حي على الفلاح Rush to Success

حي على الفلاح Rush to Success یٰاَیُّہَاالنَّاس قَدۡجَآءَکُمۡ بُرۡہَان مِّنۡ رَّبِّکُم وَاَنۡزَلۡنَاۤاِلَیۡکُمۡ نُوۡرًامُّبِیۡنًا

😇
09/10/2024

😇

JASHN E SADQAINتمام مومنین و مومنات کو اقا دو جہاں، فخر انبیا، سرور کائنات، رحمت العالمین، امام الانبیاء آمد محمد مصطفےٰ...
22/09/2024

JASHN E SADQAIN

تمام مومنین و مومنات کو اقا دو جہاں، فخر انبیا، سرور کائنات، رحمت العالمین، امام الانبیاء آمد محمد مصطفےٰ ﷺ بہت بہت مبارک ہو..
#عیدمیلادالنبی

رسول اللہ ﷺ کے آبا و اجداد، خصوصاً حضرت عبدالمطلب اور خاندان ہاشم، عرب میں اپنی سخاوت، مہمان نوازی اور قریش کے درمیان عز...
17/09/2024

رسول اللہ ﷺ کے آبا و اجداد، خصوصاً حضرت عبدالمطلب اور خاندان ہاشم، عرب میں اپنی سخاوت، مہمان نوازی اور قریش کے درمیان عزت و احترام کے لیے مشہور تھے۔ ان کی مہمان نوازی کی روایات کئی صدیوں سے قریش اور مکہ مکرمہ میں اہم حیثیت رکھتی تھیں۔ یہاں چند اہم پہلوؤں کا ذکر کیا جا سکتا ہے:

1. سقايت الحاج (حاجیوں کو پانی پلانا):

خاندان ہاشم اور حضرت عبدالمطلب کی سب سے نمایاں خدمت حاجیوں کو پانی پلانے (سقايت الحاج) کی تھی۔ مکہ مکرمہ میں پانی کی قلت تھی اور حضرت عبدالمطلب نے زمزم کے کنویں کو دوبارہ دریافت کیا، جس سے حاجیوں کو پانی پلانے کی روایت دوبارہ شروع ہوئی۔ یہ کام عزت اور فخر کی بات سمجھی جاتی تھی، اور خاندان ہاشم نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔

2. رفادت (حاجیوں کی مہمان نوازی):

رفادت کا مطلب حاجیوں کو کھانا کھلانا اور ان کا خیال رکھنا تھا۔ حج کے دوران دور دراز سے آنے والے حاجیوں کی ضروریات کو پورا کرنا خاندان ہاشم کی ذمہ داری تھی۔ حضرت عبدالمطلب اور ان کے خاندان کے افراد حاجیوں کے لیے کھانے کا انتظام کرتے، حتیٰ کہ اگر اپنے مال سے خرچ کرنا پڑتا۔

3. سخاوت اور فیاضی:

حضرت عبدالمطلب اور خاندان ہاشم عمومی طور پر بھی اپنی سخاوت کے لیے معروف تھے۔ ان کی یہ خوبی صرف حاجیوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے۔ وہ مہمان نوازی کو عزت و وقار کی علامت سمجھتے اور اپنی قوم میں اس کے لیے بہت احترام رکھتے۔

4. قریش میں بلند مقام:

قریش کے قبائل کے درمیان خاندان ہاشم کو خاص عزت و وقار حاصل تھا، اور ان کی مہمان نوازی اور خدمتِ خلق کے باعث انہیں بہت عزت دی جاتی تھی۔ حاجیوں کی خدمت اور عام لوگوں کی مدد ان کی عزت اور مقام کو مزید بلند کرتی تھی۔

رسول اللہ ﷺ بھی انہی روایات کے تحت پروان چڑھے اور مہمان نوازی، سخاوت اور خدمتِ خلق جیسی خوبیاں آپ کی ذات میں بھی نمایاں تھیں۔ آپ ﷺ کی زندگی میں یہ روایات بدرجہ اتم موجود رہیں۔

#عیدمیلادالنبی

Indeed ♥
13/06/2024

Indeed ♥








Indeed ♥
11/06/2024

Indeed ♥








‏اللهم العن قتلة أمير المؤمنين عليه السلام (ع)اللهم العن قتلة أمير المؤمنين عليه السلام (ع)اللهم العن قتلة أمير المؤمنين...
29/03/2024

‏اللهم العن قتلة أمير المؤمنين عليه السلام (ع)
اللهم العن قتلة أمير المؤمنين عليه السلام (ع)
اللهم العن قتلة أمير المؤمنين عليه السلام (ع)
اللهم العن قتلة أمير المؤمنين عليه السلام (ع)
اللهم العن قتلة أمير المؤمنين عليه السلام (ع
Abdul Rehman Abn e Muljim, infamous for assassinating Imam Ali (A.S), holds a dark place in history. His act of violence on the 21st Ramadan, 40 AH, not only ended the life of one of Islam's most revered figures but also symbolized a tragic division within the Muslim community. Known for his extremist beliefs and allegiance to a dissenting faction, Abad ur Rehman's actions reverberated throughout centuries, serving as a cautionary tale against sectarianism and extremism. Despite his infamy, his name remains a reminder of the dangers of fanaticism and the importance of fostering unity and understanding within the Muslim ummah.


عبدالرحمٰن ابن ملجم، جو امام علی (ع) کے قتل کے حوالے سے مشہور ہے، تاریخ میں ایک سیاہ مقام رکھتا ہے۔ 21 رمضان، 40 ہجری کو اس کے تشدد کے عمل نے نہ صرف اسلام کی سب سے قابل احترام شخصیت کی زندگی کا خاتمہ کیا بلکہ مسلم کمیونٹی کے اندر ایک المناک تقسیم کی علامت بھی ہے۔ اپنے انتہا پسندانہ عقائد اور ایک اختلافی دھڑے سے وفاداری کے لیے جانا جاتا ہے، عباد الرحمان کے اقدامات صدیوں میں گونجتے رہے، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خلاف ایک احتیاطی کہانی کے طور پر کام کرتے رہے۔ اپنی بدنامی کے باوجود، ان کا نام جنونیت کے خطرات اور امت مسلمہ کے اندر اتحاد اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی اہمیت کی یاددہانی کرتا ہے۔


The Shahadat (martyrdom) of Imam Ali (A.S), the cousin and son-in-law of Prophet Muhammad, holds profound significance i...
29/03/2024

The Shahadat (martyrdom) of Imam Ali (A.S), the cousin and son-in-law of Prophet Muhammad, holds profound significance in Islamic history. Imam Ali's commitment to justice, knowledge, and compassion epitomized the core values of Islam. His unwavering faith and leadership continue to inspire millions worldwide. His martyrdom on the 21st of Ramadan, 40 AH (661 CE), at the hands of an assassin while in prayer, symbolizes sacrifice and steadfastness in the face of adversity. Imam Ali's legacy remains a beacon of guidance, advocating for peace, equality, and righteousness, eternally revered by Muslims as the epitome of virtue and piety.

شہادت امام علی علیہ السلام اسلامی تاریخ کی اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ امام علی علیہ السلام اسلام کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سابقہ کنونی اور شجاع ہمنوا تھے۔ ان کی شہادت اسلامی دین کی ایک اہم سنگ میل کی طرح ہے جو عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم ہے۔ امام علی کی شہادت کے بعد بھی ان کی علمی، اخلاقی، اور حکومتی خدمات کا اثر مسلمانوں کی زندگیوں پر زندہ ہے۔ ان کی یاد اور علم پر عمل کرنا اسلامی معاشرتی فرهنگ کی بنیاد ہے۔
#19رمضان

 ...
22/02/2024










..
.

  ♥
21/02/2024







Indeeed 😇...........
20/02/2024

Indeeed 😇



.

.
........
.


Mabrook
03/01/2024

Mabrook

Subhanallah 😭...
03/01/2024

Subhanallah 😭





...



Address

Shah Faisalabad
38000

Telephone

+923014374479

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حي على الفلاح Rush to Success posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share