فکر آخرت

فکر آخرت Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from فکر آخرت, Religious Center, Sargodha.

There is no God but Allah MUHAMMAD S.A.W is PROPHET
This page provides true islamic spirit of research...
Here we will b inshallah providing people with sahii Ahdees mubarkaa from sahahe sittaah

16/04/2025
22/05/2024

♧ ماہرینِ نفسیات کے مطابق ذہانت کی چار اقسام ہیں:

1) ذہانت کا حصہ (IQ)
2) جذباتی مقدار (EQ)
3) سماجی حصہ (SQ)
4) مصیبت کی مقدار (AQ)

1. ذہانت کا حصہ (IQ) : یہ آپ کے فہم کی سطح کا پیمانہ ہے۔ آپ کو ریاضی کو حل کرنے، چیزیں یاد کرنے اور سبق یاد کرنے کے لیے IQ کی ضرورت ہے۔

2. جذباتی اقتباس (EQ) : یہ آپ کی دوسروں کے ساتھ امن برقرار رکھنے، وقت پر قائم رہنے، ذمہ دار بننے، ایماندار ہونے، حدود کا احترام کرنے، عاجز، حقیقی اور خیال رکھنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ ہے۔

3. سماجی اقتباس (SQ) : یہ دوستوں کا نیٹ ورک بنانے اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ ہے۔

جن لوگوں کا EQ اور SQ زیادہ ہوتا ہے وہ زندگی میں ان لوگوں کے مقابلے میں آگے بڑھتے ہیں، جن کا IQ زیادہ ہوتا ہے لیکن EQ اور SQ کم ہوتا ہے۔ زیادہ تر اسکول IQ کی سطح کو بہتر بنانے کا فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ EQ اور SQ کو کم کیا جاتا ہے۔

ایک اعلی IQ والا آدمی اعلی EQ اور SQ والے آدمی کے ذریعہ ملازمت حاصل کر سکتا ہے حالانکہ اس کا IQ اوسط ہے۔

آپ کا EQ آپ کے کردار کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ آپ کا SQ آپ کے کرشمہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسی عادات کو اپنائیں جو ان تینوں Qs کو بہتر بنائے گی، خاص طور پر آپ کے EQ اور SQ۔

اب ایک چوتھا، ایک نیا نمونہ ہے :

4. مصیبت کا حصّہ (AQ) : زندگی میں کسی نہ کسی مشکل سے گزرنے، اور اپنا دماغ کھوئے بغیر اس سے باہر آنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ۔

مشکلات کا سامنا کرنے پر، AQ طے کرتا ہے کہ کون ہار مانے گا، کون اپنے خاندان کو چھوڑ دے گا، اور کون خودکشی پر غور کرے گا۔

والدین براہِ کرم اپنے بچوں کو صرف اکیڈمکس کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں سے روشناس کرائیں۔ انہیں دستی مشقت کو پسند کرنا چاہیے (کبھی بھی کام کو سزا کے طور پر استعمال نہ کریں)، کھیل اور فنون۔

ان کا آئی کیو، نیز ان کا EQ، SQ اور AQ تیار کریں۔ انہیں کثیر جہتی انسان بننا چاہئے تاکہ وہ اپنے والدین سے آزادانہ طور پر کام کرسکیں۔

آخر میں، اپنے بچوں کے لیے سڑک تیار نہ کریں۔ اپنے بچوں کو سڑک کے لیے تیار کریں۔

15400 پاؤنڈ کا سوال!!الشیخ محمد صاوی موجودہ دور کے مشہور عالم دین ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف اور اپنے دل دہلانے والے خطبوں...
07/04/2024

15400 پاؤنڈ کا سوال!!
الشیخ محمد صاوی موجودہ دور کے مشہور عالم دین ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف اور اپنے دل دہلانے والے خطبوں سے بھی کافی مقبول ہیں۔ سعودی عرب سے تعلق ہے۔ لیکن مصر میں مقیم۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں سفر پر تھا۔ واپس اسکندریہ پہنچا تو تہجد کا وقت تھا۔ یہ سوچ کر مسجد کا رخ کیا کہ اگر گھر جا کر سو گیا تو جماعت نکل جائے گی۔ مسجد کے ہال میں داخل ہوا تو ایک بڑے میاں محراب میں سربسجود ہو کر رو رہے ہیں اور مصر کے عامی لہجے میں رب سے التجائیں کر رہے ہیں:
يا رب خلاص بقا يا رب..
يا رب أنا تعبت خلاص يا رب..
يا رب مليش غيرك يا رب..
يا رب أروح فين يا رب؟
(پروردگار! مجھے نجات دے، میں تھک گیا ہوں اے رب! میرا کوئی اور رب بھی نہیں ہے تیرے سوا، میں اب کہاں جاؤں تیرا در چھوڑ کر؟)
میں نے دل میں کہا کہ یہ کسی گناہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ کسی سخت مجبوری اور ضرورت کیلئے التجائیں کر رہے ہیں۔ میں ان کا انتظار کرنے لگا۔ یہاں تک کہ انہوں نے نماز و دعا مکمل کی۔ میں ان کے قریب گیا۔ کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ چچا جان! کیا پریشانی ہے کہ آپ کی دعا نے میرا کلیجہ بھی چیر دیا؟
کہنے لگے کہ میری بیوی اسپتال میں ہے۔ آج دن کو 9 بجے آپریشن کا ٹائم دیا ہے ڈاکٹروں نے اور کہا ہے کہ آپریشن سے پہلے 15400 جنیہ (مصری پاؤنڈ۔ پاکستانی کرنسی میں تقریباً 2 لاکھ روپے) جمع کرا دو۔ لیکن میرے پاس تو ایک جنیہ بھی نہیں ہے۔
میں نے کہا چچا جان اللہ جانتا ہے کہ میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ آپ کی کوئی مدد کر سکوں۔ لیکن میں آپ کو خوشخبری ضرور دیتا ہوں کہ اللہ جل شانہ ماں سے بھی زیادہ مہرباں ہے۔ اسی پر بھروسہ رکھو۔ وہ آپ کی دعا رائیگاں نہیں کرے گا۔
میں چونکہ سفر کی وجہ سے تھکا ہوا تھا۔ اس لئے 2 رکعت پڑھ کر ہی ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر سو گیا۔ مؤذن نے آکر جگایا۔ میں نے وضو کر کے سنت پڑھ لی۔ اتنے میں امام صاحب آگئے۔ مجھے دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور فرمایا کہ "بالله يا شيخ تصلي بنا" یعنی قسم دی کہ آج نماز آپ پڑھائیں۔ میں نے معذرت کی کہ سفر کی وجہ سے تھکا ہوا ہوں۔ لیکن امام صاحب نے کوئی عذر نہیں سنا اور فرمایا کہ چلیں، چھوٹی سورت سے ہی نماز پڑھالیں۔ بہرحال میں نے جماعت کرالی۔
سلام پھیرنے کے بعد میں مقتدیوں کی طرف رخ پھیر کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ تیسری صف سے ایک شخص میری طرف آنے لگا۔ وضع قطع سے ہی کوئی بڑا امیر کبیر آدمی معلوم ہو رہا تھا۔ گرم جوشی سے مجھے سلام کیا اور کہا کہ میرا گھر یہاں قریب ہی ہے، عموماً فجر میں مسجد نہیں آپاتا، لیکن آج آپ کی آواز آئی تو چلا آیا تاکہ آپ کی اقتدا میں نماز پڑھ لوں اور سلام بھی کر لوں۔ پھر کہنے لگا کہ الحمد للہ میری فلاں روڈ پر پلاسٹک کی بڑی فیکٹری ہے۔ اللہ کا بڑا ہی کرم ہے مجھ پر۔ ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ میرے پاس زکوٰۃ کے 15400 جنیہ جمع ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ شیخ صاوی کہتے ہیں کہ یہ 15400 کا ہندسہ سن کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ پھر بے اختیار میری ہچکی بند گئی۔ لوگ حیران کہ شیخ کو کیا ہوگیا۔ انہیں کیا پتہ کہ نالہ نیم شبی میں کتنی قوت ہے، جو عجیب طریقے سے اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ میں نے صفوں میں نظر دوڑائی تو اس بے چارے ضرورت مند پر بھی نظر پڑی، جو سر جھکائے بیٹھا تھا۔ میں نے کہا کہ آیئے حاجی صاحب! وہ میرے پاس آئے۔ ان کی آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ چچا جان، آپ کیوں رو رہے تھے تو اس سادہ مزاج آدمی نے کہا بتا دیا ناں کہ میری بیوی کا آج آپریشن ہے، جس کا خرچہ 15400 جنيہ ہے، مگر میرے پلے ایک جنیہ بھی نہیں۔ (میں دراصل سیٹھ صاحب کو سنوانا چاہ رہا تھا)
یہ سن کر سیٹھ صاحب بے اختیار مجھ سے لپٹ گئے اور اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگے۔ میں نے کہا یہ کیا بات ہے؟ تو کہا کہ میری بیوی کب سے کہہ رہی تھی کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے، اسے کسی مستحق کو دے دو۔ لیکن میں ہر بار اس سے کہتا کہ نہیں، جب تک کوئی سخت حاجت مند مل جائے تاکہ اس رقم کی وجہ سے اللہ کریم اس کی شدید ضرورت کو پورا کرے۔ بس اسی کو یہ رقم دے دوں گا تاکہ اس کی مصیبت دور کرنے پر اللہ تعالیٰ روز قیامت ہمارے مصائب کو دور فرمائے۔ کیونکہ رسول اقدسؐ نے فرمایا ہے کہ
من ف*ج عن مسلم كربة من كرب الدنيا ف*ج الله عنه كربة من كرب يوم القيامة "
یعنی جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی مصیبت و تنگی کو دور کیا اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی تنگی کو دور فرمائیں گے۔ (صحیح مسلم: 4585)
سیٹھ صاحب نے نماز کے بعد رقم لا کر ان بزرگ کو دے دی اور یوں ان کی 15400 پاؤنڈ کی دعا گھنٹے میں ہی قبول ہوگئی۔
(ضیاء چترالی۔ زیر تکمیل کتاب سے اک اقتباس)

یہ چھ عادات آپ کو ناکام بنا سکتی ہیں !ماہرین کا ماننا ہے کہ ہمارے اندر موجود مثبت اور منفی عادات زندگی میں ہمارے مقام ک...
27/11/2023

یہ چھ عادات آپ کو ناکام بنا سکتی ہیں !

ماہرین کا ماننا ہے کہ ہمارے اندر موجود مثبت اور منفی عادات زندگی میں ہمارے مقام کا تعین کرتی ہیں۔ یہ عادات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہم زندگی میں کامیاب ہو سکیں گے یا ناکام رہ جائیں گے۔

ان عادات کو اگر اختیاری طور پر بھی اپنایا جائے تب بھی یہ آپ کی ناکامی کو کامیابی اور کامیابی کو ناکامی میں بدل سکتی ہیں۔

آئیے آج ایسی عادات سے واقفیت حاصل کریں جو ہمیں ناکام بنا سکتی ہیں۔ اگر آپ میں ان میں سے کوئی بھی عادت موجود ہے تو اسے فوراً سے بیشتر ترک کردیں۔

:خود ترسی کی عادت

زندگی میں کبھی بھی خود ترسی کا شکار مت ہوں۔ اپنی برائیوں اور خامیوں پر نظر رکھنا صرف اسی صورت میں فائدہ مند ہے جب آپ انہیں درست کر سکتے ہوں، لیکن اگر قدرتی طور پر آپ میں کوئی ایسا نقص موجود ہے جو درست نہیں ہوسکتا تو اسے صرف نظر کریں۔

اپنی قسمت کو، اپنے آپ کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں۔ جس طرح دوسروں کو برا بھلا کہنا ان کا مورال گرانے اور تعریف کرنا ان کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے،اسی طرح یہ اصول خود اپنے اوپر بھی نافذ ہوتا ہے۔

لہٰذا اپنی پرانی غلطیوں کو یاد کر کے ان پر خود کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں اور کامیاب زندگی کی طرف پہلا قدم بڑھائیں۔

:کنجوسی

اگر آپ کوئی کاروبار کریں، اور خریدار آپ کو آپ کی محنت کا معاوضہ نہ دے اور کم پیسے لینے پر اصرار کرے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ یقیناً آپ ایسے خریداروں سے دور رہنا چاہیں گے۔ اسی طرح ملازمت کے دوران جب آپ کی تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ کے دل میں اپنی کمپنی کے لیے خوشگوار اور شکر گزاری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

جب آپ دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ آپ کو آپ کی محنت کا پورا معاوضہ دیں، تو اس کے لیے آپ بھی ان افراد کو پورا معاوضہ دیں جن سے آپ کام لے رہے ہیں۔ جیسے آپ کے گھر کے ملازم

حد درجہ کنجوسی سے گریز کریں اور کھلے دل کے مالک بنیں۔

قرآن پاک کی آیت ہے

"جو اپنے نفس کی تنگی سے بچا لئے گئے، بس وہی فلاح پانے والے ہیں "

:ناکامی کا خوف

ناکامی کا خوف آپ کو چیلنجز قبول کرنے سے روکتا ہے اور یہ عمل آپ کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

:آمدنی سے زیادہ خرچ

کنجوسی کا مظاہرہ کرنا غلط عادت ہے تاہم اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا بھی ایک غلط عمل ہے۔ اپنے خرچوں کو اپنی آمدنی کے دائرے میں رکھیں۔

:ناپسندیدہ کام کرنا

ایسی ملازمت کرنا جو آپ کو پسند نہ ہو، آپ کی ترقی کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ آپ ایسے کام سے کبھی خوش نہیں ہوں گے اور نہ اس میں آگے بڑھنے کی جدوجہد کریں گے۔

اگر قسمت سے آپ کو ایسا کوئی کام مل بھی گیا جو آپ کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تو دن میں کچھ وقت نکال کر وہ کام ضرور کریں جس سے آپ کو خوشی ملے، جیسے مطالعہ، مصوری کرنا، لکھنا۔

یہ عادت آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے سے بچائے گی!

: ناشکری کی عادت

حالات کتنے ہی نا مساعد کیوں نہ ہوں، ان تمام نعمتوں پہ نظر رکھیں جو آپ کو میسر ہیں مثلا زندگی، صحت ،ایمان۔ناشکری کی عادت انسان کو اندھا کر دیتی ہے اور اسے کوئی نعمت، نعمت نہیں لگتی اور ایسے شخص سے لوگ بھی دور ہو جاتے ہیں۔شکر گزاری کی عادت اپنائیں! قرآن پاک میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں

"اگر تم میرا شکر کرو گے ،تو میں اور زیادہ دوں گا "

تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں۔ 1--پہلا قانون فطرت:اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر ...
19/11/2023

تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں۔

1--پہلا قانون فطرت:

اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ھے.
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ھے۔

یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ھے۔

2--دوسرا قانون فطرت:

جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ھے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ھے۔

خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ھے۔
غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ھے۔

عالم "علم" بانٹتا ھے۔

پرامن انسان "امن و سکون" بانٹتا ھے۔

دیندار انسان "دین" بانٹتا ھے۔

خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ھے۔

مثبت اور تعمیری انسان موٹیویشن دیتا ھے۔

اسی طرح سیاہ دل و متعصب انسان "تعصب و نفرت" بانٹتا ھے۔

3--تیسرا قانون فطرت:

آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لئے کہ

کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔

مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں "ریاکاری" بڑھتی ھے۔

بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ھے۔

تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ھے۔

مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ھے۔

غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ھے۔

اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں معاشرے میں" ظلم و بے راہروی" میں اضافہ ہوتا ھے۔

اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک "بامقصد"، "مثبت"، "با اخلاق" زندگی گزاریں۔

صبر و تحمل درگزر جیسے شعار اپنائیں اور اپنے پیاروں اور بچوں کو اس کی تلقین کریں لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں اللہ ہمارے لیے آسانیاں عطا فرمائیں گے ۔۔۔۔۔

💯
30/04/2023

💯

Ameen
28/04/2023

Ameen

Address

Sargodha
123BK123

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فکر آخرت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share