05/03/2025
*اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور تکبر سے بچیں۔
بہت سی مشکلات ایسی ہیں جن کی وجہ دو بھائیوں کی عداوت ایک دو سال،کئ برس یا ساری عمر جاری رہتی ہیں۔اس لئے اس مسئلے کا آسان ترین حل یہ ہے کہ ایک بھائی دوسرے سے کہ دے:
"غلطی میری تھی ۔ میں معذرت کرتا ہوں۔"
نفرت کی چنگاری بجھانے میں جلدی کیجئے، قبل اس سے کہ ان چنگاریوں آگ بھڑک اٹھے اور سب کچھ خاکستر کردے۔
" مجھے افسوس ہے۔" قصور میرا تھا۔" "آپ کا دل صاف ہے۔"
ہم انکسار اور تواضع کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں سے ایسے الفاظ کہنا سیکھ جائیں تو زندگی آسان اور خوشگوار ہوجائے!
دو جلیل القدر صحابہ ابوذر اور بلال رضی اللہ عنہما کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوگیا ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے غصہ میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ابن السوداء(کالی کلوٹی حبشی کا بیٹا ) کہ دیا۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ آپ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور دریافت کیا:
"کیا آپ نے بلال کو گالی دی؟"
ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، دی۔"
فرمایا:
" تو آپ نے ان کی والدہ کا ذکر کیا ہے؟"
کہا:" یا رسول اللہ! جو شخص لوگوں سے گالم گلوچ کرتا ہے، اس کے والدین کا ذکر کیا ہی جاتا ہے۔"
آپ نے فرمایا : " آپ میں جاہلیت ہے۔"
ابوذر رضی اللہ عنہ کا چہرہ پھیکا پڑگیا، بولے :" کیا بڑھاپے کی اس عمر میں بھی؟"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہاں۔"
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ماتحتوں سے برتاؤ کا طریقہ سمجھاتے ہوئے فرمایا: " جنھیں اللہ نے تمھارے ماتحت کیا ہے وہ تمہارے بھائی ہی ہیں۔ جس کسی کا بھائی اس کا ماتحت ہو وہ اسے اپنا کھانا کھلائے اور اپنا لباس پہنائے، اس کے بس سے باہر کا کام نہ کہے، اگر کوئی چارہ نہ ہو تو ایسے کام میں اس کی مدد کرے"( السنن (الکبری للبیھقي : 7/8, وصحیح مسلم، حدیث : 1661۔)
یہ سن کر ابوذر رضی اللہ عنہ جا کر بلال رضی اللہ عنہ سے ملے ، معذرت کی اور بلال رضی اللہ عنہ کے سامنے زمین پر بیٹھ کر اپنا گال ننگے پرش پر رکھا اور کہا: " بلال! اپنا پاؤں میرے گال پر رکھ دو۔"
صحابہ کرام کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے باعث ، یہی مزاج تھا۔ وہ نفرت کی آگ بھڑکنے سے پہلے ہی اسے بجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر بالفرض آگ بھڑک اٹھتی تو اسے مزید پھیلنے سے روکتے۔
ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان ذرا تلخ کلامی ہوگئی۔ عمر ناراض ہو کر چل دیئے۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی اور اس خدشے کے پیش نظر کہ معاملہ بڑھ جائے گا، عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے گئے اور کہتے رہے: عمر ! مجھے معاف کردو۔"
عمر نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ابوبکر معذرت کرتے بےچارے پیچھے پیچھے جاتے رہے۔ عمر گھر پہنچے اور اندر جاکر دروازہ بند کرلیا۔
ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ۔ آپ نے انھیں دور سے آتے دیکھا،چہرے کا رنگ بدلا ہوا پایا تو فرمایا:
"لو، آپ کا یہ صاحب تو کسی مشکل میں گرفتار ہے۔"
ابوبکر رضی اللہ عنہ قریب آئے اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔ چند لمحے ہی گزرے ہونگے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے رویے پر ندامت کااحساس ہوا۔ ان لوگوں کے دل روشن تھے۔
عمر بھی گھر سے نکلے اور کشاں کشاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں چلے آئے۔ سلام عرض کیا اور آپ کی جانب بیٹھ گئے۔ ساری بات بتائی کہ کیسے انھوں نے ابوبکر سے بے رخی برتی اور ان کی معذرت قبول نہ کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا۔ ابوبکر نے آپ کے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے:
"یا رسول اللہ ! واللہ ! میرا ہی قصور تھا۔ غلطی میری ہی تھی۔"
یوں وہ عمر کا دفاع کرنے لگے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" کیا آپ میری خاطر میرے صاحب کا پیچھا چھوڑتے ہیں؟ کیا آپ میری خاطر میرے صاحب کا پیچھا چھوڑتے ہیں؟ میں نے کہا تھا: " اے لوگوں! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔" آپ لوگوں نے جوابا کہا تھا: "تم جھوٹ کہتے ہو۔ اور ابوبکر نے کہا تھا: "آپ سچ کہتے ہیں۔" ( صحیح البخاری،حدیث:3661.
غلطی کا اعتراف کرنے سے آدمی چھوٹا نہیں ہوجاتا۔انکسار اور تواضع کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان ہٹ دھرمی کے بجائے غلطی کا اعتراف کرنا سیکھے۔
حدیث میں آیا ہے:
"جو شخص اللہ تعالی کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند کردیتاہے۔(" صحیح مسلم،حدیث:2588.)
***ایک نظر ادھر بھی***
" اپنی غلطی کا اعتراف کرنا بڑاپن ہے۔"
ماخوذ:زندگی سے لطف اٹھائیے ،دکتورمحمد عبدالرحمن العریفی۔