Allama Abul Hassan Alavi

Allama Abul Hassan Alavi This is official page of Allama Abul Hassan Alavi
Our YouTube Channel
Markaz Al irshad ul islami

13 جون شہید امت کانفرنس کی مناسبت سے اہم میٹنگ دارالعلوم محمدیہ سرگودھا شیعہ  تنظیموں کی نمائندہ شرکتاتحاد امت فورم
21/05/2026

13 جون شہید امت کانفرنس کی مناسبت سے اہم میٹنگ دارالعلوم محمدیہ سرگودھا

شیعہ تنظیموں کی نمائندہ شرکت

اتحاد امت فورم

20/05/2026

مولا علی علیہ السلام نے صفین کے موقع پر میدان جنگ میں پہنچنے کے باوجود جنگ میں تاخیر کیوں کی ؟

ایک شامی جوان نے ھاشم مرقال کے سؤال کے جواب میں حضرت علی سے جنگ کرنے کی وجہ کیا بتائی؟

19/05/2026

کانفرنس میں حویلی کورنگا کبیرنوالہ خانیوال کے مؤمنین کو 13 جون مینار پاکستان میں ہونے والے پروگرام کی دعوت

بسم اللہ الرحمن الرحيم 17 مئی 2026محترم جناب حجت الاسلام محمد امین شہیدی صاحب (سربراہ امت واحدہ) نے جامعہ عروة الوثقی لا...
19/05/2026

بسم اللہ الرحمن الرحيم
17 مئی 2026
محترم جناب حجت الاسلام محمد امین شہیدی صاحب (سربراہ امت واحدہ) نے جامعہ عروة الوثقی لاہور میں استاد محترم سید جواد نقوی سے ملاقات کی۔
ملاقات میں 13 جون مینار پاکستان "شہید امت کانفرنس" کے پروگرام کے انعقاد کو منظم، مؤثر اور بھرپور انداز میں منعقد کرنے کے حوالے سے مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔

19/05/2026

وحدت امت کانفرنس بمقام حویلی کورنگا کبیرنوالہ خانیوال

موضوع ۔۔۔
امامت اور اس کے شئون

PART 1

19/05/2026

وحدت امت سیمینار بمناسبت شہادت رہبر شھید بمقام جامع مسجد علی المرتضی حویلی کورنگا

PART 2

*نظریہ مہدویت کی آفات شناسی: ایک فکری جائزہ**مقدمہ*  ہماری شیعہ کمیونٹی میں روز بروز نئے نئے فتنے اٹھتے رہتے ہیں۔ خاص طو...
18/05/2026

*نظریہ مہدویت کی آفات شناسی: ایک فکری جائزہ*

*مقدمہ*

ہماری شیعہ کمیونٹی میں روز بروز نئے نئے فتنے اٹھتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر ان حساس موضوعات میں تحریف کی جاتی ہے جو شیعہ کے بنیادی نظریات ہیں، جیسے مہدویت، عاشورہ اور غدیر۔وغیرہ

یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر تشیع قائم ہے۔ جتنا کوئی نظریہ اہم اور نجات سے جڑا ہوتا ہے، اتنا ہی اس میں تحریف کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

استاد مصباح یزدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی بھی مکتب میں جو نظریہ اہم ہوتا ہے، اسی میں تحریف کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تشیع میں بھی یہی صورتحال ہے۔ حساس موضوعات میں تحریف کی جاتی ہے، کیونکہ ہر مکتبِ فکر میں مفاد پرست طبقات اور جاہل افراد موجود ہوتے ہیں جو مکتب کی تعلیمات میں تحریف کا سبب بنتے ہیں۔

1. تشیع کے امتیازی نظریات اور تحریف کا خطرہ

اگر آج کوئی صحیح عاشورہ کے مقاصد بیان کرے، خاص طور پر برصغیر کے ماحول میں، تو لوگ تعجب کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مفاد پرست طبقے، تاجروں اور دین فروشوں نے عاشورہ کو تجارت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ ان سامریوں کو معلوم ہے کہ عزاداری سے شیعہ عشق کرتے ہیں اور اس کی بقا و ترویج کے لیے اپنا من و تن لگاتے ہیں۔ یہ تاجر سامری طبقہ مخلص لیکن بے شعور عزاداروں سے بھرپور مال بٹورتا ہے اور بدلے میں انہیں جہالت دے کر چلا جاتا ہے۔

شہید مطہری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اگر امام حسین علیہ الصلوۃ والسلام خود آ جائیں تو بعض مجالس کو سن کر فرمائیں گے: "یہ کون سے حسین ہیں جسے تم بیان کر رہے ہو، میں تو یہ نہیں ہوں"۔
اسی طرح غدیر میں بھی تحریف ہوئی۔ اپنوں اور پرائیوں دونوں نے "مولا" کے معنی بدل دیے۔ یہ تحریفِ معنوی ہے، لفظ نہیں بدلے، معنی بدل دیے گئے۔

2. مہدویت میں آفات کا کثرت سے ہونا

کیونکہ ہم آج آخر الزمان میں زندگی گزار رہے ہیں اور یہ دور دور فتن کہلاتا ہے اور اسی آخرالزمان سے مہدویت کا نظریہ جڑا ہوا ہے کہ ایک شخصیت قیامت سے پہلے آئیں گی کہ جو اس زمین کو عدل و قسط سے پر کریں گی جیسے کہ یہ زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی

اسی وجہ سے آج مہدویت کے نظریے میں بھی بہت زیادہ آفات پیدا ہو گئی ہیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ امام مہدی علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پر لوگوں نے دکانیں کھول رکھی ہیں۔ عجیب و غریب نظریات بیان ہو رہے ہیں۔ ہر علاقے میں مہدویت کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، فرقے اور گروہ بنائے جا رہے ہیں۔

عراق اور دیگر ممالک میں لوگ جھوٹے دعوے کرتے ہیں کہ وہ خود امام مہدی ہیں یا ان سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس ذریعے سے لوگوں کو گمراہ کر کے حقیقی مہدویت سے دور کیا جاتا ہے۔

3. ہر نظریے کے لیے آفات کا ہونا

روایتِ معصوم میں آیا ہے کہ ہر چیز کے لیے آفت ہوتی ہے۔ علم کے لیے آفت ہے، اخلاق کے لیے آفت ہے، نظریہ توحید کے لیے آفات ہیں، آفات یعنی جو اس نظریہ کی روح کو زائل کر دیتی ہیں

اور بیرونی دشمن بھی جیسے استعماری طاقتیں اس پر سرمایہ کاری کرتی ہیں

استاد ڈاکٹر رفیعی نے کوفہ یونیورسٹی کے ایک مقابلے کے لیے "آفاتِ مہدویت" کے موضوع پر مقالہ لکھا تھا۔ یہ مقالہ بہترین قرار پایا اور اس کا عربی میں ترجمہ بھی ہوا ہے، لیکن انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں ہے۔ ان کی اس موضوع پر تقاریر موجود ہیں جن کا ترجمہ کر کے جلد پیش کیا جائے گا۔

4. آفات کی شناخت کی ضرورت

کسی بھی نظریے کی آفات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر ہمیں مہدویت کی آفات کا علم نہ ہو تو ہم اس نظریے کو صحیح نہیں سمجھ سکتے، اور پھر اس کی افادیت سے محروم ہو جائیں گے۔ یہی ہماری سوسائٹی میں ہو رہا ہے۔

اس کی مثال صرف انتظار کے مفہوم میں ہونے والی تحریف سے سمجھی جا سکتی ہے۔ بہت سے شیعہ انتظار کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا سمجھتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ انتظار سے مراد ظہور کے لیے دعا کرنا لیتے ہیں۔

مرحوم ڈاکٹر اسرار اپنی ایک تقریر میں انقلابِ ایران کے حوالے سے کہتے ہیں کہ خمینی نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ انتظارِ امام مہدی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں، بلکہ ان کے آنے سے پہلے ان کے لیے زمینہ اور گراؤنڈ فراہم کیا جائے۔ وہ لوگ خمینی کی بات سمجھ گئے اور بادشاہت کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر کے اسلامی نظام قائم کر دیا۔

ڈاکٹر اسرار یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ خمینی نے انتظار کی صحیح تفسیر، جو مکتبِ تشیع کے مطابق ہے، اپنی قوم کو سمجھا دی اور نتیجہ میں حکومت اسلامی قائم ہوگئی

لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے ہاں بعض علماء بھی مہدویت کے نام پر ہی طاغوتوں کی تائید اور سپورٹ کرتے ہیں

آفات کے مسئلے کی اہمیت ہم یہاں سے سمجھ سکتے ہیں کہ جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو پہلے "لا الہ" کہتے ہیں۔ یعنی تمام جعلی معبودوں کی نفی کرتے ہیں اور پھر خالص توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ نفی ضروری ہے، اس کے بغیر خالص دین تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

5. ائمہ علیہم السلام کا طریقہ

امام تقی علیہ الصلوۃ والسلام اور تمام ائمہ کے زمانے میں مختلف فکری و نظریاتی گمراہ گروہ موجود تھے۔ ائمہ اہلبیت ع نے ان کا علمی مقابلہ کیا، ان کو رد کیا اور درست تفسیر و نظریہ بیان کیا:مثال کے طور پر امام تقی ع کے زمانے میں مندرجہ ذیل گرو تھے

- *اہلِ حدیث *: اللہ کے لیے جسمانیت کے قائل تھے۔

- *معتزلہ*: عقل کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ ائمہ نے عقل کی صحیح جگہ بیان کی۔
- *خوارج*: ان کے علمی نظریات کا بھی مسلمانوں کی

سوسائٹی پر بڑا اثر ہوا۔

غلات*: شیعہ کے اندر غلو کا نظریہ پیدا ہوا۔ غالی غلط تفسیر اور جعلی احادیث بیان کرتے تھے۔ ائمہ نے ان کا رد کیا۔
- *زیدیہ، اسماعیلیہ، واقفیہ*: شیعہ کے اندر بننے والے فرقے۔ ائمہ اہلبیت علیہم السلام نے ان کے نظریات کو رد کیا تاکہ لوگوں تک صحیح نظریہ پہنچے۔

6. ہشام بن حکم کی مثال

امام جعفر صادق علیہ الصلوۃ والسلام کے شاگرد ہشام بن حکم پہلے جہمیہ فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے رشتہ دار امام کے پاس آتے جاتے تھے۔ ان کے ذریعے ایک محفل میں ان کی امام سے ملاقات ہوئی۔ امام نے انہیں کچھ چیزیں سمجھائیں۔ وہ متاثر ہوئے، دوبارہ آئے اور بالآخر شیعہ ہو گئے اور امامت کے دفاع میں متکلم بن گئے، کیونکہ وہ ایک با صلاحیت شخصیت تھے۔

کسی کو گمراہی اور غلط نظریات سے نکالنا بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر عظیم اجر عطا فرماتا ہے۔ ائمہ علیہم السلام یہی کام کیا کرتے تھے۔

7. آج کی صورتحال

ہمارے ہاں بھی مہدویت کے نام پر ہر علاقے میں مسائل کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ بعض شخصیات و خطباء منبر پر مہدویت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ لوگوں میں گمراہی پھیلتی ہے۔ ہر وقت یہ سنایا جاتا ہے کہ فلاں کی ملاقات ہوئی، فلاں سے رابطہ ہوا۔ حالانکہ حدیث میں واضح ہے کہ اگر کوئی غیبتِ کبریٰ میں ملاقات کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا ہے۔ یہ خود ملاقات کے دعوے آفاتِ مہدویت میں سے ہے۔

علماء نے اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں کہ ان ملاقاتوں کے مسئلے کی کیا تشریح ہے۔ اور ان ملاقاتوں کا معیار کیا تھا اور جنہوں نے کی ان کے دعوے نہیں تھے

8. مہدویت میں ہونے والی اہم تحریفات

ہم استاد ڈاکٹر رفیعی کے مقالے کی روشنی میں ان شاء اللہ ایک تفصیلی تبصرہ کریں گے، جس میں انہوں نے دس کے قریب آفات پر تبصرہ کیا ہے۔ یہاں ہم ان میں سے کچھ آفات کا صرف ذکر کر دیتے ہیں۔ یہ سب آفات و تحریفات خود اہلبیت علیہم السلام کی روایات میں ذکر ہوئی ہیں۔ البتہ یہ ایک تحقیق ہے، ممکن ہے کہ روایات کی روشنی میں اس سے زیادہ آفات بھی نکالی جا سکیں:
اب ہم فہرست وار ان چند کا تذکرہ کرتے ہیں جو ہمارے برصغیر کے معاشرے کو زیادہ متاثر کر رہی ہیں

1. *غیبت کے مفہوم میں تحریف*
غیبت سے مراد کیا ہے، یہ سمجھے بغیر لوگ یا تو امام کو غیر موجود سمجھ لیتے ہیں یا مبالغے میں چلے جاتے ہیں۔

2. *ظہور کا وقت مشخص کرنا*
ظہور کی تاریخ، سال یا مہینہ بتانا۔ یہی وہ چیز ہے جس پر ائمہ علیہم السلام نے سختی سے منع فرمایا اور "کذب الوقاتون" فرمایا۔

3. *ظہور کی نشانیوں میں تحریف*
ہر واقعے کو ظہور کی نشانی بنا دینا، ضعیف و جعلی روایات کو پھیلانا، جس سے لوگ شک میں پڑ جاتے ہیں۔

4. *انتظار کے مفہوم میں تحریف*
انتظار کو غیر فعال بنا دینا، یہ سمجھنا کہ کچھ کرنا نہیں، بس بیٹھے رہو۔ جبکہ انتظار کا مطلب تیاری، عمل، تقویٰ اور عدلِ اجتماعی کا قیام ہے۔

5. *ملاقات کا جھوٹا دعویٰ کرنا*
خود کو امام سے ملنے کا ذریعہ یا "دروازہ" قرار دینا۔ یہ وہی چیز ہے جسے غیبتِ کبریٰ کی روایات نے صراحتاً جھوٹ قرار دیا ہے۔

یہ تحریفات آج شیعہ معاشرے اور شیعہ کمیونٹی پر کافی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اس وجہ سے لوگوں کو ہوشیار ہونا چاہیے اور ان تحریفات کو اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھا جائے، تاکہ صحیح مہدویت کا نظریہ لوگوں کے سامنے آئے۔

شیعہ کی ایک بنیادی نشانی یہ ہے کہ وہ علم و عالم دوست ہوتا ہے جہالت سے تشیع کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔ ہزار ہزار...
17/05/2026

شیعہ کی ایک بنیادی نشانی یہ ہے کہ وہ علم و عالم دوست ہوتا ہے جہالت سے تشیع کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔ ہزار ہزار علمی سؤال پوچھنے والا شیعہ ہوتا ہے افسوس یہ کہ خاص کر پاکستانی شیعہ سیرت اہلبیت ع سے کوسوں دور ہیں

*سؤال*

امام تقی الجواد علیہ السلام کے دورِ امامت میں علمی گفتگو اور مناظروں کی محفلیں کیوں زہادہ منعقد ہوتی تھیں، اور امام کا اس فضا کا خیر مقدم کرنے کی وجہ کیا تھی؟

*جواب:*

امام جواد علیہ السلام کی امامت کے آغاز کے ساتھ ہی آپ کی طرف سوالات کا سیلاب امڈ پڑا۔ یہ سوالات دو جہتوں سے اٹھائے جاتے تھے:

*1. شیعوں اور اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کی طرف سے:*

چونکہ امام جواد علیہ السلام کی عمر کم تھی، اس لیے بعض شیعہ تشویش اور تذبذب میں مبتلا ہو گئے تھے۔ وہ آپ کو مختلف قسم کے سوالات کے سامنے رکھ کر آزمانا چاہتے تھے تاکہ آپ کے وسیع علم اور خداداد دانش کو ثابت کر کے آپ کی امامت پر یقین و اطمینان حاصل کریں۔ اسی غرض سے متعدد مجالس منعقد ہوتی تھیں۔

جیسا کہ ایک ماخذ میں آیا ہے:

"...امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے وقت امام جواد علیہ السلام مدینہ میں تھے۔ بعض شیعوں کو آپ کی کم سنی کے بارے میں تردد تھا۔ یہاں تک کہ علماء، فضلاء، اشراف اور شیعہ کے بزرگان عالم بھر سے حج کے لیے آئے۔ مناسکِ حج سے فارغ ہو کر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ معجزات، کرامات، علوم اور کمالات دیکھ کر انہوں نے امامت کا اقرار کیا اور شک و شبہ کے زنگ کو اپنے دلوں کے آئینے سے صاف کر دیا۔ حتیٰ کہ شیخ کلینی اور دیگر نے روایت کی ہے کہ ایک ہی مجلس میں یا چند روز کے دوران ہزاروں دقیق مسائل ان معدنِ علوم و فضائل شخصیت سے پوچھے گئے، اور ہر ایک کا شافی جواب پایا"۔

*2. حکومت کی طرف سے، خصوصاً مامون اور معتصم، جو آپ کے معاصر دو خلیفہ تھے:*

چونکہ شیعہ اپنے ائمہ کے لیے علمِ لَدُنّی کے قائل تھے، اس لیے خلفاء کوش کرتے تھے کہ مناظروں کی مجالس منعقد کر کے انہیں زمانے کے مشہور دانشوروں کے مقابلے میں لایا جائے۔ مقصد یہ تھا کہ شاید امام بعض سوالات کے جواب میں عاجز آ جائیں اور شیعہ اپنے اس عقیدے میں تذبذب کا شکار ہو جائیں کہ ائمہ اہل بیت کے پاس علمِ الٰہی ہے، اور اس طرح وہ ان کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں۔

اس کے علاوہ مامون کی ذاتی دلچسپی بھی ان مناظروں کے انعقاد میں بے اثر نہ تھی۔ وہ علم دوستی کے لیے مشہور تھا اور عباسی خلفاء میں فلسفی خلیفہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

*امام کا اس فضا کا خیرمقدم کرنے کی علت:*
امام جواد علیہ السلام نے ان مجالس کا خیرمقدم اس لیے فرمایا کہ:
1. یہ آپ کے علمِ الٰہی اور امامت کے حق ہونے کے ثبوت کا ذریعہ بنیں۔
2. شیعوں کے شکوک و شبہات دور ہوں اور ان کا ایمان مضبوط ہو۔
3. مخالفین کی چال ناکام ہو اور حق واضح ہو جائے۔

آپ نے ہمیشہ علمی انداز میں جواب دے کر ثابت کیا کہ امامت کا مقام سن و سال سے نہیں، بلکہ علمِ الٰہی سے متعلق ہے۔

17/05/2026

*امام تقی علیہ السلام کے 6 زندگی بدل دینے والے سنہری فرامین *

_حکمت، تربیت اور کامیابی کے راز

ابوالحسن علوی۔۔

امام محمد تقی جواد علیہ السلام کے کلماتِ قصار میں وہ گہرائی اور عملی حکمت ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیاب کر سکتی ہے۔ ذیل میں ان کی 6 مشہور احادیث اور ان کا عملی پیغام پیش ہے۔

---

*1. کامیاب مومن کی 3 بنیادیں*

*حدیث:*

«اَلْمُؤْمِنُ يَحْتَاجُ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: تَوْفِيقٍ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَوَاعِظٍ مِنْ نَفْسِهِ، وَقَبُولٍ مِمَّنْ يَنْصَحُهُ»1

*ترجمہ:*

مومن ہر حال میں تین خصلتوں کا محتاج ہے:
1. اللہ عزوجل کی توفیق،
2. اپنے اندر سے نصیحت کرنے والا،
3. نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو قبول کرنا۔

*عملی سبق:*

روزانہ خود سے پوچھیں: آج میں نے کہاں غلطی کی؟ کس کی نصیحت کو انا کی وجہ سے رد کیا؟ یہی خود احتسابی ترقی کی کنجی ہے۔

---

*2. صالح دوست چنو اور شریر سے بچو ، ورنہ برباد ہو جاؤ گے*

*حدیث:*
«إِيَّاكَ وَمُصَاحَبَةَ الشَّرِيرِ، فَإِنَّهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ، يَحْسُنُ مَنْظَرُهُ وَيَقْبُحُ أَثَرُهُ»2

*ترجمہ:*
بدکاروں کی صحبت اور دوستی سے بچو، کیونکہ وہ ننگی زہریلی تلوار کی مانند ہے۔ اس کا ظاہر خوبصورت لگتا ہے، لیکن اس کا انجام بدصورت اور خطرناک ہوتا ہے۔

*عملی سبق:*

دوستی سے پہلے دیکھو کہ وہ تمہیں اللہ سے قریب کر رہا ہے یا دور۔ اگر کسی کی صحبت میں گناہ آسان اور عبادت بوجھ لگنے لگے، سمجھ جاؤ کہ وہ "زہریلی تلوار" ہے۔

---

*3. عزت کا راز بے نیازی ہے*

*حدیث:*

«عِزُّ الْمُؤْمِنِ غِنَاهُ عَنِ النَّاسِ»3

*ترجمہ:*
مومن کی عزت و شخصیت اس میں ہے کہ وہ لوگوں سے بے نیاز ہو اور ان کے مال و زندگی کا لالچ نہ کرے۔

*عملی سبق:*

جس دن تم نے لوگوں کی رضا کے لیے دین اور ضمیر بیچنا چھوڑ دیا، اسی دن تم آزاد اور باعزت ہو گئے۔ اللہ پر توکل ہی اصل دولت ہے۔

---

*4. گناہ موت ہے، نیکی زندگی ہے*

*حدیث:*

«مَوْتُ الْإِنْسَانِ بِالذُّنُوبِ أَكْثَرُ مِنْ مَوْتِهِ بِالْأَجَلِ وَحَيَاتُهُ بِالْبِرِّ أَكْثَرُ مِنْ حَيَاتِهِ بِالْعُمْرِ»4

*ترجمہ:*

انسان کی موت گناہوں کی وجہ سے قدرتی موت سے زیادہ واقع ہوتی ہے،
اور نیکی و احسان کے ذریعے اس کی زندگی، عمر کی زندگی سے زیادہ لذت بخش اور بامعنی ہوتی ہے۔

*عملی سبق:*
موت کے مختلف اسباب ہوتے ہیں اور جو چیز سب سے بڑا سبب موت تک کا بنتی ہے وہ انسان کے گناہ ہیں اور یہ سب۔ طبیعی موت سے زیادہ موثر واقع ہوتا ہے اور دوسرا پیغام یہ ہے کہ

100 سال جینا کامیابی نہیں۔ کامیابی یہ ہے کہ 30 سال بھی جیو تو تمہارا نام، کام اور اثر زندہ رہے۔ نیکی ہی وہ زندگی ہے جو موت کے بعد بھی بولتی ہے۔

---

*5. تین اخلاقی زیور*

*حدیث:*

«خَفْضُ الْجَنَاحِ زِينَةُ الْعِلْمِ، وَحُسْنُ الْأَدَبِ زِينَةُ الْعَقْلِ، وَبَسْطُ الْوَجْهِ زِينَةُ الْحِلْمِ»5

*ترجمہ:*
تواضع علم کی زینت ہے، اچھا ادب عقل کی زینت ہے، اور خوش روئی حلم و بردباری کی زینت ہے۔

*عملی سبق:*

علم کے ساتھ تواضع ہو اور تکبر نہ ہو، یہی امام جواد علیہ السلام کا معیار تھا۔ 8 سال کی عمر میں علماء کو لاجواب کرنے والا امام، ہمیشہ متواضع رہا کرتے تھے

---

*6. موقع شناس بنو، ورنہ بہہ جاؤ گے*

*حدیث:*

«مَنْ لَمْ يَعْرِفِ الْمَوَارِدَ أَعْيَتْهُ الْمَصَادِرُ»6

*ترجمہ:*

جو شخص موقع اور حالات کو نہ پہچانے، حالات اسے بہا لے جاتے ہیں اور وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔

*عملی سبق:*

زندگی میں ہر فیصلے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اور جو افراد یا قومیں بر وقت اور مناسب عمل اور اقدام نہیں کرتی ہیں وہ خسارے میں رہتی ہیں

دیر سے بولا گیا سچ بھی بعض اوقات بے اثر ہو جاتا ہے۔ امام جواد علیہ السلام نے 8 سال کی عمر میں امامت کی ذمہ داری اٹھائی کیونکہ وہ موقع کی پہچان رکھتے تھے۔

---

*نتیجہ: امام جواد علیہ السلام کا پیغام آج کے لیے*

یہ 6 احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ:

- کامیابی کا راز خود سازی اور اللہ پر توکل میں ہے۔
- صحبت کا انتخاب تمہاری تقدیر بناتا ہے۔
- عزت پیسے میں نہیں، بے نیازی میں ہے۔
- نیکی ہی اصل زندگی ہے۔
- علم بغیر اخلاق کے بے معنی ہے۔
- موقع کی پہچان کامیابی کی کنجی ہے۔

امام جواد علیہ السلام نے کم عمری میں امامت کی ذمہ داری اٹھا کر ثابت کر دیا کہ بڑا وہ ہوتا ہے جس کا علم، تقویٰ اور کردار بڑا ہو۔

---

*حوالہ جات*

1. *بحارالانوار، ج 72، ص 65، ح 3*
علامہ مجلسی، _بحارالانوار_، جلد 72، صفحہ 65، حدیث نمبر 3

2. *اعلام الدّین، ص 309*
حسن بن محمد دیلمی، _اعلام الدین فی صفات المؤمنین_، صفحہ 309

3. *بحارالانوار، ج 72، ص 109، ح 12*
علامہ مجلسی، _بحارالانوار_، جلد 72، صفحہ 109، حدیث نمبر 12

4. *کشف الغمّه، ج 2، ص 350*
علی بن عیسیٰ اربلی، _کشف الغمّة فی معرفة الأئمّة_، جلد 2، صفحہ 350

5. *کشف الغمّه، ج 2، ص 347*
علی بن عیسیٰ اربلی، _کشف الغمّة فی معرفة الأئمّة_، جلد 2، صفحہ 347

6. *اعلام الدّین، ص 309*
حسن بن محمد دیلمی، _اعلام الدین فی صفات المؤمنین_، صفحہ 309

17/05/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم14 مئی 2026ءمرکزی دفتر اتحادِ امت فورم شاہ جمال لاہور میں اہم مشاورتی نشست کا انعقاد،استادِ محترم ...
16/05/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
14 مئی 2026ء
مرکزی دفتر اتحادِ امت فورم شاہ جمال لاہور میں اہم مشاورتی نشست کا انعقاد،
استادِ محترم سید جواد نقوی، حجۃ الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری، حجۃ الاسلام محمد امین شہیدی، حجۃ الاسلام سید احمد اقبال رضوی، حجۃ الاسلام سید حسنین گردیزی، حجۃ الاسلام محمد اقبال بہشتی ،حجۃ الاسلام سید حسین نجفی ، حجۃ الاسلام محمد توقیر عباس اور حجۃ الاسلام ناصر مہدی کربلائی کی شرکت،
نشست میں مجلس وحدت مسلمین، امامیہ آرگنائزیشن، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، جامعة المصطفیٰ لاہور، جامعہ العروۃ الوثقی لاہور ،تحریک بیداریِ امتِ مصطفیٰ ﷺ کے نمائندگان اور مومنینِ لاہور نے شرکت کی،
نشست کے دوران 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ امت کانفرنس‘‘ کے انعقاد، پروگرام کی تفصیلات، انتظامی امور، تنظیمی تیاریوں، عوامی شرکت اور مؤثر حکمتِ عملی کے حوالے سے تفصیلی اور بامقصد مشاورت کی گئی،
13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ امت کانفرنس‘‘ کے پروگرام کو منظم، مؤثر اور بھرپور انداز میں منعقد کرنے کے حوالے سے مختلف امور پر مشاورت کی گئی، جبکہ انتظامی تیاریوں، عوامی رابطہ مہم، شرکت کو یقینی بنانے اور پروگرام کے پیغام کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیا،
شرکاء نے باہمی ہم آہنگی، منظم تعاون اور ملی و قومی ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں ادا کرنے پر اتفاق کیا.

Address

Sargodha

Telephone

+923115461116

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allama Abul Hassan Alavi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share