Irfan ul Quran International

Irfan ul Quran International The Qur'an contains prayers, moral guidance, historical narrative, and promises of Paradise.

22/04/2026
04/04/2026

۔
*تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا*
*( سورة البقرة 152 )*

اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم روزانہ لاکھ مرتبہ زبان سے تو اللہ کا ذکر کریں مگر اللہ کے احکام کو اور اس کی ڈالی ہوئی ذمہ داریوں کو بھلا دیں

خواہ کفار تمام بلاد اسلام پر ہی قابض ہوجائیں اور ہمیں اپنی روزانہ کی ہزار رکعت پوری کرنے ہی سے فرصت نہ ہو

اگر اللہ کے احکامات کے مطابق ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں عمل نہیں کرتے تو اس ذکر کا کوئی فائدہ نہیں جو زبان سے تو الحمد للہ کہتا ہے مگر غیر اللہ کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھتا ہے

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ سن کر بھی سود کھاتے جانا، گھر میں بےحیائی کو فروغ دیتے جانا ، رشوت لے کر اسے فضل ربی قرار دینا

رسول اللہ سے محبت کے دعوے تو بڑے کرنا مگر زندگی آپﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق نہ گزارنا

*اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول اور قوانین کو یار رکھنا ہی اللہ کی یار ہے اور اس کا ذکر ہے جس کا زبان سے بھی اقرار ہو اور عمل میں بھی ظاہر ہو*

*اگر ہم قرآن کی بتائی ہوئی ان تعلیمات پر عمل نہیں کر رہے تو ہم اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہیں* 👇

1۔ گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو ۔ (3:159)

2 ۔ غصے کو قابو میں رکھو ۔ (3:134)

3 ۔دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو‘ ۔ (4:36)

4۔ تکبر نہ کرو‘ ۔ (7:13)

5۔ دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو۔ (7:199)

6۔ لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘۔ (20:44)

7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو۔ (31:19)

8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘۔ (49:11)

9 والدین کی خدمت کیا کرو‘۔ (17:23)

10۔ والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو۔ (17:23)

11۔ سود نہ کھاؤ (2:275)

12 حساب لکھ لیا کرو (2:282)

13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو‘ (2:170)

14۔بدگمانی سے بچو‘ (49:12)

15۔غیبت نہ کرو‘ (49:12)

16 رشوت نہ لو‘ (2:188)

17 وعدہ نہ توڑو‘ (2:177)

18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو‘ (2:283)

19 سچ میں جھوٹ نہ ملایا کرو‘ (2:42)

20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو‘ (4:58)

21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو‘
(4:135)

22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو
(4:7)

23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں,
(4:7)

24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو‘
(4:10)

25یتیموں کی حفاظت کرو‘
(2:220)

26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو,
(4:29)

27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘
(49:9)

28۔ اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو‘
(2:280)

29۔ ۔والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو‘
(24:58)

30 جاسوسی نہ کرو‘
(49:12)

31 خیرات کیا کرو‘
(57:7)

32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو‘
(107:3)

33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو‘
(2:273)

34 فضول خرچی نہ کیا کرو‘
(17:29)

35 خیرات کر کے جتلایا نہ کرو‘
(2:264)

36 مہمانوں کی عزت کیاکرو‘
(51:26)

37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو‘
(2:44)

38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو‘
(2:60)

39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو‘
(2:114)

40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں‘
(2:190)

41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو‘
(2:191)

42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ‘
(8:15)

43 مذہب میں کوئی سختی نہیں
(2:256)

44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ‘
(2:285)

45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو‘
(2:222)

46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ‘
(2:233)

47 جنسی بدکاری سے بچو‘
(17:32)

48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو,
(2:247)

49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو‘
(2:286)

50 نفاق سے بچو‘
(3:103)

51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو‘
(3:191)

52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے,
(3:195)

53 منتخب خونی رشتوں میں شادی نہ کرو
(4:23)

54 مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے‘
(4:34)

55 بخیل نہ بنو‘
(4:37)

56 حسد نہ کرو,
(4:54)

57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘
(4:92)

58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو‘
(4:105)
59 گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو‘
(5:2)

60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو‘
(5:2)

61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی‘
(6:116)

62 صحیح راستے پر رہو‘
(5:8)

63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو‘
(5:38)

64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو‘
(5:63)

65 مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے‘
(5:3)

66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو‘
(5:90)

67 جواء نہ کھیلو‘
(5:90)

68 ہیرا پھیری نہ کرو‘
(6:108)

69 چغلی نہ کھاؤ،
(6:152)

70 کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو‘
(7:31)

71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو‘
(7:31)

72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انھیں مدد دو‘
(9:6)

73 طہارت قائم رکھو‘
(9:108)

74 اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو‘
(12:87)

75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے‘
(16:119)

76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ‘
(16:125)

77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘
(17:15)

78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو‘
(17:31)

79 جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو‘
(17:36)

80 پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)‘
(23:3)

81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو‘
(24:27)

82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے‘
(24:55)

83 زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو‘
(25:63)

84 دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ‘
(28:77)

85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو,
(28:88)

86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو‘
(29:29)

87 صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو‘
(31:17)

88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو
(31:18)

89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں‘
(33:33)

90 اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے‘
(39:53)

91 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘
(39:53)

92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو‘
(41:34)

93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو‘
(42:38)

94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘
(49:13)

95 مذہب میں رہبانیت نہیں‘
(57:27)

96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے‘
(58:11)

97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ‘
(60:8)

98 خود کو لالچ سے بچاؤ‘
(64:16)

99 اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے
(73:20)

100 ’’جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔
(93:10)

اگر ہم قرآن کی بتائی ہوئی ان باتوں پر عمل نہیں کرتے تو ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے ہم زبان سے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں مگر ہمارے عمل میں وہ شامل نہیں

*اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں ذکر اور اپنی یاد کی توفیق نصیب فرمائیں*

*آمین جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ*

Part 4 حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہعنوان: غزواتہجرت کاحکم نازل ہونے کے بعدرسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے مدینہ...
01/02/2026

Part 4

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

عنوان: غزوات

ہجرت کاحکم نازل ہونے کے بعدرسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے، جہاں نئی اوربدلی ہوئی زندگی تھی ،جہاں مشرکینِ مکہ کی طرف سے ظلم وزیادتی کے وہ پرانے سلسلے نہیں تھے۔
لیکن مشرکینِ مکہ کویہ بات ہرگزگوارانہیں تھی کہ مسلمان ان کے شکنجے سے نکلنے کے بعداب مدینہ میں سکون واطمینان کی زندگی بسرکریں ، وہاں پھلتے پھولتے رہیں اوران کی قوت میں اضافہ ہوتاچلاجائے،بالخصوص انہیں اُس تجارتی شاہراہ کی وجہ سے بہت زیادہ پریشانی لاحق تھی کہ جس پرسفرکرتے ہوئے ان کے تجارتی قافلے مکہ سے ملکِ شام آتے جاتے تھے،اوروہ شاہراہ مدینہ کے قریب سے گذرتی تھی۔
چنانچہ ایسے ہی حالات میں ہجرت کے بعددوسرے ہی سال مشرکینِ مکہ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مسلح یلغارکے سلسلے شروع ہوگئے ،نیزمشرکینِ مکہ کے علاوہ دیگربہت سے مشرک قبائل ٗ اوراسی طرح یہودیوں کے ساتھ بھی وقتاً فوقتاًمسلح تصادم کی نوبت آتی رہی ،اوریوں ’’غزوات‘‘کاسلسلہ چلتارہا…
ایسے میں ہرغزوے کے موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی زیرِ قیادت پیش پیش رہے … شجاعت وبہادری کے بے مثال کارناموں کے علاوہ مزیدیہ کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت ٗ پاسبانی ٗاورمشاورت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ غرضیکہ سفرہویاحضر،امن ہویاجنگ،ہمیشہ ہرموقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رہے…نیزدینِ اسلام کی نشرواشاعت اورمسلمانوں کی فلاح وبہبودکیلئے ہمیشہ کوشاں وسرگرداں رہے۔

30/01/2026

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

عنوان: غزوات

ہجرت کاحکم نازل ہونے کے بعدرسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے، جہاں نئی اوربدلی ہوئی زندگی تھی ،جہاں مشرکینِ مکہ کی طرف سے ظلم وزیادتی کے وہ پرانے سلسلے نہیں تھے۔
لیکن مشرکینِ مکہ کویہ بات ہرگزگوارانہیں تھی کہ مسلمان ان کے شکنجے سے نکلنے کے بعداب مدینہ میں سکون واطمینان کی زندگی بسرکریں ، وہاں پھلتے پھولتے رہیں اوران کی قوت میں اضافہ ہوتاچلاجائے،بالخصوص انہیں اُس تجارتی شاہراہ کی وجہ سے بہت زیادہ پریشانی لاحق تھی کہ جس پرسفرکرتے ہوئے ان کے تجارتی قافلے مکہ سے ملکِ شام آتے جاتے تھے،اوروہ شاہراہ مدینہ کے قریب سے گذرتی تھی۔
چنانچہ ایسے ہی حالات میں ہجرت کے بعددوسرے ہی سال مشرکینِ مکہ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مسلح یلغارکے سلسلے شروع ہوگئے ،نیزمشرکینِ مکہ کے علاوہ دیگربہت سے مشرک قبائل ٗ اوراسی طرح یہودیوں کے ساتھ بھی وقتاً فوقتاًمسلح تصادم کی نوبت آتی رہی ،اوریوں ’’غزوات‘‘کاسلسلہ چلتارہا…
ایسے میں ہرغزوے کے موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی زیرِ قیادت پیش پیش رہے … شجاعت وبہادری کے بے مثال کارناموں کے علاوہ مزیدیہ کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت ٗ پاسبانی ٗاورمشاورت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ غرضیکہ سفرہویاحضر،امن ہویاجنگ،ہمیشہ ہرموقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رہے…نیزدینِ اسلام کی نشرواشاعت اورمسلمانوں کی فلاح وبہبودکیلئے ہمیشہ کوشاں وسرگرداں رہے۔

30/01/2026

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

عنوان: ہجرتِ مدینہ

نبوت کے تیرہویں سال کے آخری ایام میں جب ہجرت کاحکم نازل ہواتومسلمان بڑی تعدادمیں مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے،مختلف گروہوں اورٹولیوں کی شکل میں بھی …نیزاِکادُکا بھی …جس کانتیجہ یہ ہواکہ رفتہ رفتہ مکہ مسلمانوں سے خالی ہوگیا،اب محض مجبوراورمحبوس قسم کے لوگ ہی مکہ میں رہ گئے تھے ، یعنی وہ لوگ جوکسی کی قیدمیں تھے ، یاجوغلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ البتہ تین افرادایسے تھے کہ جونہ تومحبوس تھے اورنہ ہی مجبور…لیکن اس کے باوجودوہ تاہنوزمکہ میں ہی مقیم تھے،یعنی خودرسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ،نیزحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، اوراس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ تواب تک اپنے اللہ کی طرف سے ’’اجازت‘‘کے منتظرتھے،جبکہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کواب تک آپ ﷺ نے خودروک رکھا تھا۔
البتہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اس دوران متعددبارآپؐ سے ’’ہجرت‘‘کی اجازت طلب کرچکے تھے، لیکن ہربارآپؐ انہیں یہی جواب دیتے کہ : لَا تَعْجَل یَا أبَا بَکر! لَعَلَّ اللّہَ یَجْعَلُ لَکَ صَاحِباً یعنی ’’اے ابوبکر! جلدی نہ کرو، شایداللہ تمہارے لئے کسی ہمسفرکاانتظام فرمادے…‘‘ اورتب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ حسرت پیدا ہوتی کہ شایدوہ ’’ہمسفر‘‘خودرسول اللہ ﷺ ہی ہوں …
اورپھرایک روزجب آپؐ اچانک اور خلافِ معمول تپتی ہوئی دوپہرمیں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھرتشریف لائے اورانہیں مطلع فرمایا کہ آج سفرِہجرت پرروانگی ہوگی… تب حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: الصُحْبَۃ یا رسُولَ اللّہ؟ یعنی ’’اے اللہ کے رسول! اس سفرمیں کیامیں آپ کے ہمراہ چلوں ؟‘‘ آپ ﷺ نے جواب میں ارشادفرمایا: نَعَم ، الصُحْبَۃ یا أبَا بَکر۔ یعنی ؛’’ہاں اے ابوبکر!اس سفرمیں تم میرے ’’ہمسفر‘‘ ہوگے‘‘۔ اورتب فرطِ مسرت کی وجہ سے ابوبکرؓ اپنے جذبات پرقابونہ رکھ سکے… ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے ،اورابوبکرؓکی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے…!!
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااُس وقت یہ تمام منظردیکھ رہی تھیں … وہ فرماتی ہیں کہ اُس روزجب میں نے اپنے والد (ابوبکرؓ) کوفرطِ مسرت سے روتے ہوئے دیکھا… تواُس وقت زندگی میں پہلی بارمجھ پریہ حقیقت منکشف ہوئی کہ انسان جس طرح بہت زیادہ غم اورصدمے کے وقت روتاہے ، اسی طرح بہت زیادہ خوشی کے وقت بھی روتاہے… انسان کی آنکھوں سے بہنے والے یہ آنسوکبھی ’’غم کے آنسو‘‘ ہواکرتے ہیں ، اورکبھی ’’خوشی کے آنسو‘‘،اس سے قبل مجھے اس بات کاعلم نہیں تھا‘‘۔
اورپھرآپ ﷺ اپنے ’’رفیقِ سفر‘‘کوچندضروری ہدایات دینے کے بعد اپنے گھرواپس تشریف لے آئے۔
اورجب رات ہوئی ، ہرطرف اندھیراچھاگیا،تب رؤسائے قریش کی طرف سے مقررکردہ مسلح نوجوانوں کاایک چاق وچوبنددستہ وہاں آپہنچا،اورآتے ہی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے گھرکامحاصرہ کرلیا،تاکہ آپؐ حسبِ معمول جب رات کے آخری پہرعبادت کی غرض سے بیت اللہ کی جانب روانگی کیلئے گھرسے نکلیں گے تب یہ سب یکبارگی آپؐ پرٹوٹ پڑیں گے…!
اُس رات رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوحکم دیاکہ’’ اے علی! آج رات تم میرے بسترپرسوجاؤ اورمیری چادراوڑھ لو‘‘۔
اورپھررات کے آخری پہررسول اللہ ﷺ قرآن کریم کی آیت : {وَجَعَلْنَا مِن بَینِ أیْدِیْھِم سَدّاً وَّ مِن خَلْفِھِم سَدّاً فَأغشَینَاھُم فَھُم لَا یُبْصِرُونَ} (۱) پڑھتے ہوئے اپنے گھرسے باہرتشریف لائے ، اپنی مٹھی میں کچھ خاک لی ، اورپھونک مارکراسے ان مسلح نوجوانوں کی جانب اُڑادیا،اورنہایت اطمینان کے ساتھ ان کی نگاہوں کے سامنے سے گذرگئے… لیکن نہ توانہیں کچھ نظرآیا،اورنہ ہی انہیں کچھ علم ہوسکا، اوروہ رات بھراس اطمینان کے ساتھ وہاں پہرہ دیتے رہے کہ آپ ﷺ اندراپنے گھرمیں موجود ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ اُس رات اپنے گھرسے روانگی کے بعدسیدھے اس شخص کے گھرپہنچے کہ جس پراُس وقت آپ ﷺ کوسب سے زیادہ بھروسہ تھا،یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، اورپھرفوراًہی وہ دونوں رات کی تاریکی میں گھرکے عقبی دروازے سے نکل کرایک نئی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔
مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے شمال کی جانب واقع ہے،لیکن یہ دونوں حضرات بالکل مخالف سمت میں یعنی جنوب(ملکِ یمن) کی طرف چل دئیے،رات کے اندھیرے میں دشوارگذار پہاڑی راستوں پرکہ جہاں ہرطرف نوکیلے سنگ ریزوں کی بھرمارتھی… دونوں مسلسل پاپیادہ چلتے رہے، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کبھی رسول ﷺ کے آگے چلتے، کبھی پیچھے، کبھی دائیں ، اورکبھی بائیں ، یوں وہ بارباراپنی جگہ تبدیل کرتے، گویابڑی بے چینی میں مبتلاہوں … آپؐ نے ان کی یہ کیفیت دیکھی تودریافت فرمایاکہ اے ابوبکر!کیابات ہے؟ اس پرابوبکرؓنے جواب دیا: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے کبھی یہ اندیشہ ہونے لگتاہے کہ ایسانہوکہ کوئی دشمن سامنے کہیں چھپا بیٹھا ہو اوروہ اچانک سامنے سے ظاہرہوکرآپ کوکوئی نقصان پہنچائے،اس لئے میں آپ کے آگے آگے چلنالگتاہوں ،اورپھریہ اندیشہ ہونے لگتاہے کہ ایسانہو کوئی تعاقب کرنے والا کہیں پیچھے سے اچانک آجائے ،یہ سوچ کرمیں آپ کے پیچھے آجاتاہوں ،پھریہ فکرستانے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہوکہ دائیں یابائیں کوئی دشمن گھات لگائے بیٹھاہو…اس لئے میں کبھی آپ کے دائیں چلنے لگتاہوں اورکبھی آپ کے بائیں …!!
اسی کیفیت میں یہ دونوں حضرات مسلسل چلتے رہے… یہاں تک کہ تقریباً پانچ میل(یعنی تقریباًآٹھ کلومیٹر) کی مسافت پیدل طے کرنے کے بعدایک انتہائی بلندوبالاپہاڑکے دامن میں پہنچے ،اورانتہائی کٹھن اورمشکل ترین راستہ طے کرتے ہوئے اس کی چوٹی پرواقع ایک غارکے سامنے جاپہنچے جوکہ ’’غارِثور‘‘کے نام سے معروف ہے۔
اس غارکے دہانے پرپہنچنے کے بعدحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ! آپ یہیں توقف فرمائیے، پہلے میں اکیلااندرجاکرغارکاجائزہ لے لوں … کہیں ایسانہوکہ پہلے سے ہی وہاں کوئی دشمن چھپابیٹھاہو…چنانچہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ تنہااندرگئے،اچھی طرح جائزہ لیا، اورکچھ صفائی وغیرہ بھی کی ، اِدھراُدھرچندچھوٹے بڑے سوراخ نظرآئے ، حضرت ابوبکرؓکویہ اندیشہ لاحق ہواکہ کہیں ان سوراخوں میں کوئی موذی جانورنہو،کہ جورسول اللہ ﷺ کیلئے تکلیف واذیت کاباعث بن جائے … یہ سوچ کر انہوں نے اپنے لباس سے کچھ کپڑاپھاڑکراس کے ذریعے ان سوراخوں کوبندکردیا، اور پھرباہرآکررسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گذارش کی کہ’’ یارسول اللہ!اب آپ اندر تشریف لے آئیے‘‘۔ جس پرآپ ﷺ غارکے اندرتشریف لے آئے،اوراس کے بعدیہ دونوں حضرات اس غارمیں تین دن مقیم رہے۔
اُدھرمکہ شہرسے ان دونوں حضرات کی خفیہ روانگی کے بعداب نہایت زوروشورکے ساتھ تعاقب اورتلاش کاسلسلہ شروع ہوگیا …ہرکوئی نہایت سرگرمی کے ساتھ اسی کام میں سرگرداں ہوگیا۔آخرایک بارایساموقع بھی آیاکہ یہ لوگ تعاقب کرتے کرتے اُس غارکے دہانے پرجاپہنچے کہ جس میں وہ دونوں حضرات پناہ لئے ہوئے تھے، حتیٰ کہ ان کی آوازیں اوران کی باہمی گفتگوغارکے اندرسنائی دینے لگی۔اس قدرنازک ترین صورتِ حال کی وجہ سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پریشان ہوگئے،اورعرض کیاکہ ’’اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی کوئی فکرنہیں ہے، البتہ مجھے یہ غم کھائے جارہاہے کہ کہیں آپ کوکوئی تکلیف نہ پہنچے، کیونکہ اگرآپ کوکچھ ہوگیاتوپھرپوری امت کاکیا بنے گا…؟‘‘یعنی یہ توپوری امت کا خسارہ ہوگا، تب آپ ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے ارشادفرمایا: مَا ظَنُّکَ یَا أبَا بَکْر بِاثْنَیْن ، اَللّہُ ثَالِثُھُمَا؟ یعنی’’اے ابوبکر!ایسے دوانسان کہ جن کے ساتھ تیسراخوداللہ ہو ٗ ان کے بارے میں تمہاراکیاگمان ہے؟‘‘ مقصدیہ کہ ہم محض دونہیں ہیں ، بلکہ ہمارے ساتھ اللہ کی معیت ونصرت بھی شاملِ حال ہے، لہٰذافکرکی کوئی بات نہیں ۔
اسی واقعے کی طرف قرآن کریم میں اس طرح اشارہ کیاگیاہے: {اِلّا تَنصُرُوہُ فَقَد نَصَرَہُ اللّہُ اِذ أخْرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَینِ اِذ ھُمَا فِي الغَارِ اِذ یَقُولُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَن اِنَّ اللّہَ مَعَنَا} (۱) ترجمہ:(اگرتم ان(نبی ﷺ ) کی مددنہیں کروگے ٗ تواللہ نے ہی ان کی مددکی اُس وقت جبکہ انہیں کافروں نے نکال دیاتھا ٗ دومیں سے دوسرا ٗ جبکہ وہ دونوں غارمیں تھے ، جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے)
رسول اللہ ﷺ ٗ نیزآپؐ کے ہمسفریعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ٗ دونوں تین دن تین رات مسلسل اس غارمیں مقیم رہے، اس کے بعدوہاں سے آگے منزلِ مقصودیعنی مدینہ کی جانب روانگی ہوئی ،طویل سفر کے بعدآخریہ دونوں حضرات نبوت کے چودہویں سال، بتاریخ ۸/ربیع الاول ،بروزپیر،مدینہ کے مضافات میں پہنچ گئے۔
اس یادگاراوراہم ترین سفرکے موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جس طرح رسول اللہ ﷺ کی خدمت وپاسبانی کافریضہ سرانجام دیا…یقیناوہ تاریخِ اسلام کا ناقابلِ فراموش باب ہے۔

30/01/2026

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

عنوان: ’’صدیق‘‘

مکی دورمیں جب نبوت کا بارہواں سال چل رہاتھا،تب ماہِ رجب میں وہ انتہائی عجیب و غریب واقعہ پیش آیاجوکہ’’ اسراء ومعراج‘ ‘ کے نام سے معروف ہے۔یہ واقعہ اپنی ابتداء سے انتہاء تک عجیب وغریب اورانتہائی محیرالعقول قسم کے امورپرمشتمل تھا…اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کواللہ کے حکم سے بیت المقدس اورپھرملأاعلیٰ یعنی آسمانوں کی سیرکرائی گئی، جہاں آپؐ نے بہت کچھ دیکھا،جنت اوروہاں کی نعمتوں کا ٗنیز جہنم اوروہاں کے عذاب کا مشاہدہ کیا۔مختلف آسمانوں پرمتعدد انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات بھی ہوئی۔ یہ تمامتر مسافت رات کے ایک مختصرسے حصے میں طے کرلی گئی اورآپؐ راتوں رات واپس مکہ مکرمہ بھی پہنچ گئے… بیشک اللہ ہرچیزپرقادرہے…!!
رسول اللہ ﷺ راتوں رات جب اللہ کی قدرت سے بیت المقدس اورپھرآسمانوں کے اس سفرکے بعدواپس مکہ مکرمہ پہنچے اورمکہ والوں کواس عجیب وغریب سفرکے بارے میں مطلع فرمایاتو مشرکینِ مکہ نے آپؐ کی زبانی اس سفرکی رودادسننے کے بعدآپؐ کاخوب مذاق اڑایا، تماشابنایا، اورتمسخرواستہزاء کابازارگرم کردیا۔
جبکہ اہلِ ایمان نے اس واقعہ کی ’’تصدیق‘‘ کی،بالخصوص اس موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاموقف بہت زیادہ نمایاں اورجرأت مندانہ تھا…لہٰذااسی نسبت کی وجہ سے آپؓ ہمیشہ کیلئے تاریخ میں ’’صدیق‘‘کے لقب سے معروف ہوگئے۔(۱)

30/01/2026

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

عنوان: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورخلیفۂ اول کو تاریخ میں ’’ابوبکرصدیق‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ابوبکر ان کی کنیت تھی، جبکہ ’’صدیق‘‘ لقب تھا، اصل نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، اسلام سے قبل ان کا نام ’’عبدالکعبہ‘‘ تھا، قبولِ اسلام کے بعدخود رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام عبدالکعبہ سے تبدیل کر کے ’’عبداللہ‘‘ رکھ دیا تھا۔
بچپن سے ہی ’’عتیق‘‘ کے لقب سے بھی مشہور تھے، جبکہ قبولِ اسلام کے بعد مزید یہ کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی تھی : أنتَ عَتِیْقُ اللّہِ مِنَ النَّارِ (۱) یعنی ’’آپ اللہ کی طرف سے جہنم کی آگ سے آزادکردہ ہیں ‘‘۔
البتہ بعد میں ’’عتیق‘‘ کی بجائے ہمیشہ کیلئے ’’صدیق‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مکی تھے، قُرَشی تھے، مہاجر تھے، قبیلۂ قریش کے معزز خاندان ’’بنو تَیم‘‘ سے ان کا تعلق تھا، جو کہ مکہ کے مشہور محلہ ’’مسفلہ‘‘ میں آباد تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘ یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیں سے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایا تھا۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے والد کا نام ’’ابوقحافہ‘‘ جبکہ والدہ کا نام ’’سلمیٰ‘‘ تھا، یہ دونوں باہم چچازاد تھے، لہٰذا والد اور والدہ دونوں ہی کی طرف سے آپؓ کا سلسلۂ نسب ساتویں پشت (مُرّہ بن کعب) پر رسول اللہ ﷺ کے سلسلۂ نسب سے جا ملتا ہے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزید یہ شرف بھی حاصل تھا کہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے، اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپؓ ہی کی صاحبزادی تھیں۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو یہ خاص شرف اور اعزاز بھی حاصل تھا کہ ان کے خاندان میں مسلسل چار نسلوں کورسول اللہ ﷺ کی صحبت و معیت کا شرف نصیب ہوا، چنانچہ ان کے والدین بھی صحابی تھے، یہ خودبھی صحابی تھے، ان کے صاحبزادے عبداللہ اور عبدالرحمن ٗ نیز صاحبزادیاں عائشہ اوراسماء … اور پھر نواسے عبداللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہم اجمعین) سبھی رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے تقریباً ڈھائی سال بعد ٗاور پھر وفات مدینہ میں آپ ﷺ کی وفات کے تقریباً ڈھائی سال بعد ہوئی۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جاہلیت اور پھر اسلام دونوں ہی زمانوں میں نہایت باوقار اوروضع دار رہے، تمدنی ومعاشرتی زندگی میں انہیں ہمیشہ ممتاز مقام حاصل رہا، ظہورِ اسلام سے قبل بھی اُس معاشرے میں انہیں ہمیشہ انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، سب اہلِ مکہ اپنے اختلافات اورخاندانی جھگڑوں میں انہیں اپنا ’’ثالث‘‘ مقرر کرتے ، اورپھر ان کے ہرفیصلے کو بلا چون وچرا تسلیم کیا کرتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کو جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نبوت عطاء کی گئی اورآپؐ نے اعلانِ نبوت فرمایا…تب آپؐ کی اہلیہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاٗ و دیگر افرادِ خانہ کے بعد سب سے پہلے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے دینِ اسلام قبول کیا، آپ ؐ کی مکمل تصدیق کی، اوراس موقع پر کوئی دلیل یامعجزہ نہیں مانگا۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا ظہورِ اسلام سے قبل ہی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا، دونوں میں بہت قربتیں تھیں ، اور ایک دوسرے کے گھر آمدورفت کا سلسلہ رہتا تھا۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ذاتی ملکیت میں قبولِ اسلام کے وقت نقد چالیس ہزار درہم تھے ،قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے اپنی یہ کل پونجی رسول اللہ ﷺ کی خدمت اوردینِ اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کر دی۔
دینِ اسلام کے ابتدائی دور میں متعدد ایسے افراد جو کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ،اور دینِ اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے اپنے مشرک آقاؤں کے ہاتھوں بدترین عذاب اور سختیاں جھیلنے پرمجبور تھے ،انہیں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی جیبِ خاص سے نقد رقم ادا کر کے ان کے مشرک آقاؤں سے خرید لیا،اورپھر اللہ کی خوشنودی کی خاطر انہیں آزاد کر دیا…قرآن کریم کی درجِ ذیل آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیاہے:
{وَسَیُجَنَّبُھَا الأَتْقَیٰ الَّذِي یُؤتِي مَالَہٗ یَتَزَکَّیٰ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَہٗ مِنْ نِعمَۃٍ تُجْزَیٰ اِلَّاابْتِغٓائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الأَعلَیٰ وَلَسَوفَ یَرْضَیٰ}
(۱) ترجمہ:(اور ایساشخص اُس [جہنم] سے دور رکھا جائے گا جوبڑا پرہیزگار ہو گا، جو پاکی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے،کسی کا اُس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کیلئے، یقینا وہ [اللہ] عنقریب راضی ہوجائے گا) ۔
مفسرین کے بقول اس آیت کامفہوم اگرچہ عام ہے ،یعنی جوکوئی بھی محض اللہ کی رضامندی وخوشنودی کی خاطر اپنا مال خرچ کرے گا وہ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا…البتہ بطور خاص اس سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ بھی مقصود ہے۔(۱)
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا اُس معاشرے میں کافی اثرورسوخ تھا اورحلقۂ احباب بھی کافی وسیع تھا، لہٰذا انہیں اللہ کی طرف سے ’’ہدایت ‘ ‘کی شکل میں جو خیر نصیب ہوئی تھی اسے انہوں نے خود اپنی ذات تک محدود رکھنے کی بجائے اس اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش بھی نہایت سرگرمی اور جذبے کے ساتھ شروع کر دی ، چنانچہ ان کی ان دعوتی وتبلیغی کوششوں کے نتیجے میں اُس معاشرے کے متعدد ایسے بڑے بڑے اوربااثر افرادمشرف باسلام ہو گئے جو آگے چل کردینِ اسلام کے بڑے علمبردار اور اس قافلۂ توحیدکے سپہ سالار ثابت ہوئے… دینِ اسلام کی نشرواشاعت اورسربلندی کی خاطر جنہوں نے تاریخی خدمات اورناقابلِ فراموش کارنامے انجام دئیے ، ’’عشرہ مبشرہ ‘‘ یعنی وہ دس خوش نصیب ترین حضرات جنہیں اس دنیا کی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایا تھا ان میں سے پانچ حضرات نے آپؓ کی دعوت اور تبلیغی کوششوں کے نتیجے میں ہی دینِ برحق قبول کیا تھا (۲)

30/01/2026

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ

عنوان: اسی کے پاس سب کو جاناہے

باہر صحابہ ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔حضرت عمر رضی الله عنہ کی حالت اتنی پریشان کن تھی کہ مسجد نبوی کے ایک کونے میں کھڑے ہوگئے،اور لوگوں کو مخاطب ہوکر کہنے لگے:
"اللّٰہ کی قسم!رسول اللّٰہ کا انتقال نہیں ہوا...رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم کی وفات اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وہ منافقوں کے ہاتھ پیر نہیں توڑ دیں گے۔اور اگر کسی نے یہ کہا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوگئی ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا... بعض منافق یہ کہہ رہے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں ،حالانکہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ اسی طرح اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام گئے تھے اور پھر چالیس راتوں کے بعد اپنی قوم میں واپس آگئے تھے،جب کہ لوگ ان کے بارے میں کہنے لگے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی ہے۔اللّٰہ کی قسم!رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم بھی اسی طرح واپس تشریف لائیں گے جیسے موسیٰ علیہ السلام لوٹ آئے تھے...پھر ان لوگوں کے ہاتھ پیر کٹوائیں گے۔"
حضرت عمر رضی الله عنہ غم کی زیادتی کی وجہ سے ابھی یہ باتیں کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ تشریف لائے اور منبر پر چڑھے۔انہوں نے بلند آواز میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
"لوگو!جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا،وہ جان لے کہ محمد صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔"
یہ کہہ کر انہوں نے سورۃ آل عمران کی آیت 144 تلاوت فرمائی۔اس کا مفہوم یہ ہے:
"اور محمد رسول ہی تو ہیں ۔ان سے پہلے اور بھی بہت رسول گذر چکے ہیں ۔سو اگر ان کا انتقال ہوجائے یا وہ شہید ہوجائے تو کیا تم لوگ الٹے پھر جاؤ گے...اور جو شخص الٹے پیروں پھر بھی جائے گا تو اللّٰہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور اللّٰہ تعالیٰ جلد ہی حق شناس لوگوں کو بدلہ دے گا۔"
حضرت عمر رضی الله عنہ فرماتے ہیں ۔
"یہ آیت سن کر مجھے لگا جیسے میں نے آج سے پہلے یہ آیت سنی ہی نہیں تھی۔"
اس کے بعد حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ ،صَلَوَٰتٌۭ وَسَلَامٌ عَلَى رْسَولِہ صلی الله علیہ وسلم
(بے شک ہم سب اللّٰہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم پر درود و سلام ہو۔)
حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ نے قرآن کریم کی اس آیت سے سب کے لیے موت کا برحق ہونا ثابت فرمایا اور فرمایا:
"اللّٰہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے۔
"آپ کو بھی مرنا ہے اور انہیں ( عام مخلوق کو)بھی مرنا ہے۔"( سورۃ الزمر : آیت 30)
پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے ہاتھ پر تمام مسلمانوں نے بیعت کرلی۔اس کے بعد لوگ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کی طرف متوجہ ہوئے۔
(اور یہ کس قدر حیرت انگیز اتفاق ہے کہ یہ قسط ربیع الاول کی انہی تاریخوں میں شائع ہورہی ہے...جن میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوئی،یہ قدرتی ترتیب اسی طرح بن گئی ورنہ میرا ایسا کوئی باقاعدہ ارادہ نہ تھا۔)
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو غسل دیا گیا۔ غسل حضرت علی،حضرت عباس اور ان کے بیٹوں فضل اور قثم رضی الله عنہم نے دیا۔حضرت فضل اور حضرت اسامہ رضی الله عنھما غسل دینے والوں کو پانی دے رہے تھے۔غسل کے وقت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی قمیص نہیں اتاری گئی۔غسل کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفن کا دیا گیا، عود وغیرہ کی دھونی دی گئی۔اس کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو چار پائی پر لٹاکر ڈھانپ دیا گیا۔
نماز جنازہ کی کسی نے امامت نہیں کی۔سب نے علیحدہ علیحدہ نماز پڑھی ۔یعنی جتنے لوگ حجرہ مبارک میں آسکتے تھے،بس اتنی تعداد میں داخل ہوکر نماز ادا کرتے اور باہر آجاتے،پھر دوسرے صحابہ اندر جاکر نماز ادا کرتے۔
حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر رضی الله عنہ چند دوسرے صحابہ کرام کے ساتھ حجرے میں داخل ہوئے تو ان الفاظ میں سلام کیا۔

پھر تمام مہاجرین اور انصار نےبھی اسی طرح سلام کیا۔نماز جنازہ میں سب نے چار تکبیرات کہیں ۔
انصاری حضرات سقیفہ بنی ساعدہ( ایک جگہ کا نام)میں جمع ہورہے تھے تاکہ خلافت کا فیصلہ کیا جائے۔کسی نے اس بات کی خبر حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنھما کو دی۔یہ دونوں حضرات فوراً وہاں پہنچے،اور خلافت کے بارے میں ارشاد نبوی سنایا۔
خلافت کا مسئلہ طے ہوگیا تو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو دفن کرنے کا مسئلہ پیدا ہوا...سوال یہ کیا گیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟اس موقع پر بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ آگے آئے اور فرمایا:
"آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو وہیں دفن کیا جائے گا جہاں وفات ہوئی ہے...
میرے پاس ایک حدیث ہے... میں نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کی روح اسی جگہ قبض کی جاتی ہے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب جگہ ہوتی ہے۔
چنانچہ یہ بات طے ہوگئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ دفن کیا جائے۔
اب یہ سوال اٹھا کہ قبر کیسی بنائی جائے،بغلی بنائی جائے یا شق کی۔۔۔اس وقت مدینہ منورہ میں حضرت ابوطلحۃ بن زید بن سہل رضی اللہ عنہ بغلی قبر کھودا کرتے تھے اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح شق کی قبر کھودتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ان دونوں کو بلالاؤ۔۔۔ان میں سے جو پہلے پہنچے گا، اسی سے قبر بنوالی جائے گی۔
ان کی طرف آدمی بھیجنے کے ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی:
اے اللہ!اپنے رسول کے لئے خیر ظاہر فرما۔
حضرتابوطلحہ رضی اللہ عنہ پہلے آئے،چنانچہ بغلی قبر تیار ہوئی۔ایک حدیث کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بغلی قبر ہی کا حکم فرمایا تھا۔ حضرت عباس،حضرت علی،حضرت فضل،حضرت قثم اور حضرت شقران رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں اتارا۔
حضرت شقران رضی اللہ عنہ نے قبر میں ایک سرخ رنگ کا کپڑا بچھایا۔یہ وہی سرخ کپڑا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے وقت اونٹ کے پالان پر بچھاتے تھے۔یہ کپڑا اس لئے بچھایا گیا کہ وہاں نمی تھی۔اس وقت حضرت شقران رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے:
خدا کی قسم!آپ کے بعد اس کپڑے کو کوئی نہیں پہن سکے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین منگل اور بدھ کی درمیانی رات میں ہوئی۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس روز ہم سب ازواج ایک جگہ جمع ہوکر رورہی تھیں ۔ہم میں سے کوئی سو نہ سکا۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان دی۔ اذان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک آیا تو سارا مدینہ رونے لگا۔لوگ اس قدر روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں ۔اس سے بڑا صدمہ ان پر کبھی نہیں گذرا تھا اور نہ آئندہ کبھی کسی پر گذرے گا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
تمہارے دلوں نے کیسے برداشت کرلیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟۔
اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ہاں !لیکن اللہ تعالیٰ کے حکموں کو پھیرنے والا کوئی نہیں ۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ آدمی اسی مٹی میں دفن ہوتا ہے جہاں سے اس کا خمیر اٹھایاجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت عیسیٰ علیہ اسلام اور حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر رضی اللہ عنہما ایک ہی جگہ کی مٹی سے تخلیق کئے گئے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور بھوکی پیاسی مر گئی۔
علمائےاسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دفن ہیں ،وہ جگہ روئے زمین میں تمام مقامات سے افضل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واقعۂ فیل والے سال میں پیدا ہوئے۔۔۔یعنی جس سال ابرہہ بادشاہ نے کعبہ پرچڑھائی کی تھی۔اس واقعہ کے چالیس یا پچاس دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت صبح طلوع فجر کے وقت ہوئی۔وہ پیر کا دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔تاریخ ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے تاہم اس روز معتبر قول کے مطابق 9 تاریخ تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی اور اس روز بھی ربیع الاول کی نو یا بارہ تاریخ تھی۔
اے اللہ درود وسلام ہو اس ذات پر کہ جس نے کفر وشرک کے اندھیروں میں شمع ہدایت روشن کی اور جن کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔وہ تیرے بندے اور رسول اور ہمارے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کامل ہے۔ میدان حشر میں ہمیں ان کے گروہ میں شامل فرما اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وحدیث کے خادموں میں داخل فرما۔آمین۔ سوائے اللہ رب العزت کی ذات عظیم کے کسی کو دوام حاصل نہیں ۔
وصلی اللہ علی النبی الامی وعلی الہ واصحابہ اجمعین۔
۔۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ اس قسط کے ساتھ ہی سیرت النبی قدم بہ قدم کا یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔۔۔اسے جس قدر پسند کیا گیا،اس پر اللہ کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے، اس میں تقریبا دو سال لگے۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک کے ان گنت پہلو پھر بھی اس میں شامل نہ ہوسکے۔۔۔۔اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔۔۔ دنیا کے تمام انسان تمام عمر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک پر لکھتے رہیں ،تب بھی حق ادا نہیں ہوسکتا۔۔۔موجودہ حالات کا تقاضا ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو عام کیا جائے، قول سے، عمل سے یا جس طرح بھی بن پڑے یہ کام ضرور کیا جائے۔ اس وقت انسانیت کو کسی آئیڈیل کی تلاش ہے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات ہوسکتی ہے۔ بقول ذکی کیفی۔۔۔
تنگ آجائے گی خود اپنے چلن سے دنیا
تجھ سے سیکھے گا زمانہ ترے انداز کبھی

سیرتِ محمدی ﷺ: سراپا رحمت، پیکرِ حکمتتاریخِ انسانی نے بڑے فاتح دیکھے، لیکن تاریخِ عالم نے ایسا "فاتحِ قلوب" نہیں دیکھا ج...
27/01/2026

سیرتِ محمدی ﷺ: سراپا رحمت، پیکرِ حکمت
تاریخِ انسانی نے بڑے فاتح دیکھے، لیکن تاریخِ عالم نے ایسا "فاتحِ قلوب" نہیں دیکھا جس نے تلوار کے بجائے اخلاق سے سلطنتیں تسخیر کیں۔ ذیل کے چند واقعات اس عظیم کردار کی جھلک ہیں:
۱۔ جذبات کا پاس اور اعلیٰ ظرفی
عکرمہ بن ابوجہل وہ شخص تھے جنہوں نے برسوں اسلام دشمنی میں گذارے۔ جب وہ تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کے لیے مکہ آ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا:
> "عکرمہ ایمان لا کر ہجرت کر کے تمہارے پاس آ رہا ہے، خبردار! کوئی اس کے باپ (ابوجہل) کو برا نہ کہے (تاکہ اسے دکھ نہ پہنچے)۔"
> یہ ہے اعلیٰ ظرفی کہ دشمن کے بیٹے کے جذبات کا بھی خیال رکھا جائے۔
>
۲۔ طائف کے زخموں کی فراموشی
عبد یالیل وہ شخص تھا جس کے ایما پر طائف کی گلیوں میں آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے جوتے خون سے بھر گئے۔ برسوں بعد جب وہ مغلوب ہو کر سامنے آیا، تو رحمتِ عالم ﷺ نے نہ تو ماضی کا کوئی زخم یاد دلایا اور نہ ہی کوئی شکایت کی۔ بلکہ اسے مہمان بنایا، اسلام کی دعوت دی اور تحائف سے نوازا۔
یہ ہے عظمتِ کردار۔
۳۔ امانت اور صلہ رحمی
عثمان بن طلحہ قبل از اسلام کعبہ کی کنجیاں اپنے پاس رکھتے تھے اور آپ ﷺ کو کعبہ میں داخل ہونے سے روکتے تھے۔ لیکن جب مکہ فتح ہوا اور کعبہ کی کنجیاں آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھیں، تو آپ ﷺ نے وہی کنجیاں واپس عثمان کو تھما دیں اور فرمایا: "آج کا دن نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔"
یہ ہے شاندار مردانگی۔
۴۔ لمسِ نبوی ﷺ سے دلوں کی تبدیلی
فضالہ خانہ کعبہ کے گرد طواف کر رہا تھا، لیکن اس کے لباس میں خنجر چھپا تھا اور نیت قتلِ رسول ﷺ تھی۔ آپ ﷺ قریب آئے، اس کے سینے پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا اور مسکرا کر اس کا حال پوچھا۔ وہ ہاتھ کا لمس تھا یا جادو، فضالہ کا دل موم ہو گیا اور وہ پکار اٹھا: "آپ ﷺ سے بڑھ کر اب مجھے کوئی محبوب نہیں۔"
یہ ہے شرافت اور تاثیر۔
۵۔ حکمت، رحمت اور اصلاحِ معاشرہ
نبی کریم ﷺ کا طریقۂ تربیت ڈانٹ ڈپٹ نہیں بلکہ "محبت" تھا۔
* حکمت: جب ایک دیہاتی نے مسجدِ نبوی میں پیشاب کر دیا، تو آپ ﷺ نے صحابہ کو اسے روکنے سے منع فرمایا تاکہ اسے تکلیف نہ ہو، پھر اسے پیار سے مسجد کا تقدس سمجھایا۔
* رحمت: ایک شخص جو بار بار شراب نوشی کی وجہ سے لایا جاتا، لوگ اسے ملامت کرتے، مگر آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے برا نہ کہو، یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے۔"
* خوبصورتی: ایک نوجوان نے زنا کی اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے اسے غصہ کرنے کے بجائے منطق اور ممتا کی مثالوں سے سمجھایا، یہاں تک کہ وہ گناہ اس کی نظر میں سب سے قبیح بن گیا۔
ہمارا مقام کہاں ہے؟
یہ وہ دین ہے جو رحمت، برداشت اور درگزر کی بنیاد پر پھیلا۔ آج ہم جو اپنے آپ کو اس عظیم نبی ﷺ کا امتی کہتے ہیں، ذرا سوچیں کہ:
* کیا ہمارے اندر دشمن کے لیے درگزر ہے؟
* کیا ہم دوسروں کے جذبات کا احترام کرتے ہیں؟
* کیا ہماری زبانوں سے لوگ محفوظ ہیں؟
سیرتِ طیبہ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، جینے کے لیے ہے۔

Address

Sialkot
51310

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irfan ul Quran International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Irfan ul Quran International:

Share