Gulistan e Yousfia Sabirya

Gulistan e Yousfia Sabirya Sufism is the way to Allah via emotions and spirituality rather than through reason, and it celebrates the intimate relationship of the seeker with Allah.

The reason to made this page is to promote spiritual harmony and spread the spiritual vibes all over

20/08/2026

02/08/2026

عرس مبارک حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللّہ علیہ۔

20/06/2026
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے نواسے امام حسین رضی اللہ عنہ کو چومنا اور پیار کرنا محبت، شفقت اور آپ کی عظمت ...
20/06/2026

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے نواسے امام حسین رضی اللہ عنہ کو چومنا اور پیار کرنا محبت، شفقت اور آپ کی عظمت کا مظہر ہے۔ کتب احادیث میں اس حوالے سے متعدد روایات موجود ہیں جن سے نبی کریم ﷺ کی اپنے نواسوں سے گہری وابستگی اور ان کے مستقبل کے حوالے سے جذباتی لمحات کا پتہ چلتا ہے۔احادیث کی روشنی میں چند اہم واقعات:پیشانی اور ہونٹوں کا بوسہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ امام حسین کو پیار کر رہے ہیں اور ان کا بوسہ لے رہے ہیں۔ آپ ﷺ اکثر امام حسین کو گلے لگاتے اور فرماتے تھے کہ یہ دونوں (حسن اور حسین) میرے بیٹے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں

:ایک بار حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کی امت عنقریب اس بچے (امام حسین) کو شہید کر دے گی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں گود میں اٹھا لیا، پیار کیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

اللھم صل علی سیدنا محمد وآلہ وأصحابہ اجمعین وسلم تسلیما کثیرا کثیرا دائما ابدا ابدا ❤️❤️❤️❤️❤️

اسرارِ بندگی: حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ بحرِ عشق و مستی اور شریعت و طریقت کے تاجدارتاریخِ تصوف کے گلستان میں کچھ ایسی ہست...
07/06/2026

اسرارِ بندگی: حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ
بحرِ عشق و مستی اور شریعت و طریقت کے تاجدار

تاریخِ تصوف کے گلستان میں کچھ ایسی ہستیاں بھی گزری ہیں جن کی خاموش ریاضتوں اور خلوت نشینیوں نے ایسے چراغ روشن کیے جنہوں نے پورے برصغیر پاک و ہند کو اسلام کے نور سے منور کر دیا۔ انہی میں سے ایک عظیم نام سجادہ نشینِ معرفت، قطب الاقطاب، حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔ آپؒ نہ صرف اپنے دور کے بہت بڑے ولیِ کامل تھے، بلکہ برصغیر کے روحانی سلطان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ (غریب نواز) کے پیر و مرشد بھی ہیں۔ آپؒ کی محنت، زہد، اور دنیا سے بیگانگی عشقِ الٰہی کی وہ لازوال داستان ہے جو رہتی دنیا تک دلوں کو گرماتی رہے گی۔

۱۔ ولادتِ باسعادت، نام و نسب اور ابتدائی ماحول
حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی پیدائش ۵۲۶ ہجری (1131ء) کے لگ بھگ "ہارون" یا "ہرون" نامی قصبے میں ہوئی، جو نیشاپور (صوبہ خراسان، موجودہ ایران) کے قریب واقع ہے۔ آپؒ کا نسبی تعلق ساداتِ بنی فاطمہ سے ہے اور آپؒ حسینی سید ہیں۔
آپؒ کا بچپن علم اور تقویٰ کے سائے میں گزرا۔ ابتدائی عمر ہی میں آپؒ نے علومِ ظاہر یعنی قرآن، حدیث اور فقہ میں کامل دسترس حاصل کر لی۔ بچپن ہی سے آپؒ کے چہرے پر ایک خاص قسم کا جلال اور انوارِ الٰہی چمکتے تھے، جو اس بات کی نوید تھے کہ یہ بچہ آگے چل کر ولایت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوگا۔

۲۔ طلبِ حق، بیعت اور عشق کا وہ سفر
نوجوانی کے دور میں جب انسان دنیا کی رنگینیوں میں کھو جاتا ہے، خواجہ عثمان ہارونیؒ کے دل میں ایک ہی تڑپ تھی: "حق کی تلاش"۔ آپؒ کی زندگی کا رخ اس وقت موڑ گیا جب آپؒ کی ملاقات اپنے وقت کے عظیم چشتی بزرگ حضرت حاجی شریف زندنیؒ سے ہوئی۔
شیخ فرید الدین عطارؒ اور دیگر تذکرہ نویسوں کے مطابق۔
خواجہ عثمان ہارونیؒ جب حضرت حاجی شریف زندنیؒ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ان پر ایک عجیب رقت طاری تھی۔ مرشد نے ان کے دل کی سچائی کو بھانپ لیا اور انہیں اپنے سلسلے (چشتیہ) میں داخل فرما لیا۔ بیعت کے بعد مرشد نے آپؒ کو ایک خاص ٹوپی (کلاہِ چار ترکی) عنایت کی اور فرمایا: "عثمان! اب تم نے دنیا، آخرت، نفس، اور اللہ کے سوا ہر چیز کو ترک کر کے خود کو خالص کر لیا ہے۔"

اس کے بعد آپؒ نے اپنے مرشد کی خدمت میں مسلسل ۷۰ سال گزارے۔ آپؒ سفر ہو یا حضر، ہمیشہ اپنے مرشد کا بستر اپنے سر پر اٹھا کر چلتے تھے۔ اسی بے مثال خدمت اور لگن نے آپؒ کو مٹی سے سونا بنا دیا۔

۳۔ احوال، اعمال اور مقامِ نسبت
خواجہ عثمان ہارونیؒ شریعت اور طریقت کے جامع تھے۔ آپؒ کے احوال میں لکھا ہے کہ آپؒ پر اکثر و بیشتر استغراق (خدا کی یاد میں کھو جانے) کی کیفیت طاری رہتی تھی، جس کی وجہ سے آپؒ دنیا اور مافیہا سے بالکل بیگانہ ہو جاتے۔

بے مثال مجاہدے:
آپؒ نفس کشی اور مجاہدے میں اپنی مثال آپ تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ آپؒ سالہا سال تک مسلسل روزے رکھتے اور افطار کے وقت صرف چند لقمے جو کی روٹی یا سوکھے ٹکڑوں پر اکتفا کرتے۔ آپؒ کی راتیں سجدوں میں گزرتیں اور آنکھوں سے خوفِ خدا کے آنسو اس طرح جاری رہتے جیسے بارش کی جھڑی لگی ہو۔

سلسلہء نسبت اور غریب نوازؒ کی تربیت:
چشتیہ سلسلے میں آپؒ کا مقام ایک ستون کی مانند ہے۔ آپؒ کی خانقاہ نیشاپور میں علم و روحانیت کا مرکز تھی، جہاں دور دور سے پیاسے آتے اور فیض یاب ہوتے۔ آپؒ کا سب سے بڑا اثاثہ اور زندہ کرامت حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ ہیں، جنہوں نے ۲۰ برس تک آپؒ کی خدمت کی اور خلافت حاصل کر کے ہند کی دھرتی کو توحید کے نور سے بھر دیا۔ خواجہ غریب نوازؒ اپنے مرشد کی شان میں فرماتے ہیں:
"میں نے جو کچھ بھی پایا، اپنے مرشد خواجہ عثمان ہارونی کی خدمت اور ان کی نگاہِ کرم سے پایا۔"

۴۔ دانشمندی کے موتی: اقوالِ زریں
حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کے اقوال تصوف کی روح اور سالکین کے لیے دستورِ العمل ہیں:
1. حقیقی عارف کی پہچان: "عارف وہ ہے جس کا دل اللہ کی یاد کے سوا ہر چیز سے خالی ہو جائے، اور وہ دنیا کی تعریف اور برائی سے بے نیاز ہو جائے۔"
2. عبادت کا نچوڑ: "خدا کے نزدیک اس شخص کی عبادت سب سے بڑھ کر ہے جو بھوکے کو کھانا کھلائے، پیاسے کو پانی پلائے، اور عاجزوں و مسکینوں کی دستگیری کرے۔"
3. توکل کی حقیقت:"جب تک انسان کا بھروسہ مخلوق پر رہتا ہے، وہ خالق کی رحمت سے دور رہتا ہے۔ سچا توکل یہ ہے کہ دل صرف مسبب الاسباب (اللہ) پر ٹک جائے۔"
4. موت کی یاد: "دنیا ایک مسافر خانہ ہے، عاقل وہ ہے جو یہاں رہتے ہوئے اپنے اصل گھر (آخرت) کا سامان تیار کرے۔"

۵۔ کلمہء آخر اور وصالِ حق
خواجہ عثمان ہارونیؒ نے ایک طویل اور بابرکت عمر پائی، جس کا ایک ایک لمحہ اشاعتِ دین اور تزکیہء نفس میں گزرا۔ آخری عمر میں آپؒ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
وفات کے وقت آپؒ پر یکسوئی اور حضورِ قلب کا شدید غلبہ تھا۔ زبان پر مسلسل ذکرِ الٰہی جاری تھا۔ بالآخر ۶۱۷ ہجری (1220ء) میں ۶ شوال المکرم کو عشقِ حقیقی کا یہ سمندر خاموش ہو گیا اور آپؒ اپنے محبوبِ حقیقی سے جا ملے۔ آپؒ کا مزارِ اقدس مکہ مکرمہ میں جنۃ المعلیٰ کے قریب واقع ہے، جہاں سے آج بھی عقیدت مند روحانی تسکین پاتے ہیں۔

1. انیس الارواح (ملفوظاتِ خواجہ عثمان ہارونیؒ، مرتبہ خواجہ معین الدین چشتیؒ)۔
2. سیر العارفین۔ مولانا جمالیؒ۔
3. اخبار الاخیار۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ۔
4. بزمِ صوفیہ۔ سید صباح الدین عبدالرحمن۔
5. تذکرۃ الاولیاء۔ شیخ فرید الدین عطارؒ۔

غدیرِ خم کا واقعہ — مکمل تفصیلتعارفغدیرِ خم کا واقعہ 18 ذوالحجہ 10 ہجری کو پیش آیا، جب نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع سے واپس مدی...
03/06/2026

غدیرِ خم کا واقعہ — مکمل تفصیل

تعارف

غدیرِ خم کا واقعہ 18 ذوالحجہ 10 ہجری کو پیش آیا، جب نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع سے واپس مدینہ کی طرف جا رہے تھے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام "غدیر خم" پر آپ ﷺ نے قیام فرمایا اور ایک اہم خطبہ دیا۔

یہ مقام اُس وقت ایک چوراہا تھا جہاں مختلف علاقوں کے قافلے جدا ہوتے تھے۔

---

خطبہ غدیر کا پس منظر

حجۃ الوداع کے بعد بعض روایات کے مطابق حضرت علیؓ یمن سے واپس آئے تھے۔ بعض لوگوں نے ان کے بارے میں شکایت کی۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے یہ خطبہ دیا تاکہ اہلِ ایمان کے درمیان اتحاد قائم رہے۔

---

نبی ﷺ کا خطبہ

صحیح روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«"کیا میں تمہاری جانوں سے زیادہ تم پر حق نہیں رکھتا؟"»

صحابہ نے عرض کیا: "ہاں یا رسول اللہ ﷺ"

اس کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا:

«"جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے"»

— مسند احمد، حدیث: 18464
— سنن ترمذی، حدیث: 3713 (حسن)
— المستدرک للحاکم، 4576 (صحیح الاسناد)

---

حدیث "مولا علی" کا مفہوم

عربی لفظ "مولا" کے کئی معنی ہیں:

سردار
- دوست
- مددگار
- قریبی
- ولی/سرپرست

علماء کے مطابق اس کا مفہوم سیاق کے مطابق سمجھا جاتا ہے، اور اس خطبے میں یہ بات حضرت علیؓ کی محبت، قربت اور حمایت کے اعلان کے طور پر بیان کی گئی۔

---

خطبے کے بعد دعا

نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کے بارے میں دعا فرمائی:

«"اے اللہ! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ"»

— (مسند احمد)

---

صحابہ کا واقعہ

اس موقع پر حضرت عمرؓ کا قول بھی مشہور ہے:

«"مبارک ہو اے ابنِ ابی طالب! تم میرے اور ہر مومن مرد و عورت کے مولا بن گئے"»

— (مسند احمد، روایت کے مختلف طرق)

---

اہم تاریخی حیثیت

غدیرِ خم کا واقعہ:

- حجۃ الوداع کے بعد پیش آیا
- 100,000 سے زائد صحابہ موجود تھے (تقدیری اندازہ)
- یہ خطبہ کئی کتبِ حدیث میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے

---

معتبر مصادر

یہ روایت مختلف کتب میں آئی ہے:

- مسند احمد
- سنن ترمذی
- المستدرک على الصحيحين
- البدایہ والنہایہ

---

اہلِ علم کی تشریح

اہلِ سنت محدثین کے مطابق:

- یہ واقعہ حضرت علیؓ کی فضیلت اور محبت کے اظہار کے لیے تھا
- اور اس میں اہلِ ایمان کو اتحاد اور اطاعت کا درس دیا گیا

---

خلاصہ

غدیرِ خم کا واقعہ اسلام کی تاریخ میں ایک اہم موقع ہے جس میں:

- حضرت علیؓ کی عظمت اور قربت بیان کی گئی
- مسلمانوں کو باہمی محبت اور اتحاد کی تلقین کی گئی
- اور نبی ﷺ نے اہلِ بیت سے محبت کا درس دیا

یہ واقعہ امت میں محبت اور احترامِ صحابہ کی بنیادوں میں سے ایک اہم بنیاد ہے۔

(بابا فرید اور صابر پاک کے روحانی وارث) آج ذکر پاک و ہند کے ایسے مجذوب قلندر کا جن کو ثانی صابر کلیری کا خطاب دیا گیا ہے...
03/06/2026

(بابا فرید اور صابر پاک کے روحانی وارث)
آج ذکر پاک و ہند کے ایسے مجذوب قلندر کا جن کو ثانی صابر کلیری کا خطاب دیا گیا ہے آپ کے مرشد خواجہ محمد شریف سرکار کو ان کے دادا مرشد خواجہ مظہر علی شاہ نے دہلی سے کلیام شریف جانے کا حکم دیا تھا تاکہ خواجہ فضل شاہ کی پیدائش کے بعد آپ کی
روحانی اور ظاہری تعلیم و تربیت کر سکیں۔

خواجہ فضل شاہ کلیامی اپنے مرشد خواجہ محمد شریف کے اکیلے خلیفہ تھے خواجہ محمد شریف آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے نواسے تھے اور فوج میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔
خواجہ فضل شاہ کلیامی ان برگزیدہ مادر ذات اولیاء میں شامل تھے جن پیدائش سے پہلے ان کے چرچے عام تھے آپ نے دنیا سے پردہ کرنے سے تقریباً ایک مہینہ قبل ہی اپنے لئے دیار کی لکڑی کا صندوق بنوا لیا تھا۔

آپ مادر ذات ولی تھے اور بچپن ہی سے آپ کی کرامت کا ظہور شروع ہو گیا تھا اس کے باوجود آپ نے اتنے طویل اور سخت مجائدات اور چلعہ کشی کی کہ سننے والوں کی روح بھی کانپ جائے آپ اپنا گوشت کاٹ کر چیل کوؤں کو کھیلا دیتے تھے سخت سردی میں ساری ساری رات ٹھنڈے پانی میں کھڑے رہتے اور اپنے زخموں پر نمک لگا کر اپنے نفس سے مخاطب ہو کر کہتے کہ تو عمدہ کھانا مانگتا ہے۔

آپ عشق حقیقی اور معرفت الٰہی کے سب سے اعلٰی مقام پر فائز تھے آپ کے کئی واقعات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ فنا اور بقا کے مقام پر فائز تھے ایک جب اللہ بخش تونسوی سرکار نے آپ کو باجماعت نماز پڑھانا چاھی تو دائیں طرف بھی سارے خواجہ فضل شاہ تھے اور بائیں جانب بھی سب خواجہ فضل شاہ تھے اور دوسرا آپ کے جنازے کے لئے آنے والے پیر سید مہر علی شاہ گیلانی کا کلیام موڑ کھڑے ہو کر استقبال کرنا شامل ہیں خواجہ فضل شاہ کلیامی نے پردہ کرنے سے پہلے پیش گوئی کی تھی کے ان کے جنازے میں دہلی سے بھی کثیر تعداد میں لوگ امل ہوں گے چناچہ ایسا ی ہوا تھا۔

خواجہ فضل شاہ کلیامی کے دور کے تقریباً تمام ہی اولیاء آپ سے عقیدت رکھتے تھے ان میں اس وقت کی سب سے بڑی ہستی خواجہ شاہ سلیمان تونسوی پر پھٹان سرکار نے آپ سے پاکپتن ملاقات پر آپ کے لئے خصوصی دعا فرمائی اس کے علاوہ خواجہ غلام فرید “ رومی کشمیر میاں محمد بخش سید معظم قلندر قاسم موہڑوی سائیں سہیلی بابا مالن شاہ قلندر پیر مہر علی شاہ اور حافظ عبدالکریم شامل تھے۔

باب فضل شاہ کلیامی کے ہاتھ پر لاکھوں افراد نے بیعت توبہ کی اور ہزاروں افراد نے کلمہ پڑھا ہے خواجہ فضل شاہ کلیامی کو اونٹوں سے خاص لگاؤ تھا اونٹوں سے آپ کے کئی واقعات مشہور ہیں خاص ایک واقعہ جب آپ کے قریب سے اونٹوں کا ایک قافلہ گزرا تو اس میں سے ایک اونٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو اس اونٹ کا مالک بہت افسردہ ہوا جب خواجہ فضل شاہ نے یہ معاملہ دیکھا تو بابا جی نے اس پر نگاہ ڈال کر اس کو ٹھیک کر دیا اور اونٹ کے مالک کو بولا میں نے اونٹ کی ٹانگ میں سرجری کر دی ہے اس کو جلدی لے جا کر اپنے قافلے میں شامل ہو جاو پھر ایسا ہی ہوا جب وہ اونٹ لے جا کر اپنے قافلے میں شامل ہوا تو سب حیران ہوئے اور جب اونٹ کے مالک نے سارا واقعہ بیان کیا تو قافلے والوں نے ماننے سے انکار کر دیا طے یہ ہوا کے اونٹ ذبح کر کے دیکھیں گے اگر سچ میں سرجری ہوئی تو سب خواجہ فضل شاہ کلیامی کے ہاتھ پر بیعت ہو جائیں گے جب اونٹ ذبح کر کے دیکھا گیا تو سچ میں اونٹ کی سرجری ہوئی تھی اس کے بعد سب قافلے نے آپ کے پاس حاضر ہو کر توبہ بھی کی اور بیعت بھی ہو گئے۔

خواجہ فضل شاہ صاحب نے پردہ کرنے سے چند لمحے پہلے آپنے رب کے حضور دعا فرمائی تھی کے یارب میں نے ساری زندگی تجھ سے کچھ نہیں بس جو بھی میرے در پر آئے وہ خالی ہاتھ نا جائے اس کی تمام جائز خوائشات پوری ہوں اور جو میرے لنگر کی دال کھائے وہ کبھی بھوکا نا رہے اور جہنم کی آگ سے نا جلائے اور مرتے وقت اسے ایمان کی دولت عطا ہو اسی وجہ سے کلیام میں ہر وقت لوگوکا رش رہتا ہے خاص کر عرس مبارک پر خواجہ فضل شاہ کی دعا سے بہت سی بیماریوں سے شفاء بھی ملتی ہے جس میں طاعون کینسر رسولیاں اندھا پن بھانجھ پن گلہڑ چیچک کوڑ ہیضہ اور خاص کر سانپ کا کاٹا ہے

خواجہ فضل شاہ کا عرس پوٹھوار میں سب سے بڑا جبکہ پنجاب کے پانچ بڑے عرسوں میں شمار کیا جاتا ہے عرس پر ایشیاء کی سب سے بڑی اونٹ منڈی بھی لگتی ہے جہاں ملک کے دور و دراز سے لوگ اونٹوں کے قافلے لے کر آتے ہیں۔

ایک اور بات جو خاص اہمیت کی حامل ہے کہ خواجہ فضل شاہ کا عرس ہر سال 31 دسمبر سے لے کر 9 جنوری تک ہوتا ہے اور اس وقت لوگوں کی فصلیں تقریباً آدھی آدھی ہوتی ہیں اور جب عرس شروع ہوتا ہے تو اونٹ ساری فصلیں کھا جاتے ہیں اور گاوں کے لوگ کوئی اعتراض نہیں کرتے بلکہ تمام اہلیان کلیام مہمان نوازی کا حق ادا کرتے ہیں دراصل خواجہ فضل شاہ اپنی حیات میں ہی گاوں والوں سے وعدہ فرما گئے تھے کہ آپ میرا عرس خراب نا کرنا آپ کی فصلوں کی ذمہداری میری ہے نا صرف اتنا بلکہ کلیام کی فصلیں پورے پنجاب سے بہتر ہوتی ہیں۔

خواجہ فضل شاہ کلیامی اپنے مرشد حافظ محمد شریف سرکار سے بہت عشق کرتے تھے ان کے پردہ کرنے کے بعد ان کے روضہ کے سامنے چلعہ گاہ میں بیٹھ کر آپ کے روضے کا دیدار کرتے رہتے۔

خواجہ فضل شاہ کو سارنگی بہت پسند تھی اور چشتی صابری سلسلہ ہونے کی وجہ سے محفل سماع کا بھی بہت شوق رکھتے تھے اور بابا فرید عرس پر بلاناغہ جایا کرتے تھے پاکپتن بھی آپ کے بہت سے واقعات مشہور ہیں۔
(ماخوذ )

29/04/2026

دم ہمہ دم علی علی علیہ السّلام
کلام مولا امام علی علیہ السّلام

28/04/2026

حسنین کے نانا آپ پر درود وسلام صلی اللّہ علیہ وسلم۔
محفل گیارویں شریف گلستان یوسفیہ صابریہ شاہدرہ۔

Imran Yousafi Asad Yousafi Qamar Mahmood Saqib Sabri Mubasher Hassan Yousfi Sabri

Address

Tibbi Qazi Qaiser Town Near Kala Khtai Morh
Shahdara
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gulistan e Yousfia Sabirya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share