25/12/2025
آئیے Logos (لاگوس) کے لفظ کے پس منظر اور یوحنا نے اسے کیوں استعمال کیا، مرحلہ وار سمجھتے ہیں۔
---
(1) یونانی زبان میں "لاگوس" کا مطلب
یونانی میں Logos کا مطلب صرف "کلام" نہیں ہے بلکہ ایک بہت گہرا، فلسفیانہ اور وسیع تصور ہے:
کلام (Word)
قول (Speech)
عقل (Reason)
فکر (Thought)
حکمت (Wisdom)
نظامِ کائنات کا اصول (Rational principle of the universe)
یعنی ایسا کلام + حکمت + عقل جو پوری کائنات کو ترتیب دیتا ہو۔
---
(2) یونانی فلاسفہ کے نزدیک "لاگوس"
یونانی فلسفے میں Logos بہت بڑا تصور تھا۔
(1) Heraclitus (ہیرقلیطس) – 500 BC
اس نے logos کو قانونِ کائنات کہا۔
کائنات میں جو ترتیب ہے، وہ Logos کے ذریعے ہے۔
(2) Stoics (Stoic philosophers)
Logos = عقلِ الٰہی جو پوری مخلوق میں جاری ہے۔
کائنات کی حرکت، ترتیب، اور حکمت سب Logos سے آتی ہے۔
یعنی یونانیوں کے لیے Logos = کائنات کا عقل مند اصول (Cosmic Reason)
---
(3) یہودی سوچ میں "لاگوس"
اگرچہ یہودیوں نے لفظ Logos نہیں استعمال کیا، مگر خیال موجود تھا۔
پرانے عہدنامے میں:
خدا اپنے کلام سے پیدا کرتا ہے: "خدا نے کہا… اور ہو گیا" (پیدائش 1)
خدا کا "کلام" = خدا کا فعال، تخلیقی اظہار
فَلو (Philo of Alexandria – 20 BC–50 AD)
یہودی فلسفی ‘فلو’ نے یہودی مذہبی خیالات کو یونانی فلسفے سے جوڑا۔
اس نے Logos کو کہا:
خدا کا وسیلہ تخلیق
خدا کی حکمت
خدا کی ظاہر شُدہ presence
خدا اور انسان کے درمیان واسطہ
یہ تصور یوحنا کی انجیل کے بہت قریب ہے، مگر یوحنا وہ بات مکمل کرتا ہے جو فلو نہ کر سکا۔
---
(4) یوحنا نے Logos کا لفظ کیوں استعمال کیا؟
یوحنا کا مقصد یونانی اور یہودی دونوں کو یہ بتانا تھا کہ:
**جس Logos کو تم عقل، اصول، حکمت یا خدا کا کلام کہتے ہو… وہ کوئی تصور نہیں—
بلکہ ایک حقیقی شخص ہے: یسوع مسیح!
یوحنا نے Logos کے ذریعے تین بڑے دعوے کیے:
(1) Logos = خدا تھا
“کلام خدا تھا” (یوحنا 1:1)
(2) Logos = خالق ہے
"سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں" (یوحنا 1:3)
(3) Logos = جسم بن گیا (یسوع)
“کلام جسم بنا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا” (1:14)
یہ انقلابی بیان تھا:
فلسفی Logos → ایک شخص
مطلق قوت → ایک نجات دہندہ
آسمانی حکمت → مجسم خدا (یسوع)**
---
(5) مختصر نتیجہ
پس منظر لاگوس کا مطلب
یونانی عقل، حکمت، کائنات کا اصول
یہودی خدا کا تخلیقی کلام
فلو خدا کے عمل کا وسیلہ
یوحنا یسوع: ازلی خدا + خالق + کلامِ مجسم