01/05/2026
شیخ القرآن والحدیث علامہ احمد سعید خان ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
یومِ وفات 2 مئی 2011
نصف صدی سے زائد عرصہ قرآن و سنت کی روشنی پھیلانے والے، خطابت کے بے تاج بادشاہ، مردِ درویش، عالمِ ربانی شیخ القرآن والحدیث علامہ احمد سعید خان ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کو ہم سے جدا ہوئے آج پندرہ برس بیت گئے۔
مگر افسوس کہ آج بھی کچھ لوگ ان کا نام تک برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر ہم ان کا ذکرِ خیر کریں یا انہیں برا بھلا کہنے والے کو روکیں، تو فوراً طعنے ملتے ہیں کہ یہ مرکزی ہے، نیم مرکزی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے علامہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا نام اور کام ہمیشہ زندہ رکھنا ہے، ان شاء اللہ۔ ان کی زندگی میں مخالفت سمجھ آتی تھی کہ وہ میدانِ خطابت کے شہسوار تھے، حریف بھی تھے اور اپنے بے گانے بھی۔ مگر تعجب ہے ان لوگوں پر جو ان کی وفات کے بعد بھی بغض و عناد سے باہر نہیں نکل سکے۔
بیگانے تو شاید اب خاموش ہو گئے، مگر موحد و توحیدی کہلانے والوں کو چین نہیں آ رہا۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ قبر ہی اکھیڑ دیں۔ ایک ایسا درویش عالمِ دین جو پندرہ سال قبل اپنے رب کے حضور پیش ہو چکا، اس سے بھی ان کا بغض ختم نہیں ہو رہا۔
علامہ احمد سعید خان ملتانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پوری زندگی قرآن و حدیث کی خدمت میں گزار دی۔ لاکھوں دلوں میں توحید و سنت کی شمع روشن کی۔ ان کے شاگرد، ان کی تقاریر، آج بھی امت کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں سے بغض رکھنا اپنا ہی خسارہ ہے۔
دعا ہے
اللہ کریم شیخ القرآن والحدیث علامہ احمد سعید خان ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے فیض کو تاقیامت جاری و ساری رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
اور جو لوگ اب تک بغض کے مرض میں مبتلا ہیں، اللہ انہیں ہدایت دے، دلوں کا کینہ نکال دے، اور مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ قبرستان کے خاموش باشندے کسی کے طعنوں کے محتاج نہیں ہوتے۔
سید زبیر شاہ بخاری