12/06/2025
قرآن مجید میں لفظ "انسان" کا استعمال نوعِ انسانی کی تخلیق، فطرت، خصوصیات اور ذمہ داریوں کے حوالے سے متعدد پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ اس لفظ کے استعمال سے انسان کی حقیقت، اس کی کمزوریوں اور اس کے لیے اللہ کی ہدایات کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
---
🧬 لفظ "انسان" کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
لفظ "انسان" کی اصل مختلف اقوال میں بیان کی گئی ہے:
انس سے مشتق: بعض مفسرین کے مطابق "انسان" کا لفظ "انس" سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے "جذب کرنا" یا "محبت کرنا"۔
نسیان سے مشتق: بعض نے کہا ہے کہ یہ لفظ "نسیان" (بھولنے) سے نکلا ہے، کیونکہ انسان اپنی حقیقت کو بھولنے والا ہے۔
ناس سے مشتق: بعض کے مطابق "ناس" سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے "اضطراب" یا "ہلچل"۔
---
📖 قرآن میں "انسان" کا استعمال
قرآن مجید میں لفظ "انسان" مختلف سیاق و سباق میں آیا ہے:
1. انسان کی تخلیق اور فطرت
سورة الإنسان (آیت 1): "کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا ذکر ہوا ہو؟"
سورة الدھر (آیت 2): "ہم نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا تاکہ ہم اسے آزمائیں، پھر ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا۔"
2. انسان کی کمزوریاں اور خامیاں
سورة النساء (آیت 28): "انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔"
سورة بنی اسرائیل (آیت 100): "انسان بخیل ہے۔"
سورة المعارج (آیات 19-21): "انسان جلد باز اور بخیل ہے۔"
3. انسان کی عزت و تکریم
سورة بنی اسرائیل (آیت 70): "ہم نے اولاد آدم کو عزت دی، انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا، انہیں پاکیزہ رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔"
---
🧭 انسان کی ذمہ داریاں اور امتحان
قرآن مجید میں انسان کو ایک آزمائش کے طور پر پیش کیا گیا ہے:
سورة الدھر (آیت 3): "ہم نے اسے راستہ دکھایا، اب وہ شکر گزار ہو یا ناشکرا۔"
سورة الاحزاب (آیت 72): "ہم نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کو اپنی امانت پیش کی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہ کیا، انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ ظالم اور نادان ہے۔"
---
🧠 انسان کی فطری کمزوریاں
قرآن مجید میں انسان کی فطری کمزوریوں کا ذکر کیا گیا ہے:
سورة ابراہیم (آیت 34): "انسان ظالم اور ناشکرا ہے۔"
سورة المعارج (آیات 19-21): "انسان جلد باز اور بخیل ہے۔"
سورة الاحزاب (آیت 72): "انسان امانت کو اٹھانے میں ظالم اور نادان ہے۔"
---
🌟 نتیجہ
قرآن مجید میں لفظ "انسان" کی مختلف آیات میں تشریح سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہے، لیکن اس کی فطرت میں کمزوریاں بھی رکھی ہیں۔ اس کے باوجود، انسان کو ہدایت اور رہنمائی کے لیے قرآن اور انبیاء کی تعلیمات دی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ سکے اور اپنی فطری کمزوریوں پر قابو پا سکے۔