تنہائی میں اندر سے بکھرتا ہے اور دن کی روشنی میں "عقل پرست" کا نقاب اوڑھ لیتا ہے۔ یہ نقاب زیادہ دیر نہیں چلتا، اندر کی خالی جگہ آخرکار بےنقاب ہو جاتی ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ سب ایتھیسٹ اور متشکک ایسے ہیں، لیکن تجربے اور مشاہدے کی گواہی ہے کہ اکثر کا یہی حال ہے۔ اگر خدا کا انکار واقعی اتنا مطمئن کرنے والا نظریہ ہوتا تو پھر ذہنوں میں یہ طوفانِ اضطراب کیوں؟ دلوں میں یہ خلا کیوں؟ اور اینزائٹی و ڈپریشن کے کلینک آپ ہی کے کیسز سے کیوں بھرے رہتے ہیں؟

سوچنے کی بات یہ ہے
کیا آپ کے اعتراضات واقعی عقل کی پیداوار ہیں؟
یا یہ صرف اندر کی چیخیں ہیں جو "دلیل" کے پردے میں باہر آ جاتی ہیں؟

فاعتبروا

✒️ لقمان اختر

Address

Sialkot
51311

Telephone

+923150757096

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UMMAH TIME posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to UMMAH TIME:

Shortcuts

Share