26/06/2026
یا حسینؑ مظلوم
نہ غسل ہے، نہ کفن ہے، نہ کوئی روئے گا
چُھپا ہے خاک میں، آلِ رسولؐ کا تکیہ
تڑپ رہے ہیں جو مقتل میں پیاسے، یا اللہ!
زباں پہ اب بھی ہے شکرِ خدا، بحالِ تباہ
تشنہ لب، زخموں سے چور، دشتِ بلا میں تنہا
کوئی سایا نہ ملا، دھوپ تھی، جلتی تھی زمین
تیر پہ تیر چلے، سینہ ہوا چھلنی جب
گر پڑے گھوڑے سے مقتل میں امامِ مظلوم
پیاس کی شدت سے لب سوکھے تھے، آنکھیں تھیں لہو
نیزے کھائے، زہر کے تیر سہے، سر نہ جھکا
ذبح پیاسا ہی کیا، آلِ محمدؐ کو وہاں
دشتِ غربت میں کوئی پرسیارِ غم تک نہ ہوا
کلام: میر ببر علی انیسؔ