22/03/2026
کتاب تو لکھ دی شب بھر میں
مگر صحیح روایت کوئی پیش کر نا سکے ۔
عرصہ دراز سے اہل حق ۔حنفی حضرات سے نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے ثبوت کا مطالبہ کررہے ہیں ۔اج تک حنفی مقلدین اپنے موقف پر ایک بھی صحیح روایت پیش نہیں کرسکے ۔
اپنی اجہل عوام کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے حنفی حضرات ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی سب مضبوط دلیل سمجھتے ہیں اور پیش کرتے ہیں وہ یہ روایت ہے ۔
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ فِي الصَّلَاةِ
اور اس روایت کے بارے محدثین کیا فرماتے ہیں ملاحظہ فرمائیں
:
امام نوویؒ
هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ الْحَدِيثِ
یہ حدیث اہلِ حدیث کے اتفاق کے ساتھ ضعیف ہے۔
المجموع شرح المهذب (3/313)
امام ابن حجر عسقلانیؒ
فِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ضَعِيفٌ
اس کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق ہے اور وہ ضعیف ہے۔
التلخيص الحبير (1/224)
امام بیہقیؒ
:
تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ضَعِيفٌ
اس روایت کو عبد الرحمن بن اسحاق نے اکیلے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔
السنن الكبرى للبيهقي (2/30)
امام ابن القیمؒ
وَلَمْ يَصِحَّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَضْعُهُمَا تَحْتَ السُّرَّةِ
نبی ﷺ سے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا صحیح طور پر ثابت نہیں۔
زاد المعاد (1/202)
امام البانیؒ
:
حَدِيثُ وَضْعِ الْيَدَيْنِ تَحْتَ السُّرَّةِ ضَعِيفٌ
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی حدیث ضعیف ہے۔
إرواء الغليل (353)۔
یہ حنفیوں کی سب سے مضبوط دلیل کا حال ہے ۔باقی جو بھی پیش کرتے ہیں ان کی حیثیت کیا ہوگی 😅
حقیقت یہ ہے کہ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی کوئی روایت ثابت نہیں ہے ۔
امام ابن عبدالبرؒ فرمائے ہیں
لَا يَثْبُتُ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ
اس مسئلے ( یعنی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے)میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔
التمهيد (20/75)