26/04/2026
انقلاب اسلامی ایران کا تعارف رہبر شہید کے نمائندہ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی زبانی
جامعتہ المنتظر لاہور میں صدارتی خطاب سے اقتباس
قسط نمبر 3
انقلابِ اسلامی: ایک عالمگیر نظام اور ہماری ذمہ داری
انقلابِ اسلامی ایران محض ایک سیاسی تبدیلی یا کسی خاص فرقے کی جدوجہد کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل نظام (System) ہے جو اسلام کی سربلندی اور عالمی استعمار کے خلاف سینہ سپر ہے۔ جامعۃ المنتظر لاہور میں قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا صدارتی خطاب دراصل اس انقلاب کی روح کو سمجھنے کا ایک روشن باب ہے۔
انقلاب: مسلک سے بالاتر ایک جامع نظام
علامہ ساجد نقوی کے بقول، انقلاب کی بنیاد کسی مخصوص مسلک (شیعہ یا سنی) پر نہیں بلکہ خالص اسلام پر استوار ہے۔ نظام میں ایک خاص قسم کی جامعیت ہوتی ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہوتی ہے۔ یہ انقلاب ایک ایسا نمونہِ عمل ہے جس کا مقصد انسانیت کی فلاح اور الٰہی اقدار کا احیاء ہے۔
انقلاب اسلامی ہی وہ عظیم تحریک ہے جس نے عالمی استعمار امریکہ و اسرائیل کو للکارا
مظلومین فلسطین اور بیت المقدس مسجد اقصی سمیت پوری دنیا کے مظلوموں کا ترجمان بن کر ابھرا
انقلابِ اسلامی ایران کو محض ایک وقتی تحریک یا سیاسی ہلچل سمجھنا بڑی غلطی ہے؛ یہ دراصل ایک مکمل نظام ہے۔ نظام وہ ہوتا ہے جس میں جامعیت، تسلسل اور رہنمائی کے اصول موجود ہوں—اور یہی وہ امتیاز ہے جو انقلاب کو محض احتجاج سے بلند کر کے ایک دائمی فکری و عملی ڈھانچے میں بدل دیتا ہے۔
نادان دوست اور ہوشیار دشمن
انقلاب کو پہنچنے والے نقصانات میں جہاں دشمن کی چالیں شامل ہیں، وہیں نادان دوستوں کا "افراط و تفریط" (Extreme positions) بھی ایک بڑا المیہ ہے۔
دشمن کی بصیرت: استعماری قوتیں انقلاب کی طاقت کو ہم سے زیادہ سمجھتی ہیں، کیونکہ وہ اسے اپنے مفادات کی راہ میں اصل رکاوٹ مانتی ہیں۔
پاکستان میں مخالفت کا محاذ: اسی دشمنی کے تسلسل میں پاکستان کے اندر ایسے لشکر اور گروہ تیار کیے گئے جو ہم پر حملہ آور ہوئے، جن کا اصلی ہدف دراصل انقلابِ اسلامی کی مخالفت اور اس کے اثرات کو روکنا تھا۔
اپنوں کی کوتاہی: بعض لوگوں نے غلو یا غلط تشریحات کے ذریعے انقلاب کے روشن چہرے کو دھندلا کرنے کی کوشش کی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انقلاب کی درست شناخت کی جائے تاکہ نادانی میں اسے بدنامی سے بچایا جا سکے۔
بقاء کا ضامن: نظریہ ولایتِ فقیہ
کسی بھی انقلاب کی بقاء اس کے وارثوں اور اس کی قیادت سے وابستہ ہوتی ہے۔ انقلابِ اسلامی کے وارث آج بھی موجود ہیں، اور نظریہ ولایتِ فقیہ دراصل اس انقلاب کی بقاء اور استقامت کا اصل ضامن ہے۔ یہی وہ ڈھال ہے جس نے انقلاب کو اپنے اصل راستے سے بھٹکنے نہیں دیا۔
ہماری ذمہ داری: حمایت کا بہترین طریقہ
انقلاب کی حمایت صرف نعروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ علامہ ساجد نقوی کے مطابق، حمایت کا سب سے اعلیٰ معیار یہ ہے کہ:
"اپنی زندگیوں کو انقلاب کی روح کے مطابق ڈھالا جائے۔"
خلاصہ کلام
انقلابِ اسلامی کی درست شناخت اور اس کے پیرائے میں غیر متزلزل حمایت ہمارا فریضہ ہے۔ اگر ہم واقعی اس الٰہی مشن کے خیر خواہ ہیں، تو ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ان اصولوں پر استوار کرنا ہوگا جن کے لیے یہ عظیم انقلاب برپا ہوا تھا۔
ترتیب و تجزیہ:
مولانا لیاقت علی سیال قمی (رہنما شیعہ علماء کونسل، ضلع جھنگ)
゚ JSO Pakistan JSO Sargodha Division Śhâhłãľ Gôpäñg AQeel Abbas Wajeh Ul Hassan Mazhar Sherazi Syed Azadar Hussain Shah عزادار ی سکھر Niaz Khan