Javed Masih Official

Javed Masih Official Christian Religion Education and Sunday School Education and Bible Study

04/01/2026
آئیے Logos (لاگوس) کے لفظ کے پس منظر اور یوحنا نے اسے کیوں استعمال کیا، مرحلہ وار سمجھتے ہیں۔---(1) یونانی زبان میں "لاگ...
25/12/2025

آئیے Logos (لاگوس) کے لفظ کے پس منظر اور یوحنا نے اسے کیوں استعمال کیا، مرحلہ وار سمجھتے ہیں۔
---

(1) یونانی زبان میں "لاگوس" کا مطلب

یونانی میں Logos کا مطلب صرف "کلام" نہیں ہے بلکہ ایک بہت گہرا، فلسفیانہ اور وسیع تصور ہے:

کلام (Word)

قول (Speech)

عقل (Reason)

فکر (Thought)

حکمت (Wisdom)

نظامِ کائنات کا اصول (Rational principle of the universe)

یعنی ایسا کلام + حکمت + عقل جو پوری کائنات کو ترتیب دیتا ہو۔
---

(2) یونانی فلاسفہ کے نزدیک "لاگوس"

یونانی فلسفے میں Logos بہت بڑا تصور تھا۔

(1) Heraclitus (ہیرقلیطس) – 500 BC

اس نے logos کو قانونِ کائنات کہا۔

کائنات میں جو ترتیب ہے، وہ Logos کے ذریعے ہے۔

(2) Stoics (Stoic philosophers)

Logos = عقلِ الٰہی جو پوری مخلوق میں جاری ہے۔

کائنات کی حرکت، ترتیب، اور حکمت سب Logos سے آتی ہے۔

یعنی یونانیوں کے لیے Logos = کائنات کا عقل مند اصول (Cosmic Reason)

---

(3) یہودی سوچ میں "لاگوس"

اگرچہ یہودیوں نے لفظ Logos نہیں استعمال کیا، مگر خیال موجود تھا۔

پرانے عہدنامے میں:

خدا اپنے کلام سے پیدا کرتا ہے: "خدا نے کہا… اور ہو گیا" (پیدائش 1)

خدا کا "کلام" = خدا کا فعال، تخلیقی اظہار

فَلو (Philo of Alexandria – 20 BC–50 AD)

یہودی فلسفی ‘فلو’ نے یہودی مذہبی خیالات کو یونانی فلسفے سے جوڑا۔
اس نے Logos کو کہا:

خدا کا وسیلہ تخلیق

خدا کی حکمت

خدا کی ظاہر شُدہ presence

خدا اور انسان کے درمیان واسطہ

یہ تصور یوحنا کی انجیل کے بہت قریب ہے، مگر یوحنا وہ بات مکمل کرتا ہے جو فلو نہ کر سکا۔

---

(4) یوحنا نے Logos کا لفظ کیوں استعمال کیا؟

یوحنا کا مقصد یونانی اور یہودی دونوں کو یہ بتانا تھا کہ:

**جس Logos کو تم عقل، اصول، حکمت یا خدا کا کلام کہتے ہو… وہ کوئی تصور نہیں—

بلکہ ایک حقیقی شخص ہے: یسوع مسیح!

یوحنا نے Logos کے ذریعے تین بڑے دعوے کیے:

(1) Logos = خدا تھا

“کلام خدا تھا” (یوحنا 1:1)

(2) Logos = خالق ہے

"سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں" (یوحنا 1:3)

(3) Logos = جسم بن گیا (یسوع)

“کلام جسم بنا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا” (1:14)

یہ انقلابی بیان تھا:

فلسفی Logos → ایک شخص

مطلق قوت → ایک نجات دہندہ
آسمانی حکمت → مجسم خدا (یسوع)**

---

(5) مختصر نتیجہ

پس منظر لاگوس کا مطلب

یونانی عقل، حکمت، کائنات کا اصول
یہودی خدا کا تخلیقی کلام
فلو خدا کے عمل کا وسیلہ
یوحنا یسوع: ازلی خدا + خالق + کلامِ مجسم

17/11/2025

بائبل مقدس کے مطابق الفا اور اومیگا (Alpha and Omega) یونانی حروفِ تہجی کا پہلا (A, \alpha) اور آخری (\Omega, \omega) حرف ہے۔
یہ ایک طاقتور لقب ہے جو خدا اور یسوع مسیح دونوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، خاص طور پر بائبل کی آخری کتاب، مکاشفہ (Revelation) میں۔
اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ خدا (اور مسیح) ہر چیز کی ابتدا اور انتہا ہیں۔
🌟 بنیادی معنی:
* آغاز اور اختتام: جیسے الفا پہلا حرف ہے اور اومیگا آخری، یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کائنات کے آغاز (Beginner) بھی ہیں اور اختتام (Ender/Finisher) بھی۔
* ازلی اور ابدی: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے موجود ہیں اور ہمیشہ رہیں گے (ازل سے ابد تک)، ان کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ کوئی انجام۔
* کامل اور جامع: یہ ان کی ذات کی جامعیت (Completeness) اور کمال (Perfection) کو ظاہر کرتا ہے، یعنی وہ سب کچھ اپنے اندر رکھتے ہیں جو ہو سکتا ہے یا جو موجود ہے۔
📜 بائبل میں حوالہ جات:
یہ لقب مکاشفہ کی کتاب میں تین بار آیا ہے:
* مکاشفہ 1:8: جہاں خداوند خدا اپنے بارے میں فرماتا ہے: "مَیں اَلفا اور اومیگا ہوں، جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے، یعنی قادِرِ مُطلق۔"
* مکاشفہ 21:6: جہاں خدا فرماتا ہے: "مَیں اَلفا اور اومیگا، یعنی اِبتِدا اور اِنتہا ہوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پلاؤں گا۔"
* مکاشفہ 22:13: جہاں یسوع مسیح فرماتے ہیں: "مَیں اَلفا اور اومیگا، پہلا اور آخری، اِبتِدا اور اِنتہا ہوں۔"
یہ القاب خدا کی لامتناہی طاقت، ابدی ہستی اور حاکمیت کو اُجاگر کرتے ہیں۔

Collage Art
25/09/2025

Collage Art

Address

Kudlathi Near Faisabad Road Tehsil And Distt. Sheikhupura
Sheikhupura
39350

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Javed Masih Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share