Z A Khan Lodhi Pathan

Z A Khan Lodhi Pathan Advocate High Court District Courts Sahiwal

20/07/2020

یاعلی احمد یاعلی احمد

03/07/2020

وہابیوں کے کتب خانے سے خریدی گئی کتاب میں درج واقعہ امام احمد بن حنبل کے مزار اقدس پر حضور غوث الاعظم کی حاضری کے موقع پرامام احمد بن حنبل اپنے مزار اقدس سے باہر تشریف لے آئے۔۔۔

01/07/2020

Hazrat Baba Mian Chanu Sarkar rahmatullah talah alaih

26/05/2020

پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان شہید کے مورث اعلی نواب ابوالفتح علی خان کو براہ راست حضرت شاہ کمال کیتھلی سے شرف ارادت حاصل تھا کیتھل سے کئی میل دور وہ سواری سے اتر جاتے تھے اور کافی طویل فاصلہ پیدل طے کرتے تھے مشہور ہے کہ حضرت شاہ کمال قادری نے نواب ابوالفتح علی خان کو عبادت و ریاضت سے خوش ہوکر خرقہ خلافت بھی عطا کیا قائد ملت لیاقت علی خان کے والد ماجد نواب رستم علی خان کو بھی حضرت شاہ کمال قادری کیتھلی کے گیارہویں جانشین حضرت سید شاہ عبدالعلی قادری کیتھلی سے شرف بیعت حاصل تھا قدیم خاندانی روایات کے مطابق نواب رستم علی خان کو کیتھل شریف کے آستانہ قادریہ سے بے حد عقیدت تھی جب آپ اپنے پیرومرشد کی زیارت کے لئے کیتھل شریف تشریف لاتے تو دو تین فرلانگ دور سے سواری سے اتر جاتے جوتیاں اتار کر برہنہ پا ہو جاتے
جب لیاقت علی خان پیدا ہوئے تو نواب رستم علی خان نے آپ کو کیتھل شریف میں لاکر حضرت شاہ کمال قادری کے گیارویں جانشین حضرت عبدالعلی قادری کے قدموں میں ڈال دیا آپ نے نواب رستم علی خان سے فرمایا کہ تمہارا یہ بچہ حکمرانی کے لیے پیدا کیا گیا ہے تم تو محض نواب ہو یہ بچہ کسی ملک کا بادشاہ بنے گا اور کروڑوں آدمی اس کے سامنے سر جھکائیں گے اور فوجیں سامنے ہاتھ باندھ کر گھڑی ھونگی

19/05/2020

اعتکاف

18/05/2020

(امیر خسرو سرکار اور ان کے مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کی نعلین)

کہتے ہیں کہ ایک دن ایک سید زادہ حضرت نظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی. یاحضرت میں ایک غریب سید زادہ ہوں اور سر پر جوان بیٹیوں کا بوجھ ہے۔۔سادات گھرانے کی نسبت ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ بھی نہیں لے سکتا۔ آپ میرے دینی بھائی ہیں اور سید بھی ہیں آپ میری مدد کریں کچھ۔-آپ نے اس کو عزت و تکریم کے ساتھ بٹھایا اور خادم سے بلا کر کہا کہ آج کوئی نذر و نیاز آئی خانقاہ میں؟تو خادم نے عرض کی سیدی ابھی تک تو کوئی نہیں آئی لیکن جیسے ہی آئی میں آپ کو اطلاع کر دوں گا-آپ نے سید زادے کو تسلی دی اور کہا اللہ پہ بھروسہ کرے وہ دست غیب سے کوئی نہ کوئی انتظام فرما دے گا-مگر تین دن گزر گئے کوئی نیاز نہ آئی- سید زادہ بھی مایوس ہوگیا کہ ایویں باتیں مشہور ہیں ان کے بارے میں یہاں تو کوئی مدد ہی نہیں ہو سکی میری. ایک دن اس نے اجازت طلب کی واپسی کی. حضرت محبوب الہیٰ کو بہت دکھ ہوا کہ مہمان خالی ہاتھ گھر سے جا رہا ہے-آپ نے اس کو چند پل کے لیئے روکا اور اندر سے اپنے نعلین لا کر دے دیئےاور کہا بھائی اس فقیر کے پاس تمھیں دینے کے لیئے اپنے ان جوتوں کے علاوہ کچھ نہیں
وہ سید زادہ جوتے لیکر چل پڑا اور سوچنے لگا کہ ان پرانے بوسیدہ جوتوں کا کیا کروں گا, حضرت نے اچھا مذاق کیا ہے میرے ساتھ .
دوسری طرف کی سنیئے
سلطان محمد تغلق کسی جنگی مہم سے واپس آرہا تھا اور حضرت امیر خسرو جو حضرت نظام الدین اولیا ء کے خلیفہ بھی تھے سلطان کے ساتھ تھے اور چونکہ آپ ایک قابل قدر شاعر تھے اس لیے دربار سلطانی میں اہمیت کے حامل تھے
آپ نے سلطان کی شان میں قصیدہ کہا تو سلطان نے خوش ہو کر آپ کو سات لاکھ چیتل (سکہ رائج الوقت )سے نوازا۔اپنے واپسی کے سفر پر جب ابھی لشکر سلطانی دہلی سے باہر ہی تھا اور رات کو پڑاؤ کیا گیا۔ تو اچانک امیر خسرو چلا اٹھے
مجھے اپنے مرشد کی خوشبو آتی ہے
مصاحب بولے امیر حضرت محبوب الہیٰ تو کیلوکھڑی میں ہیں جو دہلی سے کافی دور ہے تو آپ کو انکی خوشبو کیسے آ گئی؟؟ مگر امیر خسرو بے قرار ہوکر باہر نکل پڑے اور خوشبو کا تعاقب کرتے کرتے ایک سرائے تک جا پہنچے جہاں ایک کمرے میں ایک شخص اپنے سر کے نیچے کچھ رکھ کر سویا ہوا تھا اور خوشبو وہاں سے آ رہی تھی آپ نے اس کو جگایا اور پوچھا تم حضرت نظام الدین کی خانقاہ سے آ رہے ہو کیا؟ تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بولا ہاں
آپ نے اشتیاق سے پوچھا کیسے ہیں میرے مرشد؟
وہ شخص بولا وہ تو ٹھیک ہیں اور میں ان کے پاس مدد کے لیے گیا تھا مگر اور کچھ تو دیا نہیں ہاں اپنے پرانے بوسیدہ جوتے ضرور دیئے ہیں
یہ سنتے ہیں امیر خسرو کی حالت غیر ہو گئی اور کہنے لگے کہاں ہیں میرے مرشد کے نعلین ؟ تو اس نے ایک کپڑا کھول کر دکھا دیئے
آپ نے ان کو پکڑا چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور کہنے لگے کیا تو ان کو بیچے گا
اس نے کہا امیر کیوں مذاق اڑاتے ہو
امیر خسرو بولے مذاق نہیں میرے پاس اس وقت سات لاکھ چیتل ہیں وہ لے لو مگر میرے مرشد کے نعلین مجھے دے دو۔
اگر چاہو تو دہلی چلو اتنی ہی رقم اور دے دوں گا تمھیں
سات لاکھ چیتل کا سن کر وہ چکرا گیا اور بولا نہیں بس میرا تو چند ہزار سے گزارا ہو جائے گا
مگر امیر خسرو نے زبردستی اس کو سات لاکھ چیتل دیئے اور ساتھ میں سپاہی اور تحریر دے دی تا کہ کوئی اس پر شک نہ کرے
اور پھر امیر خسرو اس حالت میں خانقاہ مرشد میں داخل ہوئے کہ جوتے اپنی دستار میں لپیٹ رکھے تھے اور سر پر رکھے بڑھے چلے آ رہے تھے اور زارو قطار رو رہے تھے
حضرت نظام الدین اولیاء نے مسکراتے ہوئے پوچھا ،خسرو ہمارے لیئے کیا لائے ہو؟
امیر نے جواب دیا سیدی آپ کے نعلین لایا ہوں
کتنے میں خریدے؟حضرت نظام الدین اولیاء نے استفسار کیا؟
سات لاکھ چیتل امیر نے جوابا" عرض کی
بہت ارزاں لائے ہو۔محبوب الہیٰ مسکراتے ہوئے بولے
جی سیدی سات لاکھ چیتل تو بہت کم ہیں اگر وہ سید زادہ میری جان بھی مانگتا تو جان دے کر نعلینِ مرشد حاصل کر لیتا
یہ تھی ان کی اپنے مرشد سے محبت اور حضرت نظام الدین اولیاء کا مقام معرفت جس کی وجہ سے ان کو محبوبِ الہیٰ کہا جاتا ہے
جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاک حضور
تو پھر کہیں گے ہاں تاجدار ہم بھی ہیں
جب حضرت نظام الدین اولیاء کے نعلین کی اتنی قیمت اور وقعت ہے۔
تو میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلِ پاک تو شہنشاہوں کے تاجوں سے بھی برتر ہیں.......

حضرت مجدد الف ثانی کے مرشد اولرؤس اولیاء حضرت شاہ سکندر قادری کیتھلی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کیتھل شریف
12/05/2020

حضرت مجدد الف ثانی کے مرشد اول
رؤس اولیاء حضرت شاہ سکندر قادری کیتھلی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کیتھل شریف

01/05/2020

Corona se hoi har so tabahi
قرآن گواہ ہے حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ اسلام کے کرتے سے بینائی اور شفا پائی حضرت عیسی علیہ السلام نے نہ صرف مردوں کو زندہ کیا بلکہ مادر زاد اندھوں کو بینائی اور شفا عطا کی حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ کی نیک ولیہ حضرت مریم علیہ السلام کے حجرے میں دعا کی اور بڑھاپے میں شفاء اور اولاد پائی.
حافط ابن کثیر حدیث ھذا کی سند کو جید قرار دیتے ھوئے البدائیہ والنہایہ میں حدیث نقل کرتے ھیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وزیر خزانہ مالک الدار بیان کرتے ھیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قحط پڑا ایک صحابی حضرت بلال بن حارث نبی علیہ السلام کے مزار پر آۓ فقال یارسول اللہ ﷺ عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ اپنی امت کیلئے بارش کی دعا مانگیں امت ھلاک ھونے والی ھے نبی علیہ السلام صحابیؓ کے خواب میں آۓ فرمایا میرے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جاٶ اور اُنہیں میرا سلام کہو انہیں خبر بھی دو تمھیں بارش سے سیراب کر دیا جاۓ گا انہیں پیغام بھی دو کہ فراست فہم سے خلافت نبھاٶ۔۔ ابن کثير آخرمیں لکھتے ھیں کہ حدیث کی سند بلکل ٹھیک ھے۔۔
البدائیہ والنہایہ ج7 ص98

28/04/2020

Spiritual vaccination Spiritual vaccination

27/04/2020

شجرہ عالیہ قادریہ ڈیرہ غازی خان
بہ آواز زیارت خان لودھی ایڈووکیٹ ساہیوال

Address

Sahiwal
57002

Telephone

03124627141

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Z A Khan Lodhi Pathan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Z A Khan Lodhi Pathan:

Share