Naqshbandi Networks

Naqshbandi Networks Mn niwaan medhaa murshid ochaa asaan ochyian de sang lai sadky jawan unha uchiyan too jinhaa nevyaan naal nebhaai

16/05/2024

طریقت کے اندر فیض یابی میں کنجوسی نہیں ہوتی، یہ موقوف ہے پیمانے پر اور پیمانے کا منہ کھلتا ہے اخلاص پر اور اخلاص کی گرمی ہے ایمان پر اور ایمان کی قبولیت ہے عشق پر

13/05/2024

ہندوستان میں نقشبندی سلسلے کی اہم شاخیں ۔

نقشبندی محمدی ۔
نقشبندی محمدی سلسلہ مشرقی ہندوستان میں حضرت درویش محمد سے سیدنا پاک محمد قادری امجھری رح سے ان کے داماد سید شاہ محمد فیروز قادری حسینی رح کو ملا جو اج بھی جاری ہے ۔اور بہار اڑیسہ مغربی بنگال جھاڑکھنڈ اور کراچی میں بھی ایک شاخ موجود ہے ۔
نقشبندی ابوالعلائ ۔
یہ سلسلہ امیر ابوالعلاء اگرہ سے چلا ہے اور اس میں قادریہ سہروردیہ نسبت سمیت نقشبندی چشتی امتزاج ہے اس سلسلے نے بھی مشرقی ہندوستان سمیت پاکستان میں پنجاب میں نقیبیہ سلسلے لے نام سے بہت عروج پایا پے سماع وجد وحال اس میں شامل ہے
نقشبندی باقویہ
یہ سلسلہ نقشبندی سلسلہ کے شیخ سلسلہ حضرت خواجہ باقی باللہ کا سلسلہ ہے اور یہ سلسلہ ان کے خلفاء سے چلا ہے
نقشبندی مجددی
نقشبندی مجددی سلسلہ حضرت خواجہ باقی باللہ رح کے عظیم المرتبت خلیفہ حضرت مجدد الف ثانی رح سے منسوب ہے اور یہ سلسلہ نقشبندی سلسلے ہی میں مجدد الف ثانی رح کے اضافہ شدہ اسباق اور مراقبات پر مشتمل ہے ۔
نقشبندی مجددی سلسلے کی مزید شاخیں موجود ہیں ۔
جن میں نقشبندیہ معصومیہ ۔نقشبندیہ بنوریہ ۔نقشبندیہ خالدیہ ۔نقشبندیہ صفویہ قابل ذکر ہیں ۔
نقشبندیہ مجددیہ سلسلے کی تمام شاخیں حضرت مجدد الف ثانی رح پرمتفق ہیں اور ان کے مکتوبات سمیت خاندان مجددیہ کے بزرگ مشائخ کے مکتوبات وتعلیمات سے مستفیض ہیں ۔۔

11/05/2024

حضرت علی بن عثمان المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات عالیہ از کشف المحجوب
(1) ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور گھر کی زکوٰۃ مہمان خانہ ہے۔
(۲) درویش وہ ہے جو امراء سے رغبت نہ رکھے۔
(۳) دوسروں کی خاطر قربانی دینے والے ہمیشہ زندہ و تابندہ رہتے ہیں۔
(۴) سب نبی ولی ہوتے ہیں مگر اولیاء میں سے کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
(۵) توبہ و استغفار سے راہِ حق کی تلاش میں مدد ملتی ہے۔
(۶) علم کے بغیر عمل کا کوئی فائدہ نہیں۔
(۷) جہاں تمہاری عزت نہ ہو وہاں تمہارا جانا بیوقوفی ہے۔
(۸) عالم اور جاہل میں ایک ہی فرق ہے کہ عالم ہر بات پر غور و فکر کے بعد کرتا ہے جبکہ جاہل آدمی سنی سنائی بات بیان کرتا ہے۔
(۹) روزہ آدھی طریقت ہے۔
(۱۰) درویش وہ ہے جو ہر حال میں غیر اللہ سے تعلق نہ رکھے اور نہ امید۔
(۱۱) استاد کا حق ضائع کرنے والا فلاح نہیں پاسکتا۔
(۱۲) حرام بھی کھاتا ہے اور مسلمان بھی کہلاتا ہے۔
(۱۳) صاحب علم وہ ہے جو اپنے آپ کو حقیر جانے اور دوسروں کو ارفع و اعلیٰ۔
(۱۴) عروجِ علم یہ ہے کہ تو کہہ اٹھے کہ میں بہت حقیر ہوں۔
(۱۵) اللہ کی فرمانبرداری سے آدمی موت کے بعد بھی زندہ ہی رہتا ہے، کیونکہ اللہ ایسے لوگوں کے دلوں کو زندہ رکھتا ہے۔
(۱۶) عارف عالم بھی ہوتا ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ عالم عارف بھی ہو۔
(۱۷) صوفی کہلانے کے لئے کتاب و سنت کی پیروی اشد ضروری ہے۔
(۱۸) اپنے نفس کو خوش کرنے کے لئے اگر تم کچھ کروگے تو برکت سے محروم رہ جاؤگے۔
(۱۹) اپنے اعمال کی درستگی کے لئے علم حاصل کرو۔
(۲۰) کاہل فقیر، غافل امیر اور جاہل درویش کی صحبت سے بچو۔
(۲۱) اس ملک پر تباہی ہے جس کا حکمران دین کی سمجھ نہ رکھتا ہو۔
(۲۲) تمام علومِ دنیا سیکھنا انسان پر فرض نہیں۔
(۲۳) جس طرح غصہ عقل کو کھاجاتا ہے اسی طرح جھوٹ رزق کو کھاجاتا ہے۔

10/05/2024
10/05/2024

مبارک باد کے مستحق ہیں تمام سالکین
جنہیں نسبت
حضرت سیدنا شاہ بہا و الدین نقشبند بخاری رحمت اللہ علیہ اور
حضرت سیدنا امام مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے

19/01/2024

عقيده اهلسنت جي مسجدن ۽ مدرسن تي قبضو ڪندڙن کي يارسول الله ﷺ چوڻ وارا ڪڏھن به ووٽ نه ڪندا. ڏينهن اهي ناهن وسريا جو ميلاد پاڪ جي جلوسن جي رستا روڪ ڪئي ويندي آھي.

27/12/2023

حلقۂ ذکر و مراقبہ


صوفیاء کرام کے یہاں مراقبہ کے بہت سے طریقے رائج ہیں۔ ہمارے مشائخ طریقہ عالیہ نقشبندیہ غفاریہ بخشیہ میں جو مراقبہ مروج ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ دل کو ادھر ادھر کے خیالات سے فارغ کرکے پورے اطمینان سے ذات باری تعالیٰ کی طرف اپنے شیخ کامل کے توسط سے متوجہ ہوا جاتا ہے۔ یہ مراقبہ اجتماعی طور پر بھی کیا جاتا ہے اور انفرادی طور پر بھی۔ بزرگان دین کے یہاں ذکر کے لیے جمع ہوکر گول دائرہ کی شکل میں بیٹھ کر ذکر کرنا متقدمین سے لیکر آج تک مروّج رہا ہے اور یہ تمام سلاسل میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ بعض جہری ذکر کرتے اور بعض تلاوت قرآن مجید اورحمد و نعت کی صورت میں حلقہ ذکر قائم کرتے ہیں۔ مقصد سبھی کا ایک ہے یعنی کچھ دیر کے لیے دنیا ومافیہا سے تعلقات توڑ کر ہمہ تن اپنے خالق و مالک کی طرف متوجہ ہوا جائے۔

اس قسم کے حلقۂ ذکر و مراقبہ کی اصل درج ذیل حدیث شریف ہے۔

عَنْ انس قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اِذَا مَرَرْتُمْ بِرِیَاضِ الْجَنَّۃِ فَارْتَعُوْا قَالُوْا وَمَا رِیَاضُ الجَنَّۃِ قَالَ حِلَقُ الذِّکْرِ۔
الجامع للترمذی

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے جب تم جنت کے باغوں کے قریب سے گذرو تو خوب کھالیا کرو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم جنت کے باغ کونسے ہیں؟ فرمایا ذکر کے حلقے یعنی گول دائرہ کی شکل میں بیٹھ کر ذکر کرنا۔
اس حدیث شریف کی شرح میں برصغیر پاک و ہند کے مشہور محدث حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ لکھتے ہیں: و درایں حدیث دلیل است برآں کہ تحلیق برائے ذکر مشروع است۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ذکر کے لیے گول دائرہ بنانا شریعت مطہرہ کے مطابق ہے۔

ذکر اللہ کے لیے جمع ہونا، ذکر کرنا، سننا، بلکہ خاموشی سے ذکر والوں کی مجلس میں بیٹھنا بھی باعثِ برکت و نزولِ رحمت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

قَالَ رَسُوْلُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم لَایَقْعُدُ قَوْمٌ یَذْکُرُونَ اللہ اِلَّا حَفَّتْہُمُ المَلَاِئِکَۃُ وَغَشِیَتْہُمُ الرَحْمَۃُ وَنَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَکِیْنَۃُ وَ ذَکَرُھُمُ اللہ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ۔
(رواہ مسلم مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ۱۹۶)

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بھی قوم ذکر اللہ کے لیے بیٹھتی ہے تو ان کو فرشتے گھیرلیتے ہیں اور ان پر رحمت الٰہی چھا جاتی ہے اور ان پر اطمینان و سکون نازل ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ ان ذکر کرنے والوں کو اپنے مقرب فرشتوں میں یاد فرماتا ہے۔
مذکورہ احادیث سے حلقہ و مراقبہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ اسی لیے صوفیائے کرام نے اللہ تعالیٰ کے ذکر قلبی کی مشق کرنے اور اس کو جاری کرنے کے لیے مراقبہ کو نہایت اکسیر قرار دیا ہے۔ مراقبہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب فراغت ہو آنکھیں بند کرلیں اور اگر کپڑا میسر ہو تو اپنے سر ڈال لیں، دل سے تمام خیالات محو کرکے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو موجود سمجھ کر یہ تصور کریں کہ اللہ کا ذکر ہورہا ہے، اور حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کا فیض اللہ والوں کے سینوں سے ہوتا ہوا میرے قلب میں پہنچ رہا ہے۔ جس طرح ہم اندھیرے میں ٹارچ جلاتے ہیں تو اس سے روشنی کی شعاع نکلتی ہے جس کی وجہ سے سامنے ہر چیز واضح ہوجاتی ہے۔ اسی طرح یہ تصور کریں کہ ایک نورانی شعاع ہمارے قلب میں پہنچ رہی ہے اور ہمارا قلب منور ہورہا ہے۔ اس طریقے سے معرفت الٰہی کا راستہ سہل و آسان ہوجاتا ہے۔ مصنف قطب الارشاد حضرت الحاج فقیر اللہ علوی مراقبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

اَلْمَرَاقَبَۃُ وَھِیَ اَشْرَفُ اَسْبَابِ الوُصُوْلِ وَاَسْھَلُ طُرُقِ حُصُوْلِ الْمَعْرفَۃِ وَ اَقْرَبُہَا وَھِیَ مُشْتَقَّۃٌ مِنْ التَرَقُّبِ وھُوَ انْتِظَارُ الْمَطْلُوبِ اَوْ مِنَ الرَّقِیْبِ وَھِیَ مُحَافَظَۃُ القَلْبِ۔
(قطب الارشاد صفحہ ۵۶۱)

مراقبہ وصول الی اللہ کے اسباب میں زیادہ معتبر اور معرفۃ الٰہی کے حصول کا آسان اور قریب تر راستہ ہے، مراقبہ ترقب سے مشتق ہے اور اسکا مقصد ہے مطلوب حقیقی کا انتظار کرنا یا رقیب سے مشتق ہے اور اسکا مقصد ہے اپنے قلب کی حفاظت کرنا۔
حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ فرماتے ہیں مراقبہ کا مادہ رقب ہے جسکا معنیٰ ہے انتظارکرنا اور مراقبہ کا مطلب یہ ہے کہ سالک بغیر ذکر اور بغیر رابطۂ شیخ اپنے دل کو خیالات فاسدہ سے محفوظ رکھ کر پوری طرح اللہ تعالیٰ کے طرف دھیان رکھے اور اسکا طریقہ یہ ہے کہ عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہر وقت ذات الٰہی کی طرف متوجہ رہے تاوقتیکہ بلاشرکت غیر، توجہ الی اللہ اسکی عادت بن جائے۔ اس کو حضور بھی کہتے ہیں اور ذکر سے مقصود بھی یہی ہے۔ اسی لیے حضرت مولانا عبداالرحمان جامی علیہ الرحمۃ نے کیا خوب فرمایا ہے۔ شعر:

نقشبندیہ عجب قافلہ سالاراند
برندہ پنہاں بحرم قافلہ را

مشائخ نقشبند قافلہ طریقت کے عجیب قائد ہیں کہ روحانیت کے مخفی راستے سے اپنے قافلہ کو بارگاہ الٰہی میں پہنچادیتے ہیں۔

ماخوذ از جلوہ گاہِ دوست

14/12/2023

. مرشد_کا_تصوّر_وہ_واحد_ہتھیار_ہے
جو شیطان کے کسی وار کو کامیاب نہیں ہونے دیتا
روحانیت کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے کامل مرشد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ روحانیت میں مرشد کو ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت حاصل ہے بِنا کامل مرشد کی بیعت ہوئے روحانیت کے بارے میں جانا تو جا سکتا ہے لیکن اس پہ چلنا نا ممکن ہے کیونکہ

جاگ بنا ددّھ نئیں جَمدے
بھانویں لال ھووے کڑّھ کڑّھ کے

مرشد سے ایسا عشق ہو کہ یہ یقین پختہ ہونا چاہئیے کہ تمام خیر و شر مالک کی طرف سے ہی آتا ہے مرشد پہ یقین اس طرح کا ھونا چاہیے۔۔ کامل مرشد کے بارے میں حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللّٰہ علیہ کا فرمان ہے کہ کامل مرشد کا چہرہ ربّ کہ صورت ہوتی ہے اس میں تمام جہانوں کو دیکھا جا سکتا ہے پھر فرمایا جو حق اور کامل مرشد کو الگ جانے وہ عشق کو نہیں پا سکتا مرشد سے عشق ہی سب کچھ ہے اسی لیے نیک لوگوں کا فرمان ہے کہ ربّ نہ ڈھونڈ مرشد ڈھونڈ
عشقِ مرشد ہی فنا فی الشیخ فنا فی الرسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اور فنا فی اللّٰہ ہے صحابہ اکرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین ہر وقت حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کرکے دیدار کے شائق رہتے تھے ان کے دل میں عشقِ نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اس قدر تھا کہ دن رات مسجدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم میں بیٹھے رہتے کہ بس اپنے محبوب کا دیدار کرتے رہیں

وہی عشق کا چراغ آگے چلتا ہوا اولیأاور فقرأ تک آیا فقرأ میں عشق کی وہی آگ ہے جس کی نسبت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے ہے اسی لیے مرشد سے عشق ہی عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اور عشقِ الٰہی کہلاتا ہے حدیث پاک میں آیا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ مومن کا دل میرا عرش ہے
حضرت خواجہ معین الدّین چشتی اجمیری رحمتہ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں عشقِ مرشد ہی وہ چیز ہےجو انسان کو زمین سے اٹھا کر عرش اور اس کے پار لے جاتی ہے اور دونوں جہانوں سے آگاہی دیتی ہے اور سب سے بڑھ کر خود آگاہی دیتی ہے مرشد کا تصوّر وہ واحد ہتھیار ہے جو شیطان کے کسی وار کو کامیاب نہیں ہونے دیتا اور تصوّر تب ہی قائم ہوتا ہے مرشد سے محبت کی جائے قربت میں رہا جائے.

سارے دوستوں کو شرکت کے دعوت عرض ہے 🌹
19/09/2023

سارے دوستوں کو شرکت کے دعوت عرض ہے 🌹

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں فقیر کو جو کچھ ملا ہے وہ حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ کی توجہ اور صحبت سےم...
06/05/2023

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں
فقیر کو جو کچھ ملا ہے وہ حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ کی توجہ اور صحبت سےملاہے

02/05/2023

مراقبہ کے فوائد:-
*مراقبہ کرنے والے بندے کو مندرجہ ذیل فوائدحاصل ہوتے ہیں -
1) خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں-
2) روحانی علوم منتقل ہوتے ہیں -
3) اللہ تعالی کی توجہ اور قرب حاصل ہوتا ہے-
4) منتشر خیالی سے نجات مل جاتی ہے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے-
5) اخلاقی برائیوں سے ذہن ہٹ جاتا ہے -
6) مسائل حل ہوتے ہیں -پریشانیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے -
7) مراقبہ کرنے والا بندہ بیمار کم ہوتا ہے -
8) مراقبہ کے ذریعے بیماریوں کا علاج قدرت کا سربستہ راز ہے -
9) اللہ تعالی پر یقین مستحکم ہو جاتا ہے -
10) اپنے خیالات دوسروں کو منتقل کئے جاسکتے ہیں -
11) صاحب مراقبہ روحانی طور پر جہاں چاہے جاسکتا ہے -
12) مراقبہ کرنے والوں کو نیند جلدی اور گہری اتی ہے وہ جلد سوجاتا ہے -
13) فراست میں اضافہ ہوتا ہے -
14) کسی بات یا مضمون کو بیان کرنے کی اعلی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے-
15) صاحب مراقبہ بندہ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے-دل نرم اور گفتگو لطیف ہوجاتی ہے-
16) بلا تخصیص مذہب وملت اللہ کی مخلوق کو دوست رکھتا ہے اور خدمت کرکے خوش ہوتا ہے -
17) ماں سے والہانہ محبت کرتا ہے ،باپ کا احترام کرتا ہے ،بڑوں کے سامنے جھکنا ہے ،چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتا ہے-
18) مراقبہ کرنے والا بندہ سخی اور مہمان نواز ہوتا ہے -
19) اپنے پرانے سب خے لئے دعا کفتا ہے -
20) مراقبہ کرنے والے کی روح سے عام لوگ فیض یاب ہوتے ہیں -
21) تواضع اور انکساری اس کی عادت بن جاتی ہے -
22) صاحب مراقبہ سالک کو پراگندہ خیالات بوجھ اور وقت کا ضیاع نظر آتے ہیں اور وہ ہر حال میں ان سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا ہے-انبیاء اور اولیاء اللہ کی روحوں سے امداد کا طالب ہوتا ہے ،اور اس کی بے قراری کو قرار آجاتا ہے -
23) نماز میں حضور ی ہو جاتی ہے -رکوع کرنے والوں کیساتھ رکوع کرتے ہوئے آور سجدہ کرنے والوں کیساتھ سجدہ کرتے ہوئے فرشتوں کو صف بہ صف دیکھتا ہے-
24) آسمانوں کی سیرکرتا ہے اور جنت کے باغات اسکی نظروں کے سامنے آجاتے ہیں -
25) کشف القبور کے مراقبے میں اس دنیا سے گزرے ہوئے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے -
26) سچے خواب نظر آتے ہیں -
27) شریعت و تصوف پر کاربند انسان کو سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت نصیب ہو تی ہے -
copied

Address

Shikarpur

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923302461513

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naqshbandi Networks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Naqshbandi Networks:

Share